pash
nhg

پشتون قوم پرستی کی تحریک پاکستان کے ساتھ کیا کرنے جا رہی ہے؟

نظیر کہوٹ

June 5,2018

پاکستان,افغانستان کے پشتون علاقوں پرمشتمل آزاد پشتونستان،پشتونوں کا ستر سال پرانا خواب ہے۔فاٹا کو سرحد میں شامل کرکے آزاد پشتونستان کی بنیاد پاکستانی ریاست نے خود رکھ کر اپنی موت کو دعوت دے ڈالی۔اسے الگ صوبہ بنانا چاہیے تھا۔طالبان کے ذریعے ریاست اور قوم کے خلاف دہشت گردی،خانہ جنگی ہے. تا کہ ریاست کا خون رستہ رہے اور دوسری طرف کچھ پشتون سیاستدان پاکستان کی بنیاد اور وجود پر سوال اٹھاتے ,نسلی منافرت اور مظالم کا پرچار کرتے فکری،نظریاتی اور سیاسی حوالے سے پشتونوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کی کرنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک پشتون علیحدگی پسندی کا نیا چہرہ ہے۔

پشتونوں کو یہ بتانے والا کوئی نہیں ہے کہ روئے زمین پر کبھی پشتونوں کا اپنا ملک قومی وطن کبھی نہیں رہا ہے.احمد شاہ ابدالی ان کا ہیرو ایک ڈاکو تھا۔جس نے قندھار میں پشتون ریاست کی بنیاد ڈالی۔۔پشاور آج سے ایک ہزار سال پہلے ایک مکمل پنجابی بولتا شہر تھا۔ہزارہ کسی طور پشتونوں کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں۔مگر یہ نا جانے کیوں کس کی شہہ پر کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر ڈیورنڈ لائن توڑ کر،پاکستان توڑ کر،پاکسان اور افغانستان کے علاقوں پر مشتمل ایک آزاد قومی پشتون ریاست کا خواب دیکھ رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی باقی انیس کروڑ کی آبادی ان کی اس ہولناک خواہش پر کس ردعمل کا اظہار کرے گی کہ سندھ،پنجاب اور بلوچستان میں بسنے والے ایک کروڑ کے لگ بھگ پشتون کہاں جائیں گے۔

اسفند یار ولی کا بس چلے تو یہ اٹک سے لے کر کراچی تک تمام پنجابیوں کو قتل کرکےان کی جگہ افغانستان کے سارے پشتونوں کو لا کر بسا دے.پپنجاب اور پنجابیوں سے نفرت ان کے خون میں ہے کہ صوبہ سرحد میں صوبائی حکومت نے ہر زبان پڑھانے کی اجازت دی ہے مگر پنجابی زبان کو صوبے سے نکال باہر کیا ہے۔جب کہ بلوچوں نے جنہیں پنجابیوں سے ہزاروں شکائیتں اور ناراضگیاں ہیں.انہوں نے بلوچستان میں پنجابی زبان میں تعلیم کی اجازت دی کہ مادری زبانوں سے ہماری کوئی دشمنی نہیں۔یہ سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ پنجابیوں کو بلوچوں کی اس نیکی کا بدلہ ایک نا ایک دن کسی نا کسی شکل میں چکانا ہوگا۔کہ پنجاب جہاں پنجابی زبان کا ریاستی قتل ہو رہا ہے وہاں بلوچستان واحد صوبہ ہے جس نے موت کی وادی میں دھکیلی جانے والی پنجابی زبان کو پناہ دی ہے

یہ اچکزئی,اسنفد یار ولی, پشتون تحفظ موومنٹ،،طالبان,ان کی پشت پربھارت، امریکا, افغناستان سب متفق ہیں پاکستان توڑ کر پشتونوں کے لئے الگ ملک بنانے پر.تحریک انصاف کا پنجاب کی تقسیم اور سرائیکی صوبے کی قیام کی سازش کا حصہ بننا, پرویز خٹک کا پنجاب کوعوامی جلسوں میں دھمکیاں اور گالیاں دینا،کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی آڑ میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف پشتونوں میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکانا،پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے فوج کے خلاف نفرت کا براہ راست پرچار.پاکستان کو ختم کرو پٹھانوں کا الگ ملک بناو.یہ تمام تحریک، حکمت عملی پشتنون علیحدگی پسندوں کا سوچہ سمجھا ایجنڈا ہے۔پاکستان میں کسی میں اتنی عقل نہیں کہ پشتونوں کےان اینٹی پاکستان اقدامات یا حقوق کا چولا پہن کر تیزی سے منظم ہوتی,عوامی طاقت پکڑتی اس علیحدگی پسند پشتون تحریک کا ادراک کر سکےاسے کیسے کاونٹر کرے۔۔

بھارت،امریکا کے بعد اب اسرائیلی فوج کی افغانستان آمد کی خبریں سب کچھ گہری منصوبہ بندی,منظم منصوبے کے تحت ہور ہا ہے۔ پشتون علیحدگی پسندی کی خون آشام تحریک پاکستان میں دس بیس لاکھ افراد کا لہوپی کرہی کسی منتقی انجام کو پہچے گی۔کیوں کہ انسانی خون کی پیاس صدیوں سے ان کے خون میں ہے.مگر یہ اٹک دونوں اطراف سے کبھی عبور نا کر پائیں گے۔اور بالاآخرپشتون قوم پرستی کی تحریک اٹک کے دونوں اطراف ہی خون تھوکتی اپنے منتقی انجام کو پہنچے گی۔کہ تمام خون آشام خوابوں کی تعبیربھی ہمیشہ عبرتناک انجام کی صورت میں ہی براّمد ہوتی ہے۔

dfd

Connect with Nazeer kahut .

https://www.facebook.com/nazeer.kahut

https://twitter.com/nazeerkahut?lang=en

NazeerKahutVlogs.com