nhg

کوئی مرے یا جیئے پنجاب کی ایک اور تقسیم منظور نہیں

نظیر کہوٹ

June 2,2018

پنجاب کا ا قومی المیہ یہ ہے کہ تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر جب اس کی قومی سلامتی پر حملہ ہو چکا ہے اور اس کے وجود کو پاکستاں میں سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں توآج پنجاب کی پاس قومی قیادت موجود ہے نا پنجاب کی نمائندگی کرنیوالی کوئی خالص پنجابی سیاسی اور قومی تنطیم۔.پنجاب آج جاہل،بے عقل، قومی شعور سے عاری, مسخروں،مداریوں، پر مشتمل ایک ایسی کرپٹ،منافق،مفاد پرست پنجاب فروش سیاسی مافیا کے ہتھے چڑھ گیا ہے جسے پنجاب کے قومی مسائل,مفادات، اور ایک فیصلہ کن, انتہائی خطرناک موڑ لیتی گندی پاکستانی سیاست کا سرے سے کوئی شعور ہی نہیں.صوبائی اور قومی سطح پر پنجاب کی نمائندگی کرنیوالوں کی اکثریت ایسے بکاو سیاسی مال پر مشتمل ہے کہ جو ذاتی مفاد کے لئے پنجاب کے قتل سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

پاکستان کی تیزی سے بدلتی دھماکہ خیر سیاسی صورتحال اور پنجاب کے خلاف نسلی اور لسانی دہشت گردی کا منظم پرچار پنجاب میں شدید رد عمال پیدا کر چکا ہے.پنجاب میں اب یہ سوچ اور فکر تیزی سے جڑ پکر رہی ہے کہ پاکستانی ریاست گزشتہ ستر سال سے باقائدہ ایک منصوبہ بندی اور منظم سازش کے تحت پنجابی زبان کا حق غصب کر کے پنجاب کی زبان بدل کر اردو کرنے , پنجابی زبان کے ریاستی قتل اور پنجاب میں سرائیکی فتہ و فساد کو سرکاری،درباری،سیاسی ہلا شیری دے رہی ہے. پاکستان کی ہر قومی مردی شماری میں پنجاب کی سو فیص پنجابی بولنے والی اکثریتی آبادی کو ستر سالوں میں گھٹا کر بترریج اڑتیس فیصد پر لے آنا پنجاب کے خلاف پاکستانی ریاست کے بھیانک جرائم کا ناقابل تردید دستاویزی ثبوت ہے۔پاکستانی ریاست پنجاب ،پنجابی زبان کی نسلی و لسانی نسل کشی کے جرائم میں براہ راست ملوث ہے۔ جن کا اسے حساب دینا ہوگا۔.

اردو میڈیا ,سرائیکی چینلوں,پنجاب دشمن سیاسی جماعتوں کے زریعے پاکستان اور ساری دنیا میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کروا کر پنجابی زبان کو بتدریج ختم کرنے اور پنجاب کو تقسیم در تقسیم کے زریعے سرے سے اس کا وجود غائب کرنے کےایجنڈے پر پاکستانی ریاست خاموشی سے کاربند ہے۔جس کا پاکستان،اردو اور اسلام کے جھنڈا بردار عام پنجابی کو شعور ہی نہیں.

عمران خان کا اپنے گیارہ نکاتی انتخابی ایجنڈے میں پنجاب کی تقسیم کا مجرمانہ نکتہ رکھنا اور اس مقصد کے لئے غیر قانونی ,مجرمانہ معاہدے کرتے پھرنا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب کی سلامتی کے خلاف جرائم میں کون ملوث ہے۔پاکستان کے 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان،تحریک انصاف،بلاول زرداری ،پیپلز پارٹی کے ذریعےپنجاب کی بندر بانٹ کا منصوبہ کس کا ہے؟ پاکستانی ریاست کی اشیر واد سے پاکستان میں پنجاب اور پنجابی کے قتل اور کفن دفن کا بندوبست ریاستی نگرانی میں ہونے جا رہا ہے.عمران خان،بلاول زرداری ،آصف زرداری ،ان کی جماعتں تحریک انصاف ،پپلز پارٹی اور ان میں شامل وہ تمام شرپسند مردہ ضمرر پنجابی جو پنجاب کی لسانی یا انتظامی تقسیم کی حمائت کرتے ان کا زہنی توازن ٹھیک نہیں ہے. یہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔

میرا یہ اٹل موقف ہے کہ جنوبی پنجاب نوے فیصد پنجابی بولنے والا پنجابی اکثریتی علاقہ ہے۔ جسےسرائیکیافیکیشن کے غیر فطری اور مجرمانہ عمل کے ذریعے قتل کرنے ,تقسیم کرنے یا اُدھالنے کی ہرگز ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی۔کیا پاکستانی ریاست پنجاب،پنجابی زبان اور پنجابیوں کا خون پئےبغیر زندہ نہیں رہ سکتی .پاکستانی ریاست میرے صرف اس یک سوال کا جواب دے کہ یہ گذشتہ ستر سال سے پنجابی زبان کا حق کیوں غصب کیئے بیٹھی ہے۔اور پنجاب کی زبان بدل کر اردر کرنے کا جرم اس نے کیوں کیا ہے۔کیا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ستر سال بہت ہیں اب پنجاب سے باہر قربانی کا کوئی اور بکرہ تلاش کرو۔

پاکستان کی ہر قومی مردی شماری میں پنجاب کی سو فیصد پنجابی بولنے والی اکثریتی آبادی کو ستر سالوں میں گھٹا کر بترریج اڑتیس فیصد پر لے آنا پنجاب کے خلاف پاکستانی ریاست کے بھیانک جرائم کا ناقابل تردید دستاویزی ثبوت ہے۔پاکستانی ریاست پنجاب ،پنجابی زبان کی نسلی و لسانی نسل کشی کے جرائم میں براہ راست ملوث ہے۔ جن کا اسے حساب دینا ہوگا۔گویا پنجاب،پنجابی زبان اور پنجابیوں کو پاکستانی ریاست نے پاکستان،اسلام،قومی زبان کے نام پر ہتھ بنھ کر مروایا کہ وہ پورے پاکستان میں ایک گالی اور نفر ت کی علامت بن کر رہ گئے ہیں۔اس مکروہ فعل میں غدار پنجابیوں,غیر پنجابیوں کا ہاتھ ہے جو پنجاب میں ہر شعبہ زندگی پر مسلط ہیں اورگزشتۃ سترسال سے بھیڑیوں کی طرح پنجاب کا خون پی رہے ہیں۔پنجاب کو لوٹ رہے ہیں پنجاب کو غلام بنا کر بیٹھے ہیں۔

سرائیکی ایک جھوٹ ہے جو پاکستانی ریاست نے ساٹھ سال پہلے گھڑ کر پنجاب پر مسلط کیا۔سرائیکی زبان درحقیقت لہندا پنجابی لہجہ ہے۔اور اس لہجے کو پنجاب سے چرا کر اس کا نام سرائیکی رکھ کر اسے ہی بنیاد بنا کر سندھی اور بلوچ نسل کے غیر مقامی نیلی اجرکیں پہن کر آدھا پنجاب کاٹنے کی نفرت انگیز مہم چلا رہے ہیں. پنجاب کے ساتھ یہ سارا کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ پنجاب میں پنجابی زبان پر پابندی لگا کر اردو اور سرائیکی کو آگے بڑھا کر پنجاب کی تقسیم اور پنجابی زبان کی موت کا بندوبست ریاستتی نگرانی میں کیا گیا۔نتیجہ پنجابی پاکستان میں پنجاب سے بھی گئے ،پنجابی زبان سے بھی گئے۔یہ سب کچھ برداشت سے باہر ہے۔کیا پنجاب تقسیم کروا کر,۔آدھا پنجاب گنوا کر, دس لاکھ پنجابیوں کا قتل کروا کر پنجابی پاکستان میں اسی لئے شامل ہوئے تھے کہ یہاں ان سے بچاکھچا پنجاب بھی چھین لیا جائیگا،ان کی مادری زبان کو قتل کردیا جائیگا۔

یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی موت سرائیکی صوبے کے ہاتھوں لکھی ہے.پنجاب اور سندھ کی تقسیم اور ان قدیم قومی وحدتوں پر ناجائز اورغیر فطری صوبوں کے جبری قیام کے ذریعے پاکستان اپنی موت کو آواز دے رہا ہے۔افسوس ایک ریاست کو اپنئ موت کے لئے ایک بار پھر ایک نفرت انگیز اور احمقانہ رستہ اختیارکرنا پڑا.

