نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ ۔۔۔اسلم اعوان

blank

 Aslam Awan
 6 مئی 2018ء

بد قسمتی سے ایک ایسے وقت میں نئے صوبوں کے قیام کی بازگشت سنائی دی، جب قوم ذہنی طور پر منقسم اور سیاسی انتشار میں الجھی ہوئی ہے، ملک کی تینوں بڑی جماعتوں کے اختلافات نے قومی اتفاق رائے کے امکانات مفقود کر دیئے، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں مرکز گریز تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور مملکت کے انتظامی ڈھانچہ کو مربوط رکھنے والے آئینی ادارے تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟ انیس سو ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں اگر کالا باغ ڈیم جیسا بڑا آبی ذخیرہ اور نئے صوبے تخلیق کر لئے جاتے تو آج ملک کا انتظامی ڈھانچہ مضبوط اور اقتصادی نظام توانا ہوتا، لیکن اس وقت کے ارباب بست و کشاد اپنی ذمہ داریوں سے بے پرواہ اور ٹوٹی ہوئی ریاست کی تعمیرنو سے غافل رہے، گیارہ سالوں تک بلاشرکت غیرے اقتدار پر قادر رہنے والے جنرل ضیاء الحق کو مولانا ظفر احمد انصاری نے نئے صوبے بنانے کی تجویز دی تھی، لیکن حقائق کا ادراک رکھنے کے باوجود بزور شمشیر حق حکمرانی پانے والے جرنیل سے دوام اقتدار کی مصلحتوں نے بڑے فیصلے کرنے کی ہمت چھین لی تھی۔

آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی نے پچھلے دور اقتدار میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے نعروں کو سیاسی حربہ کے طورپر استعمال کرکے چار سال تک سرائیکی عوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا، لیکن سن دوہزار تیرہ کے الیکشن میں وسطی پنجاب سے ووٹ حاصل کرنے کے لالچ میں پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے موقف سے پیچھے ہٹ گئی، آصف زرداری کی چالاکیاں پنجابیوں کو تو رام نہ کر سکیں البتہ سرائیکی وسیب کی مغموم آبادیوں کو ناراض کرکے وہ پنجاب سے اپنی جماعت کا صفایا کرا بیٹھے۔

سیاستدان اگرچہ یہ جانتے ہیں کہ طاقت کے ارتکاز کے بغیر ایسی تبدیلیاں ممکن نہیں، لیکن پھر بھی وہ خود فریبی کے رومانس سے باہر نہیں آتے، پہلے انہیں فیصلہ سازی کی قوت حاصل کرلینی چاہیے بعد میں وہ عوام میں جاکر وسائل و اختیارت کی تقسیم کے فارمولے بیچتے تو ان کے اپنے حق میں بہتر ہوتا۔

اب عمران خان جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبات کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے ہیں تو ایک بار پھر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث چھڑگئی، جو فقط انتخابی مہم کو گرمانے کا ذریعہ بنے گی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جس وقت جنوبی ایشیاء عالمی طاقتوں کی آویزش کا میدان کارزار بننے والا ہے،عین اسی وقت ہماری مملکت شدید نوعیت کے سیاسی و انتظامی بحرانوں میں پھنس کے بڑے فیصلے کرنے کی استعداد کھو رہی ہے، ان حالات میں نئے انتطامی یو نٹس بنانے کے امکانات معدوم ہیں، تاہم یہ نعرے کسی بڑے تنازعہ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

ماضی میں بعض گروہوں نے،مسائل کے حل تلاش کرنے کی بجائے، وفاق کی چار بڑی اکائیوں کے درمیان پائے جانے والے روایتی عدم توازن کو ایکسپلائٹ کر کے صوبوں کے مابین جس نوع کی بداعتمادی اور تفریق کی بنیاد رکھی، اس نے رفتہ رفتہ باہمی اعتماد کے رشتوں کو کمزورکر دیا، ان ٹوٹتے رشتوں کی بحالی ممکن بنانے کے برعکس ہماری ریاست نے صوبائی خود مختاری اور آئین و قانون کے دائروں میں رہ کر سیاسی آزادیاں اور بنیادی حقوق مانگنے والے گروپوں کی نیت پر شک کر کے جس طرح لوگوں کی زبان بندی کی اس نے بھی سیاسی کارکنوں اور علاقائی جماعتوں کو وفاق کے خلاف صف آرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تفاوت بڑھانے کے اسی دو طرفہ عمل نے وفاقی اکائیوں کو یہ منفی پیغام دیا کہ ملکی معاملات چلانے میں چھوٹے صوبوں کی رائے کو وقعت نہیں ملتی اور پھراسی باطل تصور نے نئے انتظامی یونٹس اور بڑے آبی ذخائر کے قیام پر قومی اتفاق رائے کے امکان کو تقریباً ختم کر دیا۔

