لہندابھی پنجابی ہے!……..(1)

blank

MARCH 23, 2018

ASIF AZAM

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
کچھ لوگ جنوبی پنجاب کی سرائیکی یا ملتانی کو پنجابی سے الگ زبان ثابت کرنے کی خاطر اس کا تعلق سندھی سے جا جوڑتے ہیں۔ مثلاً اختر علی خان بلوچ صاحب کے مطابق ملتانی‘ سندھی سے تشکیل پائی تھی۔ ان کے مطابق:
”اے ھک تریخی حقیقت ہے جو جیں ویلھے ملتان کوں اسلامی علم تے فن دا مرکز بنایا گیا۔ اوں ویلھے سندھی زبان معمولی تبدیلی دے بعد ملتانی زبان دی صورت اختیار کر گھدی۔“ (حوالہ ”سرائیکی وسیب۔“ ص 35)
حالانکہ زبانیں اس طرح وجود میں نہیں آتیں کہ جب کسی شہر کو اسلامی علم اور فن کا مرکز بنایا جائے تو اس کے ساتھ کسی زبان میں کوئی معمولی تبدیلی کرکے اسے نئی زبان بنا دیا جائے لیکن یہ بات جاننے کے لئے لسانیات کا کم از کم بنیادی علم ہونا ضروری ہے۔ تاہم اگر گفتگو کی خاطر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر اس کا مطلب کیا ہوا؟ یہ کہ ملتانی (جسے آج جنوبی پنجاب کی سرائیکی کا نام دیا جارہا ہے) اصل میں سندھی زبان سے بنی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سندھی اس کی ماں زبان (Parent Lagnuage) ہے۔ ایسا ہے تو پھر اس کی عمر 1000 ہزار‘ 1200 برس سے زیادہ نہیں۔ اس لئے کہ بلوچ صاحب کے مطابق یہ ملتان کو اسلامی علم اور فن کا مرکز بنائے جانے کے بعد وجود میں آئی۔
یوں نقطہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ملتانی پنجابی سے الگ زبان ہے‘ اس بات کو ثابت کرنے کی خاطر نہ صرف یہ کہ اسے سندھی کی بولی بنا دیا گیا بلکہ ہزاروں برس پرانی زبان پنجابی کی ہزاروں ہی برس پرانی بولی ملتانی کی عمر بھی کم کرکے صرف ہزار‘ بارہ سو برس پہ لے آئی گئی۔
جنوبی پنجاب کی بولیوں کا زبردستی پنجابی سے رشتہ توڑ کر انہیں سندھی کے ساتھ جوڑنے کے جو نتائج برآمد ہورہے ہیں کرسٹوفر شیکل کے مطابق ان میں سے ایک یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگ اداسی کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ:
<> (SIR AIKI; A LANGUAGE MOVEMENT IN PAKISTAN. P.403)
اس پر کیا کہا جاسکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ خود کردہ را علاج نیست۔
اس مقصد یعنی جنوبی پنجاب کی سرائیکی کو پنجابی سے الگ زبان ثابت کرنے کی خاطر یہ بھی کیا جارہا ہے کہ پرانی کتابوں کے جو نئے ایڈیشن شائع کئے جارہے ہیں۔ ان میں سرائیکی کالفظ زبردستی گھسیڑا جارہا ہے۔ مثلاً مولوی عزیزالرحمن عزیز صاحب نے 1944ءمیں خواجہ غلام فرید ؒ کے دیوان کا جو پیش لفظ تحریر کیا تھا ظہور احمد دھریجہ صاحب نے 2010ءمیں ”مقدمہ دیوان فرید“ کے عنوان سے اسے پھر سے شائع کرتے ہوئے اس میں جابجا سرائیکی کا لفظ بھی شامل کردیا۔ چند مقامات پر بہاولپوری ملتانی یا ملتانی کے الفاظ کے ساتھ سرائیکی کا لفظ زبردستی گھسیڑ کر جبکہ کئی جگہ عزیز صاحب نے جہاں ملتانی کا لفظ لکھا ہے اسے مٹا کر اس کے بجائے سرائیکی کا لفظ لکھ کر۔ حالانکہ عزیزالرحمن عزیز صاحب 1944ءمیں سرائیکی کا لفظ کس طرح لکھ سکتے تھے؟ 1944ءمیں تو قدرت اللہ شہاب نے ابھی آئی سی ایس کا امتحان بھی پاس نہیں کیا تھا۔
