حنیف رامے: سیاستداں یا سیاسی آدمی؟

blank


محمد حنیف رامے

وہ پڑھنے اور لکھنے والے آدمی تھے۔ اس کا ثبوت ان کی وہ چند کتابیں ہی نہیں ہیں

مجھےاس بات سے اختلاف نہیں کہ محمد حنیف رامے سیاستداں تھے۔ سیاست انسانیت سے ان کی دلچسپی کا ایک حوالہ تھا لیکن مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ وہ سیاسی آدمی تھے۔ حالانکہ وہ پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب کےگورنر بنے اور وزیراعلیٰ بھی اور اس بیچ میں مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر بھی رہے۔

وہ پڑھنے اور لکھنے والے آدمی تھے۔ اس کا ثبوت ان کی وہ چند کتابیں ہی نہیں جن میں ’باز آؤ اور زندہ رہو‘، ’دُبِ اکبر‘ ،’پنجاب کا مقدمہ‘ کے علاوہ ایک انگریزی ناول جس کا طویل مختصر نام: Again: A Novel About the Death and Rebirth of Humanity ہے بلکہ ان کے بے شمار مضامین بھی ہیں جو کتابی شکل میں شائع نہیں ہوئے اگرچہ اردو کتابوں میں ’پنجاب کا مقدمہ‘ کے سوا دونوں کتابیں مضامین کا انتخاب ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ان کے بے شمار مضمون ہیں جنہیں کتابی شکل میں شائع کرنے کے بارے میں معلوم نہیں انہوں نے کبھی کیوں نہیں سوچا یا سوچا تو انہیں شائع کیوں نہیں کیا۔ ان کے لیے شائع ہونا تو کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کا کچھ اندازہ آپ کو اسی ویب پر شائع ہونے والے عدنال عادن کے مضمون سے ہو چکا ہو گا۔

رامے کے اداریے
 حنیف رامے کے اداریوں سے اردو میں ایک نئی روایت کی بسم اللہ ہوئی۔ انہوں نے ایسے اداریوں کو جنم دیا جو روز مرہ کی بجائے تاریخی مسائل کا حل تجویز کرتے تھے

وہ ’نیا ادارہ‘ کا حصہ تھے۔ اسی نیا ادارہ نے سویرا شائع کرنا شروع کیا تھا اور پھراسی سے حنیف رامے نے ہفت روزہ نصرت اجراء کیا تھا۔ نیا ادارہ پاکستان کے چند معروف اور باوقار اشاعتی اداروں میں سے تھا اور شاید اب بھی ہے۔ ان اداروں میں آپ فیروز سنز، شیخ شوکت علی اینڈ سنز اور سندھ اکیڈمی کو شامل کر سکتے ہیں۔

ان میں نیا ادارہ کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ اس کے منتظمین کے اردو کے ایسے تمام ادیبوں سے مراسم تھے جن سے جدید اردو کی شناخت ہوتی ہے۔ آپ کسی ادیب اور شاعر کی پہلی کتاب تلاش کریں، آپ نیا ادارہ، مکتبۂ جدید یا البیان تک پہنچ جائیں گے۔

باز آؤ اور زندہ رہو، حنیف رامے کے اڑتالیس منتخب اداریوں کا مجموعہ ہے۔ اداریے لکھنا تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن حنیف رامے کے اداریوں سے اردو میں ایک نئی روایت کی بسم اللہ ہوئی۔ انہوں نے ایسے اداریوں کو جنم دیا جو روز مرہ کی بجائے تاریخی مسائل کا حل تجویز کرتے تھے۔

ان سے ہی شاید انہیں یہ احساس ہوا ہو گا یا ان کے قریبی لوگوں نے تجویز کیا ہو گا کے انہیں سیاست میں جانا چاہیے لیکن انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے اس بات کو فراموش کر دیا کہ اس وقت کے مغربی پاکستان اور آج کے پاکستان کی سیاست نئے آنے والوں سے ان کا اپنا ایک حلقہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ اور رامے کا حلقہ علم و ادب کے لوگ تھے۔ جو باتیں تو بہت بڑی بڑی کر سکتے تھے لیکن رائے عامہ کے عملی سیاسی تصور پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔

پاکستان میں اسلامی سوشلزم کی اصطلاح کو انہوں نے ہی متعارف کرایا۔ اس سلسلے کا آغاز انہوں نے پیپلز پارٹی کے قیام سے بہت پہلے کیا تھا۔ اس لیے جب پیپلز پارٹی بنی تو اس میں ان کا جانا یا اس کے بننے میں شامل ہونا ایک فطری عمل تھا۔اس بارے میں ان کے مضامین اور غالباً ایک درمیانی ضخامت کا پمفلٹ جسے بعد میں پیپلز پارٹی نے کئی بار شائع کیا اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ انہوں نے اس اصطلاح کو بہت دور تک اسلامی معاشروں میں کھنگالا اور علماء کے ہاں تلاش کیا۔

ہفت روزہ نصرت میں، جسے بعد میں ماہنامہ اور پھر دو ماہی بھی کیا گیا، انہوں نے اس موضوع پر مسلسل لکھا اور یہ ساٹھ کی دہائی کے دوسرے نصف کا زمانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی سوشلزم کےایک معتبر وکیل جمال الدین افغانی تھے جنہوں نے 1892 سے 1897 کے دوران اس موضوع پر مضامین لکھے جن میں سے ایک کا عنوان ’اشتراکیت کے بارے میں – جو خلاف دین نہیں، دینی تعلیمات کے مطابق ہے‘۔

مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ نعرہ کس کرشمہ ساز کا معجزہ تھا کہ ’اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہماری سیاست اور سوشلزم ہماری معیشت ہے‘ کیونکہ حنیف رامے اسلامی سوشلزم کے جو خطوط وضع کرتے رہے ان سے یہی جوہر نکل سکتا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے رامے نے کہیں بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کام انہوں نے کیا تھا جس نے مغربی پاکستان کی سیاست میں ایک ایسی رو پیدا کی جس کے نتیجے میں وہ لوگ بھی منتخب ہو گئے جو کوئی حلقہ نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے کہ اگر بھٹو کھمبے کو بھی نامزد کر دیاتا تو وہ بھی جیت جاتا۔

وہ پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں سے تھے لیکن چونکہ ذرا دھیمے مزاج کے اور غیر متشدد بھی تھے اور سیاست کی سمجھ بھی رکھتے تھے اس لیے انہیں پنجاب کی گورنری اور وزارت اعلیٰ بھی ملی اور اختلاف پر بھٹو صاحب کے اس سلوک سامنا بھی نہیں کرنا پڑا جو جے اے رحیم کے حصے میں آیا۔

میں ان کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں مجھے اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کے آخر ان کے دل میں ایسی کیا بات تھی جو انہیں سیاسیات کے علم اور دانش سے عملی سیاست میں لے گئی۔ یہ تو انہیں بھی پتہ ہو گا کہ سیاست کو کسی بھی معاشرے کا سب سے پُر قوت عنصر تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ معاشرے کے سرِفہرست لوگ سیاسی ہوتے ہیں یا جو لوگ سرِ فہرست ہونا چاہتے ہیں وہ سیاست کا رخ کرتے ہیں۔ اب یہ کسی معاشرے کی قسمت ہے کہ اس کی سیاست کو کیسے لوگ میسر آتے ہیں۔

پاکستان بننے کے فوراً بعد پاکستانی سیاست کو جو لوگ میسر آئے وہ اکثریت میں جاگیردار اور زمیندار تھے یا ان کے ہم نوا اور جو اس طرح کے نہیں تھے انہیں آہستہ آہستہ باہر کی راہ دیکھنا پڑی۔ پاکستان کی اس تاریخ کا اطلاق پیپلز پارٹی پر بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے حنیف رامے کو پی پی پی سے نکلنے اور پھر واپس آنے تک ایک طویل سفر کرنا پڑا۔

