کالا باغ ڈیم کی افادیت کیا ہے؟

blank

تحریر: محمد سلیمان خان

سائیں آپ کیوں کالا باغ ڈیم کی رٹ لگائے ہوئے ہیں؟ کالا باغ ڈیم تو پنجاب میں بن رہا ہے۔ سارا فائدہ تو پنجاب کا ہے، تو پھر سندھ اس کی منظوری کیوں دے؟ یہ وہ سوالات تھے جو سندھ کے بیشتر لوگوں نے کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی سے ملاقاتوں میں کئے اور یہی وہ شوشے ہیں جن کی گرد اڑا کر بھارتی لابی کے چند گماشتے سندھ میں افواہیں اڑاتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بننے سے سندھ کی دھرتی بنجر ہو جائیگی۔
اسی بے بنیاد نظریہ کی وجہ سے سندھ میں رہنے والا تقریباً ہر شخص کالا باغ ڈیم کا مخالف بن چکا ہے ورنہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک سندھی بھی پاکستان کا اتنا ہی حامی، جانثار اور وفادار ہے جتنا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنرل حمید گل یا کوئی بھی عام محب وطن پاکستانی۔
یوں تو دنیا بھر میں بڑے ڈیمز کی مخالفت کی گئی ہے لیکن اس کے پیچھے بہرحال صرف یہ عوامل کارفرما تھے کہ بڑا ڈیم بننے سے بہت بڑی آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ اس طرح بڑے ڈیموں کی مخالفت صرف ان علاقوں کے رہائشی افراد نے کی، کیونکہ بڑا ڈیم بننے سے انہیں اپنے آبائی گھروں خیر باد کہنا پڑتا ہے جو ڈیم بننے کی وجہ سے ڈوب جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں بڑے ڈیمز کے قومی ثمرات کی وجہ سے مجوزہ مقامات پر رہنے والے افراد کو نہ صرف منتقل کیا گیا بلکہ انہیں اس کا پرکشش معاوضہ بھی دیا گیا، جس طرح آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کی تعمیر کیلئے پورا میرپور شہر ڈیم کی جھیل میں آگیا تھا۔ ایسے میں نہ صرف موجودہ میرپور شہر آباد کیا گیا بلکہ ڈیم میں آنے والے پورے میر پور شہر کی آبادی کو برطانیہ کا ویزہ دے کر ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنے کا پورا موقع بھی دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میر پور شہر کا کوئی بھی شخص کروڑ پتی سے کم نہیں۔ اسی طرح ہری پور میں بنائے گئے تربیلا ڈیم کے متاثرین کو بھی معقول معاوضہ دیا گیا اور انہیں صوبہ پنجاب اور سندھ میں زمینیں بھی فراہم کی گئیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ۱۹۶۰ء میں طے پائے جانے والے سندھ طاف معاہدہ کے بعد سے اب تک جتنے بھی آپریشنل نہری منصوبے بنائے گئے ان سے بالخصوص سندھ، بلوچستان اور سرحد کو فائدہ پہنچا، جبکہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ کے کچھ حصہ کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی ٹیل سے تھوڑا سا پانی دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ دور حکومت میں گریٹر تھل کینال کا منصوبہ بنایا گیا جو تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے، اور اسے بھی پانی کا حصول محال رہتا ہے۔
وفاقی حکومت کے اس طرز عمل سے پنجاب کے حقوق کو تو شدید دھچکا لگا لیکن صوبہ سندھ میں ایک مخصوص لابی نے اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنا واٹر الاؤنس آسمان پر پہنچا دیا اور بالآخر پنجاب کے مقابلہ میں ۴ گنا زیادہ پانی حاصل کیا۔ اس کے علاوہ پنجاب کو کالا باغ ڈیم کا سبز باغ دکھا کر آئندہ اسکیمیں بنانے سے محروم رکھا گیا، کہ کالا باغ ڈیم بنے گا تو پنجاب کیلئے نہریں نکالی جائیں گی، لیکن افسوس کہ جب ضیاء الحق کے دور میں کالا باغ ڈیم بننے کا عمل شروع ہوا تو جنرل فضل حق نے قومی اہمیت کے اس منصوبے کو رد کردیا، جس کا پورا فائدہ بھارتی لابی نے اٹھایا اور کالا باغ ڈیم کی شدید مخالفت کو اپنے ایمان کا حصہ بنا کر سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنا لیا۔
کالا باغ ڈیم مخالف لابی، جو دراصل ان لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ صرف قیام پاکستان کی شدید مخالفت کی تھی بلکہ آج بھی پاکستان کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انہی لوگوں نے کالا باغ کے مسئلے پر الزامات کی اتنی گرد اڑائی کہ ایک اچھا خاصا باشعور شہری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حتیٰ کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے بھی ایک بار کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں اپنا بیان دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے دور حکومت میں جب کالا باغ ڈیم کی منظوری کا معاملہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں اٹھایا گیا تو صوبہ سندھ کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے پہلے واٹر اپورشنمنٹ ایکورڈ یعنی ’’ڈبلیو اے اے‘‘ کا ہونا ضروری ہے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے کون سے صوبے کو کتنا پانی ملے گا۔ صوبہ سندھ کے اعتراض کی تائید میں صوبہ بلوچستان نے بھی یہی مطالبہ کیا۔
اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ۱۹۹۱ء میں چاروں صوبوں نے متفقہ طور پر پانی کی تقسیم کے فارمولے پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے پنجاب مستعمل پانی کا ۰۴۲ء۵۳ فیصد استعمال کر رہا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد ملنے والے اضافی پانی سے پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں آپریشنل نہریں بنائی گئی تھیں، لیکن اسکے ثمرات سے پنجاب کو محروم رکھا گیا۔ ایسے موقع پر پنجاب نے محض کالا باغ ڈیم کی منظوری کیلئے صرف ۳۷ فیصد پانی قبول کرتے ہوئے ڈبلیو اے اے پر اتفاق ظاہر کیا۔
سال ۱۹۹۱ء میں کئے گئے اس معاہدہ کے تحت نہ صرف کالا باغ ڈیم منظور کرلیا گیا، بلکہ ارسا کی منظوری بھی دی گئی۔ کالا باغ ڈیم ۶۱ لاکھ ایکڑ فٹ کا ڈیم ہے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ڈیم میں صرف پانی جمع نہیں ہوتا بلکہ ڈیم کا اصل مقصد واٹر مینجمنٹ ہوتا ہے۔ اس طرح کالا باغ ڈیم سے ۶۱ لاکھ ایکڑ فٹ کے بجائے ۱۰ کروڑ ۱۶ لاکھ ۲۰ ہزار ایکڑ فٹ پانی کا اضافہ ہو گا۔
سال ۱۹۹۱ء کے ’’ڈبلیو اے اے‘‘ سے پہلے مستعمل پانی ۱۰ کروڑ ۲۷ لاکھ ۳۰ ہزار ایکڑ فٹ تھا، لیکن کالا باغ ڈیم کی منظوری کے بعد مستعمل پانی کی مجوزہ مقدار ۱۱ کروڑ ۴۳ لاکھ ۵۰ ہزار ایکڑ فٹ کر دی گئی جبکہ ۳۰ لاکھ ایکڑ فٹ کی نہریں الگ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبلیو اے اے کی منظوری کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کو ۴۵ لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ملے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے یہ الفاظ وزارت اطلاعات کے شائع ہونے والے جریدے میں محفوظ ہیں۔
ڈبلیو اے اے ۱۹۹۱ء کے تحت معاہدہ میں آئین کی شق ۸ کے تحت صوبوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ حصے میں سے پانی کے ممکنہ منصوبے بنا سکتے ہیں، چنانچہ خیبر پی کے میں جنوبی پانچ اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور کرک کے ۸ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ کو سیراب کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم سے نہر نکالی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبہ بلوچستان کیلئے تونسہ بیراج سے کچھی کینال کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈبلیو اے اے کی منظوری کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے سے بلوچستان کی ۱۰ لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔
اب زیر غور سوال وہ ہے جو سندھ میں بھارتی لابی کے افراد اٹھا رہے ہیں۔ سندھ میں گدو بیراج سے اپنی نہر نکالنے کا منصوبہ ہے جس سے ۳ لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی سیراب ہوگی، جبکہ سکھر بیراج سے ایل بی او ڈی یعنی لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبہ کے دو مقاصد ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ شدید موسم میں سیلابی پانی ایک حصہ کیلئے متوازی دریا کا کام دیتے ہوئے آگے جا کر دوبارہ دریائے سندھ میں ڈال دیا جائیگا، جبکہ دوسرا مقصد یہ تھا کہ اپنی نہر سے حاصل ہونے والے ۲۲ لاکھ ایکڑ فٹ پانی سے خریف کے موسم میں آبپاشی کی جائیگی، جس سے وسیع زمین آباد کی جاسکے گی۔ اسی طرح آر بی او ڈی یعنی رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کا منصوبہ بھی کاغذوں میں موجود ہے۔ دوسری جانب دریائے سندھ پر بنائے جانے والے سیہون بیراج کا ڈیزائن بھی مکمل ہو چکا ہے، جس سے زیریں سندھ کو فائدہ ہو گا۔
قابل غور امر یہ ہے کہ ان تمام منصوبوں کیلئے پانی کالاباغ ڈیم سے حاصل کیا جائے گا ورنہ سندھ کے وسیع علاقوں کی آباد کاری تشنہ رہے گی، لہٰذا سندھ کی وسیع بنجر زمینوں کی آباد کاری کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے سندھ کو براہ راست ۳۰ ارب روپے سالانہ کے وسائل حاصل ہوں گے، جبکہ صوبے کی مجموعی معیشت میں سالانہ اربوں ڈالر کا فائدہ ہو گا۔ یہ تمام حقائق جاننے کے بعد سندھ کے عوام کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے وال ان سیاستدانوں سے سوال کرسکتے ہیں کہ جب دریائے سندھ میں پانی کی کمی ہے تو پھر اپنی کینال اور دیگر نہروں کیلئے پانی کہاں سے آئے گا جس سے تقریباً ۲۰ لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی؟
یہی وجہ ہے کہ ۱۹۹۳ء میں جب بینظیر بھٹو دوبارہ برسراقتدار آئیں اور ان کے سامنے کالا باغ ڈیم کے منصوبے کی افادیت سامنے لائی گئی تو انہوں نے اس کی مخالفت کرنے کے بجائے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ’’جو کالا باغ ڈیم کا مخالف ہے وہ پاکستان دشمن ہو گا‘‘۔
پاکستان میں کئی غیر سرکاری تنظیموں اور مختلف حلقوں کی جانب سے اب اکثر ی آواز اٹھائی جاتی ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے وفاق کو ہرگز خطرہ نہیں، بلکہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو خیبر پی کے اور سندھ کے لوگ اپنے ان رہنماؤں کو ضرور کوستے رہیں گے جو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے چلے آئے ہیں۔ ایسے میں ہر کوئی ان ملک دشمن رہنماؤں کو پہچان لے گا جو اس دھرتی کے اصل دشمن ہیں اور جن کی ملک دشمنی میں انکی محبت اور خلوص کی دھرتی ترقی نہ کر سکی۔

Source : https://technologytimes.pk/post.php?id=438

blank