یہ سیدھی سیدھی جعل سازی ہے۔ کسی کی تحریر کے نیچے حاشیہ لکھ کر یا الگ سے تشریح لکھنا اور بات ہے لیکن خود اس کی تحریر میں کوئی لفظ تبدیل کرنا یا زبردستی شامل کردینا بالکل مختلف بات اور جعلسازی ہے اور اس سے مقصود قارئین کو دھوکہ دینا ہے۔ سیدھی سی بات ہے قاری جب مولوی عزیزالرحمن عزیز صاحب کے لکھے پیش لفظ میں سرائیکی کا لفظ پڑھے گا تو یہی سمجھے گا کہ یہ لفظ مولوی صاحب نے خود لکھا ہے۔ وہ بھی 1944ءمیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے گا کہ 1944ءمیں جنوبی پنجاب کی بولیوں کے لئے سرائیکی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا اور ملتانی گویا تب سرائیکی کی بولی تھی۔ حالانکہ مولوی عزیز صاحب ”صبح صادق“ میں واضح طور پر لکھ چکے ہیں کہ ملتانی پنجابی کی ایک شاخ ہے۔
جناب دھریجہ صاحب نے عزیز صاحب کے لکھے پیش لفظ میں جو جعل سازیاں کی ہیں آیئے ان پہ ایک نظر ڈال لیں۔ ذیل میں پہلے عزیز صاحب کا اصل فقرہ مع صفحہ نمبر دیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد دھریجہ صاحب نے ”مقدمہ دیوان فرید“ میں جعل سازی کے ذریعے اسے جس طرح بدلا ہے وہ مع صفحہ نمبر۔
(1) مولوی عزیز صاحب لکھتے ہیں: ”میں نے عربی فارسی‘ اردو اور ملتانی زبان میں حضرت خواجہ کے لئے تعریفی قصائد اور اشعار لکھے۔“ (پیش لفظ۔ ص 2)
دھریجہ صاحب نے جعل سازی کے ذریعے اس میں سرائیکی کا لفظ شامل کرکے فقرہ یوں بنا دیا:
”میں نے عربی‘ فارسی‘ اردو اور ملتانی (سرائیکی) زبان میں حضرت خواجہ کے لئے تعریفی قصائد اور اشعار لکھے“ (مقدمہ دیوان فرید ص 103)
(2) مولوی عزیز صاحب کا کہنا ہے: ”بہاولپوری (ملتانی) بولی کی ایک کافی کے دو چار اشعار بھی حاضر ہیں۔“ (پیش لفظ۔ ص 3)
دھریجہ صاحب کی جعل سازی ملاحظہ کیجئے: ”سرائیکی (بہاولپوری‘ ملتانی)
زبان کی ایک کافی کے دو چار اشعار بھی حاضر ہیں۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 104)
(3) مولوی عزیز صاحب لکھتے ہیں: ”صوتی لحاظ سے ملتانی زبان کے وہ الفاظ علیحدہ مقرر کئے گئے جو فارسی‘ اردو میں نہیں ہیں۔“ (پیش لفظ۔ ص ۵)
دھریجہ صاحب نے اس میں ”ملتانی“ کوجعل سازی کے ذریعے ”سرائیکی“ میں بدل کر فقرہ یوں بنا دیا:
”صوتی لحاظ سے سرائیکی زبان کے وہ الفاظ علیحدہ مقرر کئے گئے جو فارسی اردو میں نہیں ہیں۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 106)
(4) مولوی صاحب نے لکھا: ”اردو حروف تہجی پر کل چھ حرف زائد کئے جائیں جو ملتانی زبان کے مخصوص اصوات اور لہجوں کو ظاہر کریں۔“ (پیش لفظ۔ ص ۵)
دھریجہ صاحب نے پھر جعل سازی کے ذریعے ”ملتانی“ کو ”سرائیکی“ میں بدل دیا اور فقرہ یوں بنا دیا ”اردو حروف تہجی پر کل چھ حرف زائد کئے جائیں جو سرائیکی زبان کے مخصوص اصوات اور لہجوں کو ظاہر کریں۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 106)
