اگر تمام پنجابی میری طرح سوچتے…؟

 نظیر کہوٹ

اگر تمام پنجابی میری طرح کے پنجابی ہوتے,پنجاب ،پنجابی زبان، پنجابی قوم ,پنجاب کو درپیش انفرادی،اجتماعئی اور قومی مسائل کے حل کے حوالے سے میری طرح سوچتے،غوروفکرکرتے اور اگر پنجاب میں قوم پرستی کی تحریک موجود ہوتی تو پھرکیا ہوتا سنیئے:-

پنجاب تقسیم نا ہوتا.1947ء میں دس لاکھ پنجابیوں کو پاکستان بنانے ہندوستان کوآزاد کروانے کے لئے قتل نا کروایا جا سکتا ۔

ایوب خان کو پنجاب کے دریا بیچنے کی جرائت نا ہوتی

پاکستان نا ٹوٹتا.

اگر پنجابی قوم کو ہزاروں سال قدیم اپنے پنجاب کی دھرتی سے محبت ہوتی تونمک حرام نسل پرست ر عمران خان کو لاہور کے بھرے جلسے میں پنجاب کی تقسیم کا اپنا ایجنڈہ پبلک میں اعلان کرنے کی جرائت نا ہوتی۔ اسے وہیں مار دیا جاتا۔

جنوبی پنجاب میں سرائیکی جھوٹ اور فراڈ کا نام و نشان تک نا ہوتا۔

پنجاب کی تعلیمی،سرکاری،دفتری ،عدالتی اور پارلیمانی زبان پنجابی ہوتی.

ترقی پسندوں کو پنجاب کے اندر سرائیکی فتنہ کو فروغ دینے کی جرائت نا ہوتی۔ انہیں اٹھا کر پنجند میں غرق کر دیتے۔

ن لیگ،پی پی،جماعتیوں،کو پنجاب اسمبلی،قومی اسمبلی,سینیٹ سے پنجاب کی غیر فطری تقسیم اورغیر فطری سرائیکی صوبہ کی قرار داد پاس کروانے کی جرائت نا ہوتی۔ بمع یہ قراردادیں لانے والوں کے پنجاب اسمبلی کو بم سے اڑا دیتے۔

کالا باٖغ ڈیم کب کا بن چکا ہوتا.

آج پنجاب میں اردو نا ہوتی اور پنجابی اردو بولنے والے ہندوستانی بن کر اپنے آپ سے اپنی پنجابی شناخت سے نفرت میں ہلاک نا ہو چکے ہوتے..

پاکستانی اردو اخبارات،اردو ٹی وی چینل اور سرائِیکی چینل چوبیس گھنٹے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف پاکستان اور ساری دنیا میں نفرت کا پرچار نا کر رہے ہوتے۔پنجاب کی تقسیم کے لئے زہر نا اگل رہے ہوتے۔

ضیاالحق کو بھٹو کو پھانسی دینے کی ہمت نا ہوتی.

جنوبی پنجاب میں سردار،جاگیردار،گدی نشین ناہوتے،جاگیرداری نظام نا ہوتا۔ان کے ہاتھوں جنوبی پنجاب کی عوم برباد نا ہوتی۔

پنجاب میں دہشت گردی, فرقہ واریت ،انتہا پسندی،جنونیت،ریپ،اغوا،پلس گردی،بے روزگاری ،جہالت,فرقہ واریت,اقلیتوں،عورتوں اور بچوں پر مظالم نا ہوتے.

سندھی،پنجابی،بلوچی،پشتو اور اردو سب قومی زبانیں ہوتیں۔

بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک نا ہوتی۔بلوچ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے،ان کے ساتھ ظلم نہیں انصاف ہوتا۔

بلوچستان میں اور کراچی میں پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ نا ہوتی۔ پنجابیوں کی لاشیں چھوٹے صوبوں سے پنجاب نا آتیں۔

ہر پنجابی کو یہ معلوم ہوتا کہ پنجاب ہزاروں سال قدیم ایک ناقابل تقسیم قومی،لسانی، جغرافیائی،ثقافتی اورانتظامی وحدت ہے اوراس کی سالمیت اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہتھیار اٹھانا اس پر فرض ہے۔

پنجابیوں کا پنج ست دریانواں والا دیس سپت سندھو سندھاوا پنجاب ہزاروں سال قدیم ان کی دھرتی ماں ہے۔

آزادی اظہار رائے کو اپنا مذہب بناتے.

