جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

blank

ڈاکٹر منظوراعجاز

25 ستمبر ، 2013

میں خیبر پختونخوا کے اس علاقے کے آشوب کو وہاں کے رہنے والوں کی طرح محسوس نہیں کر سکتا لیکن مجھے علم ہے کہ اس جنگ کی آگ نے کتنے ہنستے بستے گھروں کو خاکستر کیا ہے۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ کس طرح جان سے زیادہ عزیزوں کی لاشوں کو کندھا دیا گیا ہو گا اور کس طرح معزز ترین ہستیاں ہجرت کر کے بھیک مانگنے تک مجبور ہوئی ہونگی۔ میں شامی اور عراقی نہیں ہوں پھر بھی وہاں لاکھوں کی تعداد میں مارے جانے والے معصوم لوگوں کے بارے میں سوچ کر اشکبار ہو جاتا ہوں۔ میں کالے افریقیوں کے ساتھ زنجیروں میں بندھ کر بحری جہازوں سے امریکہ کی منڈی میں بیچا نہیں گیا تھا اور میں نے کئی سو سال کی غلامی بھی نہیں دیکھی لیکن یہ سب کچھ سوچ کر میری روح کانپ جاتی ہے۔ لیکن اگر میں ان مظلوموں میں سے ایک ہوتا تو کیا ضروری تھا کہ میں تاریخ کے جبر کو روک لیتا یا کیا میں آج پشتون ہوتے ہوئے طالبان کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ کی تاریخی مجبوریوں سے آزاد ہوسکتا ہوں؟ کیا میری امن کی خواہش طالبان کو اپنا نظریہ بدلنے اور ریاست پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتی ہے؟ 
انسانی المیہ یہ ہے کہ تاریخ کا پہیہ ہماری خواہشوں اور تمنائؤں سے آزاد ہوتا ہے۔ ہم صرف تاریخ کے اصولوں کو سمجھ کر کوئی راہ عمل نکالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس پہلو سے دیکھیں تو صدیوں کی

