پاکستان میں زبان کا مسئلہ اور پنجابی قوم کا کردار

blank

سماجی امور کا تعلق زبان سے ھوتا ھے۔ تہذیب و ثقافت بھی ان افراد یا قوموں کی ھی فروغ پاتی ھے ‘ جن کی زبان کو بالادستی حاصل ھو۔ پاکستان کے قیام سے لے کر پنجابی نے نہ صرف پاکستان کی دیگر قوموں یا افراد پر اپنی زبان کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی ‘ بلکہ پکستان کی قومی زبان اردو ھونے کی وجہ سے ‘ اردو زبان کو ھی حقیقت میں عملی طور پر قومی زبان بنانے کے لیے ‘ اردو کو اس قدر اھمیت دی کہ اپنی زبان پنجابی کے وجود تک کو خطرے میں ڈال دیا اور اپنی ھی تہذیب و ثقافت کو پس پشت ڈال کر پاکستان کے قومی لباس شیروانی اور پاجامے والوں کی تہذیب و ثقافت کو ھر وقت اور ھر حال میں اھمیت اور فوقیت دی۔

ان حقائق کی روشنی میں پنجابی قوم کو پاکستان کی دیگر قوموں کے سماجی استحصال کا براہ راست ذمہ دار تو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ پنجابی قوم کو اس امر کے لیے قصور وار قرار دیا جاسکتا ھے کہ اس نے اپنی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی۔ آبادی کے لحاظ سے پنجابی چونکہ پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھے ‘ اس لیے پنجابی نے اپنی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کو نظر انداز کرکے صرف اپنی ھی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کا نقصان نہیں کیا بلکہ پاکستان کی چھوٹی قوموں کو بھی انکی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کو فروغ نہیں پانے دیا۔

پاکستان کی تمام قوموں کے سماجی عزت و احترام اور تشخص کا تقاضہ تھا کہ تمام قوموں کی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب فروغ پاتی اور پنجابی پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھونے کے ناطے خود بھی اپنی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کو فروغ دیتے اور پاکستان کی دیگر چھوٹی قوموں کی زبان ‘ ثقافت اور تھذیب کو بھی فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے۔

بحرحال اب پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کرنے کا حکم دیا ھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا ھے کہ:

1۔ اس سے پہلے بھی ھم آرٹیکل 251 کے مندرجات کی اھمیت کی طرف توجہ دلوا چکے ھیں اور سرکاری امور میں قومی زبان اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی اھمیت کو اجاگر کرچکے ھیں۔

2۔ عدالت نے مشاہدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ‘ پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

3۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ‘ ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔

4۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ‘ اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔

5۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی وقار اور تعلیم باھم مربوط ھیں۔ تعلیم ‘ جو ایک بنیادی حق ھے ‘ براہ راست زبان سے تعلق رکھتی ھے۔

6۔ یونیسکو جیسا ادارہ بھی ‘ جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ‘ سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ‘ اس بات کی تائید کرتا ھے کہ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیئے کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔ لیکن حکومت اس اھم معاملے سے بے نیاز دکھائی دیتی ھے۔

حکومتوں کی بے عملی اور ناکامی کو سامنے رکھتے ھوئے ‘ ھمارے سامنے سوائے اسکے کوئی راستہ نہیں کہ ھم حکم جاری کریں:

1۔ آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔

2۔ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باھمی رابط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

3۔ اس فیصلے کے اجراع کے بعد ‘ اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اھلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا ‘ اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ھوگا۔

4۔ اس فیصلے کی نقل تمام وفاقی اور صوبائی معتمدین کو بھیجی جائے تاکہ وہ آرٹیکل 5 کی روشنی میں آرٹیکل 251 پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر اقدام اٹھائیں۔ وفاق اور صوبوں کی جانب سے اس ھدایت پر عمل درآمد کی رپورٹ تین ماہ کے اندر تیار ھوکر عدالت میں پیش کی جائے۔

آرٹیکل 251 کا متن ھے:

1۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ھے اور آغاز سے 15 سال کے اندر اندر یہ انتظام کیا جائے کہ اسکو سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

2۔ ذیلی دفعہ (1) کے اندر رھتے ھوئے انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری زبان کے طور پر استعمال کی جاسکے گی جب تک اس کے انتظامات نہیں کیے جاتے کہ اس کی جگہ اردو لے لے۔

3۔ قومی زبان کے مرتبہ پر اثر انداز ھوئے بغیر ایک صوبائی اسمبلی بذریعہ قانون ایسے اقدامات کرسکتی ھے جس کے ذریعہ صوبائی زبان کے فروغ ‘ تدریس اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کا بھی بندوبست کیا جاسکے۔

