سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات

blank

سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات (1)

  

ضیا شاہد ……..خصوصی مضمون
گزشتہ دنوں ملتان میں روزنامہ” خبریں“ کے فورم ہال میں سرائیکی لیڈروں کو دعوت دی اور اس کا اشتہار چھپا تو متعدد قارئین نے فون کرکے گلہ کیا کہ جنوبی پنجاب میں صرف سرائیکی نہیں رہتے‘ یہاں اردو بولنے والے مہاجر بھی ہیں۔ پنجابیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ ملتان اور دیگر شہروں اور قصبوں میں روہتکی حضرات بھی آباد ہیں‘ پھر آپ نے صرف سرائیکی لیڈروں کو کیوں مدعو کیا؟ ان گزارشات کے حوالے سے میں اپنی بعض سوچوں میں پڑھنے والوں کو شامل کرنا چاہتا ہوں۔
برسوں پہلے جب ملتان سے روزنامہ ”خبریں“ کا آغاز ہوا اور میں نے سرائیکی بولنے والے مردو خواتین کے بارے میں اس لئے بطور خاص خبریں چھاپنا شروع کیں کہ جنوبی پنجاب کے ان شہروں میں جہاں اخبار پہنچتا ہے‘ سرائیکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ میں ”سن آف سائل“ کی تھیوری سے متفق نہیں اور میرے خیال میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی پنجاب کے علاوہ ہندوستان کے دیگر حصوں سے جو لوگ نقل مکانی کرکے پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں آباد ہوئے ان کا بھی اس زمین پر اتنا ہی حق ہے جتنا مقامی لوگوں کا بلکہ سچ پوچھیں تو 1947ءمیں جب میرا خاندان مشرقی پنجاب سے تین ماہ کے عرصے میں پیدل چلتا ہوا پاکستان پہنچا اور جب لاہور سے ہم ٹرین کے ذریعے براستہ سمہ سٹہ بہاولنگر تک سفر کے بعد منزل مقصود پر پہنچے جہاں شہر سے دو اڑھائی میل کے فاصلے پر میرے نانا میاں نظام الدین کی زرعی زمین جو تقسیم سے بہت عرصہ قبل یہاں منتقل ہوچکے تھے اور محکمہ انہار کی سرکاری ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کررہے تھے اور جہاں 30‘ 32 میل کے فاصلے پر ہارون آباد میں میرے والد کی زرعی زمین تھی جو انہوں نے بہاولپور میں نہریں بننے کے بعد قسطوں پر خریدی تھی تو سارے شہر سے مقامی لوگوں نے ہمارا ایسا استقبال کیا تھا جیسے انصار مدینہ نے رسالت مآب کے ساتھ آنے والے مہاجروں کو خوش آمدید کہا تھا۔ یہ داستان صرف ایک بہاولنگر میں آنے والے مہاجروں کی نہیں بلکہ پشاور سے کراچی تک مقامی باشندوں نے اسی طرح ان کی آﺅبھگت کی تھی‘ کئی روز تک ہمارے اڑوس پڑوس کے لوگ سالن اور روٹیاں ہمارے گھروں میں پہنچاتے رہے تھے تاکہ وہ جن کا قصور صرف ایک تھا کہ وہ کلمہ گو تھے۔ لہٰذا انہیں متعصب ہندوﺅں نے گھروں سے‘ زمینوں سے‘ مکانوں سے باہر نکال دیا تھا اور انہی سکھوں نے جو آج بھارتی ہندو کی بالادستی سے پریشان ہیں،اس زمانے میں دہشت و بربریت کا طوفان بپا کردیا تھا۔ وہ گولی نہیں چلاتے تھے بلکہ تلواروں اور کرپانوں سے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔
میں مانتا ہوں کہ الاٹمنٹ کے قوانین میں رشوت کی بڑی گنجائش تھی مگر سبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ بہاولنگر میں نانا کے ایک چھوٹے سے عارضی گھر میں جہاں وہ گاﺅں سے آکر وقتی طور پر ٹھہرتے تھے ہمیں جائے پناہ ملی لیکن ایک دو منزلہ مکان جو سجا سجایا اور سامان سے بھرا ہوا تھا جسے کوئی مالدار ہندو خاندان اچانک چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا تھا‘ ہمیں دکھایا گیا۔ تو میری والدہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی یہ کہہ کر اول تو ہمیں ہندوﺅں کا چھوڑا ہوا گھر نہیں لینا کیونکہ اس علاقے میں زرعی زمین ہے اور رہائش کے لئے کوئی گھر نہیں تو بھی ہم بچوں کے نانا کے چند مرلے میں بنے ہوئے گھر کے اندر رہ سکتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی گھر لینا ہوا تو بھی یہ دو منزلہ مکان جس کی ہر منزل میں پانچ پانچ کمرے ہیں ہم اس کے اہل نہیں ہوسکتے کیونکہ اگرچہ بچوں کے والد تحصیلدار تھے اور گاﺅں میں پختہ گھر تھا مگر اس کے کمرے صرف تین تھے۔ ہم جھوٹ بول کر اتنی بڑی پراپرٹی الاٹ نہیں کروا سکتے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے لوگوں نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ جھوٹ بول کر فریب سے بڑی بڑی زمین اور جائیدادیں الاٹ کروائیں اور رشوت کا یہ نظام دراصل پورے پاکستان میں جائز اور ناجائز کی تفریق کو ختم کرگیا لیکن آج کئی برس گزرنے کے بعد میں اس نکتہ نظر کے بھی خلاف ہوں کہ جس بھی علاقے میں مہاجروں کو جو زمین یا جائیداد صحیح یا غلط الاٹ کروائی ہو وہ اس سے چھین لی جائے۔ میرے چھوٹے سے خاندان نے کوئی زمین الاٹ نہیں کروائی کوئی گھر یا پراپرٹی کےلئے کلیم نہ کیا لیکن جن لوگوں نے کیا تھا اگر ان میں سے بعض کو جائز حصے سے کہیں زیادہ مل گیا ہے تو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اس پنڈو رہ باکس کو نہیںکھولنا چاہتا۔