تاریخ بتاتی ہے کہ ہر تاریخی آشوب کی جڑیں سماج کے اندر ہوتی ہیں ، بیرونی طاقتیں یا حملہ آور انہی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم پر فتحیاب ہوتے ہیں یا ہمیں خانہ جنگیوں میں مبتلا کرکے غیر مستحکم کرتے رہتے ہیں۔ 
سترھویں صدی میں جب پنجاب میں طوائف الملوکی کا دور تھا تو کبھی مرہٹے لاہور پر قبضہ کر لیتے تھے اور کبھی شمال سے نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی حملہ آور ہوکر تاخت و تاراج کرتے تھے۔ نادر شاہ کے حملوں کا تواتر تو اس قدر تھا کہ پنجاب میں محاورتاً کہا جاتا تھا ’’کھاہدا پیتا لاہے دا باقی احمد شاہے دا‘‘ (جو کچھ ہے وہ کھا پی لو باقی تو احمد شاہ نے چھین ہی لینا ہے)۔ پھر پورا پنجاب سکھ سرداروں کی مسلوں میں تقسیم ہو گیا اور کشت و خون جاری رہا۔ یہ سلسلہ تب تک چلتارہا جب تک مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سب سرداروں پر فتح حاصل کرکے پنجاب میں اپنی راجدھانی مستحکم نہیں کی۔ پنجاب میں ایک مضبوط سلطنت قائم ہوئی تو پھر نہ شمال سے کوئی حملہ ہوا اور نہ ہی جنوب سے۔ لیکن رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب پھر طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا اور انگریز نے اس پر قبضہ کر لیا۔ المختصر تاریخی تبدیلیوں کابنیادی منبع سماج کے اندر ہی ہوتا ہے، بیرونی طاقتیں اس سے فائدہ تو اٹھا سکتی ہیں لیکن اس کی بنیادی وجہ نہیں بن سکتیں۔
آج کے پاکستان میں دہشت گردی، بھتہ خوری، مافیائؤں کا راج، عورتوں اور بچیوں کے خلاف ظلم ستم، سماجی ارتقاء کی پیداوار ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جاری دہشت گردی پیچیدہ ہے کیونکہ پڑوسی ملک افغانستان میں ایک سپر پاور نے فوج کشی کی ہوئی ہے اور یہ ایک خارجی عنصر بھی اہم ہے لیکن طالبان اور اسلامی جہادی مسلح گروہ امریکہ کے حملے سے پہلے ہی موجود تھے بلکہ انہوں نے امریکہ کو حملے کا جواز فراہم کیا تھا پھر یہ بھی کہ اگر آج امریکی افغانستان چھوڑ کر چلے جائیں تو کیا مذہبی مسلح مزاحمت ختم ہو جائے گی؟ سب جانتے ہیں کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ تاریخی عمل کو سمجھنے سے عاری مصلحت کوش سیاست دان ’’ہم پر جنگ تھوپی گئی‘‘ کا نعرہ لگا کر زمینی حقیقتوں کا سامنا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی مسلح مزاحمت ویسے ہی ہے جیسے ہندوستان میں مائؤسٹ گوریلا تحریک یا جیسے سری لنکا میں تاملوں کی بغاوت تھی۔ تامل مرکزی حکومت کی متعصب پالیسیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اسی طرح مائؤسٹ ہندوستان میں معاشی انصاف کے لئے برسرپیکار ہیں۔ اگرچہ مائؤسٹ کمیونسٹ نظریے کے پیروکار ہیں لیکن ان کی تحریک طالبان سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ طالبان کی مانند مائؤسٹ بھی زیادہ تر ہندوستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ طالبان اور مائؤسٹوں کا نظریہ ایک دوسرے کے متضاد ہے لیکن بنیادی طور پر دونوں تحریکیں اپنے قدیم روایتی سماج کو حیات نو دینا چاہتے ہیں۔ 
طالبان پاکستان (اور افغانستان) کے قبائلی سماج کے اندرونی تضادات کی پیداوار ہیں۔ باقی ملک کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی جدیدیت کی لہر ابھر رہی تھی جس کے ردعمل میں طالبان مذہبی اور قدیم روایات کا مرکب نظریہ لے کر آئے۔طالبان کی مسلح جنگ اس طرز حیات کی نفی کرتی ہے جو ریاست پاکستان کے باقی علاقوں میں رائج ہے۔ پاکستان کا آئین اسی طرز حیات کا عکس ہے جس کو طالبان کافرانہ کہتے ہیں۔ طالبان کے نظریے اور پاکستان کی طرز حیات میں مفاہمت ناممکن ہے۔ اسی لئے طرفین میں کیا گیا کوئی معاہدہ قائم نہیں رہا اور مستقبل میں بھی اس کے امکانات معدوم ہیں۔تاریخی طور پر سماج میں مسلح مزاحمت انتہائی حربہ ہوتا ہے اوریہ تب ہی استعمال کیا جاتا ہے (یا ہوتاہے) جب کوئی دوسرا قابل قبول حل موجود نہ ہو۔ اسی لئے مسلح جدوجہد کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ طرفین میں جس کا پلہ بھاری ہوتا ہے وہ دوسرے سے اپنی شرائط منوا لیتا ہے۔ میجر جنرل ثنااللہ نیازی اور دوسرے دو افسروں کی شہادت سے پیشتر مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کا شوروغوغا عام تھا، مٹھی بھر دانشور (جن کو لبرل کہا جاتا ہے) اس کی مخالفت کر رہے تھے جن کو ہر طرف سے لعن طعن ہو رہی تھی حالانکہ ان کی آواز نہ تو ریاست نے کبھی سنی ہے اور نہ ہی سنے گی کیونکہ ان کی کوئی نمائندہ سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ البتہ نمائندہ پارٹیاں مذاکرات کے لئے کافی بے چین تھیں۔ فوجی افسروں کی شہادت کے بعد یہ پارٹیاں شور مچا رہی ہیں کہ ان دیکھی طاقتیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ ان دیکھی نہیں دیکھی بھالی پارٹی ہے جس کا نام طالبان ہے جو ہر روز کئی پاکستانی فوجیوں کا شکار کرتی ہیں۔ 
طالبان کے بیانات اور طرز عمل سے یہ ظاہر ہے کہ وہ اپنے آپ کو فتحیاب سمجھتے ہیں، اسی لئے وہ اپنی شرائط پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔اسی لئے انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی پارٹیوں کی مذاکرات کے بارے میں متفقہ قرارداد کو درخوراعتنا نہ سمجھتے ہوئے فوجی افسروں کو شہید کیا اور تواتر سے پاکستانی فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کی دو شرائط کہ ان کے تمام قیدی رہا کر دئیے جائیں اور فوج قبائلی علاقوں سے نکل جائے، ناقابل عمل ہیں۔ اگر پاکستانی فوج نے قبائیلی علاقوں سے نکل جانا ہے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پورا علاقہ طالبان کے حوالے کرنا۔ایسا ہونا ممکن نہیں اسی لئے فیصلہ لڑائی کے میدان میں ہونا ہے۔
ہمیں علم ہے کہ قبائلی علاقوں کے عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر بے حال ہو چکے ہیں۔ ان کی فوری امن کی تمنا بھی قابل فہم ہے۔ یہ خواہش بھی بجا کہ مذاکرات معجزہ ثابت ہوں لیکن یہ تخت (ریاست پر قبضے) کی جنگ ہے اور بقول شاہ حسین ’’تخت نہ ملدے منگے‘‘ (تخت بھیک میں نہیں ملتے)۔ مرحوم شہزاد احمد شہزاد کاایک شعر یاد آرہا ہے:
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو

Source : https://jang.com.pk/news/10813#_

blank