مادری زبانوں کا احترام، لسانی سیاست اور ملٹی کلچرل ازم

اپ ڈیٹ 21 فروری 2014
 

21 فروری مادری زبانوں کو یاد کرنے کا عالمی دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادر (Mother) یعنی دھرتی پر جس زبان کو لوگ آپسی تعلقات میں استعمال کرتے ہیں اس کے احترام کا مطلب عوام کو مقدم جاننا ہے۔

جو عوام کو جاہل، گنوار سمجھتے ہیں وہ عوام میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں کو بھی گھٹیا، بے کار اور غیر تہذیب یافتہ قرار دیتے ہیں۔

بالعموم جمہوریت اور بالغ رائے دہی کی طرف سفر اور خصوصی طور پر اقوام متحدہ بننے کے بعد زبانوں کے بارے میں ان خیالات نے بدلنا شروع کر دیا تھا۔

اگر آپ زبانوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ذرا گوگل میں مری ہوئی زبانیں یعنی dead languages لکھ کر تو دیکھیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ لاتعداد زبانیں آج راہی ملک عدم ہو چکی ہیں۔

مری ہوئی زبانوں کی سب سے بڑی تعداد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پائی جاتی ہے۔ 70 کے قریب مادری زبانوں کو ختم کر کے 16ویں صدی کے بعد امریکہ میں انگریزی، فرانسیسی، پرتگالی، ڈچ اور سپین کی زبانوں نے حکمرانی کی۔

پرانےمعاشروں میں تحریر کی بجائے “زبانی یاد رکھنے” کی روایت زیادہ تگڑی تھی۔ داستانیں، رزمیہ نظمیں (جن میں لڑائیوں اور جنگوں کے قصے ہوں)، قصے کہانیاں ہی نہیں بلکہ مقدس کتابیں تک لوگوں کو پوری کی پوری زبانی یاد ہوتی تھیں۔ گل گامش کی داستان، مہابھارت، قصہ ہیر رانجھا سب اسی دور کی بازگشت ہے۔

آج تو تحریر یعنی writing کو تقدم حاصل ہے مگر پرانے دور میں تحریر کا فن محدود ہاتھوں میں تھا۔ پھر دنیا کلامی عہد orality سے تحریری عہد Age of writing کی طرف بڑھی، بہت سے زبانیں اس اتھل پتھل کی متحمل نہ ہو سکیں اور لاتعداد زبانیں بدل بھی گئیں۔

زبانوں پر دوسری افتاد اس وقت پڑی جب 17 ویں صدی کے بعد بادشاہتیں ٹوٹنے اور وطنی ریاستیں Nation States بننے کا عمل شروع ہوا۔ اب زبانوں کو وطنی ریاستوں نے اپنی حاکمیت کے لیے بطور موثر ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ کیا۔

بادشاہتوں کے زمانہ میں دربار میں یا رابطے کے لیے کسی ایک زبان کا انتخاب ضرور ہوتا تھا مگر اسے “قومی زبان” نہیں کہا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں کئی صدیوں ‘فارسی’ راج دربار کی زبان رہی اور اس کو سیکھنے والوں میں ہندو، مسلمان، سکھ سبھی پیش پیش تھے۔

رابطے کے لیے بھی وسط ایشیا و فارس سے بنگال اور قلات سے کشمیر تک لوگ فارسی ہی کو بالعموم استعمال کرتے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ مادری زبانوں میں لکھا پڑھا بھی جاتا تھا۔

خود سندھی، پنجابی صوفی شعرا کے کلام کو دیکھ لیں تو بات سمجھ آ جاتی ہے۔ مگر وطنی ریاستوں میں “واحد قومی زبان” کا جو تقدس بڑھا تو پھر مادری زبانوں سے تکرار کا نیا باب کھل گیا۔ خود مجھے پاکستان میں اٹلی کے سفیر نے یورپ کی لسانیاتی تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں نے کیسے یورپ میں دیگر زبانوں کو 19 ویں صدی میں دبایا تھا۔ اطالوی زبان آج بھی پڑھیں تو اس پر عربی، فارسی کے اثرات واضح نظر آتے ہیں مگر انگریزی زبان کو ایسے مضر اثرات سے پاک کر دیا گیا۔

