نئی عالمی سیاست اور پاکستان

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پاکستان اور بھارت ہی نہیں، دوسرے سارک ممالک سینٹرل ایشیاء ، روس اور ترکی و ایران کے ظہور پذیر قومی مفادات کا ایک دوسرے سے باہم جڑنا ٹھہر گیا ہے۔ متضاد نظریات کے ان ممالک اور سرحد در سرحد ایک دوسرے سے باہم ان ممالک اور خطوں کے اپنی اپنی جغرافیائی حدود سے باہر کے بڑے قومی مفادات ان کے تضادات اور تاریخی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے انہیں قربت اختیار کرنے پر مجبور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اصل میں یہ دلچسپ صورتحال ڈیڑھ عشرے سے تشکیل پانے والی عالمی سیاسی سیاست کا منطقی نتیجہ ہے، جسکو 9/11 کے بعد ٹرانسلیٹ کیا گیا تھا کہ اس نے دنیا بدل دی۔ اتنی تو ضرور بدل گئی کہ سانحہ نیو یارک کے بعد عالمی سیاست میں امریکہ کا اولین ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ ان امریکہ سے زیادہ ان ممالک کا ایجنڈا ہے جو عالمی سیاست میں اسکے حریف رہے یا وہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لپیٹے گئے۔

اب یہ سب امریکہ سے بھی زیادہ دہشت گردی کے خاتمے کو اپنے مشترکہ ایجنڈے کے طور پر اختیار کر چکے ہیں۔ یقینا عالمی امن کے حوالے سے تو یہ امریکہ ہی نہیں دنیا کی بھی بڑی کامیابی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کمزور اقوام کے ساتھ عالمی سیاست کی ناانصافیوں اور ستم ظریفیوں کے رد عمل میں جو انتہا پسندی پروان چڑھ کر دہشت گردی مین تبدیل ہوئی تھی، امریکہ اسکا خاتمہ اسی قیمت پر چاہتا تھا کہ اس کے تاریخی حریف اور اثر قائم کرنے کیلئے زیر ہدف ممالک اور خطے ایک اتحاد کی سی شکل میں منظم ہوتے نظر آئیں اور ایجنڈا انکا ہو، دہشت گردی کا خاتمہ، انفرادی اور خطوں کا باہمی اقتصادی استحکام اور عالمی امن و خوشحالی؟ امریکہ سفارتی ابلاغ میں اس سوال کا خوبصورت جواب دے سکتا ہے اور دے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب دینا اسکے لئے آسان نہیں۔ نئی بنتی صورتحال المی امن اور ان ممالک اور خطوں کے باہم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے جنہیں امریکہ اب تک اپنی عالمی سیاست میں استعمال کرتا رہا ہے اور اب یہ امریکہ کے اثر سے تیزی سے نکلتے جا رہے ہیں جس سے اسکی عالمی طاقت کی حیثیت کمزور ہوتی جائے گی اور عالمی سیاست میں کردار محدود۔ ایک اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ اور آنے والی امریکی انتظامیہ، جو اب امریکی عوام سے زیادہ مختلف النوع خصوصا مالی منافع کے ذرائع ہاتھ میں رکھنے والے بڑے بڑے بین الاقوامی پریشر گروپس کے مفادات کی اسیر معلوم دیتی ہیں۔

عالمی سیاست کے نئے بنتے زاویے کو یوں ہی بننے دیں گے جس طرح یہ منطقی نتیجے کے طور پر شکل اختیار کر رہے ہیں؟ یا اسکے متوازی اپنی نئی عالمی سیاست اختیار کی جائے گی؟ اب جبکہ متذکرہ ممالک اور خطوں پر مشتمل دنیا کی گنجان آبادی اور عالمی اقتصادیات کے اعتبار سے دنیا کا یہ بڑا حصہ باہمی امن و خوشحالی اور خاتمتہ دہشت گردی کے حوالے سے عالمی امن کی طرف واضح طور پر مائل ہے، اسکے متوازی تین بڑڑے خدشات ابھر سکتے ہیں جو عالمی امن کے تشکیل پذیر نئے زاویوں کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ نئی صورت کے متوازی بھارت کو بھاری بھرکم ترغیبات دے کر اسے زیادہ سے زیادہ زیر اثر لایا جائے۔ مودی سرکار نے اپنے ابتداء میں ہمسایوں ، مسئلہ کشمیر علاقائی و عالمی سیاست کے حوالوں سے جو رنگ دکھایا ہے ، وہ امریکہ کے لئے اب بھی حوصلہ افزاء ہے کہ بھارتی گٹھ جوڑ کے ساتھ رنگ میں بھنگ ڈال سکتا ہے۔ دوسرے زیر اثر خلیجی خطے میں اپنی مختلف اقسام کی موجودگی میں اضافے سے نئے اہداف کی ایک نئی گرینڈ گی شروع کر سکتا ہے، اس حوالے سے وہ ایران کو قریب لانے کی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ تیسرے بحر ہند دوبارہ سے چیس بورڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن کیلئے اس گیم میں سب سے اہم مہرہ یقینا بھارت ہی ہوسکتا ہے۔ خود بھارت ماضی میں اپنے غیر جانبدارانہ تشخص کی طرح ایک ایسا ہی تشخص دوبارہ قائم کرنے کیلئے پورا زور لگائے گا لیکن کیا اب یہ ہو سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب بھارتی رائے عامہ اور سول سوسائٹی خصوصا بھارتی میڈیا نے دینا ہے، جنہوں نے بڑے جذبے سے مودی کو وزیر اعظم بنا کر بھارت کو بنیاد پرست ہندو ریاست بنانے میں نتیجہ خیز کردار ادا کیا۔