میں اسی لئے پنجاب کی تقسیم کی مخالفت کرتا ہوں کہ ایک تو پنجاب ہزاروں سال قدیم ایک ناقابل تقسیم لسانی، انتظامی، جغرافیائی، ثقافتی،معاشی قومی وحدت ہے۔مگر پنجاب کے اندر ہی پنجاب کے خلاف نسلی ولسانی دہشت گردی کی حد ہو گئی ہے۔یہ جو یہا ں نیلی اجرکیں پہن کر پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کرنیوالے سندھی، بلوچ نسل کے غیر مقامی, پناہ گیراورآبادکار ہیں۔انہیں پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں.کیا سو سال سے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابی اپنے لئے وہاں پنجابی صوبہ مانگ سکتے ہیں؟ بدنیت سرائیکی نسلی دہشت گرد جو غیر مقامی ہیں نوے فیصد پنجابی بولنے والا آدھا پنجاب کاٹ کر سندھی اور بلوچ نسل کے پناہگیروں کےلئے پانچ دریاوں کی دھرتی پر الگ ریاست بنانا چاہتا ہے۔۔انہیں غالبا پنجاب کی تاریخ سے اگاہی نہیں۔کہ ینجاب کی تقسیم کی کسی بھی مجرمانہ حرکت سے پنجاب آگ اور خون کے سمندر میں ڈوب جائیگا.تاریخ گواہ ہےکہ پنجاب جب جب تقسیم ہوتا ہے خانہ جنگی ہوتی ہے ،قتلام ہوتا ہے،ملک ٹوٹتے ہیں اور نئے ملک وجود میں آتے ہیں۔

پنجاب کی لسانی یا انتطامی مجرمانہ تقسیم کی سازش کو روکا نا گیا توپنجاب میں خانہ جنگی ہوگیاور ملک ٹوٹے گا۔.۔پنجاب کی تقسیم سندھ میں مہاجر یا کراچی صوبہ کی بنیاد ہے۔پاکستان میں کوئی ایسی قوت موجود نہیں جو پنجاب اور سندھ کی تقسیم کےنتیجے میں شروع ہونیوالی خانہ جنگی کو روک سکے۔۔اور ملک کو ٹوٹنے سے بچا سکے۔

ایک ناقابل تصور جرم ہوا ہے پنجاب اور پنجابی زبان کے خلاف۔کہ پہلے زبان کھا گئے زبان کا حق دینے سے انکار کرکے. اور اب سارا پنجاب غیرفطری ،جبری تقسیم کے زریعے ختم کرنے کا ایجنڈا پاکستان میں کس کا ہے؟بارہ کروڑ کی آبادی کے حامل پورے پنجاب سے بارہ کروڑ پنجابیوں سے پوچھے بغیر سارے پنجاب سے پوچھے بغیر کسی سیاسی جماعت،کسی لیڈر،کسی ادارے، کسی صوبائی اسمبلی، کسی قومی اسمبلی ،کسئ سینیٹ ,کسی شخص،کسی ادارے کو خواہ وہ کوئی بھی ہو کو پنجاب کی تقسیم کا اختیار پنجابیوں نے ہر گز ہرگز دیا ہے نا کبھی دیں گئے۔پنجاب پنجابیوں کا ہے۔پانچ دریائوں کی سرزمین پر ہرایک کو پنجابی بن کر رہنا ہوگا۔ورنہ اسے پنجاب چھوڑ کر اپنے آبائی دیس کو واپس جانا ہوگا۔ جسے پنجاب کے سائز پر اعتراض ہے یا جو پنجاب میں خوش نہیں وہ پنجاب چھوڑ دے۔۔ کوئی مرے یا جئے پنجابیوں کو پنجاب کی ایک اور جبری،غیر فطری,سراسر جھوٹ اور دھوکے پر مبنی تقسیم ہر گز ہرگز منطور نہیں۔

dfd

Connect with Nazeer kahut .

https://www.facebook.com/nazeer.kahut

https://twitter.com/nazeerkahut?lang=en

Nazeerkahutvlogs.com