سپریم کورٹ کا حکم چونکہ واضح طور پر آرٹیکل 251 کے نفاذ کے لیے ھے ‘ نہ کہ صرف آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے لیے۔ اس لیے سپریم کورٹ کا حکم صرف اردو زبان کے نفاذ تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ بلکہ آرٹیکل 251 کے نفاذ کا مطلب ” اردو زبان کا بطور سرکاری زبان نفاذ اور قومی زبان کے متوازی صوبائی زبانوں کا فروغ ھے”۔ اس لیے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں اردو زبان استعمال ھوگی جبکہ پنجاب کے صوبائی اداروں میں پنجابی ‘ سندھ کے صوبائی اداروں میں سندھی ‘ خیبر پختونخواہ کے صوبائی اداروں میں پشتو اور بلوچستان کے صوبائی اداروں میں بلوچی استعمال ھوگی۔

سپریم کورٹ کا حکم اگر صرف آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے لیے ھوتا تو اس سے مراد صرف اردو زبان کا بطور سرکاری زبان نفاذ ھوتا لیکن سپریم کورٹ کا حکم چونکہ آرٹیکل 251 کے نفاذ کے لیے ھے اور آرٹیکل 251 کے نفاذ کا مطلب آرٹیکل 251 (1) ‘ آرٹیکل 251 (2) آرٹیکل 251 (3) کا نفاذ ھے۔ اس لیے پنجاب حکومت اور معزز اراکینِ پنجاب اسمبلی سے پنجاب کے عوام کا مطالبہ ھے کہ پنجاب اسمبلی فوری طور پر پنجابی زبان کو تعلیمی اور دفتری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کرے۔

پنجابی قوم ‘ سندھی قوم ‘ پشتون قوم اور بلوچ قوم کے لیے بھی ضروری ھے کہ اس سازش کی مذمت کریں کہ سپریم کورٹ کے حکم کو صرف اردو زبان کے بطور سرکاری زبان نفاذ تک محدود رکھ کر مشتہر کیا جا رھا ھے۔ جبکہ سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ھے کہ: “آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے”۔

پاکستان کی زمین پر گذشتہ 68 سال سے پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان اور بلوچ قوموں کی زبان کو نظر انداز کرکے ‘ اردو زبان کو پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان اور بلوچ قوموں پر مسلط کرکے وادیِ مہران کی تہذیب و ثقافت کی حامل پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان اور بلوچ قوموں کو گنگا ‘ جمنا تہذیب و ثقافت اختیار کرنے پر مجبور کیا جارھا ھے حالانکہ بنگالی قوم جو آبادی کے لحاظ سے پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان اور بلوچ قوموں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادھ تعداد میں تھی ‘ اردو زبان اور گنگا ‘ جمنا تہذیب و ثقافت اختیار کرنے سے انکار کرکے 1971 میں ھی پاکستان سے الگ ھو کر اپنی زمین پر اپنی زبان ‘ تہذیب ‘ ثقافت کو بحال کرکے ‘ اردو زبان کی بالادستی سے نجات حاصل کرچکی ھے اور پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان اور بلوچ قومیں مستقل مطالبات کررھی ھیں۔

اصل حقیقت یہ ھے کہ اردو کے ساتھ یوپی ‘ سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں کے علاوھ کسی کو دلچسپی نہیں. پاکستان کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابی’ سندھی’ پٹھان اور بلوچ تو ویسے ھی اردو نہیں بولتے لیکن پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں رھنے والے پنجابی’ سندھی’ پٹھان اور بلوچ بھی خوشی سے نہیں بلکہ صوبوں میں بھی اردو کے دفتری اور تعلیمی زبان ھونے کی وجہ سے مجبورا اردو بولتے ھیں. اس لیے سپریم کورٹ کے ” آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کرنے ” کے حکم کے بعد اب فوری طور پر آرٹیکل 251 (3) کے نفاذ کے لیے پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ‘ سندھ کی سندھی’ پختونخواہ کی پشتو اور بلوچستان کی بلوچی کرنے کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے ناقابلِ عمل ھونے کی وجہ سے آرٹیکل 251 (1) میں آئینی ترمیم کرکے ” پاکستان کی قومی زبان اردو ھے” کے بجائے ” پاکستان کی قومی زبان پنجابی’ سندھی’ پشتو اور بلوچی ھے” کردیا جائے۔

blank