بیسویں صدی کا پنجابی زبان و ادب اور ڈاکٹر فقیر محمد فقیر

blank

محمد جنید اکرم

بیسو یں صدی میں پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اور پنجابی ادب کے استحکام کی خاطر محنت کرنے والوں میںسب سے معتبر ، اہم اور اوّلین نام بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیرؒ ہی کا ہے ۔ آپ ہمہ جہت ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ قدرت نے اُنھیں بے شمار گُنوں سے نوازا تھا۔ پنجاب یو نی ورسٹی نے بابائے پنجابی کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں بعداز وفات پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کرکے شعبہ پنجابی میں ’’ڈاکٹر فقیر محمد فقیر ریسرچ چیئر‘‘ قائم کی ۔ ڈاکٹر فقیر مرحوم نے شاعری میں تقریباً تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، پنجابی زبان کی قدیم کلاسیکی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اُنھوں نے وارثی بحر میں ہیر لکھنے کا کامیاب تجربہ کیا۔پنجابی زبان میں منظوم داستان گوئی کی روایت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جواں عُمری ہی میں بابائے پنجابی نے ایک اور عظیم المرتبت مثنوی ’’ سنگی‘‘ تخلیق کی جو کہ 594 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مثنوی پنجابی کلاسیکل روایات کی معروف مولوی غلام رسول عالم پوری اور میاں محمد بخش کی سیف الملوک کی بحر میں تخلیق کی گئی ہے ۔ قیامِ پاکستان سے پہلے کے دور ہی میں ڈاکٹر فقیر کا تیسرا بڑا کلاسیکی شعری کارنامہ جس نے علمی ادبی اور شعری مجلسوں میں اُنھیں شہرت اور عِزّت سے نوازا وہ ’’دامن ‘‘ ہے۔ دامن پنجابی زبان کے ماضی میں ایک معروف صنفِ سخن رہی ہے۔ اِس میں بِالعموم کسی عشقیہ قصے کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ مسدس نظم کی صورت میں ہوتی ہے۔ اُن کا باقاعدہ پہلا شعری مجمو عہ جو 1924 ء میں منظرِ عام پر آیا وہ ’’صدائے فقیر‘‘ ہے۔ اس مجموعے میں شامل تمام نظمیں انجمن حمایت اِسلام کے اسٹیج پر پڑھی ہوئی ہیں جو اُس دَور میں ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے اہم سیاسی اسٹیج جانا جاتا تھا۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی رائے میں : ’’ صدائے فقیر کی تمام نظمیں دِلکش ہیں اور وقت کے تقاضے کو پورا کرتی ہیں۔ اِس وقت ایک مفکر کا یہی منصب ہے کہ وہ قومی اور ملکی تقاضوں کو پورا کرنے میں کوتاہی نہ برتے اور پوری توجہ اور انہماک سے اِس کام کو جاری رکھے۔‘‘ بعدازاں جب ہندوستان میں ’’ تحریک قیام پاکستان‘‘ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ نہ صرف یہ کہ مسلم لیگ کے ہم آواز بنے بلکہ تحریکِ قیامِ پاکستان کی کامیابی کے لیے باقاعدگی سے چندہ دینے والوں میں بھی شریک ہو گئے۔ 1946ء میں جب قائد اعظم ؒ گوجرانوالہ تشریف لائے تو بہت سے لوگوں نے اُنھیں چندے کے طور پر رقوم پیش کیں ۔ بعدازاںڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے اپنی گاڑی کی چابی پیش کرتے ہوئے کہا : ع گر قبول اُفتد زہے عِزّوشرف قائدِ اعظم فرمانے لگے ’’ بہت اچھا فقیر، تم نام کے فقیر اور دل کے امیر ہو میں تمہارے اِس تحفے کی قدر کرتا ہوں۔‘‘ اِسی دور میں آپ کا دوسرا شعری مجموعہ جو منظر عام پر آیا وہ ’’رُباعیاتِ فقیر‘‘ تھا۔ رُباعیاتِ فقیر کو نیلے تارے کا نام بھی دیا گیا۔ قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کی یونی ورسٹیوں کے لیے پنجابی کی ایک نصابی کتاب جو گُرمُکھی سکرپٹ میں چھپی ہوئی تھی ، اِس کتاب کا نام ’’دومیل‘‘ ہے، اس میں بابائے پنجابی کی رُباعیات کا باب شامل کیا گیا تھا۔ پنجابی زبان کی ادبی تاریخ میں ڈاکٹر فقیر کو پنجابی رُباعی کا باواآدم کہا جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد پنجابی نثر کی اوّلین کتاب ’’پنج ہادی‘‘ تصنیف کی۔ اِس کتاب میں حضرت محمد ﷺ اور اُن کے چار خُلفائے راشدین کی زندگیوں کے حالات اور کارہائے نمایاں کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اُن کے جو شعری مجموعے منظر عام پر آئے اُن میں1956ء میں ’’موآتے‘‘ 1965ء میں ’’ستاراںدِن‘‘ اور 1968ء میں ’’پاٹے گلمے‘‘ شامل ہیں۔ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان لکھتے ہیں کہ : مولانا الطاف حسین حالی نے جو کام اپنی تخلیق ’’مسدسِ حالی ‘‘ سے لیا،وہی کام ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے’’ موآتے ‘‘سے لیا۔ اپنے اِس ادبی سفر میں اُن کی نظر ایک طرف نو مولود وطنِ عزیز پاکستان کی مشکلات کا مشاہدہ کر رہی تھی تو دوسری طرف ’’ ماں بولی‘‘ کو اُس کا جائز مقام دلانے کے لیے تحریک کو تیز سے تیز تر کرنے کی ضرورت محسوس کر رہی تھی۔ 1951ء میں ’’پاک پنجابی لیگ‘‘ کے نام سے پنجابی زبان کے فروغ اور کلاسیکی ادبی سرمائے کی حفاظت کے لیے ایک تنظیم تشکیل دی گئی۔ اِ س تنظیم کے صدر مولانا عبدالمجید سالک اور سیکرٹری ڈاکٹر فقیر محمد فقیر بنائے گئے۔ بعدازاں اِس تنظیم کے زیر اہتمام بابائے پنجابی نے شبانہ روز محنت کر کے ستمبر 1951ء کو ’’ ماہوار پنجابی لاہور‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کر دیااور پھر یہ رسالہ اچھے بُرے حالات کا شکار ہوتا ہوا اپریل 1960ء تک شائع ہوتا رہا۔ 1952ء میں ماہوار پنجابی کی پہلی جلد میں سے نثری انتخاب کرکے ’’لہراں‘‘ کے نام سے ایک ضخیم پنجابی نثر کی شاہکار کتاب مرتب کی۔ 1955ء میں اوری اینٹل کالج لاہور کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر کے اِشتراک سے’’ مغربی پاکستان پنجابی ادبی اکادمی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اور اس اکادمی کے زیرِ اہتمام پنجابی زبان کے تمام تر صوفیاء کرام کے کلام کو مرتب کر کے تحقیقی اور تنقیدی مقدمے لِکھ کے شائع کیا۔ اِن میں ’’ کلیاتِ بُلھے شاہ، ہیر وارث شاہ، ہیر شاہ جہان مقبل، میاں محمد بخش کی سیف الملوک، نادر شاہ دی وار از نجابت، پیر محمد کی چٹھیاں دی وار، شاہ محمد کی سِکھاں دی وار،پیلو کی مرزا صاحباں، حافظ برخوردار کی مرزاصاحباں،کلیاتِ ہدایت اللہ، کلیاتِ علی حیدر ملتانی، کُکارے ،کُلیاتِ ہاشم شاہ ، اور بول فریدی از بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ شامل ہیں۔بابائے پنجابی کی مرتبہ ’’کلیات بلھے شاہ‘‘ کو اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو نے دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کروانے کے لیے منتخب کیا۔ 1960ء میں پنجاب کے عظیم صوفی شاعر حضرت بابا بُلھے شاہؒ کے فکروفن پر ایک تحقیقی اور تنقیدی کتاب ’’بُلھے شاہ فن تے شخصیت‘‘ لِکھی۔ ’’پنجابی زبان تے ادب دی مختصر تاریخ‘‘ پنجابی میں اور مرکزی اُردو بورڈ کے زیرِ اہتمام ایک کتاب ’’ پنجابی زبان وادب کی تاریخ‘‘ تقریباً سات سو صفحات پر مشتمل اُردو زبان میں تحریر کی۔ علاوہ ازیں ’’تاریخ گوجرانوالہ‘‘ بھی اُردو زبان میں تحریر کی۔ پنجابی زبان میں نظری تنقید کی اوّلین کتاب ’’ مہکدے پُھل‘‘ تحریر کی جس میں پنجاب کے عظیم صوفیاء کی زندگیوں کے احوال و آثار اور فکر و فن پر تحقیقی اور تنقیدی مقالے تحریر کیے۔ مرکزی اُردو بورڈ جو اَب اُردو سائنس بورڈ بن چکا ہے کے زیرِ اہتمام ہیروارث شاہ کا اُردو ترجمہ کیا۔ فارسی زبان کے شہرہ آفاق شاعر عُمرخیام کی رُباعیات کا پنجابی رُباعیات کی صورت میں ترجمہ کیا۔ مولانا سیّد منا ظر احسن گیلانی کی سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر اُردو نثر میںلکھی ہوئی مشہورِ زمانہ کتاب ’’النبی الخاتم‘‘ کا منظوم پنجابی ترجمہ کردیا۔وہ تمام عُمر پنجابی زبان و ادب کے طلباء اور شائقین کے درمیان شمع بن کر جلتے رہے۔

Source : http://www.dunya.com.pk/index.php/special-feature/2017-06-05/18734#.WvGX9O-FMdU

blank