تقسیم ہند کے فسادات کیوں ہوئے؟

 

(ڈاکٹر ساجد علی)
میں نے جس گاؤں میں شعور کی آنکھ کھولی وہ مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجروں کا گاؤں تھا۔ آبادی کے بڑے حصے کا تعلق ضلع جالندھر سے تھا، دیگر دو بڑے گروپوں کا تعلق گورداسپور اور امرتسر کے اضلاع سے تھا۔ چند گھرانوں کا تعلق ہوشیارپور، لدھیانہ اور فیروزپور سے بھی تھا۔ ہجرت کو اجاڑا کہا جاتا تھا اور یہ جملہ بہت سننے میں آتا تھا: جدوں اجاڑا پیا سی (جب گھر اجڑے)۔ دیس اور وطن کو لوگ بہت یاد کیا کرتے تھے۔ کسی کو بوہڑ کی چھاؤں بہت یاد آتی تھی تو کس کے من میں پیپل کا درخت بسا ہوا تھا۔ پردیسی کے لفظ کا استعمال بہت عام تھا۔ ایک اور لفظ جو بہت سننے میں آتا تھا وہ تھا پناہ گیر، جسے مشرقی پنجاب سے آنے والے گالی کے مترادف سمجھتے تھے اور مقامی لوگ بھی اسے از رہ تحقیر ہی استعمال کرتے تھے۔ مہاجر کا لفظ نہ جانے کب لغت میں داخل ہوا۔

لوگ اپنے پرانے وطن کو یاد تو کرتے تھے لیکن حیرت کی بات تھی اس یاد میں کسی قسم کی اداسی کا شائبہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ لوگ اپنے نئے ماحول میں مطمئن دکھائی دیتے تھے۔ دیہاتیوں کی خوشی کا بڑا سبب مغربی پنجاب کا نہری نظام تھا۔ مشرقی پنجاب میں نہریں نہیں تھیں، وہاں کنوؤں سے آب پاشی کی جاتی تھی، جو کافی مشکل اور صبر آزما کام تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک عزیز بزرگ نے جب اپنی باری پر پانی کاٹا تو ساتھ ہی کہنے لگے: ایسے ہی دیس دیس کرتے رہتے ہیں۔ سارا سارا دن کنواں چلاتے تھک جاتے تھے اور بمشکل ایک ایکڑ سیراب ہوتا ہے۔ یہ جا رہا ہے پانی فراٹے بھرتا ہوا۔ یعنی اپنے آبائی علاقوں سے بچھڑنے کی دلوں میں کسک ضرور اٹھتی تھی، لیکن نئے ماحول میں حاصل ہونے والی سہولت پر اطمینان بھی تھا۔

اپنے گھربار چھوڑ کر بہت سی صعوبتوں سے گزر کر لوگ پاکستان پہنچے تھے۔نئے دیس میں آ کر الاٹمنٹوں کے چکر میں خوار ہوتے رہے۔ عزیزوں رشتہ داروں سے دور ہو گئے۔ کوئی کہیں آباد ہوا تو کسی کو کہیں اور ٹھکانہ میسر آیا۔ لوگوں کو سیٹل ہونے میں کئی برس لگ گئے۔ تقسیم سے قبل جو ایک اچھی، پرسکون اور آرام دہ زندگی گزار رہے تھے، جب انہیں کئی برس تک سختیاں برداشت کرنا پڑیں تو ان کے اندر ایک گونہ تلخی پیدا ہو چکی تھی جو رفتہ رفتہ کم ہو رہی تھی۔

ہندوؤں اور سکھوں کے مظالم کا تذکرہ اکثر ہوتا تھا۔ گاؤں میں اگرچہ کم ہی کوئی ایسا خاندان تھا جس کا تقسیم کے ہنگاموں کے دور میں جانی نقصان ہوا ہو۔ آج جب میں اس دور کو یاد کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ان مظالم کا ذکر ضرور کرتے تھے، لیکن اس میں کسی قسم کی نفرت کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ لوگ وحشت و بربریت کے اس دور کو ایک انحراف سمجھ کر بھول گئے تھے۔ اس کا بڑا ثبوت یہ ہے جب ہندوستان کی ٹیم لاہور آئی تو بارڈر کھول دیا گیا تھا۔ اس وقت بڑی تعداد میں لوگ ہندوستان سے لاہور آئے اور بڑے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ حالانکہ اس وقت ابھی فسادات کی یادیں تازہ تھیں، لیکن پھر بھی کسی نے ہندوستان سے آنے والوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا۔ انھیں کھلے بازوؤں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ اسی دور میں وہ لطیفہ بنا تھا جب انارکلی لاہور میں ایک سکھ نے کہا تھا: بھراوو ویکھدے جاؤ تے لنگدے جاؤ (یعنی مجھے دیکھتے جاؤ اور آگے بڑھ جاؤ۔ رک کر بھیڑ نہ لگاؤ)۔

مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب گاؤں میں ایک سکھ آیا۔ ہمارے ایک عزیز کئی دہائیاں نیروبی (کینیا) میں بسر کرکے گاؤں واپس آئے تھے۔ نیروبی سے ان کا وہ سکھ دوست انھیں ملنے کے لیے آیا۔ سارے گاؤں میں شور مچ گیا سکھ آیا، سکھ آیا۔ لڑکے بالے، نوجوان سکھ کو دیکھنے جمع ہو گئے۔ ایک پانچ چھ برس کے بچے نے سکھ کو دیکھ کر اپنے بڑے بھائی سے کہا: چنگا بھلا بندہ اے، ایویں ای کہندے سی سکھ آیا اے۔(اچھا بھلا آدمی ہے۔ خوہ مخواہ بک رہے تھے کہ سکھ آیا ہے)

ساٹھ کی دہائی کے شروع میں جب سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ، جن پر فسادات کی سب سے بڑھ کر ذمے داری عائد کی جاتی تھی، لاہور آئے تو ان کا اس قدر والہانہ استقبال کیا گیا تھا کہ شاید وہ خود بھی حیران ہوئے ہوں۔ اس استقبال پر نظریہ پاکستان کے علم بردار اخبار کو بڑی تکلیف ہوئی تھی اور اس نے اس کے خلاف اداریہ بھی لکھا تھا۔

کیا اس بات میں کوئی حقیقت ہے کہ تقسیم سے قبل ہندو، سکھ اور مسلمان مکمل بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے؟ کیا ان میں کسی قسم کے اختلافات نہیں تھے؟ میرا خیال ہے کہ اس بارے میں مختلف علاقوں کے لوگوں کے یقیناً مختلف تجربات ہوں گے۔

میرے دادا جان ایک جہاں گشت انسان تھے، کتنے ہی ملکوں میں ملازمت کی تھی، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے افراد کے ساتھ کام کیا تھا، لیکن اپنی سوانح حیات میں یہ کہیں ذکر نہیں کیا کہ کوئی ہندو یا سکھ ان کا ذاتی دوست بھی تھا۔ قیام برما کے دوران میں پیش آنے والا واقعہ انھوں نے اپنی سوانح حیات میں درج کیا ہے۔ سنہ 1923 ءمیں بسلسلہ ملازمت وہ رات کے وقت برما کے ایک دوردراز گاؤں میں پہنچے۔ ان کے ایک عزیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جائے قیام ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ تھی، جہاں انھوں نے خنزیر کا گوشت رسیوں میں پرو کر سوکھنے کے لیے لٹکایا ہوا تھا۔ دادا جان نے کہا بھئی ہم کو سور مت کھلانا، صرف سبزی دال پر گزارا کرنا۔ ان لوگوں نے بھی خندہ پیشانی سے جواب دیا ہمیں معلوم ہے آپ مسلمان ہیں۔ صبح جب دادا جان اور ان کے ساتھی نے مسلمان لوٹا (یہ ترکیب ملاحظہ ہو) لے کر باورچی خانے سے پانی طلب کیا تو باورچی، جو ایک مذہبی سکھ تھا، لوٹا دیکھتے ہی سیخ پا ہو گیا اور کہنے لگا: آپ لوگ مسلمان ہیں۔ دادا جان نے جواب دیا ماشااللہ۔ اس نے کہا میں نے سخت غلطی کی آپ کے جوٹھے برتن اپنے برتنوں میں رکھ دیے۔ یہ ایک ادنی سی مثال ہے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کے برتاؤ کی اور ان کی قربت کی۔