(5) عزیز صاحب لکھتے ہیں: ”بہاولپوری (ملتانی) لہجے کی ب کی صورت خطی ”ب“ ہے۔ (پیش لفظ۔ ص ۵)
دھریجہ صاحب نے جعل سازی کے ذریعے اسے یوں بنا دیا: ”سرائیکی (بہاولپوری‘ ملتانی) لہجے کی ب کی صورت خطی ”ب“ہے۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 106)
(6) مولوی صاحب نے لکھا: آئندہ ملتانی زبان میں مضامین یا کتابیں لکھنے والوں کا اس فیصلہ پر پابند رہنا نہایت ضروری ہے۔“ (پیش لفظ۔ ص 6)
دھریجہ صاحب نے اس میں یوں جعل سازی کی: ”آئندہ سرائیکی (ملتانی) زبان میں مضامین یا کتابیں لکھنے والوں کا اس فیصلہ پر پابند رہنا نہایت ضروری ہے۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 107)
(7) عزیز صاحب نے تحریر فرمایا: ”ملتانی زبان کو اپنی مادری زبان اور ملکی دلکش زبان ہونے کی وجہ سے چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک غور سے مطالعہ کرتا رہا ہوں۔“ (پیش لفظ۔ ص ۸)
اب دھریجہ صاحب کی جعلسازی ملاحظہ ہو:” ملتانی (سرائیکی) زبان کو اپنی مادری زبان اور ملکی دلکش زبان ہونے کی وجہ سے چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک غور سے مطالعہ کرتا رہا ہوں۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 109)
(8) مولوی عزیز صاحب نے لکھا:” جو لوگ ملتانی زبان سے واقف ہیں۔“ (پیش لفظ۔ ص 9)
دھریجہ صاحب کی جعلسازی :”جو لوگ ملتانی (سرائیکی) زبان سے واقف ہیں۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 110)
(9) عزیز صاحب کا کہنا ہے :”جہاں جہاں ملتانی زبان بولی یا سمجھی جاتی ہے۔“ (پیش لفظ۔ ص 10)
اسے دھریجہ صاحب نے جعلسازی کے ساتھ یوں بنادیا:”جہاں جہاں ملتانی (سرائیکی) زبان بولی یا سمجھی جاتی ہے۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص111)
(10)مولوی صاحب کا کہنا ہے :”وہ بہاولپوری (ملتانی) زبان کے قادرالکلام‘ بے نظیر اور بلند پایہ شاعر تھے۔“ (پیش لفظ۔ ص10)
اور اب دھریجہ صاحب کی جعلسازی :”وہ بہاولپوری‘ ملتانی (سرائیکی) زبان کے قادرالکام‘ بے نظیر اور بلند پایہ شاعر تھے۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 111)
(11) عزیز صاحب نے لکھا :”وہ ملتانی زبان کے اول الشعراءاور خاتم الشعراءتھے۔“ (پیش لفظ۔ ص 10)
دھریجہ صاحب نے جعلسازی کے ذریعے اسے یوں بنادیا:” وہ ملتانی (سرائیکی) زبان کے اول الشعراءاور خاتم الشعراءتھے۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 111)
(12)مولوی عزیز صاحب:”انہوں نے سندھی سوزوگداز اور بہاولپوری دردوکرب کو ایران کی نازک خیالی‘ ہندوستانی کی موسیقی اور عربی جذبات کے ساتھ اس قدر مخلوط کردیا۔“ (پیش لفظ۔ ص 10)
جناب دھریجہ صاحب نے اس میں یہ جعلسازی فرمائی:”انہوں نے سندھی سوزوگداز اور بہاولپوری (سرائیکی) دردوکرب کو ایران کی نازک خیالی‘ ہندوستان کی موسیقی اور عربی جذبات کے ساتھ اس قدر مخلوط کردیا۔“ (مقدمہ دیوان فرید۔ ص 111)
