زبان کی اہمیت اور اثرات

07 مارچ 2015
 

زبان کی اہمیت اور اثرات

 

ہفتہ رواں میں اقوام متحدہ کی طرف سے مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا اس حوالے سے چند حقائق پیش خدمت ہیں۔ زبان کی تخلیق صوتی فلسفہ کے تحت وجود میں آتی ہے۔ تخلیق آدم کے ساتھ ہی ضروریات اور احساسات کے تحت اظہار مدعا کیلئے انسان کو الفاظ کی ضرورت پڑی اور یہ الفاظ مختلف آوازوں کا مجموعہ ہیں جنہیں علم لسانیات کی لغت اور اصطلاح میں حروف تہجی کہا جاتا ہے دراصل یہ حروف بنیادی آوازیں ہیں جنہیں جوڑ کر الفاظ بنتے ہیں۔ مثلاً انگریزی کا اس (US) بمعنی ہم ہے یہی لفظ پنجابی میں اس بمعنی ہم ہے۔ عربی کا لفظ ما بہ معنی پانی کے ہے اور فارسی میں ما بہ معنی ہم ہے۔ مختلف زبانوں میں کئی الفاظ مشترک ہوتے ہیں مگر انکے معنی مختلف ہوتے ہیں اصل میں آواز مشترک ہوتی ہے لہذا ہر علاقہ اور ہر نسل کے لوگوں نے ہزار ہا سالوں سے اپنی اپنی ضرورت اور مزاج و ماحول کیمطابق زبانیں بنا لیں۔ خوش مزاج اور باذوق نسلوں کی زبانیں بھی شیریں اور شاعرانہ مزاج رکھتی ہیں جیسے مشرق میں فارسی زبان اور مغرب میں فرانسیسی زبان۔ لیکن کچھ قوموں نے وقت کے تقاضوں کیمطابق اپنی ان مقامی بولیوں میں تحقیق و تخلیق کا اتنا جامع اور ٹھوس کام کیا کہ یہی مادری اور علاقائی بولیاں زبان کا روپ دھار گئیں اور آج ان ہی زبانوں میں دوچار ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ترقی یافتہ اور جدید زبانیں کہلاتی ہیں جن میں انگریزی زبان آج سرفہرست دکھائی دیتی ہے۔ لہذا آج کچھ تو مادری زبانیں ہیں جیسے انگریزی‘ فرانسیسی‘ جرمن‘ چینی‘ عربی اور فارسی جبکہ بعض مادری بولیاں ہیں جسے ہمارے ہاں کشمیری‘ پنجابی‘ سندھی‘ بلوچی‘ شینا‘ بلتی اور گوجری وغیرہ۔ ترقی یافتہ زبانوں اور مقامی بولیوں کے درمیان دنیا میں کچھ اور زبانیں بھی ہیں جو بولی سے زیادہ ترقی یافتہ اور ترقی یافتہ زبان سے کم درجہ ہیں جن میں ترکی‘ اردو‘ہندی‘ پرتگالی اور بنگالی وغیرہ ہیں یہ زبانیں ادبیات میں تو خود کفیل ہیں مگر سائنسی علوم کے حصول کیلئے فی الحال ناکافی ہیں۔ افریقہ اور ایشیاء کے اکثر ممالک کو سائنسی علوم کے حصول کیلئے کسی نہ کسی جدید مغربی زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں ہر ترقی پذیر ملک مجبور ہے کہ جب تک اسکی قومی زبان ترقی یافتہ نہیں ہو جاتی اسے ترقی یافتہ مغربی زبان کا سہارا لینا پڑ رہا ہے کیونکہ نابالغ بچہ یا نادار و ضعیف انسان ہی کو چلنے کیلئے کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ شاعری اور ادب کی بنیاد احساس اور وجدان پر ہوتی ہے لہذا ان بولیوں یا نیم ترقی یافتہ زبانوں میں ان موضوعات کی کمی نہیں مگر جہاں تک ٹھوس حقائق‘ فلسفہ و منطق و استدلال اور سائنسی علوم کا تعلق ہے یہ صرف اور صرف چند ترقی یافتہ زبانوں میں موجود ہیں اردو ہماری قومی زبان ہے ہمیں اس میں سائنسی علوم کو متعارف کروانا ہوگا۔ زبان کے رواج سے نہ صرف عقل و علم پر اثرات نمودار ہوتے ہیں بلکہ زبان کے تہذیب و تمدن‘ نظریات‘ اخلاقیات اور سیاست و سماجیات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر زبان ایک خاص مزاج رکھتی ہے اور ایک خاص مزاج ترتیب دینے میں بنیادی کرداراداکرتی ہے زبان کا ایک تعصب بھی ہوتا ہے ایک زبان بولنے والے اپنائیت محسوس کرتے ہیں اور جلد ہی دوست اور خیرخواہ بن جاتے ہیں زبان وحدت کی بھی علامت ہوتی ہے۔ سوویت یونین میں کئی زبانیں رائج تھیں۔ تاجکی‘ ازبکی‘ روسی اور ہر ریاست کی اپنی اپنی زبان تھی لیکن روسی زبان کو مرکز سے سب پر ٹھونسا گیا تھا۔ اس مصنوعی طریقہ کار کی بدولت ایک مصنوعی وحدت قائم کی گئی تھی۔ جونہی انتشار و افتراق کی ہوائیں جہاد افغانستان میں سوویت یونین کی ناکامی کے بعد چلیں تو یہ عظیم ڈھانچہ دھڑام سے زمین بوس ہو گیا اور آج صرف روس رہ گیا۔ امریکہ کو یہ فائدہ ہے کہ وہاں تقریباً ہر ریاست کی مادری زبان انگریزی ہی ہے لہذا وہاں تعصب زبان کے منفی اثرات کا خدشہ نہیں جبکہ برطانیہ آج زبان کی بنیاد پر لسانی اور نسلی فسادات کی زد میں آچکا ہے۔ مجھے انگلستان میں قیام کے دوران کئی آئرش اور سکائش لوگ ملے جو اپنی زبان پر فخر کررہے تھے اور انگلستان سے علیحدگی کو ضروری گردانتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی دن رات اپنی جداگانہ شناخت کیلئے زبان کی بنیاد پر علیحدگی کی تحریک میں مستانہ وار شریک ہیں۔ اسی طرح کینیڈا میں انگریزی اور فرانسیسی بولی جاتی ہے اور ان لوگوں میں بھی زبان کی بنیاد پر تنازعہ رہتا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی شروع دن سے ہندی اور اردو کا تنازعہ جاری ہے اور اب تو متعدد مقامی بولیوں کے تنازعات نے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایران میں فارسی مروج ہے اور زبان کا کوئی تنازعہ نہیں لیکن عراق کی سرحد پر جو لوگ کرد ہیں ان کی مادری زبان غزل ہے اور وہاں فارسی اور عربی کا تعصب موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کروستان میں علیحدگی کی تحریک زیر زمین جاری ہے۔ لہذا یہ بات حقائق پر مبنی ہے کہ وحدت فکر اور وحدت کشور کیلئے وحدت زبان نہایت ہی لازم ہے۔ اب آئیے مختصراً اپنے وطن عزیز پاکستان کا تجزیہ کیا جائے۔ پاکستان بھی کئی مقامی بولیوں کا ملک ہے۔ ایک تجزیہ کیمطابق یہاں تقریباً قابل ذکر پچیس بولیاں مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ اردو ہماری قومی اور انگریزی ہماری دفتری زبان ہے۔ کراچی میں اردو اور اندرون سندھ سندھی زبان مروج ہے اردو اور سندھی زبان کے تعصب نے نئے نئے سیاسی گروہ پیدا کیے اور آج تک زبان کے بنیادی تعصب کی بدولت اپنی ہی قوم کے ہزاروں نوجوان بلاوجہ قتل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی ایک دوسرے کے متعلق تعصب پروان چڑھ رہا ہے جو آنے والے دور میں ہند‘ روس اور برطانیہ جیسی صورت حال پیدا کر دے گا۔ پس چہ باید کرد ای اقوام شرق کا اقبالی نسخہ فوراً استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

Source : https://www.nawaiwaqt.com.pk/07-Mar-2015/366699