خود برٹش انڈیا کے دور میں انگریزوں نے زبانوں کی سیاست سے خوب استفادہ کیا۔ فارسی کو دیس نکالا دینا اور انگریزی کو اولین حیثیت دینا تو ان کی بنیادی پالیسی تھی مگر 1852 کے بعد بنگال و سندھ میں مادری زبانوں یعنی سندھی اور بنگالی کو تکریم دلائی تو مدراس اور پنجاب و کشمیر میں تامل، پنجابی اور کشمیری زبانوں کی بجائے ہندی اور اُردو کو نافذ کر دیا۔

یہ سب مذہب اور زبان سے کھیلنے کی سیاست تھی کہ جس کا ہم آج تک شکار ہیں۔ ہندو اکثریت والے علاقوں کے لیے ہندی اور مسلم اکثریت کے علاقوں کے لیے اُردو جبکہ پنجاب میں سکھوں کے لیے گورمکھی رسم الخط میں پنجابی زبان لگانا اس کی مثالیں ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب وطن پرستی کو مقام خاص حاصل ہوا کہ جس کے بطن سے یک قومی زبان یعنی Sole National Language کے فتور نے جنم لیا۔

زبانوں اور ان سے جڑی ثقافتوں کو گھٹیا، اعلیٰ تہذیب یافتہ، گنوار یا مہذب سمجھنے کا فتور درحقیقت اسی جنونی وطن پرستی سے عبارت ہے جس کے تحت خود یورپی اقوام نے 20 ویں صدی کے پہلے نصف میں دو خونیں جنگیں لڑیں جنھیں عرف عام میں پہلی جنگ عظیم (1914-1918) اور دوسری جنگ عظیم (1939-1945) کہا جاتا ہے۔

اسی مار دھاڑ کے بعد اقوام متحدہ کا ظہور ہوا اور بالغ راۓ دہی سمیت ثقافتوں و زبانوں کی تکریم و حفاظت کے نئے تصور نے جنم لیا۔ یہ وہ تصور تھا جسے عرف عام میں multi-culturalism یعنی ثقافتی رنگارنگی کہتے ہیں کہ اس کے تحت کسی بھی معاشرے میں موجود تمام زبانوں اور ثقافتوں کا احترام و تکریم لازم ہے۔ 1948 میں جب اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا عالمی چارٹر منظور کیا تو اس میں وطنی ریاستوں کو ایک نئے تال میل سے ہم آہنگ کرنے کا عزم سرفہرست تھا۔

کیونکہ وطنی ریاستوں کے تفاخر میں یورپی اقوام ایک دوسرے کو دونوں عظیم جنگوں میں برباد کر چکے تھے لہٰذا اب اس منفی تفاخر کے “جن” کو قابو کرنے کے لیے انسانیت اور ان کی زبانوں و ثقافتوں کے احترام کو اولیت دی گئی۔

“یک قومی زبان” کے فتور کو بھی بہت سے یورپی ممالک نے خیرآباد کہا اور نہ صرف ایک ہی ملک میں ایک سے زیادہ قومی زبانوں کو بطور قومی زبانیں اپنایا گیا بلکہ اپنے اپنے وطن میں بولی سمجھی جانے والی تمام زبانوں اور ان کی ثقافتوں کو بھی مقدم جانا۔

یہی نہیں بلکہ انہی یورپی ممالک میں تارکین وطن کے لیے بھی اسی پالیسی سے رہنمائی لی گئی اور آج یورپ و امریکہ میں پنجابی، ہندی، سندھی، اُردو، چینی سمیت لاتعداد زبانوں کے حوالہ سے تعلیم بھی دی جاتی ہے اور ان زبانوں کے فروغ کے لیے وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

یہ سب یکدم تو نہیں ہوا البتہ اس پالیسی میں بنیادی کردار انسانی حقوق کے عالمی چارٹر نے ادا کیا اور پھر پچھلی صدی کی آخری دہائی میں 17 نومبر 1999 کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فروغ ثقافت، تعلیم اور سائنس یعنی UNESCO نے 21 فروری کو مادری زبانوں کے بین القوامی دن کا انتخاب کیا۔ 51 سال لگے اس سنگ میل کو عبور کرنے میں۔