مستزاد یہ کہ عدالتی فعالیت نے پارلیمنٹ کو کمزورکر کے قومی وحدت کو یقینی بنانے والے اجتماعی فورم کی ساکھ تباہ کر ڈالی، چنانچہ کالاباغ ڈیم اور نئے صوبے بنانے جیسے بڑے مسائل کو نمٹانے میں اب پارلیمنٹ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اب نیا صوبہ کیسے اور کون بنائے گا؟ اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں بسنے والے شہری اتنے ہی مجبور ہیں جتنے چھوٹے صوبوں کے باسی، تاہم پنجابی اشرافیہ اور دانشوروں کی قومی پالیسی سے لاتعلقی اور چھوٹے صوبوں سے روا رکھی جانے والی مبینہ ناانصافیوں سے چشم پوشی نے پورے پنجاب کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ اگر اب بھی پنجابی اشرافیہ وفاقی پارلیمانی نظام کے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل میں چھوٹے صوبوں کی منتخب قیادت کی بامعنی شمولیت یقینی بنانے کے مطالبات اٹھائے تو قوم میں ذہنی ربط اور فکری ہم آہنگی کی بحالی ممکن بنائی جا سکتی ہے اور یہی طرز عمل چھوٹے صوبوں کو بخوشی مملکت کی اونر شپ لینے پر آمادہ کرے گا۔ بری حکمرانی نے ذہنی جمود کو بڑھانے اور ضروری امور کو تنازعات میں الجھا کے شہریوں کو ریاست کی اونرشپ سے برگشتہ کیا، اب لوگ اپنے صوبوں سے محبت اور ملک سے لاتعلقی و بیزاری کا اظہار کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔

بہرحال، ہماری رفتار ارتقاء دیکھئے ستّر سالوں میں پہلی بار موجودہ حکومت نے گزشتہ ہفتے پہلی قومی واٹر پالیسی بنائی،اس سے قبل مملکت کی کوئی واٹر پالیسی نہیں تھی، لیکن جس دن سیاسی قیادت نے مشترکہ مفادات کونسل سے قومی واٹر پالیسی منظور کرائی، اسی دن سندھ،بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے وزراء اعلی نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے بائیکاٹ کر کے ذہنی ہم آہنگی کا بہترین موقعہ گنوا دیا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہمارے پاس پانی کا ذخیرہ پانچ ہزار سی ایف ٹی تھا، آج دوہزار اٹھارہ میں لگ بھگ ایک ہزار سی ایف ٹی ہے اور اگر نئے ڈیم نہ بنے توسن دوہزار پچیس میں یہ آٹھ سو، سی ایف ٹی رہ جائے گا۔

آج ہمارے سماج میں جس قسم کی شدید سیاسی کشمکش دکھائی دے رہی ہے، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ریاستی سرپرستی میں ابھرنے والی نظریاتی پولرائزیشن بھی ایسی ہی نفرت انگیز تھی، جس نے قومی امور پر اتفاق رائے کو نقصان پہنچا کے ملک کو دو لخت کر دیا تھا، سیاسی کشمکش میں الجھے فریقین نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر سماج کی فطری ضرورتوں اور مملکت کے انتطامات کوبہتر بنانے کے لئے قومی پالیسیز اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نظام کو متنازعہ بنا کر قوم کو وقت کے تقاضوں سے ہم قدم رہنے کے قابل نہ چھوڑا اور یہی جدلیات نئے صوبوں کے قیام اور آبی ذخائر کی تخلیق جیسے مفید امور کو نمٹانے کی راہ میں حائل ہو کر ہماری لیڈر شپ کو وسائل و اختیارات کی تقسیم جیسے بنیادی امور پر اتفاق رائے تک پہنچنے سے روکتی رہی۔

