خطۂ پنجاب کو جگائو بھی

blank

حسن مجتبٰی
27 فروری ، 2014

یہاں کے جی ٹی روڈ یا گرینڈ ٹرنک روڈ عرف جرنیلی سڑک سے بڑے بڑے فاتح اپنے تیر تفنگ، لائو لشکر ، بھاری بھاری توپ خانے لیکر گزرے ہیں۔ ایک بے چارے ماما قدیر کی رہنمائی میں بلوچ کربلا کے مسافر زخمی پائوں گزرے تو کیا ہوا؟ سکندر اعظم، راجا پورس، انگریز بہادر، بڑےبڑےفیلڈمارشل اپنی بٹالینیں لیکر گزرے، راجے مہاراجے کون کون نہ گزرے، کیسے کیسے نہ بھونچال آئے لیکن یہ خطۂ پنجاب تاریخی طور پر خواب خرگوش کے مزے لوٹتا رہا۔ اگر جاگنے کی کوشش بھی کرتا تو پھر مارشل لا سے بھنگ پلا کر سلایا جاتا رہا۔ اسی لئے تو عظیم عوامی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا:
جگائو خطۂ پنجاب کو جگائو بھی
اگر وہ جاگ اٹھا تو یہ نوکری سے جائے گا
حبیب جالب مست میانوی بھی اپنی صور اسرافیل جیسی شاعری لیکر آیا تھا۔ اس نے یہ بھی تو کہا تھا:
اٹھو پنجاب کے لوگو! بلوچستان جلتا ہے
بلوچستان جلتا ہے تو پاکستان جلتا ہے
لیکن یہ پنجاب ہے پیارے، دل جلتا ہے تو جلنے دے آنسو نہ بہا فریاد نہ کر۔
جی ہاں جبیب جالب کہ جن سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا تھا کہ ”جالب صاحب! آپ کی شاعری اور فیض صاحب کی شاعری میں کیا فرق ہے؟تو انہوں نے کہا تھا ”وہی فرق جو اسکاچ اور کپی میں ہے۔ خیر اب تو تخت لاہور کے حکمران بھی اس کے گیت گاتے ہیں لیکن جالب کی روح اور اس کے لواحقین اپنے خرچ پر خوشاور مست ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ جب خادم اعلیٰ پنجاب جالب کی اس معرکتہ آلاراء غزل ’’میں نہیں مانتا‘ میں نہیں جانتا‘‘ کے اس مصرع پر پہنچتے ہوں گے تو ان کو کیسا محسوس ہوتا ہوگا! دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلے
جو کہ سائے میں ہر مصلحت کے پلے
مجھے تو اس میں جالب کے محلات پر پتہ نہیں کیوں رائے ونڈ اور سرے کے محل یاد آتے ہیں۔
تو حبیب جالب جیسا عظیم شاعر بھی اس خطے کو نہیں جگا سکا بلکہ حبیب جالب کہتے تھے وہ وقت بھی تھا جب وہ جیل چلے جاتے تو بازار میں جب ان کی بیوی سودا سلف خریدنے جاتی تو لوگ اسے دیکھ کر کہتے ”او جیہڑا جالب سی نہ او غدار سی غدار چنگا ہویا قید ہویا (کہ وہ جو جالب تھا نہ غدار تھا غدار، اچھا ہوا قید ہوگیا)۔ یہ اور بات تھی کہ اکثریت محلے والوں نے حبیب جالب کے ایام اسیری کے دوران ان کے اہل خانہ کا بڑا خیال رکھا۔
میں نے سوچا کہ اب عوام تو نہیں لیکن انٹیلی جنس والوں نے، ریاست سے زیادہ شاہ کے وفادار لوگوں نے سرکاری چاہے غیر سرکاریوں نے ماما قدیر اور ان کے بے نوا بلوچ قافلے،معلوم ہوتے ہوئے بھی ان نامعلوم بندی خانوں کے بندیوانوں کے بچوں بہنوں اور پیاروں کے بارے میں پنجاب کے بھلے لوگوں میں کیسی کیسی نہ افواہیں اڑائيں ہوں گی۔ ان کو ہراساں کیا اور دھمکایا گیا کہ ان مسافروں کو چائے پانی کا بھی مت پوچھو کہ یہ ملک کے غدار ہیں۔ ایک توکبھی وہ پنجاب تھا جب گھروں کے اوپر پرندے یک ٹک پرواز روک کر لانے لگتے تھے تو مائيں بچوں سے کہتی تھیں آج شاید کوئی مسافر مصیبت میں ہے؟ بچے کہتے کہ ماں دوپٹے کی گانٹھ کھول کہ پرندے اور مسافر آزاد ہوجائيں۔
