’’ میراگمشدہ پنجاب‘‘ اور دلا بھٹی

blank

پنجاب کا وہ گمشدہ ہیرو، جسے پنجابیوں نے خود یادوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ آج بھی دیومالائی داستانوں کے کردار کی طرح ذہنوں میں زندہ دلا بھٹی اہل وطن سے پوچھتا ہے کیا زندہ لوگ اپنے ہیروز کو اس طرح بھولتے ہیں؟ پنڈی بھٹیاں سے تعلق رکھنے والا پنجاب کا عظیم سپوت عہد اکبری کا بہت بڑا باغی جس نے مقامی قبائل کے غیور نوجوانوں کے ساتھ مل کر اکبر کے لشکر کے خلاف گوریلہ جنگ لڑی وہ شاہی افواج سے خوراک اور نقدی چھین کر مقامی آبادی کے غرباء میں تقسیم کرتا اسے یقیناً ایک زندہ ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ مقامی لوک شاعروں نے اس کی زندگی میں ہی اسے اپنے گیتوں کا موضوع بنایا۔ نوجوان دلے کے گیت شوق سے گاتے اسے اپنے ہیرو کے طور پر پیش کرتے اور اس کی بہادری اور مردانگی کا تذکرہ جوش و خروش سے کرتے دلے بھٹی کے اس لشکر میں مقامی جاٹ اور کئی راجپوت قبائل کے نوجوان بھی شامل تھے۔ دلے بھٹی کی قبر لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں ہے ‘ جو زبان حال سے پنجابیوں کی بے حسی جذبہ قومیت سے عاری ہونے اور اپنے ماضی اور تاریخ سے لاتعلقی کا نوحہ سنا رہی ہے۔ دلے بھٹی کی قبر پر نہ کوئی مزار ہے نہ عمارت جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کا اس پنجابی باغی سے کوئی تعلق نہیں۔ آج دلے بھٹی کی نہ تاریخ پیدائش کا پتہ ہے نہ مقام پیدائش کا کوئی شواہد دستاویزی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ کچھ کمزور تاریخی شواہد کے حوالے سے بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ دلا بھٹی شہزادہ سلیم کے ساتھ پلا بڑھا کیونکہ شہزادہ جسمانی اعتبار سے اتنا توانا نہیں تھا اس کے حکیموں نے اکبر کو نصیحت کی کہ شہزادے کو کسی راجپوت عورت کا دودھ پلایا جائے۔ دلا بھٹی بھی اس وقت شیر خوار تھا اور اپنی ماں لدھی کا دودھ پیتا تھا۔ لدھی کے خاندان میں پہلے سے باغی موجود تھے لدھی ایک تنو مند خاتون تھیں اس لیے اکبر نے اسے شہزادے کو دودھ پلانے پر متعین کر دیا۔ اس طرح دلا بھٹی شہزادے کے ساتھ پلا بڑھا۔ روایت ہے کہ دلا بھٹی نے اس وقت کے اتالیقوں کے بنائے ہوئے مروجہ نظام سے بھی بغاوت کی اور وہ اس طرز تعلیم سے جلد بھاگ نکلا جو امیر اور غریب کے درمیان فرق کو زیادہ کرتی ہے اس کا بچپن شرارتوں سے بھر پور تھا۔ سولہویں صدی کا اختتام دلا بھٹی کا انجام بن کر آیا اسے لاہور ہی میں سرعام پھانسی دے دی گئی۔ دلا بھٹی کی وجہ سے اکبر کو20 سال تک دہلی چھوڑ کر لاہور کو اپنا پایہ تخت بنانا پڑا۔ دلے کی زندگی اس وقت کے پنجابی شاعروں نے اپنے انداز میں لکھی ۔دلے کی کارروائیوں کے مرکزی علاقے کو دلے بھٹی دی بار، قرار دیا گیا اور اس کے کارنامے پنجابیوں کے کانوںمیں گونجتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد تعلیمی نصاب سازوں اور حکومتوں نے مغلیہ عہد کو عہد زریں اور اکبر کو اکبر اعظم کے طور پر پیش کیا۔ وہی اکبر اعظم جو دین الٰہی کا موجد بھی تھا۔ متعصب لوگوں سے دلے بھٹی جیسے ہیرو کا تذکرہ کیسے متوقع ہے کہ جو استعمار سرمایہ داری اورمطلق العنانی کے خلاف برسر پیکار رہا اور بالآخر اسی راہ میں جاں ، جان آفریں کے سپرد کر دی۔ مشرقی پنجاب میں آج بھی دلے بھٹی کو پنجاب کے رابن ہڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آغاز بہار کے موقع پر ہونے والے لوہری کے تہوار پر سکھ اور ہندو نوجوانوں کی ٹولیاں دلے کے نام پر گیت گا کر گھر گھر جا کر مانگتیں ہیں اور کوئی گھر انہیں خشک میوہ جات، مٹھائی یا کوئی اورسوغات دیے بغیر نہیں لوٹا تا کیونکہ دلے کی ٹولی کو خالی ہاتھ لوٹانا برا شگون سمجھا جاتا ہے لاہور میں دلا بھٹی اکیڈمی تو قائم کر دی گئی ہے مگر پنجاب کے اس عظیم سپوت کو مناسب توجہ دینا ابھی باقی ہے۔ غلام نبی شاکر کی کتاب ’’میرا گمشدہ پنجاب ‘‘سے مقتبس

Source : http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2017-02-18/17814#.WwaY5DSFMdV

blank