اس دن کے لیے 21 فروری کا انتخاب اس لیے بھی موزوں قرار پایا کیونکہ ایک بنگالی رفیق السلام نے اس کے لیے انتھک کوششیں کی تھیں۔ یہ وہی دن ہے جب 1952 کے سال خواجہ ناظم الدین سرکار نے متحدہ پاکستان کے صوبہ مشرقی بنگال میں بنگالی زبان کا حق ماننے والوں پر گولی چلوائی تھی۔ اس زمانے میں پاکستانی ریاست کے کرتا دھرتا “واحد قومی زبان” کو وطنی قوم پرستی کے لیے ضروری گرداننے کے لیے اسی زغم میں مبتلا تھے جسے یورپ والے بھی خیرآباد کہتے جارہے تھے۔

بنگلہ دیش میں اس دن کی مناسبت سے شہید مینار بھی بنایا گیا ہے مگر خود بنگلہ دیش کے بانی اور وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن نے بنگلہ دیش بنانے کے بعد “واحد قومی زبان” کے ہی راستہ کو اپنایا اور بنگلہ دیش میں موجود دیگر زبانوں بشمول چٹاکانگ کے پہاڑی علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کو بنگلہ دیشی قوم پرستی سے نکال باہر کیا۔

مادری زبانوں کے حوالہ سے چند اور حقیقتیں ہیں جن کے بارے ہمیں آج دوبارہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل سلطنت برطانیہ اک بڑی طاقت تھی اور اس کی عملداری میں لاتعداد ملک آتے تھے۔ 1941 کے بعد نئی سپر طاقت امریکہ بن گئی مگر انگریزی زبان کی حاکمیت ذرا سے فرق کے ساتھ برقرار رہی۔ یوں 20 ویں صدی میں طاقت کی زبان انگریزی ہی ٹہری۔

سونے پر سہاگہ جدید ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ جیسی ایجادات نے چڑھایا کہ اب طاقت کی زبان بین الاقوامیت اختیار کرنے لگی۔ جدید علوم کی زبان بھی یہی قرار پائی اور ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی اسی کو بوجوہ چن لیا گیا۔

یہ وہ حقیقتیں ہیں جنھوں نے زبان کے حوالہ سے نئی بحثوں کو جنم دیا۔ 1950 کے بعد کی دنیا کو دیکھیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہم جیسے ممالک یعنی پاکستان، ہندوستان، سری لنکا، بنگلہ دیش وغیرہ میں پالیسی ساز “واحد قومی زبان” کے منتر سے قوم پرستیوں یعنی “قومی تعمیر نو”National Reconstruction کو بڑھاوا دینے کی کوششوں میں غلطاں رہے۔ یہ سب مرکزیت پسندی کے فلسفہ کے اسیر تھے کہ انھیں ایک قوم، ایک زبان اور مضبوط مرکز کے فلسفہ سے”قومی تعمیر نو” کرنا تھی۔

ہندوستان میں بذریعہ ہندی، پاکستان میں بذریعہ اُردو اور بنگلہ دیش میں بذریعہ بنگالی مرکزیت پسندی کو بڑھاوا دینے کی جن پالیسیوں کو اپنایا گیا ان کے نتیجہ میں خود یہ زبانیں بھی متنازعہ ٹھہریں۔ 2009 میں بنگلہ دیش گیا تو وہاں سینئر دانشور کمال لوہانی نے بتایا کہ نیا ملک بنانے کے بعد ہم نے ایم اے تک بنگالی زبان لاگو کر دی تھی مگر 1980 کی دہائی میں اس فیصلہ کو بدلنا پڑا جب معلوم ہوا کہ بیرونی وفود سے بات چیت کرنے کے لیے انگریزی بولنے والے بنگالی افسر بھی بنگلہ دیش میں نایاب ہونے لگے ہیں۔

