اردو-پنجابی: مسئلہ کیا ھوا

blank

اردو ہندی تنازعہ ایک سیاسی سٹہ تھا جو ہر طرح سے کامیاب رہا ورنہ دونوں زبانوں میں زیادہ فرق معلوم نہیں ہوتا. دونوں کی بنتر ایک ہے گرائمر ایک ہے. علاقہ ایک ہے. اب لوگ جو سنسکرت، عربی اور فارسی کی اصطلاحات کے فرق کی بنیاد پر دونوں زبانوں کو الگ سمجھتے ہیں یہ پچھلے ستر سال کی دانستہ isolation کا نتیجہ ہے. یقیناً دانستہ طور پر اردو میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عربی و فارسی کی اصلاحات ڈالی گئی ہیں. ہندو بنیا نے بھی یہی کیا ہو گا کہ سنسکرت کے الفاظ کی بھرمار کر کے ہندی کی بنیاد مضبوط کی اور یوں ہمیں آج ہندی اردو دو الگ زبانیں نظر آتی ہیں. کچھ ہمارا تعصب بھی ہے کہ ہم نے الفاظ کو اصلاحات کو بھی وطنیت و مذہب عطا کر دیے.

ہم پنجاب، اردو ہندی تنازعہ کے چکمے میں اس لیے بھی جلدی آگئے کہ شاید ہم روز اول سے ہی غزنویوں، ہمایوں، خان زادوں، اور انگریزوں کی گوری چمڑیوں، ان کے حسب و نسب کی آب و تاب، ان کے صحت مند دندناتے گھوڑوں کی چاپ سے مرعوب تھے. یہ لوگ فارسی، عربی اور انگریزی جیسی اعلی زبانیں بولنے والے تھے.ایسے میں پنجابی زبان ہمارے لیے باعث شرمندگی تھی. فارسی، عربی اور انگریزی جیسی مہذب زبانوں کے سامنے یہ نا صرف کم مائیگی کا سامان تھی بلکہ اپنے جنگلی، کھلے ڈھلے انداز کی وجہ سے باعث ہتک بھی تھی. کسی زمانے کے دانا کا قول ہے کہ “عربی چھوڑنے کا مطلب ہے مذہب چھوڑ دیا اور فارسی ترک کرنے کا مطلب ہے تہذیب سے منہ موڑ لینا”. کاش کوئی اس دانا کو بتا پاتا کہ پنجابی چھوڑنے کا کیا مطلب ہے؟

آج ہماری نسل کے دامن میں پرائی باسی ریوڑیاں ہیں. جبکہ دل کرتا ہے کہ ان کی جگہ چاہے اپنی اس دھرتی کی مٹی سے بنی سوندھی سوندھی ٹھیکریاں ہی ہوتیں لیکن اپنی تہذیب کے نام پر کوئی شے ہوتی. شاید ہمارے پنجابی اسلاف کو اقتدار کی حصہ داری کا شوق تھا یا تلقید ان کے خمیر میں شامل ہو گئی تھی کہ انہوں نے پنجابی ترک کرکے اردو اپناتے ہوئے ذرہ بھی پریشانی محسوس نا کی. سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ عربی و فارسی اصلاحات سے بھرپور اردو وطن و مذہب سے محبت کی علامت ہے اور ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب پنجابی بولنا کفر قرار دیا گیا( اگر میں غلط بیانی کر رہی ہوں تو احباب میری اصلاح کریں)..

اردو کی معرفت اور پنجابی کی ذلت کا ذکر چھڑا ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہے یونیورسٹی میں سیکیورٹی گارڈ سے میرا جھگڑا ہو گیا. اس نے رپورٹ آگے بھیج دی اور مجھے سیکیورٹی پینل کے سامنے پیش ہونا پڑا. پینل میں یونیورسٹی کے پروفیسرز بھی شامل تھے. میری گوشمالی ہو رہی تھی. میں نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی. اور باتوں میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر میں اس دن کچھ احتیاط برت لیتی تو یوں خجل نا ہونا پڑتا. میرے منہ سے لفظ خجل سن کر ایک پروفیسر صاحب بولے… “اس قسم کے پنجابی کے الفاظ استعمال کر کے خود کو بے عزت مت کریں”.. . میں نے ایک لمحے کے لیے انکی بات پر غور کیا اور بولی. “سر جی! پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ لفظ اردو زبان کا ہی ہے. دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ پنجابی زبان کا لفظ بھی ہوتا تو مجھے اسے استعمال کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی کیونکہ آئی ایم اے پنجابی اینڈ آئی ایم پراؤڈ آف مائی لینگویج . سر بس مجھے گھورتے رہے..

میری دوست قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہی ہے جہاں پشتونوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے. وہ بتاتی ہے. ہمارے پشتون کلاس فیلوز لڑکے لڑکیاں جب ہمارے ساتھ کمیونیکیشن کرتے ہیں تو اردو بولتے ہیں لیکن جب انکے گھر سے کال آتی ہے یا جب وہ آپس میں بات کریں وہ ہمیشہ پشتو میں بات کرتے ہیں انہیں اس بات کی رتی برابر پروا نہیں ہوتی کہ کوئی انکو سن یا دیکھ رہا ہے لیکن جب پنجابی اپنے گھر فون کرتے ہیں وہ تب بھی اردو ہی بولتے ہیں کیونکہ انہیں پنجابی زبان بولتے ہوئے خفت محسوس ہوتی ہے. سوال یہ ہے کہ ہمارے اندر پنجابی سے نفرت یا اکتاہٹ کے یہ جذبات کس نے اور کب انڈیلے ہیں.؟

شعور کا میں نے ایک عجیب المیہ دیکھا ہے یہ جب جب وسیع ہوتا ہے یہ تب تب اپنی بنیادوں اور اپنی پہچان کے بارے میں فکر مند ہونے لگتا ہے. جب جب یہ کائنات کے سراغ لگاتا ہے تب تب اسے اپنے ہونے کے جوازات کی زیادہ ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے. بچپن میں ہمیں ناچ گانے، فن و آرٹ سے یہ کہہ کر نفرت سیکھائی گئی. کہ بیٹا یہ مہذب لوگوں کے کام نہیں. یہ بھانڈ مراثیوں اور نچلے طبقات کے کام ہیں. حتی کہ اردو اور کسی حد تک پنجابی بولنے والوں کے علاوہ باقی سب زبان والوں کو ہم حقارت سے ہی دیکھتے تھے. لیکن شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے جیسے جیسے دنیا دیکھی. لٹریچر پڑھا. تاریخ کی کتابوں کی ورق گردانی کی ویسے ویسے اپنے تہی داماں ہونے کا احساس بڑھنے لگا. معلوم پڑا کہ جو روایات، ثقافت، تہذیب اور فنکاری ہماری شان تھی وہ کس طرح ہم سے چھینی گئی. کہیں ڈھول بجتا ہے تو جسم کے ایٹم تھرکنے لگتے ہیں. انگلش شاعری سے زیادہ شاہ حسین کی کافیاں دل کو چھوتی ہیں. ایسا کیوں ہے جبکہ تاحیات کسی پنجابی کتاب کو ہاتھ نا لگایا اور تاحیات ڈھول ڈھمکے سے نفرت کرنے کی کوشش کی. پھر یہ محبت کہاں سے در آئی. یہ فینامنا کیا ہے؟

جب ہم پنجابی زبان، پنجابی ثقافت کو ملیا میٹ کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہے تھے تب ہند میں ایک پاگل قوم ایسی بھی تھی جس نے پنجابی ثقافت کو سینے سے لگایا. حتی کہ پنجابی کو اپنی مذہبی زبان قرار دے کر اسے یتیمی سے بچا لیا. جی ہاں میرا اشارہ سکھوں کی جانب ہے. سکھ پنجابی زبان کو نا صرف بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ اسے پروموٹ کرنے کی پوزیشن میں بھی آگئے ہیں. کینیڈا میں پنجابی سرکاری زبان بن چکی ہے. آج انکی پنجابی فلم انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہے. ایسی شاندار پنجابی فلمیں بنی ہیں جنہوں نے تاریخی کامیابی سمیٹی ہے. پنجابی گانے اور فلمیں سرحد کے اِس پار بھی یکساں مقبول ہو رہے ہیں. اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں نے یونیورسٹی کے نوجوانوں کو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر انگریج فلم شوق سے دیکھتے دیکھا. شاید وہ بھی میری طرح اپنی ثقافت کی لاشعوری اور خفیہ محبت میں گرفتار ہیں.

Source : https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=1094100134009808&id=861698170583340

blank