پاکستان کی عالمی اہمیت اور علاقائی قوت

15 اپریل 2016
 

پاکستان کی عالمی اہمیت اور علاقائی قوت

 
 

برصغیر میں آزادی کی جدوجہد رنگ لائی اور بالآخر برطانیہ سرکار نے اپنی پارلیمان میں Indian Independence Act 18July 1947پاس کیا جس کے تحت برصغیر میں مملکت اسلامی پاکستان اور انڈیا، دو آزاد ممالک معرض وجود میں آئے۔ انڈیا اور پاکستان کے اندر Princely States(آزاد ریاستوں) کے متعلق انڈیا انڈیپنڈنس ایکٹ کی شق نمبر 2 کے ذیلی شق (4) کے تحت انہیں پاکستان یا انڈیا میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ) Third Option (نہیں ہے۔ پاکستان کچھ ایسی ہیئت میں بنا کہ خلیج بنگال سے متصل مشرقی پاکستان پھر درمیان میں انڈیا اور بحیرہ عرب متصل مغربی پاکستان واقع ہوئے، یوں بحر ہند کے مشرق میں خلیج بنگال پر پاکستان کا تسلط، درمیانہ بحر ہند پر انڈیا کا تسلط اور مغربی حصہ بحریہ عرب پر پاکستان کا تسلط ہونا ممکن ہوا۔ اس صورتحال میں بحر ہند( Indian Ocean) میں بحری تجارتی راہداریوں کو پُرامن اور کسی رخنہ اندازی سے پاک رکھنے کی ذمہ داری انڈیا اور پاکستان پر عائد ہوئی۔
14 اگست 1947ء پاکستان کی آزادی اور 15 اگست 1947ء انڈیا کی آزادی کا دن ٹھہرا۔ آزادی کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ رعونیت کا انداز اپنایا اور پاکستان کا دشمن ملک بن جانے کیلئے عمل پیرا ہوا۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان نے اپنے حصہ کے دریائوں کی پانی کی قربانی دی، انڈس بیسن کے دریائوں کے پانیوںسے مشرقی پنجاب کا حصہ 8.0 MAF بنتا ہے جو ہیڈ ریگولیٹر بنا کر دریا بیاس اور ستلج سے مہیا کیا جا سکتا ہے۔ مگر امریکہ کے دبائو میں آکر صدر محمد ایوب خان نے 1960ء Indus Water freaty کا معاہدہ انڈیا کے ساتھ کیا جسکے تحت 33.0 MAF سالانہ بہائو کے تین دریا راوی، بیاس اور ستلج انڈیا کو دیئے، انڈو چائنہ کشمیر میں عوام کو حق رائے دہی کا موقع دے گا اور یہ مسئلہ بھی پرامن طور پر حل ہو گا اور انڈیا اور پاکستان پر امن بقاء باہمی کے اصولوں کے تحت آپس میں اچھے تعلقات استوار کریں گے، مگر انڈیا نے بلاجواز یکطرفہ طور پر مارچ 1965ء میں پاکستان کے علاقہ رن کچھ پر حملہ کر کے وسیع علاقہ پر قبضہ کیا، یہ تمام علاقہ پاکستان نے جوابی کارروائی کی جنگ کر کے واپس لے لیا۔ سرکریک پر جنگ جاری تھی کہ برطانیہ نے جنگ بند کرا دی اور بین الاقوامی عدالت ِانصاف کے ذریعے علاقہ کی ملکیت کا تعین کرنے کے فیصلے کو انڈیا اور پاکستان نے قبول کیا، بین الاقوامی عدالت ِ انصاف نے 1965ء ہی میں فیصلہ دیا کہ پاکستان کے جن علاقوں پر جنگ کر کے انڈیا نے قبضہ کیا وہ تمام علاقہ پاکستان کی سرزمین ہے، اسکے بعد بھی انڈیا نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کا لامتناہی عمل جاری رکھا۔ بحر ہند پر تسلط رکھنے والے دو ممالک کے درمیان دشمنی کی صورتحال میں خطہ میں دائمی امن قائم رہنا ممکن نہیں رہا تو غیر ملکی قوتوں کو ایک نئی اسکیم سوجھی، سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اپنی ڈائری کے صفحہ نمبر 122 پر تحریر کرتے ہیں۔’’ جمعہ 21جولائی 1967ء ایک چونکا دینے والی دستاویز میری ہاتھ آئی۔ (جنگ کے مالک میر خلیل الرحمان نے امریکی سفارتخانہ کے دستاویز کی کاپی دی تھی) روزنامہ جنگ کے مسٹر خلیل کو اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر میکا ناگھی کی طرف سے لکھا گیا مراسلہ جو انہوں نے انڈیا میں متعین امریکی سفیر چیسٹر بائولز کا تیار کردہ ’’بنگ سام‘‘ منصوبہ کو منظوری دیکر ارسال کیا تھا کہ اس تحریک کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ امریکی مفادات کو فروغ ملے، بنگ سام کا مطلب ہے کہ ایک ملک جو دونوں بنگال (مشرقی پاکستان اور انڈیا کا صوبہ بنگال) اور آسام (انڈیا) کو یکجا کر کے بنایا جانا ہے۔ مسٹر میکا ناگھی نے یہ بھی لکھا کہ اس منصوبہ کو کامیاب بنانے کیلئے ڈین رسک کا کہنا ہے کہ اسے ہر قیمت پر کامیاب بنایا جائے۔ صفحہ 123 اتوار 23 جولائی 1967ء الطاف گوہر رات کے کھانے تک (میرے پاس) ٹھہرا۔ ہم نے مشرقی پاکستان کے متعلق امریکی عزائم پر تبادلہ خیال کیا‘‘۔