دنیا کے دیگر انسانوں سے زبان ،رنگ،نسل اور وطن کی بنیاد پر کسی قسم کا فرق روا نا رکھتے.

فرقہ واریت،مذہب،رنگ,نسل,زبان کی بنا پراپنے اندر تفرقہ ڈالنے والوں کوبرسرعام سولیوں پر لٹکا دیتے۔

پنجاب میں ہی نہیں دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہوتا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے۔

پنجاب کو ہر شعبہ زندگی میں مکمل پنجابیالئیز کر دیتے یہاں پنجابی اور انگریزی کے علاوہ کسی تیسری زبان کا وجود تک نا ہوتا۔

آج بیٹھ کر اپنے آنیوالے پانچ ہزار سال کی منصوبہ بندی کرتے۔

جدید سائنشی علوم میں اعلی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حصول کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے۔

ہرایک کے لئے انصاف بلا تفریق اور ہر ایک کی جان،مال، عزت،آبرو،جادر،چاردیواری کا تحفط یقینی بناتے۔

ادب تخلیق کرتے صرف اور صرف اپنی مادری زبان پنجابی میں.

سرکار،دربار،عام زندگی،میں پنجابی زبان وادب،کلچرفنون لطیفہ اورقوم پرستی کی تعلیم کے فروغ کو اپنا مشن بناتے .

بابا فرید،نانک،شاہ حسین،میاں میر،بلھے شاہ،وارث شاہ،سلطان باہو،میاں محمد بخش اور خواجہ غلام فرید کو پڑھتے ،پڑھاتے اور سنتے۔ نا کہ میر،غالب، ذوق،درد،اقبال، فیض اور فراز کو.

اپنی عبادت گاہوں اپنے مندروں،مسجدوں،گردواروں اور گرجا گھروں کو انسانوں کی فلاح،بھلائی،امن اور بھائی چارے کی تبلیغ کا انسانیت کے پرچار اور مصیبت ذدہ لوگوں کے لئے پناہ گاہ بنا دیتے۔

جو اپنی سماجی زندگی میںاپنے سلام ،ست سری اکال،نمسکار،ھیلو کی بجائے جیوے پنجاب کہنے کو اپنی عادت بنا بنا کر پنجابی بھائی چارے اور ایک دوسرے کے عقیدے کو احترام اور قومی پنجابی کلچر کو فروغ دیتے۔

پنجاب کے قومی ہیروز پورس،جسرتھ کھوکھر،دلا بھٹی،رنجیت سنگھ،رائے احمد خان کھرل ہوتے نا کہ غیر ملکی ،غیر پنجابی،حملہ آور تیمور لنگڑا،محمود غزنوی،،شہاب الدین غوری،نادر شاہ درانی ،احمد شاہ جیسے غیر پنجابی،غیر ملکی لٹیرے۔

پنجاب کی ہر سڑک،ہر گلی،ہر چوراہے اور ہر محلے کے نام پنجابی ہوتے۔

پنجاب کے ہر گھر پر، ہر پنجابی گھر پر پنج رنگا،پانچ پٹیوں والا پنجاب کا قومی جھنڈا لہراتا۔

پنجاب کے قومی دن اور قومی تہوار شان و شوکت اور دھوم دھام سے منائے جاتے۔

اپنے سورماوں،ل شہیدوں،غاذیوں،عالموں،فاضلوں۔اہل علم،اہل قلم۔سائنسدانوں،ہنرمندوں،اہل دانش،کھوجکاروں، کھاریوں،تخیلیق کارو،شاعروں،فنکاروں احترام،اعزاز اورعزت دیتے۔

ستر سال پہلے پنجابی پنجاب کی تعلیمی،دفتری،سرکاری،عدالتی اور پارلیمانی زبان بنا دی جاتی توآج پنجاب میں سرایئکی اور اردو کا نام ونشان تک نا ہوتا۔

پنجابی زبان کی تعلیم پر گذشتہ ایک سو انہتر سال سے لگی ریاستی پابندی ختم ہو چکی ہوتی۔

پاکستانی ریاست کو پنجاب کی زبان بدل کر اردو کرنے،پنجاب سے پنجابی زبان کو دیس ناکالا دینے،پنجاب میں بنیادی تعلیم مادری زبان پنجابی میں دینے پر پابندی لگانے اور پنجاب کی ہرقومی مردم شماری میں آبادی سوفیصد سے بتدریج گھٹاتے گھٹاتے اڑتیس فیصد کرنےکی ,پنجابی بولنے والی اکثریتی آبدی نسل کشی اور آبادی کم کرنے , پنجاب کے ساتھ مردم شماری کے نام پر ہونیوالے قومی فراڈ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے کی اس ریاست کو جرائت اور پنجاب کو تقسیم کرنے کی اسے ہمت نا ہوتی۔