ہم بھائیوں نے کئی بار اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ کون سے ہندو یا سکھ ان کے دوست تھے، تو وہ کبھی کسی کا نام نہیں لے سکے تھے۔ ایک دن سکول کی لائبریری سے میں جوش ملسیانی کا مجموعہ کلام لایا، جس کا نام بھول چکا ہوں۔ ابا جان نے وہ کتاب دیکھی تو مجھے بتایا کہ وہ سکول میں ان کے استاد تھے اور ان کا پورانام لالہ لبھورام تھا۔ اس کے علاوہ کبھی سردار سورن سنگھ کا ذکر کیا کرتے تھے جنھوں نے اس زمانے میں نئی نئی وکالت شروع کی تھی اور اباجان نے کسی مقدمے میں بارہ آنے فیس پر انھیں وکیل کیا تھا۔

اب تقسیم کو وقوع پذیر ہوئے ستر برس گزر چکے ہیں۔ تقسیم کے بعد پیدا ہونےوالی نسلوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ تاریخ ساز واقعہ رونما ہوا۔ چنانچہ جب اگست کا مہینہ آتا ہے تو الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ ہندو اور مسلمان بڑے امن اور آشتی کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ انگریزوں نے فتنہ سامانی کی اور فرقہ واریت کا زہر گھول دیا اور نفرتوں کو اپنے استعماری مقاصد کے تحت ہوا دی۔ انگریزوں کی فتنہ پروری والی بات سے اختلاف مشکل ہے مگر یہ بہت پیچیدہ صورت حال کا ضرورت سے زیادہ سادگی پر مبنی تجزیہ دکھائی دیتا ہے۔

اس دور میں ہونے والے فسادات پر تحقیق جاری ہے۔ اس میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ مسلمانوں اور سکھوں نے ان میں لائق نفرین (قابل نفرت) کردار ادا کیا تھا۔ لیکن کچھ سوالات ابھی تک تشنہ جواب ہیں۔ پنجاب میں جس کلی پیمانے پر تبادلہ آبادی ہوا ہے، اس کی شاید کوئی اور مثال تلاش کرنا ممکن نہ ہو۔ دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں کئی بار مختلف گروہوں کے مابین کسی نہ کسی وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم ہوا ہے اور لوگ وقتی طور پر اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن کبھی اس بڑے پیمانے پر آبادی نے مستقل بنیادوں پر نقل مکانی نہیں ہوئی۔ فسادات ختم ہونے کے بعد وہ اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ یوگوسلاویہ کی شکست و ریخت ہونے کے بعد جب وہاں خانہ جنگی ہوئی تو بوسنیا کے کتنے ہی خاندانوں کو یہاں لا کر آباد کیا گیا تھا لیکن جوں ہی امن و امان بحال ہوا وہ سب اپنے وطن کو لوٹ گئے تھے۔

ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر میں ہمارے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر شانکر قصبہ تھا، جہاں سکھ آبادی زیادہ تھی۔ یہ قصبہ سردار سورن سنگھ کی جائے پیدائش ہے۔ سورن سنگھ کے والد میونسپلٹی کے چیئرمین ہوتے تھے۔ اباجان بتایا کرتے تھے کہ انھوں نے میرے دادا جان سے بہت کہا تھا کہ آپ یہاں سے نہ جائیں، یہاں کوئی فساد نہیں ہو گا۔ انھوں نے اپنا قول پورا کیا اور اس علاقے میں کوئی فساد نہیں ہوا تھا۔ تاہم قیام پاکستان کے اعلان کے دس بارہ روز بعد ہمارے خاندان والے گھر بار چھوڑ کر نکودر کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ پنجاب میں فسادات کا دورانیہ تین ماہ پر محیط ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب حالات نارمل ہو گئے تو نکودر کیمپ میں موجود لوگوں نے اپنے گھروں کو واپس جانے کے بجائے پاکستان آنا کیوں پسند کیا۔ یہ بات مغربی پنجاب سے جانے والوں پر بھی صادق آتی ہے۔ مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں اور انگریزوں کا شرمناک کردار اپنی جگہ، لیکن نقل مکانی کے اسباب فسادات کے علاوہ کچھ اور بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان وجوہ کو تلاش کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ابھی باقی ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

Source : http://iblagh.com/136702