آپ نے عزیز صاحب کی تحریر میں دھریجہ صاحب کی جعلسازیاں ملاحظہ فرمائیں۔ سیدھی سی بات ہے قارئین جن کی اصل کتاب تک رسائی نہیں اور جن کے خواب خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ اس اونچے پیمانے پر جعلسازی کی گئی ہے کہ عزیز صاحب کی تحریر ہی کو بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ تو یہی سمجھے گا کہ مولوی عزیز صاحب نے 1944ءمیں جنوبی پنجاب کی زبان کو سرائیکی لکھا ہے۔ وہ پورے خلوص اور معصومیت سے نہ صرف اس پر یقین رکھے گا بلکہ دوسروں کو بھی اس بات پہ قائل کرنے کی پرخلوص کوشش کرے گا کہ عزیز صاحب کی 1944ءکی تحریر میں بھی جنوبی پنجاب کی زبان کیلئے سرائیکی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ عزیز صاحب 1944ءمیں سرائیکی کا لفظ کس طرح لکھ سکتے تھے۔ 1944ءمیں تو جیسا کہ بیان کیا گیا‘ قدرت اللہ شہاب نے ابھی آئی سی ایس بھی پاس نہیں کیا تھا۔
اور اگر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی کسی تحریر یا شعر میں جعلسازی کے ذریعے سرائیکی کا لفظ بھی شامل کردیاجائے یا کسی اور لفظ کو بدل کر اس کی جگہ سرائیکی کا لفظ لکھ دیا جائے تو؟ اس صورت میں تو یہ دعویٰ بھی کیا جا سکتا ہے کہ:
”دیکھا؟ خواجہ غلام فریدؒ صاحب نے صدی‘ ڈیڑھ صدی پہلے اپنی زبان کو سرائیکی بیان کیا ہے۔“
اور حقائق سے ناواقف معصوم قاری یہی سمجھے گا کہ یہی سچ ہے۔ لیکن اس بارے میں بات بعد میں ہو گی۔ فی الوقت عزیز صاحب کے حوالے سے بات۔
انہی عزیز صاحب کے بیٹے حفیظ الرحمن حفیظ بہاولپوری نے اپنی کتاب ”تمدن بہاولپور کی دو مختلف تصویریں“ میں اپنے علاقے کی زبان کو ملتانی کہا ہے اور بتایا ہے کہ یہ پنجابی زبان کی ایک شاخ ہے۔
”یہاں کی عام زبان ملتانی ہے جو پنجابی زبان کی ایک شاخ ہے۔“ (حفیظ الرحمن حفیظ بہاولپوری۔
تمدن بہاولپور کی دو مختلف تصویریں۔ (ص 27‘ سن اشاعت 1923ءماخوذ از ”صبح صادق“)(جاری ہے)
(کالم نگار سینئر صحافی، شاعر ‘ادیب اورپنجابی دانشورہیں)

Source : http://dailykhabrain.com.pk/2018/03/23/105016/

لہندابھی پنجابی ہے!……..(2)

  LEAVE A COMMENT

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگازھر منیر….فرینکلی سپیکنگاگرچہ اس بات کا واضح خدشہ موجود ہے کہ جس طرح جنوبی پنجاب کی سرائیکی کے حامیوں کی طرف سے پرانی تحریروں اور کتابوں کی اشاعت نو کرتے ہوئے ان میں سے پنجابی کا لفظ غائب اور سرائیکی کا لفظ زبردستی گھسیڑا جارہا ہے اس کتاب کو بھی پھر سے شائع کرتے ہوئے اس کے حوالے سے بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے تاہم یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ کرسٹوفر شیکل نے اپنے مقالے SIRAIKI: A LANGUAGE MOVEMENT IN PAKISTANکے صفحہ 391پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حفیظ الرحمن صاحب نے اپنی اس کتاب میں اپنے علاقے (بہاولپور) کی زبان کو پنجابی زبان کی ایک شاخ (A BRANCH OF PUNJABI) قرار دیا ہے۔ جنوبی پنجاب کی سرائیکی یا ملتانی کو پنجابی سے علیحدہ زبان ثابت کرنے کیلئے ہی ایک اور طرح کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔ ظہور احمد دھریجہ صاحب نے اپنی کتاب ”سرائیکی وسیب“ کے صفحہ نمبر (30) پر زبانوں کا ایک نقشہ شائع کیا ہے جسے دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے جیسے ملتانی برصغیر کی کتنی ہی زبانوں مرہٹی، بلوچی، بنگالی، پشتو، ہندی، اڑیا، گجراتی، کشمیر اور سندھی کی ماں زبان (Parent Language) ہو اور یہ سب زبانیں اس کی لسانی بیٹیاں ہوں جبکہ پنجابی کا اس نقشے میں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں۔یہ نقشہ انہوں نے کہاں سے حاصل کیا؟ اس بارے میں انہوں نے نہ کچھ بتایا ہے اور نہ ہی نقشے کے نیچے کوئی کیپشن دیا گیا ہے۔ سو اسے دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے جیسے یہ کسی بہت پرانی کتاب میں چھپا کوئی نقشہ ہے جس کے ترتیب دینے والے نے اس کے ذریعے ملتانی کو برصغیر کی کتنی ہی بڑی زبانوں کی ماں زبان بیان کیا ہے اور نیچے میں ملتانی کی عظمت اور بڑائی کا اعتراف بھی کیا ہے جبکہ پنجابی کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اس کا ذکر تک کیا جائے۔دھریجہ صاحب پورا پورا انتظام کر رکھا تھا کہ اس بات کا علم نہ ہونے پائے، تاہم سچ چھپا نہیں رہ سکا۔ آیئے اس بات کا جائزہ لیں کہ حقیقت کیا ہے؟ اردو کے مشہور ادیب عزیز احمد صاحب کی ایک تحقیقی کتاب ہے ”نسل اور سلطنت“ یہ کتاب انجمن ترقی اردو (ہند) نے 1941ءمیں دہلی سے شائع کی تھی اور یہ نقشہ اس کتاب کمے صفحہ نمبر 28 پر موجود ہے جو عزیز صاحب نے بین الاقوامی ماہرین لسانیات کی تحقیقات اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں دیئے گئے نقشوں اور معلومات کی روشنی میں تیار کیا۔ (ایسے ہی نقشے دیگر کتابوں کے علاوہ The new columbia encyclopedia کے صفحہ نمبر 1333 پر ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی کتاب ”ہندوستانی لسانیات“ سن اشاعت 1933) کے صفحہ نمبر 52 اور ویبسٹر ڈکشنری میں بھی موجود ہیں) اور دھریجہ صاحب کی کتاب میں شامل نقشہ اسی یعنی عزیز صاحب کی کتاب میں دیئے گئے نقشے کا عکس ہے۔ تاہم اصل بات یہ نہیں، اس سے آگے ہے۔نقشے میں کوئی پچاس کے قریب زبانوں کا ذکر ہے۔ دھریجہ صاحب نے نقشے میں موجود دنیا کی کسی اور زبان کو نہیں چھیڑا۔ اس لیے کہ ان زبانوں کا پنجابی اور جنوبی پنجاب کی سرائیکی کے معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ صرف یہ کہا ہے کہ اپنی کتاب میں انہوں نے اس نقشے کا وہ حصہ جہاں پنجابی کا ذکر ہے وہاں جعل سازی کے ذریعے پانچ تبدیلیاں کی ہیں۔(1) پہلی تبدیلی (جعلسازی) یہ کی گئی ہے کہ جہاں سنسکرت کا لفظ لکھا ہوا تھا جس کی لسانی بیٹیاں مرہٹی، پنجابی، بنگالی، اردو، اڑیا، گجراتی، کشمیری اور دیگر السنہ باین کی گئی ہیں، وہاں سے سنسکرت کا لفظ مٹا کر اس کی جگہ ”مولتانی“ لکھ دیا گیا ہے۔ یوں قلم کی ایک معمولی جنبش سے یہ زبانیں سنسکرت کے بجائے ملتانی کی بیٹیاں بنا دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں ملتانی دنیا کی بڑی زبانوں (Parent Languages) کی فہرست میں شامل ہو جاتی ہے اور بے چاری سنسکرت اس اعزاز سے محروم ہو جاتی ہے جبکہ پنجابی جو ہزاروں برس پرانی زبان ہے اور ملتانی جس کی ایک بولی یا بقول حفیظ الرحمن حفیظ بہاولپوری اس کی ایک شاخ ہے، وہ بے چاری سرے سے اس نقشے ہی سے غائب کردی جاتی ہے، تاہم اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ملتانی کے ہجے بھی ملتانی کی بجائے مولتانی لکھے گئے ہیں تاکہ نقشہ دیکھنے والوں کو یہ تاثر ملے کہ یہ کوئی صدیوں، ہزاروں برس پرانا نقشہ ہے جب ملتان کو مولتان لکھا جاتا تھا۔ (2) دوسری جعل سازی یہ کی گئی ہے کہ سنسکرت کے لفظ کو اس کے اصل مقام (جس پر اب مولتانی نے قبضہ جمالیا ہے) سے ہٹا کر ”مولتانی“ اور ”پالی“ کے درمیان لکھ دیا گیا ہے۔(3) تیسری تبدیلی (جعلسازی) یہ کی گئی ہے کہ اصل نقشے میں جہاں پنجابی کا لفظ لکھا ہوا تھا، اسے مٹا کر اس کی جگہ بلوچی لکھ دیا گیا ہے۔ یوں پنجابی کو اس نقشے سے سرے سے غائب کر دیا گیا ہے۔(4)چوتھی جعلسازی یہ کی گئی ہے کہ جہاں اردو کا لفظ لکھا ہوا تھا اسے مٹا کر اس کی جگہ پشتو لکھ دیا گیا ہے۔ یوں پشتو جس کی ماں زبان فارسی کی طرح پہلوی ہے، اسے ملتانی کی لسانی بیٹی بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ کام کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ پشتو کا لفظ اوپر فارسی کے ساتھ پہلوی کی بیٹی کے طور پر بھی موجود ہے۔ یوں پشتو کی ایک کے بجائے دو ماں زبانیں بنا دی گئی ہیں۔ ایک اس کی اصل ماں…. پہلوی اور دوسری جعلی ماں…. ملتانی۔(5) پانچویں تبدیلی (جعلسازی) یہ کی گئی ہے کہ جہاں ”دیگر السنہ“ لکھا ہوا تھا، اسے مٹا کر اس کی جگہ ”سندی“ لکھ دیا گیا ہے۔پس نوشت: لہندا مغربی پنجابی (2)“ میں ایک سطر شائع ہونے سے رہ گئی ہے ۔وہ یوں ہے ”گجرات سے آگے گوجر خان‘ کہوٹہ‘ راولپنڈی اور مری میں پوٹھوہاری بولی ہے۔ اٹک اور ہزارہ میں چھاچھی (چھاچھ یعنی شمال اور چھاچھی یعنی شمالی) بولی ہے۔ یوں گوجر خان‘ کہوٹہ‘ راولپنڈی اور مری میں پوٹھوہاری بولی ہے اور اٹک اور ہزارہ میں چھاچھی۔“ (جاری ہے)(کالم نگار سینئر صحافی، شاعر ‘ادیب اورپنجابی دانشورہیں)

Source : http://dailykhabrain.com.pk/2018/03/24/105215/

لہندابھی پنجابی ہے!……..(3)

  LEAVE A COMMENT

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
سندھ(سندی )کانام کیوں شامل کیا گیا ہے ۔اس کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ ملتانی کا رشتہ پنجابی سے توڑ کر سندھی کے ساتھ جا جوڑنا، تاہم ایسا کرتے ہوئے سندھی کا رتبہ کم کرکے اسے ملتانی کی لسانی بیٹی بنا دیا گیا ہے۔ یعنی ملتانی ماں زبان بن گئی ہے اور سندھی بے چاری اس کی بیٹی۔