ذرا غور کریں، سری لنکا میں تامل، سنہالی اور انگریزی زبانوں میں لڑائی، ہندوستان میں مادری زبانوں، ہندی اور انگریزی میں تکرار، بنگلہ دیش میں انگریزی، بنگالی اور غیربنگالی (بشمول اُردو) میں جھگڑے اور پاکستان میں مادری زبانوں، اُردو اور انگریزی میں اکھاڑ پچھاڑ یہ سب واقعات زبانوں کے حوالے سے ہماری مبہم اور متضاد سوچ ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔

انگریزوں نے اگر مذہب اور زبانوں سے کھلواڑ کیا تھا تو کیا ہمارے حکمران طبقات بھی بس یہی کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ آج جدید ممالک میں زبانوں اور مذاہب سے وابستہ مسائل کو حل کر تے ہوے قومی تعمیرنو سے بھڑ جانے والی قوتوں کو پہلے سے رام کر لیا گیا ہے۔ مگر ہم “لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ” کی طرح ان مسائل کو وبال جان بنا چکے ہیں۔

مادری زبانوں، رابطے کی زبان اور انگریزی میں تکرار نے ہمیں تعصب اور تفاخر کی کھائیوں میں گرایا ہوا ہے۔ اب تو انگریزی محض اشرافیہ کی زبان بھی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے کیونکر نکلا جائے؟

جب دباؤ بڑھتا ہے تو مادری زبانوں سے وابستہ لہجوں اور رسم الخطوں کی لڑائی کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انگریزی زبان طاقت کے ساتھ ساتھ علم سے بھی جڑی ہے اس لیے ہر کوئی انگریزی ہی پڑھنا چاہتا ہے۔

انگریزی کو طاقت سے جوڑے رکھنا تو سراسر زیادتی ہے تاہم علم کی زبان کی حیثیت سے انگریزی کا مقام غیرمتنازعہ ہے۔ ریاست اور سیاسی جماعتوں کو زبانوں، لہجوں، مذاہب اور فرقوں کو باہم لڑانے کی بجائے سب کو یکجان کرنے کی ذمہ داری کو اٹھانا ہوگا۔ ایسا کرنے کے لیے زبانوں کے حوالہ سے اک قومی کمیشن بنایا جا سکتا ہے۔

ایک ایسا کمیشن جو انگریزی، اُردو اور پاکستانی مادری زبانوں کا تعین کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو سفارشات پیش کرے۔ کمیشن انگریزی زبان کی حیثیت کو بطور علم کی زبان برقرار رکھتے ہوے طاقت سے اس کے رشتے کو ختم کرے۔ پاکستانی کی مادری زبانوں کو قومی حیثیت دلوائے اور پرائمری تک ان زبانوں کو بطور ذریعہ تعلیم اپنانے کی بات کرے۔

زبانوں، لہجوں اور رسم الخطوں کی بحث کو طے کرتے ہوے کمشن یہ بھی سفارش کر دے کہ ملک میں کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان کے بولنے والوں کی تعداد کیا ہے۔ جیسے وفاقی سطح پر ریاست ملٹی کلچرازم یعنی ثقافتی رنگارنگی کی پالیسی کو اپنائے ویسے ہی صوبوں میں بھی ملٹی کلچرازم ہی کی پالیسی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو کہ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو ہمیں تفرتوں کی سیاست کے گرداب سے نکالے گا۔

اس پالیسی کا مطلب یہی ہے کہ ہم نہ صرف اپنی زبانوں، ثقافتوں کا احترام کریں بلکہ دنیا بھر کی زبانوں اور ثقافتوں سے نفرت بھی نہ کریں۔ زبانیں اور ثقافتیں کوئی جامد شئے نہیں بلکہ یہ تو چلتے پانیوں کی طرح موج مستی سے لبریز رہتی ہیں۔ ہر نئی چیز کو جذب بھی کرتی ہیں اور بعض اوقات بوسیدہ چیزوں کو اگل بھی دیتی ہیں۔ آج کے پاکستانی نوجوانوں کو ہم جس قدر جلد ان مخمضوں سے نکال دیں تو “ستاروں سے آگے جہاں” یہ خود ہی ڈھونڈ لیں گے۔

Source : https://www.dawnnews.tv/news/1002549