تقسیم ہندوستان ‘تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے بعد جائیداد کلیمز اکثر بوگس تھے

لاہور(شہباز اکمل جندران) تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں جنم لینے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ، پاکستان میں سب سے بڑی جعلسازی اور فراڈ کا باعث بن گئی ہے، 10لاکھ سے زائد افراد کی طرف سے بھر ے جانے والے جائیداد کے کلیمز میں سے اکثر بوگس تھے،حکومتی کی طرف سے 1958میں نیک نیتی سے شروع کی جانے والی سکیم کے تحت بوگس اور جعلی الاٹمنٹوں کے علاوہ لاکھوں مہاجر، بھارت میں زمین یا جائیداد کے مالک نہ ہونے کے باوجود پاکستان میں مربعوں کے مالک بن بیٹھے،یہی وجہ ہے کہ 65برس گزرنے کے بعد آج بھی چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب اور ان کے ماتحت چار عدالتوں میں ڈبل الاٹمنٹ ، بوگس الاٹمنٹ اور جعلی الاٹمنٹ کے کم و بیش 4ہزار سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں، ذرائع کے مطابق تقسیمہندوستان کے بعدایک کروڑ45 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں ، ہندووں اور سکھوں نے گھر بار چھوڑکر پاکستان اوربھارت کی طرف ہجرت کی ، ایک اندازے کے مطابق 82لاکھ 26ہزار مسلمانوں نے بھار ت سے پاکستان کی طرف جبکہ 72لاکھ 49ہزار ہندوواورسکھ پاکستان سے بھارت روانہ ہوئے، پاکستان میں آنے والوں میں لگ بھگ 55لاکھ نے پنجاب میں جبکہ 15لاکھ نے سندھ میں سکونت اختیار کی ، پنجاب میں سکونت اختیار کرنے والے مہاجرین کی اکثریت کا تعلق بھارت کے شہروں ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر ، اور راجستھان سے تھا ،جبکہ سندھ میں رھائش پذیر ہونے والے مہاجروں میں زیادہ کا تعلق بھارت کے شہروں اترپردیش، بہار، مدھیاپردیش، گجرات اور راجستھان سے تھا،ذرائع کے مطابق یہ تاریخ کی چند بڑیہجرتوں میں سے ایک ہجرت تھی ، لیکن یہ بڑی ہجرت پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی جعلسازی ، دھوکہ دہی اور مقدمہ بازی کا باعث بھی بنی ،ذرائع کے مطابق تقسیم کے فوری بعدبھارت سے ہجر ت کرکے آنے والے مہاجرین کو ہندووں کی متروکہ املاک میں رکھا گیا،اس ضمن میں لاہور کے علاقے ہربنس پورہ ، امرسدھو، چرڑ اور گوھاوا و دیگر علاقے شہر ت رکھتے ہیں، اسی دوران ان مہاجرین کے مطالبے پرانہیں زیر قبضہ جائیداد و اراضی کے مالکانہ حقوق دینے کے لیے1958میںTHE DISPLACED PERSONS(LAND SETTLEMENT)ACT 1958نامی قانون بنایا،اور مہاجرین کو ان کی بھارت میں چھوڑ کرآنے والی جائیدادوں کے عوض زرعی ،دیہی اور شہری جائیدادوں کے مالکانہ حقوق دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا،اور ان لوگوں کو مہاجر تسلیم کیا گیا جنہوں نے یکم مارچ 1947یا اس کے بعد بھارت سے پاکستان کی طرف ہجرت کی ،حکومت کے اس اچھے قدم کے نتیجے میں لاکھوں مہاجرین نے کلیم فارم بھرنا شروع کردیے اور بہت سے حقداروں کے ساتھ ساتھ فراڈیوں اور جعلسازوں نے بھی بہتی گنگامیں ہاتھ دھونا شروع کردیے،پنجاب بورڈ بورڈ آف ریونیو سنٹرل ریکارڈ روم کے انچار ج کے مطابق قیام پاکستان سے اب تک کم و بیش 10لاکھ سے زائد افراد نے جائیداد کے کلیم داخل کیے،ذرائع کے مطابق متحدہ ہندوستان کے پنجاب میں مجموعی طورپر 29میں سے 16اضلاع پاکستانی پنجاب کا جبکہ 13اضلاع بھارتی پنجاب کا حصہ بنے اور پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ بھی سکھوں کا تھا، تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کی حکومتوں نے مہاجرین کو متروکہ املاک کے مالکانہ حقوق دینے اور مہاجرین کی اصل جائیداد کے حوالے سے ٹھیک ٹھیک معلومات حاصل کرنے کے لیئے رجسٹر حقداران زمین اور جمع بندیوں کی کاپیاں ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل کیں، زرعی اراضی یا دیہی جائیداد کی الاٹمنٹ کے لیئے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنریا اسسٹنٹ سیٹلمنٹ کمشنر کو جبکہ اربن یا شہر ی اراضی یا مکان و دوکان جیسی الاٹمنٹ کا اختیار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ز کو دیا گیاذرائع کے مطابق جعلسازوںنے ریونیوسٹاف اور حکومتی اہلکاروں کی ملی بھگت سے حکومت کی اس سکیم کا ناجائز فائدہ اٹھایااور20کنال اراضی کے کلیم کو ایک صفر کے ساتھ 200کنال یا دو صفروں کا اضافہ کرکے 2ہزار کنال کا کلیم بنا دیا گیا،بہت سے لوگوں نے جعلی کلیم بنوائے ،بہت غیر مہاجروں نے بھی خود کو مہاجر کہہ کر اراضی ہتھیالی، جبکہ بہت سے لوگوں ڈبل کلیم بھی حاصل کیے، لیکن سب سے بڑا فراڈNON AGREED AREAکی مد میںدیکھنے میں آیا، یہ وہ علاقےتھے جن کا ریکارڈ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے حوالے نہیں کیا تھا، اورایسے علاقوں کے مہاجرین کو جائیداد کے مالکانہ حقوق دینے کے لیے ثبوتکے طورپر حکومت کے پاس ریکارڈ موجود نہیں تھا، نتیجے کے طورپر نان اگریڈ ایریاکے مہاجر جو چاہتے ،حکومت اسے سچ سمجھنے پر مجبور تھی،ذرائع کے مطابق گجرات ، مدھیا پردیش، بہار،ہماچل پردیش، اور یوپی جیسے علاقوں کے کم و بیش ایک لاکھ مہاجروں نے جائیداد کے حصول کی خاطر کلیم بھر ے جن میں سے 70فیصد کلیم بوگس تھے،1958میں شروع ہونے والے کلیمز کا یہ سلسلہ ملک میں 1973تک جاری رہا اور 1973میںTHE DISPLACED PERSONS(LAND SETTLEMENT)(AMENDMENT)ACT 1973 کےسیکشن 4کے تحت ملک میں نئے کلیم بھرنے اور نئے سرے سے کلیم منطور کرنے اورالاٹمنٹ کو ختم کردیا گیا،اور صرف ایسے کلیمز یا الاٹمنٹ کے کیسوں کو نمٹانے پر توجہ دی گئی جو عدالتوں میں زیر التواتھے اورقرار دیا گیا کہ آئیندہ کلیمز کی بجائے الاٹی کو معاوضہ دیا جائیگا، لیکن اس کے باوجود جعلی و بوگس الاٹمنٹو ں اور زائد یا ڈبل الاٹمنٹوں کے 4ہزار سے زیادہ اب بھی چیف سیٹلمنٹ افیسر پنجاب اوران کے ماتحت چار نوٹیفائیڈ افسروں (جوڈیشل ممبران بورڈ آف ریونیو ) کی عدالتوں میں زیرا لتوا ہیں، ان میں سب سے زیادہ کیس ایک ہزار سے زیادہ کیس چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب ڈاکٹر ںنذیر سعید کی عدالت میں ،پانچ سو سے زائد کیس، سرگودھا ، ڈی جی خان اورساہیوال کے نوٹیفائیڈ افسر منور احمد مجحوکہ کی عدالت میں ، پانچ سوسے زائد مقدمات ملتان و بہاولپور کے نوٹیفائیڈ افسر وحید اختر کی عدالت میں ،ایک ہزا ر کے لگ بھگ مقدمات گوجرانوالہ اور روالپنڈی کی عدالت کے نوٹیفائیڈ افسر عمران ناصر کی عدالت میںاور ایک ہزا ر سے زائد مقدمات ہی لاہور اور فیصل آباد کی عدالت کے نوٹیفائیڈ افسر طارق نجیب نجمی کی عدالت میں زیر التوا ہیں اور کلیمز و الاٹمنٹ کا سلسلہ جو سرکاری سطح پر 1958میں شروع ہوا تھا،آج بھی ختم نہیں ہوسکا،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب ڈاکٹر نذیر سعید کا کہناتھا کہ ان کی عدالت میں ایک ہزار کے لگ بھگ مقدمات زیر التوا ہیں ان میں زیادہ تر ایسے مقدمات ہیں جو شکایات اور اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے ریمانڈ کیے گئے ہیں، اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے لاہور کے سابق ڈائریکٹر اسٹیٹ چودھری خوشی محمد ناظر کا کہناتھا کہ یہ بات درست ہے کہ ہجرت کے بعد کلیمز کی آڑ میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی جعلسازی اور فراڈ نے جنم لیاتھا، بہت سے فراڈیوں نے بھارت میں جائیداد کا مالک نہ ہونے کے باوجود پاکستان میں کئی مربع اراضی حاصل کرلی، چودھری خوشی محمد نے بتایا کہ بھارت کے شہر دہلی میں پالم ایئر پورٹ جسے اب اندراگاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا نام دیدیا گیاہے ، اس کی تعمیر کے لئے اراضی دینے والے مسلمانوں کی اکثریت نے بھارت میں ایوارڈ کی رقم وصول کرنے کے باوجود پاکستان میں کلیم بھر کر اراضی حاصل کرلی تھی اور ایسے بہت سے کیس وقت کے ساتھ سامنے آتے رہے لیکن برسوں گزرنے کے باعث ایسے جعلسازوں کے خلاف کچھ کاروائی نہ ہوسکی۔

Source : https://dailypakistan.com.pk/11-Aug-2012/15145