پنجاب جیلوں میں آٹھ ہزار بچے قید

blank

امداد علی سومرو
لاہور

بچوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی ڈائریکٹر حنا جیلانی نے کہا ہے کہ پنجاب کی جیلوں میں آٹھ ہزار سے تعداد بچے قید ہیں۔

بچوں کے حوالے سے ایک رپورٹ میں حنا جیلانی نے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں پنجاب کی جیلوں میں دو ہزار چار سو ساٹھ بچوں کو مختلف جرائم کے الزام میں قید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار سات کے آخر تک جیلوں میں حوالاتی قیدی بچوں کی کل تعداد آٹھ ہزار اٹھانوے ہوگئی ۔

حنا جیلانی نے کہا ہے کہ قید بچوں میں ایک سترہ سالہ نوجوان بھی جو قتل کے جرم میں چوراسی سال کی قید با مشقت بھگت رہا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ جیلوں سےملنے والی معلومات مکمل نہیں ہوتی لہذا رپورٹ میں حوالاتی یا سزا یافتہ قیدی بچوں کے دیئے گئے اعداد و شمار درست تعداد کی عکاسی نہیں کرتے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حوالاتی یا سزا یافتہ بچے قتل سمیت انسانی اعضاء کو ضرر پہچانے والے جرائم، جرائم برائے املاک یا چوری ، جنسی جرائم، منشیاتی جرائم اور جرائم برائے اسلحہ کے الزامات میں قید ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر کے جیلوں میں بند حوالاتی بچوں میں سب سے زیادہ تعداد ایسے بچوں کی تھی جنہیں جرائم برائے املاک یا چوری جیسے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار سات میں پنجاب بھر کی جیلوں میں سب زیادہ کم عمر حوالاتی آٹھ سال کی عمر کا تھا جو کہ سنٹرل جیل ساہیوال میں قتل کے جرم میں نو ماہ تک زیرحراست رہا۔

حنا جیلانی نے بتایا کہ قبل از سزا طویل مدت جیل میں رہنے والا نوجوان سترہ سال کا تھا جسے متواتر تین سال تک سنٹرل جیل ملتان میں رکھا گیا۔

رپورٹ کہ مطابق سب سے کم عمر سزا یافتہ بچہ بارہ سال کا تھا جسے جنسی جرم کی پاداش میں جنوری دو ہزار پانچ میں چودہ سال کی سزا سنائی گئی ۔ جبکہ چودہ سال کے ایک اور بچے کو قتل اور دہشتگردی کے الزامات میں پچیس سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

ایک اٹھارہ سالہ لڑکے کو چوری کے الزام میں تین ماہ قید کی صورت میں سنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار سات میں سب سے مختصر سزا سات دن کی تھی جو ایک سترہ سالہ بچے کو پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت دی گئی تھی۔

رپورٹ میں جیلوں میں قید بچیوں کے اعداد و شمار شامل نہیں کئےگئے اور اس حوالے سے حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ کیونکہ ان بچیوں کو عورتوں کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے لہذا انہیں ان کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی۔

حنا جیلانی نے کہا کہ بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد کسی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے غیر قانونی طور پر چوبیس گھنٹوں سے زیادہ پولیس حراست میں رکھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس ضمن میں چھبیس حولاتی بچوں کے انٹرویو کئے گئے جن میں سے پچیس بچوں کا کہنا تھا انہیں قانوں میں دی گئی مدت سے زیادہ پولیس نے اپنی حراست میں رکھا، جبکہ پندرہ بچوں کا کہنا تھا کہ وہ دس دنوں سے زیادہ پولیس حراست میں رہے۔

حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ بچیوں کو عورتوں کے ساتھ قید رکھنا بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین کی نفی ہے۔

انہوں نے حکومت سے قیدی بچوں کے حقوق، جیلوں کے اندر ان کی اصلاح سے متعلق ایک کمشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کیونکہ جیلوں میں قید بچوں کی اکثریت یا تو سٹریٹ چائلڈ ( بے گھر بچے) کی ہے یا پھر ان کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے۔ لہذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کو قانونی امداد فراہم کرے۔

Source : https://www.bbc.com/urdu/pakistan/story/2008/07/080722_children_jail_punjab_rh.shtml

blank