’انگریزوں پر اعتبار کرنے سے قتلِ عام ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹBBC WORLD SERVICE
Image captionہندوستان کی تقسیم سے بنگال اور پنجاب زیادہ متاثر ہوئے: راج موہن گاندھی

برصغیر کے رہنما مہاتما گاندھی کے پوتے اور تاریخ نویس راج موہن گاندھی کا کہنا ہے کہ تقسیم کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمان اور ہندو رہنماؤں نے ایک دوسرے کی بجائے انگریزوں پر انحصار اور اعتبار کیا اور اس کی وجہ سے قتل عام بھی ہوا۔

کراچی میں اپنی نئی کتاب ’اورنگزیب سے لیکر ماؤنٹ بیٹن تک‘ کی رونمائی کے بعد بی بی سی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں انہوں نے برصغیر کی تقسیم اور پنجاب کی صورتحال پروشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بٹوارہ اس لیے ہوا کیونکہ برصغیر کے لوگ اور رہنما آپس میں سمجھوتہ نہیں کر پائے اور انگریزوں سے کہا کہ آپ سنبھالیں اس ملک کو اور جانے سے پہلے ایسا کر دیں ویسا کردیں۔‘

راج موہن گاندھی نے کہا کہ ’ہم نے ایک دوسرے سے مشورہ نہیں کیا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں، انگریز تو چلے جائیں گے ہمیں ساتھ رہنا ہے، جو دقتیں یا مشکلات ہیں انہیں ساتھ حل کرنا ہے، گاندھی سمیت کچھ لوگوں نے سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوششیں کی لیکن کئی ہندو اور مسلمان ایسے تھے جو کہتے تھے کہ دونوں میں دوستی نہیں ہونی چاہیے اور یہ مخالف جذبات پر حاوی رہے۔‘

کانگریس اور مسلمانوں میں مذاکرات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ قیادت جب مذاکرات کرنے جاتی تھی تو لوگ کہتے تھے اگر آپ مذاکرات کرنے جائیں گے تو ہم آپ کو غدار سمجھیں گے اور اٹھا کر پھینک دیں گے، جب گاندھی کو ہلاک کیا گیا تو شکایت یہی تھی کہ یہ مسلمانوں سے بہت دوستی رکھتا تھا۔

راج موہن گاندھی کا تقسیم میں انگریز سرکار کے کردار کے بارے میں کہا کہ کچھ لوگ یہ ضرور چاہتے تھے کہ ہندؤوں اور مسلمانوں میں دشمنی رہے، تقسیم ہو، ان دنوں مڈل ایسٹ کا آئل بھی ایک سوال تھا، روس بھی اسی طرف آ رہا تھا تو اس حوالے سے برطانیہ کی خاص حکمت عملی تھی، لیکن ہر وقت دوسروں پر غلطی تھوپنے کے بجائے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیں کہ ہم نے کیا غلط کام کیا۔ اگر ہم یہ نہیں سوچیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

پنجاب میں فسادات اور ریڈ کلف کمیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے راج موہن گاندھی کا کہنا تھا کہ ریڈ کلف کی لائن اگر چھ میل ادھر یا ُادھر ہو جاتی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جس بڑے پیمانے پر لوگ مارے گئے وہ اس لیے کہ ایک طرف یہ مطالبہ تھا کہ پورا پنجاب پاکستان میں آئے دوسری طرف مطالبہ تھا کہ پورا پنجاب بھارت میں آئے جب ایسے انتہائی مطالبات آئیں گے تو طیش تو پیدا ہوگا۔

’ کئی ہندوں اورسکھوں نے سوچا کہ لاہور انڈیا میں آئے گا کئی مسلمانوں کا خیال تھا کہ جالندھر، امرتسر اور لدھیانہ پاکستان میں آئے گا کئی رہنماؤں کو پتہ تھا کہ جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں وہ انڈیا میں رہیں گے لیکن عام لوگوں کو یہ نہیں بتایا گیا‘۔

محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی کی جانب سے فسادات روکنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندھی نے ہر ممکن کوشش کی، جناح نے تو اس حد تک کہہ دیا تھا کہ فسادات روکنے میں مسلمان رکاوٹ بن رہے ہیں تو اس کی پرواہ نہ کی جائے، پھر چاہے کتنے بھی مسلمان ہلاک ہوں۔

’فسادات میں صوبائی اور مقامی قیادت کا بھی بڑا کردار تھا، پنجاب میں مسلم لیگی تھی لیکن وہ وہاں1945 کے بعد مقبول ہوئی، یونینسٹ پارٹی جاگیرداروں اور زمینداروں کی پارٹی اور انگریز حکومت کی حامی تھی جبکہ کانگریس پنجاب میں ہندؤوں کی جماعت تھی۔‘

’پنجاب کے سکھ رہنماؤں کے ذہن میں یہ تھا کہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ہم نے پورے پنجاب پر حکمرانی کی تھی اور گرو نانک کا جنم بھی اس طرف ہوا تھا اس لیے ایسے علاقے بھی ہمیں ساتھ رکھنا چاہیں جہاں ہماری اکثریت نہیں۔ اس طرح مقامی مسلمان قیادت کا کہنا تھا کہ پورا پنجاب پاکستان میں آئے اس میں دہلی بھی شامل ہوں، ایسی صورتحال میں تاریخ یہ سبق سکھاتی ہے کہ مسئلے کا جو بھی حل نکالنا ہے وہ مقامی لوگوں نے ہی نکالنا ہے۔‘

فسادات اور قتل عام میں فوج کے غیر فعال کردار پر بات کرتے ہوئے موہن داس گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی فوج میں پنجاب کی اکثریت تھی اور انگریز نے یہ جان بوجھ کر کیا تھا کیونکہ جب انگریز یہاں آئے تو یہاں رنجیت سنگھ کی حکمرانی تھی۔

’رنجیت سنگھ کے پاس سکھ اور کچھ مسلم سپاہی تھے جنھوں نے انگریزوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، انگریزوں نے سوچا کہ یہاں سے انہیں سپاہی مل سکتے ہیں، انہوں نے انہیں بھرتی تو کر لیا لیکن ان میں کبھی دوستی نہیں ہونے دی۔‘

راج موہن کے مطابق تقسیم کے وقت سکھ اور مسلم فوجی کچھ ایسے تھے جن کے پاس سرکاری رائفلیں، نقشے اور ٹرینوں کے اوقات موجود تھے، وہ اس قتل عام میں شریک ہوگئے لیکن سب لوگ اس میں شامل نہیں تھے مارنے والوں سے تحفظ دینے والے زیادہ سامنے آئے۔

راج موہن گاندھی کی بیگم سندھ سے تعلق رکھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم سے بنگال اور پنجاب زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ دونوں کی تقسیم ہوئی لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں اس سے سندھ بھی محفوظ نہیں رہا اور یہاں سے ڈاکٹر، انجینیئر اور تاجر چلے گئے۔

’سندھ سے یہ لوگ جو انڈیا چلے گئے۔ ان کا کوئی الگ صوبہ تو نہیں بن سکا، وہ وہاں جذب ہوگئے، سندھ کی جو اتنی شاندار روایت ہے کے کسی انسان کو برا نہیں ماننا اور برداشت کرنا، سندھ کے لوگ یہ راستہ دوسروں کو بھی دکھائیں۔‘

پاکستان اور انڈیا میں ایک نئے دور کے آغاز پر زور دیتے ہوئے عدم تشدد کے پیروکار گاندھی کے پوتے کا کہنا تھا کہ کئی لوگوں نے جو غصہ تھا یا نفرت تھی، اس کو ایک طرف رکھنے کی کوشش کی ہے، اس حد تک کہ کئی لوگوں نے معاف کرنے کی بھی باتیں کی ہیں کیونکہ اگر ہم دل میں نفرت رکھتے ہیں تو اس کا نقصان ہم کو ہی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایک نئے دور کی ابتدا کی ضرورت ہے۔

Source : https://www.bbc.com/urdu/entertainment/2014/02/140208_raj_mohan_interview_zz