یوں جارج اے گریئرسن کا یہ (غلط) دعویٰ بھی ”سچ“ ثابت ہوگیا کہ ایک طرف تو (لہندا کی بولی) ملتانی کا پنجابی سے کوئی تعلق اور رشتہ ہی نہیں جبکہ دوسری طرف اس کا یہ دنیا جہان سے الگ عجیب و غریب دعویٰ کہ ملتانی یا لہندا بنگالی، اڑیا اور سندھی ایک شاخ (Outer Sub-Branch) کی زبانیں ہیں، لیکن گریئرسن کی یہ دنیا جہاں سے نرالی بات صرف اس نوع کی جعلسازیوں کے ذریعے ہی سچ ثابت ہوسکتی تھی، لسانیات کے کسی قاعدے، قانون اور اصول کی روسے نہیں۔
نقشے میں سے پنجابی کا نام غائب کرنے کی دوسری وجہ دھریجہ صاحب اور جنوبی پنجاب کی سرائیکی کے دیگر حامیوں کا چھوڑا ہوا یہ شوشہ ہے کہ پنجابی ایسی پرانی زبان نہیں بلکہ ایک ‘ دوصدی پہلے کی پیدائش ہے۔ اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کی خاطر ضروری تھا کہ زبانوں کے اس ”صدیوں پرانے“ نقشے میں سے پنجابی کا نام سرے سے غائب ہی کر دیا جائے۔
حالانکہ پنجابی کا لفظ عام بول چال میں تو خیر بہت پہلے سے استعمال ہو رہا تھا‘ شاعری میں بھی کم و بیش ساڑھے چار سو برس سے زائد عرصے سے برتا جا رہا ہے۔ یعنی وہ اشعار جو ضائع نہیں ہوئے اور محفوظ رہے ان میں جیسے حضرت نوشہ گنج بخشؒ 1952ءکا لکھا یہ شعر جس میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کلمہ شریف کو اس کے پنجابی ترجمے کی صورت میں نہیں‘ عربی زبان میں پڑھنا چاہئے۔
پنجابی وچ کیوں پڑھو؟ پڑھو عربی وچ
تورا کلمہ عرب ہے‘ بڑھے نہ ہو وے زچ
اور حافظ برخودار 1920ءنے ”مفتاح الفقہ“ میں لکھا
حضرت نعمان دا فرمایا‘ اس وچ اوہ مسائل
ترت پنجابی اکھ سناویں‘ جے کو ہووے مائل
حافظ آن سنایا قصہ بولی وچ پنجابی
حامد شاہ عباسی (وفات 1748ئ) نے بھی اپنی زبان کو پنجابی بیان کیا ہے:
ہیگی عربی فارسی خاصاں نوں مطلوب
عاماں لوکاں واسطے ہے پنجابی خوب
مولوی کماالدین 1908ء”انتخاب الکتب“ میں لکھتے ہیں:
ویکھ کتاباں مسئلے جوڑے وچ زبان پنجابی
جبکہ سرگودھا کے صدیق لالی 1725ء”یوسف زلیخا“ میں لکھاؒ:
ستارہویں ایہہ حدیث نبی دی‘ آکھ صدیق پنجابی
اور دھریجہ صاحب اسی پنجابی زبان کو نوزائیدہ زبان بیان کرتے ہیں (مقدمہ دیوان فرید ۔ ص 19)
ان کا خیال ہے کہ اگر زبانوں کے نقشوں میں سے جعل سازی کے ذریعے پنجابی کا نام مٹا کر اس کی جگہ ملتانی کا نام شامل کر دیا جائے گا تو لوگ ان کے اس جھوٹ پر یقین کر لیں گے اور جنوبی پنجاب کے کتنے ہی بے چارے معصوم لوگوں نے یقین کر بھی لیا ہو گا اور اردو؟ نقشے میں سے اردو کا نام کیوں غائب کیا گیا ہے؟ کیا اس لئے کہ یوں پڑھنے والوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ صدیوں پرانا کوئی نقشہ ہے۔ اردو کی پیدائش سے بہت پہلے کا اور اگر اس میں اردو کا لفظ بھی موجود رہتا تو پھر ظاہر ہے یہ تاثر دینا ممکن نہیں تھا شاید۔
جبکہ اس کی دوسری وجہ دھریجہ صاحب کی اس زبان سے حد درجہ نفرت ہے اردو سے ان کی نفرت کا یہ عالم ہے ہ وہ بیان کرتے ہیں کہ :
”اردو زبان قومی غلامی کے سوا کچھ نہیں دے سکی۔ (مقدمہ دیوان فرید 90) ”اردو کے بارے میں ان کی چند مزید گل افشانیاں ملاحظہ ہوں:
”اردو دراصل معمولی الفاظ کے ساتھ ہندی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔“ (ظہور احمد دھریجہ۔ روزنامہ خبریں۔ 24 اگست 2017ئ)