ایک دلچسپ حیقیقت یہ بھی ہے کہ بائیں بازو کی سوشلسٹ تنظیموں نے ایک طرف پنجاب کی تقسیم کے ذریعے سرائیکی صوبہ کے قیام کی حمایت اور دوسری جانب سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کی مخالفت جیسے متضاد رویّوں کو جزو ایمان بنا کر خود فریبی کی چادر اوڑھ لی ہے، بائیں بازو کی پشتون قوم پرست تنظیمیں اب بھی قبائلی علاقوں کو کے پی میں شامل کراکے خیبر پختون خوا کا حجم بڑھانے اور سرائیکی و بہاول پور صوبوں کے قیام کے ذریعے پنجاب کا وجود گھٹانے کی حامی ہیں، اپنے اسی غیر منطقی اور متضاد موقف کے دفاع کی خاطر تاریخ سے وہ ایسے دلائل تلاش کرتی ہے جوبالآخر انہیں اپنی مملکت سے علیحدگی کا جواز فراہم کرتے ہیں۔

اب ایک معروف کالم نگار نے جو چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کے زبردست حامی ہیں، اپنے کالم،لفظ سرائیکی کی حقیقت، میں سرائیکی صوبہ کے قیام کی صورت میں جنوبی پنجاب میں پہلے سے آباد غیر سرائیکیوں کے مستقبل بارے کئی مفروضوں کو حقیقی خطرہ کے طور پر پیش کرکے نئی بحث چھیڑ دی۔

بلاشبہ مزدوروں اور ہاریوں کے حقوق کی بات کرنے والی مارکسٹ تنظیموں نے جس طرح دہقانوں اور مزدوروں کو ان کھیتوں اور کارخانوں کا مالک بنانے کے خواب دکھائے، جن میں وہ کام کرتے تھے، اسی طرح نئے صوبوں کے قیام کی تحریکوں میں بھی بائیں بازو کے رہنماوں نے سرائیکی صوبہ تحریک کے لئے حمایت حاصل کرنے کی خاطر امیدوں کے بھوکے شہریوں کو آباد گاروں کی جائیدادیں حاصل کرنے کے نعرے سکھائے، لیکن یہ ناقابل عمل مطالبات عوام میں پذیرائی نہ پا سکے۔

صوبہ کوئی الگ مملکت نہیں، بلکہ ملکی آئین وقوانین کے تابع ایسا انتظامی یونٹ ہے جسکی صوبائی اتھارٹی کے لئے ملک کے کسی بھی شہری کی جائیداد کو ضبط کرنا ممکن نہیں ہو سکتا، چنانچہ یہ خدشہ خارج از امکان اور خلاف عقل ہے، اگر اس طرح ہوتا تو سندھ و پنجاب میں پٹھانوں اورخیبر پختون خوا و سندھ میں پنجابیوں کی لاکھوں پرمشتمل آبادیاں اور وسیع جائیدادیں نہ ہوتیں۔

دوسرا کسی خطہ کی زبانوں کو ان کی موجودہ شناخت کے حوالے سے پرکھنا مناسب نہیں ہوتا، جیسے پنجابی زبان کسی نہ کسی نام سے بہت پہلے یہاں موجود ہو گی، لیکن یہ ظہیرالدین بابر تھے جنہوں نے اس خطہ کو پنجاب کا نام دیکر یہاں بولی جانے والی مقامی زبان کو پنجابی شناخت دی، شاید، اسی طرح، سرائیکی بھی قدیم زبان ہونے کے باوجود نئی شناخت کی حامل بنی ہو، لیکن گومل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر عبدالعلی خان اور پروفیسر اقبال سیف کے مابین لفظ سرائیکی کی حقیقت پر ہونے والی بحثوں سے پتہ چلتا ہے کہ لفظ سرائیکی جو لفظ سنسکرت سے گہری مماثلت رکھتا ہے، بجائے خود قدیم اور معنویت کا حامل ہو گا۔ محترم کالم نگار کی لفظ سرائیکی بارے پیش کردہ،اوپر والوں کی زبان،یا شمال کی بولی، جیسی تھیوری پہلی بار کسی فرضی اجلاس میں نہیں، بلکہ 1975ء میں ملتان کی سرائیکی کانفرنس میں انگریز محقق کرسٹوفر شیکل نے پیش کی تھی۔

Source : https://www.mukaalma.com/29982

blank