تاریخ کے جھرکوں میں جنم لینے والا پنجاب کا مسلۂ

blank

3 سال پہلے ایاز امیر

پنجاب کی سنہری دھرتی سے جنم لینے والے، اس کی ایک فضا میں سانس لینے والے اور ایک جیسی موسیقی سے لطف اندوز ہونے والے افراد کو بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا سکتا ہے…پنجابی مسلمان اور پنجابی سکھ۔یوں تو پنجابی ہندو بھی اپنی موجودگی رکھتے ہیں لیکن اس مضمون میں موضوعِ بحث صرف پہلی دو اقوام ہی ہیں تاکہ بات واضح کرنے میں آسانی رہے۔
سکھ صرف ایک مذہب کے ہی پیروکار نہ تھے، بلکہ مغل سلطنت کی کمزور ی کا فائدہ اٹھا کرسکھ سرداروں اور پھر رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھ سلطنت کے قیام نے سکھوں کو متحد پنجاب میں ایک سیاسی حیثیت دلا دی۔ اس طرح وہ پنجاب کی تاریخ کے 2000 سالوں میں پہلی قوم بن کر ابھرے۔سیاسی قوت کی وجہ سے رونما ہونے والے قوم سازی کے عمل سے گزرنے پر سکھ قوم طاقتور جنگجو بن کر مردِ میدان ٹھہرے، چناچہ وہ مشرق میں مغلوں شاہسواروں اور مغرب میں سخت جان افغانوں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ اُورنگ زیب کی وفات کے بتیس سال بعد، 1739 میں جب نادرشاہ درّانی نے مغلوں سے پنجاب کو چھینا تو یہ صوبہ نادرشاہ کی سلطنت کا حصہ بن گیا تھا۔بعد میں احمد شاہ ابدالی نے اسے اپنی کابل کی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ سکھوں نے بزورِ شمشیر افغانوں سے نہ صرف پنجاب واپس چھینا بلکہ پشاور پر قبضہ کرکے اسے بھی سکھ سلطنت میں شامل کرلیا۔ اس کے بعد انگریز منظرِ عام پر آئے۔
جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد تختِ لاہور سازشوں کا گڑھ بن گیا اور خالصہ فوج کو پے در پے دو جنگوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پنجاب ان کے قبضے سے نکل کر انگریز سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اس طرح، ہم پنجابی مسلمان انگریزوں کے بعدمنقسم پنجاب کے حکمران بنے۔ اس سے پہلے رنجیت سنگھ کی فتوحات کا فیصلہ تلوار نے کیا تھا، تاہم اس کی ناکامی کی وجہ وہی تھی جو تمام ہندوستانی حکمران خاندانوں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کے زوال کا باعث بنی… سیاسی نظام اور انتقالِ اقتدار کے اصول وضع کرنے میں ناکامی۔ نہ سلاطین دہلی ایسا کرپائے، نہ مغل اور نہ ہی رنجیت سنگھ۔
تاہم ، اس صورتِ حال کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت میں نہ صرف پنجاب بلکہ کشمیر بھی شامل تھا، تو اس سلطنت میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل تھی۔ 1707 میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد 1849 تک ، جبکہ پنجاب پر انگریز قبضہ کر چکے تھے، اس کے مختلف علاقوں، جیسا کہ قصوراور ملتان، کے گورنر یا کمانڈر مسلمان ہی تھے لیکن وہ مزاحمتی طاقت نہ تھے۔ وہ کابل یا لاہور کے وفادار تھے۔ جب مغلوں کی طاقت میں رخنے پڑنا شروع ہوئے تواُن کے پاس اتنی طاقت یا جرات نہ تھی کہ وہ آگے بڑھ کر موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب پر قبضہ کر سکیں۔ اس سے پہلے سکھ اپنے قوتِ بازو سے پنجاب پر حکمرانی کر چکے تھے لیکن پنجابی مسلمان ایسا نہ کرسکے۔ وہ سکھ جارحیت کا مقابلہ بھی نہ کر پائے تھے۔ کہیں کہیں، کوئی اکا دکا خاندان، جیسا کہ چٹھے، بھٹی یا جنجوعہ قبائل نے مزاحمت کی تھی لیکن وہ بکھرے ہوئے خاندان سکھوں کے مقابلے کے نہیں تھے۔ اس پسِ منظر میں صرف ایک مسلمان کا نام ذہن میں آتا ہے جس نے اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے لاہور پر مختصر مدت کے لیے حکومت قائم کی، اس کا نام ادینہ بیگ خان(Adina Beg Khan) تھا۔ اس کی وفات کے بعد لاہور کے قلعے پر رنجیت سنگھ کی قسمت کا ستارہ چمکا۔
ان واقعات کے اظہار کا مقصد محض تاریخی حقائق کا اعادہ نہیں ہے ۔ دراصل یہ حقائق ان مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں جن کا ہمیں آج سامنا ہے۔ تقسیم کے بعد بھارتی پنجاب تو بھارت کی ریاست کے وسیع وعریض حجم میں سما گیا۔ آپ اُسے عقربی کہکشاں کا ایک سیارہ کہہ سکتے ہیں، لیکن سرحد کے اِس پار، پاکستانی پنجاب اپنے وسائل ، رقبے ، آبادی اور اہم ریاستی اداروں، جیسا کہ فوج، پر اپنے اثر کی وجہ سے اس ریاست کی روحِ رواں بن گیا۔ آج ہم پاکستان میں قیادت کے بحران کا رونا روتے ہیں کہ اگر ہمارا حکمران طبقہ بہتر ہوتاتو ہمارے حالات بھی اچھے ہوتے ، لیکن یہ سوچ بھی دل میں جاگزیں ہے کہ جب مسلم پنجاب میں مغلوں کے زوال کے بعد کوئی حکمران سامنے نہ آسکا تو پھر اُسی فضا، اُسی دھرتی، اُنہیں پانچ دریاؤں (جو اب تین رہ گئے تھے)کی تاثیرسے کس قابل حکمران طبقے کی نمو ممکن تھی؟کیا یہاں سے کسی اچھے منتظم یا جنگجو سامنے آسکتے تھے جو قوم اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں؟ ہم سکھوں کی بجائے انگریزوں کے جانشین ہیں۔ آج کے لاہور میں مال روڈ، اس کی قدیم عمارتیں، اس کے سرکاری دفاتر، اس کے تعلیمی ادارے، اس کے ہسپتال، اس کا سیکریٹریٹ،اس کی پولیس کے چیف کا دفتر، اس کی ھائی کورٹ سکھ دور کی بجائے انگریز دور کی یاد دلاتی ہیں۔ آج بھی ہمارے زیادہ تر انتظامی امور ، جیسا کہ تھانہ ، کچہری، پٹواراور علاقائی تقسیم، جیسا کہ تحصیلوں اور ضلعوں کا قیام اسی ماضی قریب کی جھلک لیے ہوئے ہیں۔
اس نظام (یا انتظام) کو دیکھیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ انگریز محض فاتحین ہی نہ تھے بلکہ وہ ایک اعلیٰ تہذیب کے علم بردار تھے۔ اسی تہذیب کو اپناتے ہوئے جاپان اور چین نے علم اور صنعت کی دنیا میں قدم رکھا اور عظیم اقوام بن گئے… کہ اس دنیا میں علم کے بغیر ترقی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ جہاں تک پنجابی مسلمان کا تعلق ہے تو اُسے دوردراز کے خطوں میں جاکر انگریزوں کے لیے جنگ کرنے میں کوئی حرج نہ تھا ۔ پنجاب کے مختلف علاقوں ، جیسا کہ چکوال، جہلم، راولپنڈی ، اٹک وغیر ہ کے جوانوں نے برطانوی فوج کا حصہ بن کر دنیا کے مختلف محاذوں پر شجاعت کی داستانیں رقم کیں اور اعلیٰ ترین انعامات سے نوازے گئے۔ وہ انگریز افسران کے لیے بہترین ماتحت ثابت ہوئے، لیکن جہاں تک اس اعلیٰ تہذیب کی علمی اور فکری صلاحیتیں اپنانے کا تعلق ہے تو وہاں پنجابی مسلمان کو ذہنی اور فکری مسائل نے گھیر لیا۔ برطانوی سلطنت میں پنجابی جوان بازوِ شمشیر زن کا کام دیتے تھے لیکن اس کے ذہن کومسلم عقیدے نے ماضی کے جھرکوں کا اسیر بنا دیا، چناچہ وہ حقائق کی دنیا میں آگے دیکھنے کی بجائے ماضی کے التباساتی نقوش سے دنیا تعمیر کرنے میں مصروف ہو گیا۔ عہدِ رفتہ کے دل خوش کن خوابوں نے اُس سے قوتِ عمل چھین لی اور اس کو اوہام سے سکون ملنے لگا۔
جہاں تک پٹھان قوم کا تعلق ہے تو وہ انڈیا سے خائف نہ تھے کیونکہ وہ انڈیا پر حکمرانی کر چکے تھے۔ سندھی کو بھی بھارت سے کوئی مسلۂ نہ تھا کیونکہ صدیوں تک ہندو اور مسلمان سندھ کی دھرتی پر اکھٹے رہتے چلے آرہے تھے۔ بلوچ قوم کا تخیل دیگر عوامل کا جائزہ لے رہا تھا… اس کے مغرب میں ایران تھا تو شمال میں افغانستان۔ کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ تقسیمِ ہند نہیں کر سکی تھی، چناچہ انڈیا کا خوف صرف اور صرف پنجابی حکمرانوں اور مشرقی پنجاب، دہلی، بھوپال، لکھنو، حیدر آباد اور بہارسے ہجرت کرکے آنے والے افراد کے دل میں جاگزیں تھا۔
یہاں ایک اور بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے پہلے مسلمان فاتحین نے ہندوستان بزورِ شمشیر فتح کیا تھا۔ مغلوں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بھی تلوار کی قوت سے سلطنت قائم کی۔ اس کے بعد انگریزوں نے بھی فوجی طاقت سے ہی حکومت قائم کی ۔ تاہم اب پنجابی مسلمان کے پاس حکومت تلوار کی طاقت کی مدد سے نہیں بلکہ محض اچانک رونما ہونے والے حالات کی مرہونِ منت تھی۔ چناچہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ پنجابی مسلمان اور مہاجرین کے دل میں اس تاریخ کا جائزہ جاگزیں تھا۔ چونکہ وہ عدم تحفظ کی وجہ سے مستقبل کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے اس لیے اُنھوں نے آگے دیکھنے کی بجائے ماضی کے من پسند جزیروں میں پناہ لے لی۔ اس مقصد کے لیے اُنھوں نے ایک نظریے کو ٹکسال کیا اور اپنے گرد و پیش کو اس کے جال میں جکڑلیا۔
بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے درمیان اس فرق کے آج بھی بہت سے خدوخال نمایاں ہیں۔ بھارتی پنجاب کی موسیقی اوررقص، خاص طور پر بھنگڑا، طاقت اور توانا جذبوں کا اظہار ہے لیکن لاہور میں بسنت کا تہوار بھی ’’قومی سلامتی ‘‘ کے لیے خطرناک بن چکا ہے۔ یہاں اونچی سانس لینے سے نظریے کے محافظوں کی تصوارتی شیشہ گری کا نازک کام برہم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بات بات پرقومی سلامتی خطرے سے دوچار دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ شہر ، جس میں جہانگیر جام تھامے نورجہاں کی نشیلی آنکھوں میں ڈوب جاتا تھا، میں حلق تر کرنے کی سبیل بڑی مشکل سے ہوپاتی ہے۔ اصل مسلۂ دخترِ انگور کی بازیابی کا نہیں بلکہ ’’پنجابی پسر ‘‘ کی ذہنیت کا ہے۔ کئی صدیوں سے لاہور میں داتا دربار پرآدمی اور عورتیں ایک ہی دروازے سے داخل ہوتے تھے اور اسے ان کی روحانیت میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تھا لیکن اس کی کمیٹی، جس کے ایک رکن مسٹر اسحاق ڈار بھی ہیں، نے فیصلہ کیا کہ مخلوط داخلہ پرپیزگاری میں خلل ڈالتا ہے… پھر خیال آتا ہے کہ ہماری معیشت کو درست کرنے کی

ذمہ داری بھی اُنہی پر عائد ہوتی ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

Source : http://www.dunyapakistan.com/4532/

blank