پنجاب کےلوگو! یہ پنہوں کے کیچ مکران ملک کے کونجیں اپنی ڈار سے بچھڑے ہوئے، آپ کے شکاریوں کے مارے ہوئے پرندے اور مسافر قیدیوں کے تلاش میں نکلے ہیں ان کی مدد کرو۔ ہر اس کے پیارے ڈھونڈنے میں مدد کرو جو گمشدہ ہیں۔ فخرزمان جنہوں نے ضیاء آمر کے دور میں ست گواچے لوگ لکھا تھا آج کوئی ہے جوست ہزار گواچے لوگ لکھے! بلوچ مسنگ پرسنز کا ماما قدیر بلوچوں کا مائو زے تنگ ہرگز نہیں پر گاندھی ضرور ہے۔ بڑے گاندھی یا مہاتما گاندھی جنہوں نے ایک دفعہ پنجاب کے متعلق کہا تھا کہ پنجاب نے ہمیشہ سی آئی ڈی والے پیدا کئے ہیں، ایسا بھی نہیں ۔ پنجاب نے سیکڑوں اور ہزاروں سجل لوگ پیدا کئے۔ بے شمار عظیم شخصیات،شریف لوگ۔ یہ بھی صوفیوں بھگتوں، گروئوں اور سادھوئوں کی سرزمین ہے، صرف جرنیلوں کرنیلوں اور جاسوسوں کی نہیں۔ صرف اللہ وسایا خطیب کی نہیں۔ احمد خان کھرل سے لیکر احمد سلیم تک ، دلا بھٹی سے لیکر دادا امیر حیدر اور ایرک سپرین و عاصمہ جہانگیر تک، میاں محمد بخش سے لیکر ملک جیلانی میرے دوستوں محمد حنیف اور ڈاکٹر منظور اعجاز تک، مصدق سانول جاوید جیدی کیسے کیسے نہ میٹھے اور سجل لوگ پیدا کئے ہیں پنجاب نے۔ شاہی قلعوں اور اٹک کے عقوبت خانوں کے کل کے ہزاروں اسیر جن کی وجہ سے لولی لنگڑی جمہوریت اور آزادی میڈیا سلامت بنی ہے پاکستان میں۔ یہی وہ دور تھا جب پنجاب کے ایک اور سجل سپوت اور دانشور شفقت تنویر مرزا نے لکھا تھا:
پنجابی تے نرے ڈھگے ہن
خورے اونہاں دے جاگ کدی لہسی
بس صور اسرافیل پھوکن دی لوڑ ہے
سارے جاگ پوسن
پنجاب نے صرف ضیاء الحق، تارا مسیح اور مولوی مشتاق ہی پیدا نہیں کئے۔ نہ ہی صرف وہ قصوری جنہوں نے بلہے کا جنازہ پڑھنے نہ دیا یا بھگت سنگھ سے لیکر بھٹو کی پھانسیوں تک کے تاریخی جوابدار رہے۔بلہے شاہ اور میڈم نورجہاں بھی پیدا کئے۔ ایسے نگروں سے گزرتے یہ بلوچ قافلہ ملک کے کوفے پہنچا ہے جسے اسلام آباد کہا جاتا ہے۔ جس کیلئے شیخ مجیب نےکہا تھا کہ اس کی سڑکوں سے مجھے بنگال کے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے۔ افسوس ہے کہ خطہ لاہور کے جان نثاروں ، غازیوں اور شہسواروں میں صرف بمشکل پچاس لوگ تھے جنہوں نے بلوچ قافلے کی گرمجوشی سے آئو بھگت کی۔ سندھ اور سرائیکی وسیب میں اس بلوچ بے نوا قافلے کا استقبال تو خیر بڑی گرمجوشی سے ہوا کہ” بڑا ہے درد کا رشتہ والی بات تھی کہ اس عمر میں میر محمد علی تالپور جیسا بلوچ حقوق کا اصل علمبردار بھی سندھ اور پنجاب میں قافلے کا جاکر ہم سفر ہوا۔ انیس سو تہتر میں بلوچستان کی پہاڑوں پر میر محمد علی تالپور اپنے بھائی حیدر تالپور کے ساتھ بلوچ لڑائی میں گئے ہوئے تھے۔ اس سے بھی بہت پہلے تالپوروں کے بلوچوں سے درد کے رشتے ہیں جب تالپور خواتین نے اپنے دوپٹے نوروز خان کی پھانسی پانے والی اولاد کی میتوں پر ڈال دیئے تھے۔ اپنے دو نوجوانوں کے انیس سو تہتر میں پہاڑوں پر جانے کی وجہ سے میر برادران نے بھٹو سے دشمنی مول لی اور میر رسول بخش نے اپنی سندھ کی گورنرشپ گنوائیؒ، باقی سب تاریخ ہے لیکن وہ جو میر محمد علی کے ساتھ انیس سو تہتر میں پہاڑوں پر جانے والے ان کے پنجابی بلوچ دوست ساتھی تھے ان میں سے بیشتر کبھی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ تو کبھی اس کی بولی بولتے ہیں۔ بلوچی حقوق کو اب وہ پنجابی وفاقی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
کچھ روز قبل ایک شاعر کرنل نیویارک کی مجلس میں نظم سنا رہے تھے سیاچن کی مائيں ’’مائيں پیچھا کرتی ہیں‘‘۔
جی ہاں مائيں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ وہ جہلم کی ہوں کہ دریائے نیل کی کہ بولان کی۔ بلوچوں کی مائيں بھی پیچھا کرتی جی ٹی روڈ پر آ نکلی ہیں۔ پوٹھوہار کے میدانوں میں اپنے جگر گوشے تلاش کر رہی ہيں۔ پوٹھوہار کی مائوں،بہنوں، پنجاب کی مائوں بہنوں، اپنے بچوں اور بھائیوں سے کہیں کہ وہ کسی اور کے بچے اور بیٹے اغوا کر کے گم کرنے کے غیر قانونی حکم مت مانیں، مسخ لاشیں پھینکنے میں ملوث نہ ہوں۔ کاش آپ ایسا کہہ دیں۔ گمشدہ کو واپس زندہ سلامت واپس کرو۔باقی ماندہ پاکستان کے لوگوں کا پنجاب کے خلاف مقدمہ اپنی جگہ لیکن پنجاب کا بھی تو ایک مقدمہ ہے۔ ان کے جگر گوشوں بیگناہ مزدوروں اور مسافروں کی بلوچستان سے لاشیں بھی بھیجی جائيں اور پھر پھولوں کی توقع بھی پنجاب سے کی جائے؟ بہرحال ماما قدیر اور اس کے قافلے والے تو پنجاب لاشیں بھیجنے والوں میں سے نہیں، لاشیں وصول کونے والوں میں سے ہیں۔ ان لوگوں میں سے جن کے پیارے نہتے تھے اور غائب کردیئے گئے۔ کلینکوں اور گھروں سے اٹھائے گئے۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ وہ بپتائیں ہوئی ہیں جو کل پنجاب کے ساتھ ہوئی تھیں جب ایک پنجابی شاعر نے کہا تھا:
گل رسے گھتے چم کے ویہہ ودہ کے پیتی
مڑ پھاہے چڑھ گے ہس کے کائی سی نہ کیتی
تساں ٹھنڈیاں چھاواں مانیاں ساڈا لہو پسینہ
ساڈے ویہڑے لاشاں ٹنگیاں رہیاں مہینہ مہینہ
اساں نال بلوچ تے کاٹھیے ریمے فتیانے
اساں موت ویاہجن ٹر پئے ہتھ بنہہ کے گانے
اساں موچی تیلی پاولی ترکھان مصلی
تسان کرسی لئی دربار وچ اساں کڈھی ملہی
تسان شمس العلما بن گئے اسان رہ گئے وحشی
ساڈے پل پل پولس مقابلے ساڈی روز تلاشی
ایہہ پیشی کاتھے بھگتنان اسیں شہری شیری
ہن پنڈوں پنڈی لابھساں اساں آپ کچہری
اور گویا اب یہی مندرجہ بالا بول ماما قدیر آج کے پنجاب سے کہہ رہے ہوں۔

Source : https://jang.com.pk/news/13311

blank