گزشتہ روز ماسکو میں شنگھائی کانفرنس کے موقع پر نواز، مودی ملاقات کا جو مختصر مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے، اس نے تو واضح کر دیا ہے کہ پاکستان نئی گیم میں اپنی بنتی اہم ترین اہمیت کے برعکس سفارتی مات کھا گیا۔ اعلامیہ پاکستانی قوم کیلئے ورننگ ہے کہ خارجی امور کی ظہور پذیر قومی ضرورتوں کو سمجھنے سے یکسر عار حکومت کی نااہلیت پاکستان کے بڑے نقصان کا موجب نہ بن جائے۔

پہلی متربہ دنیا قائم ہوتی معلوم دے رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں ہی پناہ نہیں لی ہوئی، اسکے مقابل بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا بڑا موجوب ہے۔ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرانے کیلئے اپنی پرامن جدوجہد کو مودی حکومت کی کشمیر کی جانب انتہا پسند پالیسی کے باوجود پورے زور سے بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

انکے خلاف بھارت کی ریاستی دہشت گردی مسلسل جاری ہے پھر یہ کیسے ہوا کہ ملاقات کے اعلامیے میں کشمیر تو یکسر گول ہو گیا اور ممبئی دہشت گردی کی تنازع کشمیر پر اہمیت تسلیم کر لی گئی جبکہ اس پر پاکستان ممکنہ تعاون کر رہا ہے۔ لکھوی کے سوال پر پاکستان کی ڈپلومیٹک کپسٹی اتنی بھی نہیں رہ گئی کہ وہ بھارت پر واضح کر سکے کہ ہماری عدلیہ اب اتنی آزاد اور غیر جانبدار ہے کہ قانونی نکتے پر وزیر اعظم کو اسکے عہدے سے الگ کر سکتی ہے۔ ملاقات کا محرک مودی خود تھے، کیا ہمارے وزیر اعظم تیار بیٹحے تھے کہ وہ بلائیں تو انکی ہر بات مانی جائے جبکہ دنیا مودی کی انتہا پسندی اور آپے سے باہر ہونے پر ناپسندیدگی کے واضح اشارے دے چکی تھی۔ وزیر اعظم کو امور خارجہ کی شدید ضرورتوں پر بھی کوئی وزیر خارجہ نہیں مل رہا ہے اور یہ عہدہ بھی انہی کے پاس ہے، کو پرویز رشید نہ ترجمان وزارت خارجہ کے ذریعے بلکہ خود و قوم کو بتانا ہوگا کہ اعلامیے میں کشمیر کیسے گول ہوا اور ممبئی کشمیر پر کیسے حاوی ہو گیا یعنی آپ نے اسے کشمیر سے زیادہ اہم سمجھ لیا۔

آپ کی جو فوٹیج پوری دنیا کے سامنے آئی ہے اییسی کبھی دو سربراہوں کی ملاقات کے حوالے سے نہیں آئی کہ دنیا نے آپ کو مودی کی طرف سائل کی طرح قدم بڑھاتے اور ان سے ملتے دیکھا۔ آُ کے نہ جانے کیسے کیسے مشیر کیا جانیں کہ یہ فوٹیج پاکستان کی کمزور حیثیت اور بھارت کی بلاوجہ برتری کا کیا تاثر دنیا پر چھوڑ گئی ۔ آئین نو میں آپکی حکومت سنبھالنے سے ہی شور مچایا جا رہا ہے کہ وزارت خارجہ کی تنظیم نو کر کے تیزی سے ابھرتے وقت کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کی ڈپلومیٹک کپسٹی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے جو تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ شنید تو یہاں تک ہے کہ وزارت خارجہ کے دونوں محترم بزرگ بھی آپس مین باہم ٹیم ورک کی اسپرٹ سے محروم معلوم دیتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ آُ کے دوست سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اعتراف کر چکے ہیں کہ گجرات میں جو کچھ ہوا وہ غلط تھا لیکن گجرات کی دہشت گردی کے سابقہ ملزم نے آپ سے ممبئی دہشت گردی کو کشمیر سے زیادہ اہم تسلیم کرا لیا۔ اللہ خیر

Source : http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2015/07/12/%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86.html

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *