1947ء کے فسادات پنجاب۔۔۔ کچھ مزید حقائق

 

مشرقی پنجاب میں ہونے والے ظلم وستم کی تفاصیل بہت سی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ اس میں سے ایک موثر کتاب خواجہ افتخار مرحوم کی معروف تصنیف ’جب امرتسر جل رہا تھا‘ کے عنوان سے ہے۔ معروف کارٹونسٹ اور پنجابی کہانی کار انور علی نے اپنی خودنوشت میں لدھیانہ پر گزرنے والی قیامت کو انسان دوست نقطہ نظر سے قلم بند کیا ہے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے ”مشترکہ ورثہ“ کے نام سے ایک نہایت عمدہ کتاب شائع کی ہے لیکن اس کے لکھنے والے مثلاً شائستہ اکرام اللہ، خوشونت سنگھ، شہلا شبلی ، مختار زمن، ارونا آصف علی، محمد علی صدیقی ، برج کمار نہرو اور پنڈو چنتا منی ایسے اعلیٰ ظرف اور روادار افراد ہیں کہ ان سے دو ٹوک اور تلخ تاریخی حقائق کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح برصغیر کے ممتاز محقق اور مورخ احمد سلیم نے دو جلدوں میں تقسیم ہند اور بعد ازاں تقسیم پاکستان (بنگلا دیش کی آزادی) کے انسانی پہلوﺅں کا احاطہ کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ پہلی کتاب کا نام ہے The Land of Two Partitions and Beyond جب کہ دوسری کا عنوان Reconstructing History ہے۔ تاہم احمد سلیم کی مرتب کردہ دونوں کتب میں شامل مصنفین کا بنیادی زور سیاسی تجزیے اور تاریخی واقعیت کی بجائے مختلف فرقوں میں ہم آہنگی اور رواداری کی روایت نیز آئندہ امن اور بھائی چارے کے امکانات پر ہے۔ یہ پہلو بجائے خود نہایت ارفع ہونے کے علی الرّغم تاریخی معروضیت اور سیاسی تجزیے میں زیادہ مدد گار نہیں۔

Amritsar, India, March 18, 1947

مغربی پنجاب ، سندھ اور پختون خوا میں فسادات کے بیان میں عام طور پر سرحد کے دونوں طرف معروضی انداز اختیار  نہیں کیا گیا۔ مغربی پنجاب اور سرحد میں فسادات کے بارے میں ایک اہم تصنیف لائل پور خالصہ کالج کے سابق پرنسپل سردار گوربچن سنگھ طالب نے 1950ءمیں Attacks on Hindus and Sikhs in the Punjab کے عنوان سے شائع کی تھی۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے زیر اہتمام شائع ہونے نیز مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کو شامل کرنے کی بجائے صرف ہندو اور سکھ متاثرین کو موضوع بنانے کے باعث کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب معروضیت کے اعلیٰ معیار پر پوری نہیں اترتی تاہم اس کتاب میں شامل سرکاری اعداد و شمار اور ہم عصر اخباری اقتباسات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ مزید براں اس کتاب کا اہم ترین حصہ وہ ضمیمہ ہے جس میں پولیس ریکارڈ کی مدد سے تشدد کے واقعات کی تاریخ وار فہرست دی گئی ہے۔ دسمبر 1946ءسے لے کر اواخر اگست 1947ءتک تقریباًسو صفحات پر مشتمل یہ ضمیمہ ایک قیمتی تاریخی ریکارڈ ہے جس میں واقعات کی تفصیل کے علاوہ حملہ آوروں اور متاثرین کی مذہبی شناخت بھی بیان کی گئی ہے۔ اگر اسی التزام کے ساتھ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی تفصیل بھی احاطہ تحریر میں لائی جا سکے تو گمان غالب ہے کہ یہ ثابت کرنا مشکل نہیں رہے گا کہ مذہب کے نام پر اس بربریت کے لیے کسی عقیدے کی قید نہیں تھی۔

 

 
Lady Mountbatten touring the riot affected localities in Amritsar during her visit to the place in May 1947. At right is Sir Even Jenkins, Governor Punjab.

مسعود کھدر پوش کو پاکستان کے حلقے خاص طور پر بائیں بازو کا رجحان رکھنے والے اور پنجابی زبان کی سیاست کے علمبردار مسعود بھگوان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بھیل قبیلے کے لیے ان کی خدمات اور ہاری کمیٹی رپورٹ پر ان کا اختلافی نوٹ ان کی وجہ شہرت ہیں۔ اگست 1947ءمیں وہ نواب شاہ کے ڈپٹی کلکٹر تھے۔ انہیں خبر مل چکی تھی کہ ان کے کچھ افراد خانہ مشرقی پنجاب میں مارے جا چکے ہیں۔ مسعود بھگوان میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ فسادات کے اس پورے سلسلے میں سند ھ میں غیر مسلم مہاجروں کی صرف ایک ٹرین پر حملہ ہوا، جس میں کوئی مسافر زندہ نہ بچا۔ یہ حملہ نواب شاہ سکرنڈ ذیلی ریلوے لائن پر کیا گیا تھا اور سرکاری اطلاعات کے مطابق اس حملے کو مقامی ڈپٹی کلکٹر مسعود کھدر پوش کی پشت پناہی حاصل تھی۔ سندھ کی معروف مورخ حمیدہ کھوڑو نے اپنے والد اور پاکستان میں سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کی سوانح حیات (Mohammed Ayub Khuhro: a life of courage in politics) میں اس واقعے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ سندھ کے معروف سماجی کارکن روچی رام ابھی حیات ہیں اور اس واقعے کے راوی ہیں۔ ممتاز مورخ احمد سلیم تو اپنے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں 6 جنوری 1948ءکو کراچی میں ہونے والے فسادات کا محرک بھی مسعود کھدر پوش کو قرار دیتے ہیں۔

مشتاق احمد وجدی نے اپنی کتاب ”ہنگاموں میں زندگی “ میں لاہور ریلوے سٹیشن پر قتل و غارت کے دل دوز حقائق بیان کیے ہیں۔

 

 

”دفتر سے باہر آتا تو آسمان ہندوﺅں کے جلتے ہوئے مکانوں سے سُرخ نظر آتا۔ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کے قافلے راستے میں مرتے مردوں کو دفناتے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ پاکستان پہنچ کر نیم مردہ زمین پر گر پڑتے۔ ادھر ہندوﺅں کے قافلے بھاگ رہے تھے۔ دونوں کی راہیں بند تھیں۔ باﺅنڈری فورس بجائے حفاظت کرنے کے ان پر گولیاں چلاتی تھی۔ اسٹیشن پر فوج تعینات تھی۔ میں خزانے کی دیکھ بھال کے لیے ہر روز وہاں جاتا۔ صرف ایک دن میں آدھے گھنٹے کے اندر اکتالیس آدمیوں کو جان بچانے کی فکر میں بھاگتے ہوئے گولی کھاتے دیکھا۔ ان کی لاشیں کھینچ کر ایک طرف پھینک دی جاتیں۔ میرا دل تڑپتا کہ ان کو کیسے بچاﺅں۔ لیکن بے بس اور لاچار تھا۔ بعض فوجیوں کو سمجھانے کی کوشش کی جان بچانے کے لیے بھاگتے نہتوں پر گولی چلانا مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ میری کون سنتا۔ میں فوجی افسر نہیں تھا۔ سپاہی مجھ سے بات کرنے کو بھی تیار نہ تھے۔ بعض کو تڑپتے دیکھا۔ پاس گیا۔ ایک سکھ دھیرے دھیرے پانی مانگ رہا تھا۔ میں بھاگا بھاگا دفتر گیا اور ایک گلاس میں پانی لایا۔ قبل اس کے کہ اس کے حلق سے پانی اترے، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ قائد اعظم کا اعلان تھا کہ غیر مسلم پاکستان میں حفاظت سے رہیں گے۔ حساب کے محکمے میں ان کی سخت ضرورت تھی کچھ لوگ میرے وعدوں اور میری یقین دہانی پر اعتبار کر کے رُکے رہے۔ سب عورتوں اور بچوں سمیت قتل ہوئے۔ صرف دو کی جانیں بچانے میں کامیاب ہوا“۔

اس بیان کے اختتامی پیراگراف میں مشتاق احمد وجدی لکھتے ہیں ،

Their Excellencies Lord and Lady Mountbatten visiting. The riot affected areas in Lahore during their tour to the place in July, 1947.

”ہم نے ہندوﺅں کو یقین دلایا تھا کہ وہ بحیثیت ذمی ہمارے پاس حفاظت سے رہیں گے۔ لیکن جن لوگوں نے اس وعدہ پر اعتبار کیا اور یہاں رہنا چاہا ان کو مع عورتوں اور بچوں کے قتل کر دیا۔ دلی میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو جواہر لال نہرو پاگلوں کی طرح سڑکوں پر بھاگے بھاگے پھرتے تھے۔ پاکستان میں ذمیوں کے قتلِ عام کے دوران میں نے کسی مسلم لیگی رہنما کو ان کی حفاظت کی کوشش میں اُنگلی ہلاتے نہ دیکھا۔ “

 

 

فسادات پر جواہر لال نہرو کی تشویش میں کوئی کلام نہیں لیکن یہاں پر مشتاق احمد وجدی سے سہو ہوا ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت میں کم از کم ایک رہنما کے بارے میں بلاخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ انہیں فسادات اور ان میں مذہبی تفریق کے دونوں طرف نظر آنے والی بربریت سے سخت صدمہ ہوا اور انہوں نے فسادات کو روکنے نیز مسلمانوں اور ان کے ہم وطن ہندو اور سکھ شہریوں میں بنیادی تمدنی رواداری برقرار رکھنے کی پوری کو شش کی۔ اس رہنما کا نام قائد اعظم محمد علی جناح تھا۔

مارچ 1947ءمیں شمالی پنجاب کے فسادات کے بعد وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی تحریک پر 14 اپریل 1947ء کو مہاتما گاندھی اور قائد اعظم نے اپنے مشترکہ دستخطوں سے امن کی اپیل جاری کی تھی جسے آل انڈیا ریڈیو سے بار بار نشر کیا گیا۔ اس اپیل پر گاندھی جی نے انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی دستخط کیے تھے۔ اس اپیل کی کا پیاں بڑی تعداد میں متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئیں۔ اگرچہ یہ اپیل اس قدر تاخیر سے جاری کی گئی تھی کہ اس وقت تک متاثرہ علاقوں میں غیر مسلم آبادی کا قریب قریب مکمل صفایا ہو چکا تھا۔

آئیے ایک نظر متاثرہ علاقوں میں 1941کی مردم شماری کے مطابق مسلم اور غیر مسلم (ہندو اور سکھ) آبادی کی شرح پر ڈالتے ہیں۔

راولپنڈی : مسلم 80فیصد اور غیر مسلم 18.67 فیصد

 

کیمبل پور : مسلم 90.42فیصد اور غیر مسلم 9.36 فیصد

میانوالی : مسلم 86.16 فیصد اور غیر مسلم 13.76 فیصد

جہلم : مسلم 89.42 فیصد اور غیر مسلم 10.41 فیصد

سرگودھا:مسلم 83.68 فیصد اور غیر مسلم 14.88 فیصد

کوہاٹ : مسلم 91.99 فیصد اور غیر مسلم 8.10 فیصد

گجرات: مسلم 85.58 فیصد اور غیر مسلم 14.2 فیصد

ملتان: مسلم 78.1 فیصد اور غیر مسلم 20.52 فیصد

گوجرانوالہ : مسلم 70.45 فیصد اور غیر مسلم 22.70 فیصد

سیالکوٹ: مسلم 62.09 فیصد اور غیر مسلم 31.12 فیصد

لاہور: مسلم 60.62 فیصد اور غیر مسلم 35.9 فیصد

پشاور: مسلم 90.34 فیصد اور غیر مسلم 9.65 فیصد

بنوں: مسلم 87.06 فیصد اور غیر مسلم 12.93 فیصد

مردان: مسلم 95.46 فیصد اور غیر مسلم 4.52 فیصد

ڈیرہ اسماعیل خاں : مسلم 85.78 فیصد اور غیر مسلم 14.21 فیصد

آبادی کی اس مذہبی تقسیم پر اچٹتی سی نظر ڈالنے ہی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان علاقوں میں کسی فرقہ وارانہ فساد کی صورت میں کس فرقے کا پلہ بھاری ہونے کا امکان تھا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ جولائی 1947ء کے اواخر میں امن و امان کی ممکنہ خرابی کے پیش نظر پنجاب باﺅنڈری فورس قائم کرتے ہوئے ان علاقوں کو زیر غور ہی نہیں لایا گیا کیونکہ یہاں کی غیر مسلم آبادی قریب قریب ختم ہو چکی تھی یا نقل مکانی کر گئی تھی۔

Source : http://www.humsub.com.pk/38903/nasir-salahuddin-9/