میں سمجھتا ہوں کے آج پاکستان میں 1947ءسے احتساب شروع کیا جائے تو بہت سی نا انصافیاں ملیں گی لیکن کیا یہ ممکن ہو گا؟ کیا کئی نسلیں گزارنے کے بعد ہم گلی ،گلی محلے، محلے اور شہر شہر پر لڑائی شروع کر سکتے ہیں؟ شاید جو جہاں ہے وہ وہی رہے کی بنیاد پر پوری عوام کو ایک سمجھوتا کرنا ہو گا ۔ور نہ ہم انارکی اور خانہ جگی کے لئے فضا ہموار کریں گے۔
میں بہاول نگر میں قیام کے دوران سکول میں داخل ہوا‘ پانچویں جماعت تک وہاں پڑھا‘ آج کل بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان یعنی سابق ریاست بہاولپور کو بھی بعض سرائیکی دانشور سرائیکی علاقہ شمار کرتے ہیں حالانکہ ہم نے اپنے بچپن میں گاﺅں اور شہر کی سطح پر کبھی سرائیکی لفظ نہیں سنا تھا وہ لوگ جو پنجابی اور اردو بولنے والے مہاجر نہیں تھے اور مقامی شمار ہوتے تھے ان کی زبان تھوڑی مختلف ضرور تھی مگر وہ سرائیکی نہیں تھی جو ملتان اور مظفر گڑھ میں بولی جاتی ہے وہ خود اپنی زبان کو ریاستی کہتے تھے‘بچپن میں جب میں ملتان رہتا تھا تب بھی ملتان میں سرائیکی نہیں ملتانی بولی جاتی تھی، جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے لفظ سرائیکی شاید 1971ءکے لگ بھگ سامنے آیا جب بقول نخبہ لنگاہ کے پنجاب کے زیریں علاقوں میں ریاستی ڈیروی ، ملتانی‘ جھنگوچی اور ہندکو وغیرہ کی جگہ لفظ سرائیکی منتخب کیا گیا اور بیرون ملک تاج لنگاہ کی اسی تعلیم یافتہ بیٹی نے اپنے لیکچر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ سرائیکی کا لفظ 1971ء کے بعد کی پیداوار ہے ۔ مجھے نہ سرائیکی لفظ پہ کوئی اعتراض ہے اور نہ مجھے سرائیکی تنظیموں اور جماعتوں سے کوئی اختلاف ہے۔ جنوبی پنجاب کی اصطلاح پر آکر سرائیکی لیڈر شکایت کرتے ہیں اور بعض انتہا پسند تو اسے گالی قرار دےتے ہیں مجھے ان کی اس سوچ کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا‘ میں نے بہرحال اپنے اخبار کی ابتداءہی سے جنوبی پنجاب کی اصطلاح آسانی کی خاطر استعمال کی کہ عوام کے مسائل سے مجھے گہری دلچسپی رہی ہے۔ میں نے پانچ سال یعنی چھٹی جماعت سے 10 ویں تک ملتان میں تعلیم پائی اور اس عمر کی دوستیاں ساری عمر چلتی ہیں۔ ملتان شہر سے میری وابستگی اسی حوالے سے ہے۔ میںملتان کو خوشحال، سُکھی اور مسائل سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں اسی سوچ میں سیاست کا ذرہ برابر بھی حصہ نہیں‘ میں عمرکے جس حصے میں ہوں انسان یوں بھی دنیا داری سے زیادہ اپنی عاقبت کے بارے میں سوچتا ہے لیکن جب میںنے اس علاقے کے عوام بشمول سرائیکی لوگوں کے مسائل کے بارے میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں تعلیم کی سہولت نہ علاج کی ،صنعت نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ملازمتیں بھی نہیں۔ پنجاب میں لاہور اور گردونواح پر جو خرچ ہوتا ہے اس کا عشر عشیر بھی جنوبی پنجاب بشمول سابق ریاست بہاولپور کے شہروں پر خرچ نہیں ہوتا ۔ ”خبریں “کا آغاز ہوا تو کئی برس تک جاگیردارانہ سوچ کے خلاف جہاد کرنا پڑا، دھمکیاں‘ مقدمات، مخالفت، سبھی کچھ۔ یوں لگتا تھا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اس علاقے میں زور والے مظلوم پرجی بھر کر ظلم ڈھاتے تھے اور شاید آج بھی اسی ظلم کے اثرات موجود ہیں۔ سرشام ملتان شہر کی سڑکوں پر قناعتیں لگا کر انہیں بند کرنا ٹریفک کو روک دینا اور سرعام مجرے کرانا میں نے پہلی بار ملتان ہی میںدیکھا ۔جنوبی پنجاب ہی میں غربت کے باعث لوگوں کو چند روپوں کے لالچ میںپیسے کے ہاتھوں بکتے دیکھا‘ یہاں کے ظالم زمینداروں کوناراضگی کے عالم میں ”بے ادب“ مزارعوں پر کتے چھوڑتے دیکھا ۔لگتا تھا قانون یہاں تک پہنچے پہنچتے کچھ کمزور پڑ گیا ہے ،صوبائی اسمبلی کارکن ہو یا قومی اسمبلی کا،سینیٹر ہو یاکسی حکمران جماعت کا عہدیدار بیورو کریسی کا وہ زر خرید غلام ہوتا ہے ،کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو تنگ کرنا ہو تو اس کے علاقے میں ایسا ایس پی بھیج دو جو اس کی بات نہ مانے، ڈیرہ غازی خان جاتے وقت برسوں پہلے میں نے جابجا سڑک کنارے پرائیویٹ اکیڈمیاں دیکھیں ، جن میں طالب علموں سے نقد فیس لے کر انہیں میٹرک ، ایف اے یا بی اے کروایا جاتاہے۔ اس لیے کہ سرکاری تعلیمی ادارے کم ہیں اور وہاں پڑھائی بھی نہیں ہوتی میں نے دیکھا کہ ایک کمرے کے سکول میں پانچ جماعتیں اور دو کمرے کے سکول میں آٹھ جماعتیں پڑھائی جاتی تھیں، خواتین کے سکولوں کی حالت قابل رحم تھی، ٹیچر کیونکہ دور سے آتی تھی لہٰذا ہفتے میں دو ایک دن سے زیادہ حاضر نہیںہوتی تھی۔ ایک زمانے میںگھوسٹ سکولوں کی بھرمار ہوتی تھی یعنی موقعپر کچھ نہیں مگر کاغذوں میںسکولوں کا خرچ اورتنخواہیں علاقے کا کوئی بااثر شخص وصول کرتا تھا۔ غریب کی زندگی اجیرن تھی اور شاید آج بھی ہے۔ میں نے اپنے اخبار کے ذریعے جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی ، ”انعام “کے طور پر انہوں نے مجھے بلیک میلر کا خطاب دیا۔مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی پالیسی پر ڈٹارہا۔
برسوں پہلے ایک قومی اخبار کے ایک سینئر ایڈیٹر نے جس کے پاس میں نے زندگی کے 9،10 برس بطور ماتحت گزارے تھے مجھے بلایااور کہا یہ تم کیا کررہے ہو ،یہ سرائیکی لوگوں کو ”خبریں“ میں چھاپ کر اٹھارہے ہو، تم نہیں جانتے یہ سانپ ہیں جو ایک دن تمہیںبھی ڈس لیں گے۔میںنے کہا میں سرائیکی،پنجابی ،روہتکی کے جھگڑے میں نہیں پڑتا میں تو سارے جنوبی پنجاب کے پسے مظلوموں کے لیے کوشش کررہا ہوں۔
اس طویل مگر ضروری تمہیدکے بعد میں اپنی زبان سے اپنے اخبار کی تعریف میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے خود محسوس کیا اور اس کی وجہ ہے کہ میں نے لاہور میں جہاں سے اخبار شروع کیا تھاسرکولیشن کے حساب سے پہلے تین اخبار وں میں شامل نہیں لیکن جنوبی پنجاب میں ” خبریں“ بلامبالغہ پہلے نمبر پر شمار کیا جاتاہے۔ شاید میری ناچیز کاوشوں کو لوگوں نے سراہا ہے، میں نے پنجابی میں اخبار نکالا، آج ”خبریں“ میں پنجابی کا ہفتہ وار صفحہ بھی چھپتاہے لیکن ملتان ایڈیشن میں سرائیکی کا صفحہ بھی مدت سے چھپ رہا ہے۔ میں تو سندھی اخبار”خبرون“ بھی چھاپتاہوں۔
میرے بیٹے عدنان شاہد نے انگزیزی اخبار”دی پوسٹ“بھی نکالا تھا شاید پشاور میں خبرونہ کا ڈیکلریشن کسی اور کے پاس نہ ہوتا تو وہاں سے بھی پشتو اخبار شروع کرتا، مجھے پرویز مشروف کے دور میں سب سے زیادہ زبانوں میں روزانہ اخبار چھاپنے پر صدراتی ایوارڈ تمغہ امتیاز بھی ملا۔
اب میں سرائیکی لیڈروں سے کچھ کہنا چاہتاہوں جنہیں میں نے بڑی عزت و احترام سے سرائیکی مشاورت کے لیے دفتر ”خبریں“ میں بلایا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں پاکستان میں صوبوں کی ازسرنوتقسیم کا شروع سے حامی رہا ہوں اور ہر دور کے حکمرانوں سے میں نے اس موضوع پر بات ضرور کی۔ البتہ میں اس بحث سے الگ رہتا ہوں کہ سابق ریاست بہاولپور اور ملتان مظفرگڑھ کو ملاکر ایک صوبہ بنایا جائے یا جنوبی پنجاب میں سابق ریاست بہاولپور کو بقول ہمارے دوست محمد علی درانی کے بحال کرد یا جائے۔ کیونکہ ان کا موقف تھا کہ ون یونٹ سے پہلے یہ صوبائی شکل یا حیثیت رکھتا تھا میرا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر سابق ریاست بہاولپور کے لوگ الگ صوبہ چاہتے جیسا کہ 2013 ءکے الیکشن کے بعد پنجاب اسمبلی سے بھی قراردادمنظورکی گئی تھی تو کوئی حرج نہیں اور اپنے سرائیکی کالم نگار ظہور دھریجہ کے خیال میں اگرسابق ریاست بہاولپور اور ملتان ، مظفر گڑھ، ڈی جی خان کو ملا کر ایک بڑا صوبہ بنایا جائے تو بھی مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں البتہ میں اس نکتہ نظر کا حامی نہیں ہوں کہ سرائیکی جہاں جہاں رہتے ہوں یعنی ڈی آئی خان سے سرگودھا تک سرائیکی صوبہ بنادیا جائے۔ میں سرائیکی لیڈروں سے بھی مشاورت کرنا چاہتا تھا کہ آپ اپنے علاقے میں الگ صوبہ چاہتے ہیں تو آئین پاکستان میں تبدیلی کرنا ہوگی چونکہ اس کے آرٹیکل ون کا پہلا حصہ یہ ہے کہ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ہے، یعنی پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، آئینی ترمیم کیلئے پہلے صوبائی اور آخر میں قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ کی دو تہائی اکثریت جب تک متفق نہ ہو، نہ آئینی ترمیم ہو سکتی ہے اور نہ ہی صوبہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا چھوٹی چھوٹی سرائیکی پارٹیاں خواہ مجھ سے کتنی خفا کیوں نہ ہوں، حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی آبادی کی تعداد کے حساب سے نہ تو پنجاب اسمبلی میں اکثریت میں آسکتی ہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی میں فی الحال وہ صرف شوربپا کرسکتی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ ثابت ہوا کہ وہ صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر وہ صوبہ بنانے میں مخلص ہیں تو پہلے اپنے درمیان اتحاد کیوں نہیں پیدا کرتے؟ اور ہر قابل ذکر شخص نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کیوں بنا رکھی ہے؟ پھر یہ بھی بات ہے کہ اگر تمام چھوٹی بڑی سرائیکی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں ایک انتخابی الائنس کی شکل اختیار کرلیں تو بھی ممکن ہے ایک آدھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی اکثریت کیسے ہوسکتی ہے؟ پھر سب سے بڑا مسئلے جس کی طرف میں نے نیک نیتی سے سرائیکی لیڈروں کی طرف توجہ دلوائی کہ وہ جونہی سب ملکر بھی سرائیکی کاز کے مسئلہ پر الیکشن لڑیں گی تو ہر قصبے ، شہر اور علاقے میں نان سرائیکی ووٹ نہ صرف انہیں نہیں ملے گا بلکہ ان کے امیدوار کے مقابلے میں دوسرے لوگ راستہ روکنے کیلئے دل و جان سے مخالف امیدوار کی مدد کریں گے۔
دوسراطریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے سرائیکی الائنس بناکر یہ لوگ اپنا پریشرگروپ بنائیں اور پھر اسی گروپ کی بنیاد پرمسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، یاتحریک انصاف سے سرائیکی ووٹ کی بنیاد پر اپنے لیے کچھ مراعات چاہیں اوران سے کوٹے کی شکل میںکچھ سیٹوںکا تقاضاکریں اور مجموعی طور پر ان سے تحریری اور عوامی سطح پر معاہدہ کریںکہ وہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کی شکل میں اپنی بھرپورتوجہ صرف کریں گے۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ موجود شکل میں کم و بیش 30 سیاسی جماعتیں یا تنظیمیں نہ کسی سے کوئی سودا بازی کرسکتی ہیں نہ خود کوئی سیٹ جیت سکتی ہیں۔ اور نہ اس منتشر ہجوم کو کوئی سیٹ پیش کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس بڑی سیاسی جماعتیں اس لیے بھی صوبے کے سرائیکی نام سے شاید بدکتی ہیں کہ انہیں نان سرائیکی ووٹ بھی حاصل کرنا ہے۔ میرے دوست جاوید ہاشمی نے اس سلسلے میں تفصیل سے مجھے سمجھایا تھا کہ ہمیں دیہات میں پھیلے ہوئے پنجابی اور روہتکی ووٹ کی ازحد ضرورت ہوتی ہے اور میں سرائیکی ہونے کے باوجود انہیں نظرانداز نہیں کرسکتا اور ان کا بہت خیال رکھتا ہوں۔(جاری ہے)
٭….٭….٭

دوسری طرف اس میں کوئی شہر نہیں کہ جنوبی پنجاب میں رہنے والے پنجابی اردو سپیکنگ مہاجر، روہتکی، بلوچ، پٹھان وغیرہ اپنے علاقے صوبے کے قیام کے حامی ہیں تاکہ انہیں قومی وسائل میں سے آبادی کے مطابق فنڈ مل سکیں اور انہیں لاہور نہ جانا پڑے اس سلسلے میں رحیم یار خان ہو یا ڈیرہ غازی خان اور جام پور ان علاقوں کے لوگوں کو خصوصی کاموں کیلئے بھی لاہور کا سفر کرکے کیا جو دس گیارہ گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ کوئی براہ راست گاڑی یا بس مل جائے۔ سرائیکی لیڈر اگر سرائیکستان کا شور کا نہ مچاتے جس اصطلاح کے بعض نان سرائیکل لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو ملتان، مظفرگڑھ، ڈی جی خان میں ملتان، وسیب، پنجند وغیرہ کا نام استعمال کیا جاتا تو علاقے کے کئی زبانیں بولنے والے اس مہم میں شامل ہوسکتے تھے۔ لیکن سرائیکی لیڈروں کے شور شرابے سے نان سرائیکی خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ سرائیکیوں کا صوبہ بنا کر نان سرائیکی بھی شہری نہ بن جائیں۔ سرائیکی تنظیموں اور لیڈروں میں مجھے کوئی ایک بڑا نام ایسا نظر نہیں آتا جس کے پیچھے سب لگ سکیں، اکثر جماعتیں اور تنظیمیں لیٹر پیڈ کی حد تک محدود ہیں جس پر بیان لکھ کر چھپوائے جاتے ہیں۔ یہی بات چند سال پہلے میں نے کالم نگار ظہور دھریچے کو سمجھانے کی کوشش کی تو اتحاد کے نام پر اپنی نئی سیاسی جماعت کھڑی کر دی اور خود سربراہ بن بیٹھے۔
ہمارے دوست دھریجہ صاحب کی ایک ہی دن میں پانچ مختلف شہروں سے خبریں آئیں تو میں نے ملتان آفس میں نیوز ایڈیٹر کو مذاق میں کہا، فون کیا اور پوچھا کہ کیا ان کے پاس ہیلی کاپٹر ہے؟ وہ خانپور سے ملتان آ رہے تھے وہ جس جس شہر میں گزرتے وہاں سے لیٹر پیڈ پر ان کے ارشادات عالیہ خبریں دفتر پہنچنے لگتے۔ یہی نہیں بلکہ بعض سیاسی پارٹیوں یا تنظیموں کے لیٹر پیڈ روزنامہ خبریں ملتان کے بعض سابقہ کارکنوں کے پاس بھی تھے جب وہ خبریں سے منسلک تھے۔

Source : http://dailykhabrain.com.pk/2018/02/12/97310/

سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات (2)

 

ضیا شاہد ……..خصوصی مضمون

