ایک نئے قومی سیاسی ڈھانچے کی ضرورت (ڈاکٹر مجاہد منصوری)

پاکستان کا 70سال میں بننے والا موجودہ قومی سیاسی ڈھانچہ فقط بیمار اور مطلوب ڈلیوری کی صلاحیت سے محروم ہی نہیں، تباہ کن بھی ہے۔ اس نے پاکستان کے سیاسی و اقتصادی استحکام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ غلطیوں سے سیکھنے اور اصلاح کی صلاحیت سے بھی عاری ہے۔ یہ ثابت شدہ کیس ہے کہ اس کے اجزائے ترکیبی حصہ بقدر جثہ بدنیتی اور مکاری سے ارتقا سے متصادم رہے۔ لہٰذا ان کے پیدا کئے گورننس کے اپنے بگاڑ سے جو حکومتیں ڈگمگاتی ہوئی جلد از جلد ختم ہوتی رہیں، وہ ہی اس کی ذمہ دار کیونکہ برسراقتدار آنے پر جاری مدت کے پہلے وسط میں کوئی نہ کوئی بنیادی قدم تو اٹھائیں جوملک کے سیاسی وجمہوری عمل کو نتیجہ خیزبناتے، جیسے الیکشن کو کوالٹی الیکشن بنانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایمپاورڈ کرنے کااقدام، ایسے کے پولنگ کا اعتبارووٹرز میں بڑھتا، انتخابات بمطابق آئین کو یقینی بنانے کے لئے کوئی قانون سازی، بے تحاشا اور انتہائی دیدہ دلیری سے بھاری بھرکم کرپشن کی مکمل بیخ کنی نہ سہی زیادہ سے زیادہ حوصلہ شکنی کرنے والی قانون سازی عوام کو پینے کے قابل پانی کی آسان تر فراہمی اور ہربچے کو یقینی خواندہ بنانے کے لئے کوئی قانون سازی یا موجود پریقینی عملدرآمد، ای گورننس کو امور حکومت خصوصاً روزمرہ پبلک افیئرز کو عوام کےلئے آسان تر بنانے اور ان کو نپٹانے کے لئے پبلک شیئر کا کوئی قدم۔ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے کے لئے اقدامات سرکاری میڈیا سے غیر متنازع قوم کی تعلیم عامہ اور جدید سماجی تربیت اورگرومنگ غریب ترین طبقے کی خود کمانے کھانے کی کیپسٹی کی کوئی (اس میں پنجاب ٹیوٹا پراجیکٹ کے حوالے سے ضرور کوئی کام ہوا) ملک کے پسماندہ ترین علاقوں کی حالت بدلنے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کےتعاون اور انہیں تعاون فراہم کرتے ہوئے کوئی قومی پالیسی، قومی اقتصادیات کے سنبھالے کی کوئی مخصوص اسٹریٹجی بنیادی سہولتوں کی ممکنہ حد تک فراہمی کا کوئی فلاحی پیکیج۔ ترقیاتی عمل کے حوالے سے سماجی ترقی کے مختلف شعبوں میں عوام کی نشاندہی اور شدید ضرورت کے حوالوں سے ترجیحات کی تیاری کی کوئی فہرست۔ حکومتیں اور برسراقتدار ہماری سیاسی و علاقائی جماعتیں اس انتخابات ایجنڈے پر حکومتی عمل شروع کرتے ہی کوئی نہ کوئی پالیسی و قانون سازی کرتیں تو ان کی گورننس کا یہ عالم کبھی نہ ہوتا کہ یہ اتنی نحیف اور گلٹی ہوتیں کہ کوئی ادارہ ان کے کاموں میں مداخلت کے قابل ہوتا اور خود حکومتی ادارے اتنے بحران میں آجاتے کہ حکومت انہیں ختم کرنے اور مفت حوالے کرنے کے لئے تیارہوتیں۔ جیسا کہ حال ہی میں وزیر مملکت برائے خزانہ جناب مفتاح نے پیشکش کی ہے کہ قرضوں کی ذمہ داری کے ساتھ جو پی آئی اے لینے کے لئے تیارہو، اسے اسٹیل ملز مفت۔
اس بحرانی کیفیت، بیمار حکومتی رویے اور بدنیتی کی بڑی ذمہ داری موقع ملنے پرہر دو روایتی جماعتیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہی رہی ہیں۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کی اہلیت، اخلاص اور نیت جب ٹیسٹ ہوگئی جب انہیں اپنے اتحاد کے باعث بالآخر ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے خیبرپختونخوا (تب صوبہ سرحد) کی حکومت ملی تو ان کی گورننس مایوس کن رہی۔