قصہ مختصر بنگ سام کی مملکت تو نہیں بن سکی مگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر خلیج بنگال پر تسلط کے لحاظ سے کمزور ملک بنگلہ دیش بن گیا۔ اسکے بعد امریکی انتظامیہ اس سوچ میں مبتلا ہوئی کہ خطہ میں بقیہ پاکستان کی حیثیت اور وقعت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ مارچ 1977ء میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید اوکاڑہ چھائونی تشریف لائے اور گیریژن آفیسرز میس میں نوجوان افسران جن میں راقم بھی شامل تھے، انکے اصرار پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔’’ 1971ء کے بعد امریکہ میں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار مجھے (ذوالفقار علی بھٹو کو) کہتے کہ پاکستان کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔ پاکستان کی حیثیت، سکم، بھوٹان اور نیپال جیسی ہو کر رہ گئی ہے۔ دنیا کی سیاست میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں رہا۔ میں نے ان کو کہا کہ ہم پاکستان کو عظیم بنا کر دکھائیں گے اور یہ کہ پاکستان عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کریگا۔ جنٹلمین! میں نے ٹکڑے ٹکڑے اٹھا کر اس ملک کی تعمیروتکمیل کی ہے اور اسے عظیم بنایا۔ آج پاکستان کا دنیا میں ایک باوقار مقام ہے اور عالمی سیاست میں خاص اہمیت ہے، مجھے وقت دیا گیا تو میں پاکستان کو عظیم تر ملک بنا کر رہوں گا‘‘۔
1970ء کی دہائی میں مغربی ممالک اور امریکہ نے انڈیا کو بحر ہند کا پولیس مین بنانے کیلئے مسلح کرنا شروع کیا۔ اس ضمن میں انڈیا نے اپنی بحریہ کو توسیع دی آبدوزیں خرید لیں اور ایئر کرافٹ کیئریئر بحری جہاز اپنے بحری بیڑے میں شامل کئے۔ انڈیا نے ہمیشہ پاکستان کیخلاف جنگ کی تیاریاں کیں اور اسلحہ کے انبار اکٹھے کئے۔ بحریہ میں ایئر کرافٹ کیریئر کا مقصد پاکستان کیخلاف ہتھیار بند ہونا نہیں ہے، پاکستان کیخلاف تو زمینی ہوائی اڈے ہی کافی ہیں۔ یہ صرف بحر ہند میں پولیسنگ کرنے کیلئے بحری جہاز پر ہوائی اڈہ بنا لیا گیا ہے۔ 1965ء میں انڈیا نے امریکہ کے ایماء پر انڈیمان اور نکوبار جزائر پر عسکری اڈے بنائے جن میں بحریہ، فضائیہ اور فوج کو تعینات کیا تاکہ آبنائے ملاکہ کی بحری تجارتی راہداری پر تسلط قائم رکھے۔ انڈیمان اور نکوبار جزائر انڈیا کے ساحل سے 1200 Km پر واقع ہیں مگر انڈونیشیا سے 90km اور میانمار سے 50km کے فاصلے پر واقع ہے۔ انڈیا ہر سال انڈیمان اور نکوربار کے عسکری اڈوں میں فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ 1970 ہی کی دہائی میں انڈیا نے ایٹمی قوت بننے کیلئے کام کو مہمیز دی اور 1974 میں پوکھران میں پہلا ایٹمی ٹیسٹ کا دھماکہ کیا مگر مئی 1998ء میں مزید ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی قوت بن گیا، مغرب نے ابھی تک انڈیا کو پوری طرح سے مسلح کرکے آبنائے ملاکہ سے لیکر پاکستان کی سمندری حدود تک بحر ہند کا پولیس مین بنا لیا۔ ادھر پاکستان میں بہت ساری تبدیلیاں آئیں جن کی بدولت بحر ہند کے خطہ میں تزویراتی لحاظ سے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ 1970ء کی دہائی میں پاک چین دوستی پروان چڑھی اور 1300km طویل شاہراہ قراقرم کی ٹرکوں کی آمدورفت کیلئے تیار کیا گیا جو 1979ء میں مکمل ہوا جس کے ذریعے چین کے ساتھ زمینی راستہ تجارت کے لئے کھل گیا، اسی دوران روس نے بھی بحر ہند تک رسائی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھائے اور افغانستان میں مزار شریف، کابل، طور ختم اور ہرات، قندھار، چمن کے روٹ کی سڑکیں دو رویہ سطح کی تعمیر کر دیں۔ (باقی آئندہ)

Source : https://www.nawaiwaqt.com.pk/15-Apr-2016/468781