مفکرینِ سیاست کہتے ہیں کہ سیاست میں وہی لوگ پنپ سکتے ہیں جو ہر طرح کی مکاری، دھوکے بازی، چالاکی اور فریب کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ان سے نمٹنے کا ہنر بھی جانتے ہوں۔ وہ حسن، علم اور دانش کی پہچان بھی رکھتے ہوں ۔ ظلم سے نجات دلا سکتے ہوں اور مظلوم کی داد رسی کر سکتے ہوں۔

اس کا مطب یہ بھی نکالا گیا ہے کہ سیاست داں بہرصورت طاقت کے حصول اور اس اس کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ وہ عالم، دانشور اور حسن پرست ہوتے ہیں اور کوئی ان سے زیادہ چالاک، مکار، دھوکے باز اور فریبی نہیں ہو سکتا اور جس میں یہ صلاحیتیں جس درجے کی ہوتی ہیں وہ سیاست کے اُسی درجے تک پہنچتا ہے۔

مجھے یاد ہے حنیف رامے جب گورنر بنے تو اس وقت بھی یہی کہا جاتا تھا کہ ’بہت دن چلنے والے نہیں‘ اور جب وزیراعلیٰ بنے تب بھی۔ شاید پارٹی کی اصل قیادت نے انہیں کبھی بھی ایک کارکن یا کارندے سے زیادہ نہیں سمجھا اور ان میں جو صلاحیتیں تھیں اس کا صلا بس اتنا ہی ہو سکتا تھا کہ وہ ثانوی حیثیت میں کام کریں اور اپنی صلاحیتوں کو فیوڈلز کی طاقت بنا دیں۔

اس لیے وہ ایک بار پھر سیاست سے پڑھنے لکھنے کے کام کی طرف چلے گئے۔ اسی دور میں جب وہ سیاست سے کم و بیش لاتعلق ہو گئے۔ انہوں نے قرآن کی تفسیر پر بھی کام شروع کیا اور قرآن کی خطاطی پر بھی زیادہ توجہ دی تھی۔ ان کی خطاطی کو کیوبزم کی اختراع سے ممتاز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس شوق کا ابتدائی اظہار کتابوں کی آرائش سے کیا اور ان کی مصور کی ہوئی کتابوں میں غالب کا دیوان، امراؤ جان ادا اور با غ وبہارشامل ہیں۔ ان کتابوں میں کی گئی ڈرائنگز کا اسلوب مکمل طور پر جداگانہ ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ترجمے کا کام بھی بہت کیا اور جان کینتھ گالبریتھ کی کتاب ’اقتصادی ترقی کا پس منظر‘ کے نام سے اردو میں منتقل کی اور اس کا ایک تـجزیہ بھی لکھا جو اپنی جگہ ایک پتے کی تحریر ہے۔

مجموعی طور کہا جا سکتا ہے کہ شوق ِ سیاست نے ان کی دانشورانہ اور تخلیقی قامت کے پوری طرح سامنے آنے میں بڑی رکاوٹ ڈالی۔ اگرچہ اس سے ان کے پہچانے جانے میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا کیونکہ وہ نہ تو بھٹو اور مجیب تھے اور نہ ہی کوئی دولتانہ، ٹوانہ، فتیانہ یا کھر و جتوئی کہ سیاست میں نہ آتے تو کوئی جانتا پہچانتا ہی نہیں لیکن وہ سیاست کی دلدل میں آئے اور بے داغ گئے یہ بھی ان کا ہی کمال ہے۔

مشرقی پاکستان اور بلوچستان میں فوجی آپریشنوں پر ان کی رائے انتہائی اختلافی اور متنازعہ تھی اور وہ اس میں پیپلز پارٹی کی عام رو سے الگ نہیں ہو سکے تھے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

Source : https://www.bbc.com/urdu/miscellaneous/story/2006/01/printable/060103_ramay_person_sen.shtml

blank