دوسری طرف اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنوبی پنجاب میں رہنے والے پنجابی اردو سپیکنگ مہاجر، روہتکی، بلوچ، پٹھان وغیرہ اپنے علاقے صوبے کے قیام کے حامی ہیں تاکہ انہیں قومی وسائل میں سے آبادی کے مطابق فنڈ مل سکیں اور انہیں لاہور نہ جانا پڑے اس سلسلے میں رحیم یار خان ہو یا ڈیرہ غازی خان اور جام پور ان علاقوں کے لوگوں کوچھوٹے کاموں کیلئے بھی لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے جو دس، گیارہ گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ کوئی براہ راست گاڑی یا بس مل جائے۔ سرائیکی لیڈر اگر سرائیکستان کا شور نہ مچاتے جس اصطلاح کے بعض نان سرائیکل لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو ملتان، مظفرگڑھ، ڈی جی خان میں ملتان، وسیب، پنجند وغیرہ کا نام استعمال کیا جاتا تو علاقے کے کئی زبانیں بولنے والے اس مہم میں شامل ہوسکتے تھے۔ لیکن سرائیکی لیڈروں کے شور شرابے سے نان سرائیکی خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ سرائیکیوں کا صوبہ بنا تو نان سرائیکی بی کلاس شہری نہ بن جائیں۔ سرائیکی تنظیموں اور لیڈروں میں مجھے کوئی ایک بڑا نام ایسا نظر نہیں آتا جس کے پیچھے سب لگ سکیں، اکثر جماعتیں اور تنظیمیں لیٹر پیڈ کی حد تک محدود ہیں جس پر بیان لکھ کر چھپوائے جاتے ہیں۔ یہی بات چند سال پہلے میں نے کالم نگار ظہور دھریچے کو سمجھانے کی کوشش کی تو اتحاد کے نام پر اپنی نئی سیاسی جماعت کھڑی کر دی اور خود سربراہ بن بیٹھے۔ہمارے دوست دھریجہ صاحب کی ایک ہی دن میں پانچ مختلف شہروں سے خبریں آئیں تو میں نے ملتان آفس میں نیوز ایڈیٹر کو مذاق میں فون کیا اور پوچھا کہ کیا ان کے پاس ہیلی کاپٹر ہے؟ وہ خانپور سے ملتان آ رہے تھے وہ جس جس شہرسے گزرتے وہاں سے لیٹر پیڈ پر ان کے ”ارشادات عالیہ“ خبریں دفتر پہنچنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ بعض سیاسی پارٹیوں یا تنظیموں کے لیٹر پیڈ روزنامہ ”خبریں“ ملتان کے بعض سابقہ کارکنوں کے پاس بھی تھے جب وہ ”خبریں“ سے منسلک تھے۔قارئین بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ سرائیکی دوستوںکوپسند ہویا نہ ہوبہت سے غیرسرائیکی لوگ اس خطے میں آباد ہیں اور1947ءسے2017ءتک انہوں نے مالی طورپر کافی وسائل جمع کرلئے ہیں اور اب کسی بھی الیکشن میں اگر آپ سرائیکی نعرہ لگا کر میدان میں اترتے ہیں تو سارے نان سرائیکی اس کے مقابلے میں اکٹھے ہو جائیں گے اورآپ کے لئے سیٹ نکالنا مشکل ہوجائےگا۔ سرائیکی مشاورت میں بعض دوستوں کاخیال تھاکہ بعض حلقے بالخصوص ایم پی اے کی حد تک جو ایم این اے کے حلقے سے چھوٹا ہوتاہے ہم سرائیکی کے نام پر سیٹ جیت سکتے ہیں لیکن شاید کسی ایک شریک گفتگو کوبھی میں نے یہ دعویٰ کرتے نہیں دیکھا کہ ہم ایم این اے کی سیٹ پربھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ بعض دوستوں نے یہ رائے دی کہ ہم سرائیکستان کے نام پر الگ صوبے کے لئے جدوجہد کریںگے تو بہت سے نان سرائیکی بھی ہمارا ساتھ دیں گے اس دوست کادعویٰ تھا کہ کئی حلقوں میں بھی روہتکی ،پنجابی ،اردو، مہاجریا بلوچ وغیرہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ میں یہ طے نہیں کرسکتاکہ اس دعویٰ میں صداقت ہے یا نہیں؟ لیکن میرا فرض بنتاہے کہ اپنے سرائیکی دانشوروں سے یہ حقیقت بیان کروں کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ غیرسرائیکی آپ کے ساتھ ہوں لیکن جب آپ سرائیکستان کانعرہ مستانہ لگاکر میدان میں آئیں تو غیرسرائیکی لوگوں میں ایسے بہت سے حضرات مخالفت بھی کریں گے کیونکہ انہیں یہ خوف پیدا ہوگاکہ یہ خوف بہرحال علاقے میں پایا جاتاہے کہ سرائیکستان بننے کی صورت میں غیرسرائیکی بہرحال خود بی کلاس کلاس شہری نہ بن جائیں ۔ اکثر سرائیکی دانشور‘ ادیب‘ شاعر اورسیاستدان اصرار کرتے ہیں کہ وہ ہرگزمتعصب نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس علاقے کو سرائیکستان کانام دینا ضروری ہے کہ جس طرح بلوچستان میں غیربلوچی‘ سندھ میں غیرسندھی‘ پنجاب میںغیرپنجابی اورخیبرپختونخوا میں غیرپٹھان لوگ بھی آباد ہیں اورصوبے کا نام ان کی ترقی یا خوشحالی میں ہرگز کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس دلیل میں وزن ہے لیکن کیا کریں کہ کچھ نان سرائیکی بہرحال خوفزدہ ہیں۔ ”خبریں“ کے پنجابی صفحے پر ہماری اسسٹنٹ ایڈیٹر میگزین آمنہ بٹ صاحبہ نے پنجابی کے ایک استاد کا انٹرویو چھاپا جس کی سرخی یہ تھی کہ” سرائیکی‘ پنجابیاں نوں چنگا نئیں سمجھدے“ میں اگرچہ وسیب میں پیدا ہوا لیکن پنجاب میں پلاپڑھا۔اپنا اپنا تجربہ مختلف ہوسکتا ہے زمانہ طالب علمی سے ہی مجھے ملتانی بولنے والے دوست بہت پسند تھے۔ مجھے یہ زبان بھی اچھی لگتی ہے جسے اب سرائیکی کہاجاتاہے‘ مجھے اس علاقے سے واقعی پیار ہے اورمجھے تو کسی سرائیکی نے برا نہیں سمجھا‘ غیر سرائیکی دوستوں سے میری درخواست ہے کہ آپ بھی سرائیکی لوگوں سے محبت کریں‘ ان کی عزت کریں ان کی زبان اورتہذیب کو گھٹیا نہ سمجھیں جب آپ اس علاقے میں آتے ہیں تو خودکواس علاقے کاحصہ سمجھیں اور ان کے قدیم باشندوں کوہر کام میں شامل کریں‘ محبت ہی سے لوگوں کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔ میرے خیال سے1947ءکے بعد آنے والے دوستوں کو ذہن میں یہ بات بٹھالینی چاہئے کہ بہرحال یہ انصار مدینہ تھے اور آپ مکے سے آنے والے مہاجر جب اس مشکل وقت میں انہوں نے آپ کو سہارا دیا اورآپ کی آﺅ بھگت کی تو اب ان پر عرصہ حیات تنگ ہو جائے گا یہ باہر سے آنے والے کسی شخص کے لئے مناسب نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بہاولپور کے اس استاد نے سہی کہایا غلط سوشل میڈیا پر ان کی وہ درگت بنائی گئی اور ٹیلی فون پر ان کو اتنی دھمکیاں دی گئیں کہ موصوف نے سوشل میڈیا پرہی انکار کردیا کہ میں نے یہ جملے نہیں کہے تھے یہ لیکچرار صاحب جان لیں کہ ہم اس مسئلے کو بنیاد بناکر جلتی پرتیل نہیں ڈالنا چاہتے‘ ہم تو خلوص اور محبت سے دلوں کو جوڑنا اور پاکستان کی سرزمین پربسنے والے ہر زبان اورہر نسل کے لوگوں کو سماجی‘ سیاسی اورمعاشرتی انصاف دلانے کے حق میں ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں ”جہاں ظلم‘ وہاں خبریں“ تو مظلوم کے بارے میں ہمارا کوئی نمائندہ تک یہ نہیں پوچھتا کہ بھائی آپ کی قومیت کیاہے؟ ذات کیاہے؟ زبان کونسی بولتے ہو؟ ایسے مواقع بھی آئے کہ ظالم جس بھی قبیلے‘گروہ یا ذات‘ برادری سے نکلا ہم نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی۔ ظالم‘ظالم ہوتا ہے۔ سرائیکی‘پنجابی‘ روہتکی یا بلوچ نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس لیکچرار صاحب کی گفتگو کی پوری ریکارڈنگ موجود ہے لیکن آمنہ بٹ نے ان سے پوچھا تو شریف النفس انسان نے کہاکہ میں نے اس علاقے میں رہنا ہے اورجو بات میں نے کہی تھی اسے آپ نے جس طرح چھاپا اس پر مجھے گالیاں پڑ رہی ہیں۔ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں یہ میری مجبوری تھی میں مقامی خاص طورپر سرائیکی لوگوں سے نہیں لڑسکتا‘ میں بچوںکو پڑھاﺅں یا اپنی جان بچاﺅں۔ ہم بہاولپور کے پریس کلب میں ان کی کیسٹ کو سنوا سکتے ہیں لیکن اس بیچارے سے ہمیں کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔ ہاں البتہ ان متعصب سرائیکی لوگوں سے مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ کایہ بغض آپ کے علاقے میں نئے صوبے کے قیام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر کسی استاد نے یہ کہہ دیاکہ سرائیکی ہمیں اچھا نہیں سمجھتے تو کیا حرج ہے؟ میں آپ کی جگہ ہوتا تومیں اسے خط لکھتا‘ خود جا کر ملتا اورکہتا کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں‘ ہم تو آپ سے پیار کرتے ہیں‘تم ہم سے کس لئے خفا ہیں؟ جن سرائیکی جیالوں نے انہیں ٹیلی فون کالوں میں گالیاں اور دھمکیاں دیں انہوں نے خواجہ فرید کی تعلیمات سے انکار کیا۔ان کے علاقے ملتان قلعہ کہنہ میں دوعظیم الشان روحانی شخصیات کے مزار ہیں۔ پہلے بہاﺅالدین زکریا اور دوسرے شاہ رکن عالمؒ‘ ان بزرگوں کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے میں نے بچپن میں اندرون سندھ تک سے عقید ت مندوں کو ملتان کینٹ کے ریلوے اسٹیشن سے ننگے پاﺅں اترتے اورقلعہ کہنہ تک پیدل چلتے ہوئے دیکھاہے ایک زمانے میں ملتان کالفظ اکیلا نہیں بولا جاتاتھا بلکہ ملتان شریف لکھتے اوربولتے تھے دیگر متعدد بزرگوں‘ ہستیوں کے طفیل اس علاقے میں روحانیت کے سلسلے بہت پرانے ہیں اورملتانی جسے اب سرائیکی کانام دیاگیاہے ہم اپنے بچپن ہی سے ملتان کے ساتھ مدینتہ الاولیاءکے الفاظ لکھے ہوئے دیکھتے رہے۔ محبت‘ امن‘ رواداری‘ مظلوم سے پیار اور ظالم سے نفرت بزرگوں کی دی ہوئی تعلیم کے سبب پیدا ہوئی۔ آج اس زبان کے بولنے والوں میں نفرت‘تعصب‘ جاہلیت زیب نہیں دیتی یہ تو محبتوں کی سرزمین ہے۔ یہ رشدوہدایت کی ترغیب دینے والوں کے طفیل باہمی روداری سب سے بڑا اللہ کافضل ہے جو یہاں ودیعت کیاگیا۔ سرائیکی دوست جان لیں کہ اگر ان میں محبت اور رواداری نہیں تو میرے خیال میں وہ سرائیکی ہی نہیں میں نے اپنے بچپن میں دوستوں‘ محلے والوں کی ماﺅں سے پیار لئے ہیں۔ ملتانی زبان میں وہ اتنی شفقت سے ہمیں اپنے بیٹوں کے کلاس فیلوز کو اپنے جگر گوشوں کے ہم پلہ سمجھتی تھیںمیںان ماﺅں‘ چاچیوں اورپھوپھیوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ میرے دل میں یہ زبان بولنے والوں کے لئے محبت اصل میں استادوں‘ محلے کے بزرگوں‘ مقامی دوستوں کی امیوں کی دی ہوئی محبت ہے جسے میں اس علاقے کے لوگوں کوقرض سمجھ کرلوٹا رہا ہوں۔شاید میرے یہی خیالات تھے جب مظفرگڑھ سے چار وکلاءمجھے ملنے آئے وہ سرائیکی کاز کے زبردست حامی تھے اور ان کے خیالات اس انتہا کو چھورہے تھے کہ انہوںنے مجھے بریف کیا کہ کتنی تحصیلوں میں وہ ریسرچ مکمل کرچکے ہیں کہ ہندوکی چھوڑی ہوئی یاسرکاری طورپر خالی زمینوں کو باہر سے آنے والوں کو کس فیاضی سے الاٹ کیاگیا۔ وہ مصر تھے کہ یہ کام پورے جنوبی پنجاب میں ہونے والا ہے لیکن فی الحال ضلع مظفر گڑھ میں اپنی ریسرچ مکمل کرنے کے بعد وہ ایک سرائیکی جماعت کے پلیٹ فارم سے مطالبے بھی کریں گے اور عدالتوں میں بھی جائیں گے کہ یہ الاٹ منٹس منسوخ کی جائیں۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ نفرت کی زنبیل سے نکلنے والے ان دعوﺅں سے گلی‘ گلی ‘کوچے کوچے لڑائی پھیل جائے گی کیونکہ ستر سال سے جو جہاں بیٹھا ہواہے اب اسے قبول کرناچاہئے۔ علاقے کی ترقی اور زراعت کی بہتری کاتقاضا یہ نہیں کہ مہاجر اور مقامی کی لڑائی کروائی جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ دھریجہ صاحب سے لے کر عاشق بزدارتک سب کی تحریروں میں بہت نیچے جاکر کہیں یہی مطالبہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے ،کیا ہم اتنے بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کے متحمل ہوسکتے ہیں؟دکھ تو یہ ہے کہ اس علاقے سے وزیراعظم بھی بنے اورصدر بھی بنے‘ وزیراعلیٰ بھی رہے اورگورنر بھی انہوںنے یہاں نہ صنعتی ترقی کے لئے کوششیں نہ کیں کیونکہ ہر سال یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے کبھی سرکاری ملازمتیں پوری نہیں ہوسکتیں‘ صنعتی اورزرعی ترقی کے نتیجے ہی میں وہ کارخانے اور تجارتی ادارے قائم ہوسکتے ہیں جو پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتیں مہیا کرتے ہیں۔ کیا میرے اپنے علاقے بہاولنگر میں پڑھے لکھے نوجوان مجبور نہیں کہ ملازمت کراچی ملے گی یا لاہور اسلام آباد میں ،کیایہ حقیقت نہیں کہ فیصل آباد‘ سیالکوٹ‘ گوجرانوالہ اور گجرات کی مقامی صنعتیں یہاں بیروزگاروں کی تعداد کم نہیں کرتیں۔جنوبی پنجاب کا سب سے بڑاپیشہ زراعت تھا اور سب سے بڑی کیش کراپ یعنی فصل کپاس ہوا کرتی تھی۔ شوگر ملوں کے سرمایہ داروں نے کپاس کی جگہ شوگر ملوں کے لئے گناہ کی کاشت شروع کروا دی، ایک سیاسی خاندان کے نوجوان ایم این اے سے میں نے پوچھا یار تم شوگرملوں پر شوگرملیں کیوں بناتے جا رہے ہو‘ اس نے کہا ایک شوگرملر6ہزار سے دس ہزار ووٹرآپ کو دلواتی ہے گویا آپ گھر سے اتنے ووٹ لے کر چلتے ہیں باقی پارٹی کا کچھ‘ کچھ دولت کا‘ کچھ ذات برادری کا سیٹ پکی ہوجاتی ہے۔ آج جنوبی پنجاب میں شوگر ملوں کا جال پھیلا ہوا ہے اورہائیکورٹ نے ان کی تعداد روکنے کے لئے حکم امتناعی جاری کر رکھے ہیں مگر سیانے لوگ سابق ریاست بہاولپور کی سرحد عبور کرتے ہی سندھ میں ملیں کھڑی کرلیتے ہیں۔ گنا پنجاب کامل سندھ کی‘ ہنگ لگے نہ پھٹکڑی اوررنگ بھی چوکھا ہوا ۔دیہاتوںمیں غربت پھیل رہی ہے کہ ایک دور تھا جب دیہاتی عورتیں سال بھر کپاس کی فصل کا انتظار کرتی تھیں، کپاس کی چنائی سے صفائی تک انسانی ہاتھ استعمال ہوتے تھے اورمیںنے بچپن میں بڑی بوڑھیوں کو کہتے سنا تھا کہ کپاس کی فصل آئیگی تو بچی کاجہیز تیار ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حما م میں سبھی ننگے ہیں۔ کونسی پارٹی اورکونسا گروہ بس پیسہ ملنا چاہئے چاہے، گردو پیش کے کتنے گھروں میں فاقہ ہی کیوں نہ ہو۔جنوبی پنجاب میں جس کی اصطلاح کو پڑھ کر بعض سرائیکی دوست خفا ہو جاتے ہیں میراکہنا ہے کہ یہ صرف شناخت کی بات ہے۔ اپنا صوبہ بنالو گے تو جنوب کے لفظ کے ساتھ پنجاب کا لاحقہ خود ہی ختم ہو جائے گا مگر اس علاقے کے اکثر صوبہ حمایت کے لوگوںکا حال تو ایسا ہے کہ جڑ کو نہیں شاخوں کوپکڑتے ہیں اور چند پتے توڑ کر یہ سمجھتے ہیں کہ قلعہ جڑ سے اکھاڑ دیا ۔بھائی لوگوپہلے صوبہ تو بنا ﺅ پھر نام رکھ لینا لیکن پہلے نام پر آدھی آبادی کو مخالف بنالیں گے اورپھر اسمبلیوں میں خواہ ایک نمائندہ نہ ہوپھر بلندآواز سے نعرہ لگائیں ”ساڈا سرائیکستان“اللہ کے بندو پہلے صوبہ بنانے کا اہتمام تو کرو‘ بڑی سیاسی جماعتوں میں بھی آپ کے لوگوں کو جگہ مل سکتی ہے لیکن کبھی آپ نے اعدادوشمار دیکھے‘ پارٹیاں بڑی پارٹیاں بھی سرائیکیوں کے ساتھ ساتھ نان سرائیکیوں کو بہت اہمیت دیتی ہیں کیونکہ ان کے ووٹ بھی درکار ہوتے ہیں اس نعرے پر ہمارے مرحوم دوست تاج محمد لنگاہ نے بھی الیکشن لڑا پی پی کے ٹکٹ پر 1970ءمیں کھڑے ہوئے تھے تو رات کے پچھلے پہر اکلوتے پی ٹی وی پر کبھی لنگاہ صاحب کا پلڑا بھاری ہوتا تو کبھی میاں ممتاز دولتانہ کا آخر میں دولتانہ جیت گئے۔