پنجابیوں نے اپنی پنجابی قومیت، مادری زبان سے اپنی دھرتی ماں پنجاب کے وجود سے اپنے آپ کو لا تعلق کرکے نا صرف پنجاب ،پنجابی زبان کو قتل کیا بلکہ وہ پاکستان کے بھی قاتل ہیں. چھوٹے صوبوں میں پنجاب کے خلاف نفرتوں کو پھیلانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ پنجابیوں کی اپنی ہوند سے انکار نے ان سے پنجاب ہی نہیں پاکستان کے خلاف بھی بے شمار نسلی، لسانی،سیاسی،آئینی جرائم کا ارتکاب کروایا ہے۔

اگر تمام پنجابی میری طرح کے پنجابی ہوتے. پنجاب،پنجابی زبان،پنجابی قوم اور دیگر تینوں اقوام سندھی ،پشتون اور بلوچ کے بارے میں میری طرح سوچتے.اگر دو نمبری پنجابیوں نے پاکستان اور پنجاب کو لوٹنے،پنجاب کا استحصال کرنے کی غرض سے اناے ئی منافقت،جھوٹ اور دھوکے بازی کے لئے اسلام،پاکستان اور قومی زبان کا کا خنجر پنجاب کی شہ رگ پر نا رکھا ہوتا گزشتہ ستر سال سے توآج پنجاب جرمنی ہوتا اور پاکستان امریکا ہوتا.

کچھ شرم کرو۔ پنجاب کی تقسیم کو ہر قیمت پر روکو۔ورنہ کتے کی موت مارے جاوگے۔گل اک کنتے وچ مکدی اے جدوں تک پنجابی پنجابی نہیں بنن گے ذلت ،بربادی ،ونڈ،قتلام اہناں دا مکدر ہوسی. اور وہ دنیا میں ایک گالی بنے رہیں گے۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناوں۔ایک سچا پنجابی ہونے اور جعلی جھوٹا پنجابی ہونے کے فائدےاور نقصانات میں نے بیان کردیئے۔یہ سب کچھ جان کر بھی اگر آپ بحیثیت پنجابی بندے دے پتر نہیں بنتے تو پھر اے گمراہوں کے گروہ کان کھول کر خوب دھیان سے میری بات سن :میرا انتطار کر میں آ رہا ہوں پنجاب… ایک خونی ثقافتی انقلاب کی صورت میں اور یہ وہ وقت ہوگا جب تجھے کہیں پناہ نا ملی گے ۔تو موت مانگے گا موت نا ملیگی۔اس دن فرار, معافی کے تمام رستے بند ہوں گے۔اور تجھ سے پنجاب پرصدیوں سے ہونے والے تمام مظالم ایک ایک جرم ،ایک ایک گناہ کا بدلہ چن چن کر لیا جائے گا۔

سچا،اصلی اور نسلی پنجابی وہی ہے جو پنجاب،پنجابی زبان،پنجابی قوم،پنجاب کے ہزاروں سال قدیم جغرافیئے، سرحدوں، تاریخ، ثقافت،تاریخی ورثوں،قومی مفاد کو دنیا کی ہر چیزسے بڑھ کر مقدم،عزیز اور محترم رکھے۔ جس کا مرنا جینا پنجاب کے لئے ہو۔اورجو ناپاک قدم پنجاب کی سرحدوں کی طرف بڑھے.پنجاب کی سالمیت پر حملہ آور ہو اسے کاٹ کررکھ دے۔

یاد رکھو پنجابی قوم پرستی،انسانیت اور جمہوریت میں کوئی ٹکراو نہیں۔ان کا آپس میں ایک گہرا،فطری اورناقابل تقسیم رشتہ ہے۔پنجابی قوم پرستی کی عمارت مساوات، انسانیت،مزہبی رواداری،برداشت،جمہوریت،برابری,سلامتی،امن، بھائی چارے، اور انصاف کی بنیاد پرکھڑی ہے۔ جس میں طاقت، حاکمیت، راج اور فیصلہ سازی کا سرچشمہ پنجابی عوام یا بالفاظ دیگر پنجابی قوم ہے۔

نظیر کہوٹ

dfd

Connect with Nazeer kahut .

https://www.facebook.com/nazeer.kahut

https://twitter.com/nazeerkahut?lang=en

NazeerkahutVlogs.com