اردو کو دھریجہ صاحب چوں چوں کا مربہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”جس زبان کے“ عام حوالے ہندوستان سے ہوں اور جو چوں چوں کا مربہ ہو وہ پاکستان کی قومی زبان کیسے ہو گئی؟“ (ظہور احمد دھریجہ۔ روزنامہ خبریں۔ 25 ستمبر 2016ئ)
اردو کے بارے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے دوسری زبانوں سے الفاظ خیرات کے طور پرلئے۔ ملاحظہ ہو:
”اردو خوش قسمت زبان تھی کہ ہندی کے وجود سے اس نے جنم لیا‘ عربی‘ فارسی اور دوسری مقامی زبانوں سے الفاظ خیرات کے طور پر لے کر اپنا ایک وجود بنا لیا“۔ (ظہور احمد دھریجہ۔ خبریں 12 جون 2017ئ)
جس کتاب ”سرائیکی وسیب“ میں یہ جعل سازیاں کی گئی ہیں اسے سرائیکی ادبی بورڈ (رجسٹرڈ) ملتان نے نومبر 2003ءمیں شائع کیا تھا جس کے (اعزازی) سیکرٹری جنرل ڈاکٹر طاہر تونسوی ہیں جبکہ کتاب کے دیباچے ڈاکٹر صاحب اور شوکت مغل نے تحریر کیے ہیں۔
نقشے کے نیچے کیپشن کے طور پر عزیز احمد صاحب یا ان کی کتاب ”نسل اور سلطنت“ کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر یوں کیا جاتا تو پھر اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ پڑھنے والوں میں سے کوئی اصل کتاب دیکھ کر یہ جان جاتا کہ نقشے میں کیا کیا جعل سازیاں کی گئی ہیں۔یہ اتنی بڑی جعل سازی بلکہ جعل سازیاں ہیں کہ دل اس بات کو قبول نہیں کر پا رہا کہ ظہور احمد دھریجہ صاحب جیسی شخصیات جو بابائے سرائیکی بننے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں‘ وہ بھی اس نوع کا گھٹیا کام کر سکتی ہے اور ڈاکٹر طاہر تونسوی صاحب اور شوکت مغل صاحب بھی اس دھوکہ دہی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ تا ہم حقائق سب کے سامنے موجود ہیں اور ان کی یہ جعل سازی روز روشن کی طرح واضح ہے۔
لیکن یہ تو Just trip of the iceberg …. دیگ کے چاولوں میں سے چند دانے ہیں اور اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی بولیوں کو پنجابی سے الگ زبان ثابت کرنے کی خاطر کس کس طرح کی جعل سازیاں کی جا رہی ہیں اور جھوٹ بولے اور لکھے جا رہے ہیں۔ پرانی کتابوں اور تحریروں کے نئے ایڈیشنوں میں زبردستی سرائیکی کا لفظ گھیڑا جا رہا ہے یا بدل کر سرائیکی کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پنجابی اور جنوبی پنجاب کی سرائیکی کو دوالگ الگ زبانیں اور قومیتیں ظاہر کر کے جنوبی پنجاب کے معصوم لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور نتیجے میں پنجابیوں میں سے ایک کو پنجابی اور دوسرے کو سرائیکی بنا کر پنجابیوں کو پنجابیوں ہی سے لڑایا جا رہا ہے۔
(ختم شد)
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر، ادیب پنجابی دانشور ہیں)
نوٹ:اگر آپ بھی اس مثبت بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو ہمارے صفحات ہمیشہ کی طرح حاضر ہیں۔(ادارہ)

Source : http://dailykhabrain.com.pk/2018/03/25/105424/

blank