تاہم تاج لنگاہ نے بھی شاید چالیس ہزار کے لگ بھگ ووٹ لئے تھے۔ وہی لنگاہ صاحب سرائیکی کانعرہ لگا کر الیکشن لڑتے ہیں تو چار ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ لئے تھے۔ فراز نون نے آخر میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ عامر ڈوگر کی حمایت کی تاہم نام امیدواروں کی فہرست میں چھپ چکا تھا اس لئے600کے قریب ووٹ پڑے تھے, فراز نون ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔2018ءکے الیکشن میں اگریہ پارٹی کی طرف سے کھڑے ہوتے ہیں تو شاید ہی کوئی سیٹ جیت سکیںاور اللہ نواز وینس بھی کسی سے الحاق کر کے اور2018ءکے الیکشن کے بعد میں ان سرائیکی دوستوں سے پوچھوں گا بھائی جان کہاں ہیں اورکس حال میں ہیں؟میں نے سرائیکی مشاورت میں بھی نیک نیتی سے تجویز دی تھی کہ 30تنظیمیں آپس میں مل کر سرائیکی الائنس بنالیں اور اس الائنس کو اتنا مضبوط کریں کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ان سے سودے بازی کرنے کی ضرورت محسوس ہو تب کسی ایک پارٹی کے ساتھ اس شرط پر وابستہ ہوں کہ وہ صوبائی اسمبلی کی اتنی وفاقی اسمبلی کی اتنی سیٹیں سرائیکی الائنس کے لوگوں کو دے دیں اس ایک تجویز کے سوا میرے ناقص ذہن میں تو اورکوئی تجویز نہیں۔ اس منتشر قوم کا ہر شخص لیڈر بنا ہوا ہے اور دو تین بظاہر سرائیکی سیاسی جماعتیں بھی صوبائی اسمبلی کی آٹھ دس سیٹیں حاصل کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتیں۔ایک گزارش جنوبی پنجاب بشمول سابق ریاست بہاولپور سے منتخب ہونے والے ایم پی اے اورایم این اے حضرات سے بھی ہے کہ اپنے ذاتی کام تو آپ خواب کرواتے ہو کبھی اس علاقے کی غربت دور کرنے کے بارے میں بھی سوچا؟ یوں لگتاہے کہ یہاں سے جو منتخب ہو کر اسمبلی جاتاہے ۔ صوبائی‘ وفاقی اسمبلی یا سینٹ میں اچھا بچہ بن کر اس طرح پانچ سال پورے کرتاہے کہ انہیںپارٹی لیڈر اپنی ہاتھ کی چھڑی اورجیب کی گھڑی سمجھتا ہے، میںنے احمد پورشرقیہ میں پٹرول لوٹنے والے واقع پر ایک مضمون لکھا۔ میرا تھیسز یہ تھا کہ اس حادثے کی جس میںسینکڑوں لوگ جل مرے کی بنیادی وجہ صرف اورصرف غربت تھی۔ اگر لندن یا نیویارک میں اس طرح سڑک پر تیل گرجائے تو کیا لوگ برتن بھانڈے لے کر تیل لوٹنے کے اس ایڈ ونچر میں شامل ہوجائیں گے؟ جواب آپ اپنے دل سے لیجئے اورسرائیکی دوستوں سے ایک گلہ یہ بھی ہے 30-40عمائدین جو مشاورت میں موجود تھے ،زکریا یونیورسٹی ملتان میں لوئر مڈل کلاس کی لڑکی مرجان کو مال دار طبقے کے ظالم کابیٹا نہ صرف کلاس روم میں ریپ کرتاہے بلکہ آبروریزی کی ویڈیو بناکر سال بھر اسے بلیک میل کرتا ہے، سرائیکی کے نعرے لگانے والے ذرہ اپنے گریبان میں جھانکیں زکریا یونیورسٹی میں شور مچا کر سرائیکی شعبہ تو بنوا لیا مگر پڑھنے والے لڑکے لڑکیوں کی تعداد سات ہے اورپڑھانے والے چھ اور چھوٹے ملازم سات‘ تیرہ کاعملہ اورسات طلب علم ،ملزم علی رضا قریشی سے سترلڑکیوں کی ویڈیو فلمیں برآمد ہوئیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ وہ” داد شجاعت“دے رہا تھا۔ اس کی اپنی زبان سرائیکی نہیںہے اوروہ سرائیکی بول بھی نہیں سکتا۔ لڑکی مرجان کے مطابق دو اور لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیو فلمیں بھی اسی ”مرد میدان“ کے پاس تھیں۔ اس لڑکی کی ویڈیو علی رضا نے عام کردی تو بدنامی سے ڈرکر یہ لڑکی پولیس کے پاس پہنچ گئی۔ مجال ہے کسی ایک سرائیکی لیڈ ر نے کئی گھنٹے پرمشتمل مشاورت میں سرائیکی شعبے میں بنے ہوئے ”کنجر خانہ“ کاذکر بھی کیا ہو۔ سرائیکی شاعری پر آٹھ آٹھ گھنٹے بیٹھ کر آنکھوں میں آنسو لا کر شعروں سے پیدا ہونے والی مظلومیت پر رونا زندہ باد‘ذرا سرائیکی شعبے کا حال بھی دیکھ لو میں نے ان دوستوں سے پوچھا یار سرائیکی کے نام پر اب آپ لوگوں نے ایم اے کی کلاسیں تو شروع کروالی ہیں کچھ چندہ جمع کرکے طالب علم ہی اکٹھا کرلو‘ یہ اعزاز صرف پاکستان میں اس شعبہ کو جاتاہے جہاں لوگ عیاشی کے لئے داخل ہوتے ہیں اوردوسرے شعبے کے لڑکیاں‘لڑکے بھی اپنی دوستیں لے کر یہاںجھک مارنے آتے ہیں۔ زندہ باد شعبہ سرائیکی ،پائندہ باد سرائیکستان۔ (ختم شد)٭….٭….٭

Source : http://dailykhabrain.com.pk/2018/02/12/97560/

blank