گزشتہ70 سالوں کے سیاسی وجمہوری عمل اور آمرانہ و نیم آمرانہ ادوار کے اجتماعی رویے، بیمارسوچ، غالب ذمہ داری اور کبھی کچھ ذمہ داری (جیسےآئین 1973بنانے یاایٹمی طاقت بننے کے ہدف میں کامیابی۔ اب دہشت گردی پر قابو پانے کوبھی اس میں شامل کرسکتے ہیں) کے بعد ہمارا جو موجودہ قومی ڈھانچہ الیکشن 2008تک موجود تھا، اس نے ملک کومسلسل نقصان ہی پہنچایا۔ خصوصاً بنیادی عوامی مفادات اور ان کی مجموعی اقتصادی سماجی حالت کے حوالے سے۔
الیکشن 13ء تک اتنا ضرور ہوا کہ پی ٹی آئی جو اپنے قیام کے دو سال بعدالیکشن 96ء میں ملک بھر سے انتخاب میں حصہ لے کر ایک نشست لینے میں بھی کامیاب نہ ہوئی تھی، وہ ٹھیک ٹھاک پارلیمانی حیثیت قائم کرکے تیسری بڑی قومی پارلیمانی فورس بن گئی۔ اسٹیٹس کو کی موجود اورجاری و ساری بڑھتی قوت کے عمل میں یہ اس پر ضرب کاری تھی۔ پارلیمانی امور کے تجربے اور صلاحیت سے محروم ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی، پی پی کے مقابل ملک کی سب سے بڑی، روایتی سیاسی اور حکومتی طاقت نواز حکومت، شریف فیملی اور ن لیگی حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن ثابت ہوئی۔ عمران خان کے مجموعی سیاسی ابلاغ ، مطلوب و متعلقہ بھی (اور بے تکے بھونڈے بھی) اور تبدیلی کے زورداربیانیے نے ملک بھرکے نوجوانوں اور اسٹیٹس کو کی روایتی جماعتوں سے مایوس اوربیزار شہریوں کو پی ٹی آئی کا تائیدی و حمایتی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً پاناما لیکس کے تناظرمیں مطلوب احتسابی عمل کے لئے سرگرم تعاقب سے ہدف حاصل کرکے بطور اپوزیشن لیڈر عظیم کامیابی حاصل کرلی، جواب جاری وساری اور اسٹیٹس کو کے لئے پہلا، بڑا اور نتیجہ خیزخطرہ بن چکا ہے۔
گویا الیکشن 13ء کے بعد پی ٹی آئی کےایم کیو ایم کی جگہ تیسری پارلیمانی قوت بننے روایتی سیاسی قومی دھارا تبدیل ہونے لگا۔ ایک چھوٹے صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی بھی اس نئی جماعت کی بڑی کامیابی تھی، جس میں اس نے خیبرپختونخوا میں اےاین پی اور جمعیت علما اسلام (ف) جیسی روایتی سیاسی قوتوں پرضرب لگا کر انہیں کمزورکردیا۔
اب سینیٹ کی سربراہی کے انتخابات میں بلوچستان سے جواں سال سیاسی قوت تشکیل دینے کی حوصلہ افزا کامیابی، کراچی میں ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کاعمل اور ان سب کے متوازی شریف حکمران خاندان کے خلاف اب تک آئینی و قانونی (اصل میں احتسابی) عمل کے اب تک کے نکلنے والےنتائج گورننس میں احتساب و حساب کی بنتی جگہ وہ حالات پیدا کر رہا ہے جس میں روایتی قومی سیاسی دھارے کی آلودگی کم تر ہو کر ایک نیا مطلوب قومی سیاسی دھارا تشکیل پا سکتا ہے۔ اس کا بہت بڑا انحصار پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی پی اوربلوچستان کی تبدیل ہوتی سیاسی قیادت و قوت کی سوچ واپروچ، حکمت سیاسی ویژن، حقیقت پسندی اور بروقت صحیح فیصلہ سازی پر ہے۔ ن لیگ کی تو تمام تر تگ و دو ہی اسٹیٹس کو کو بچانے کی ہے۔ اقتدار کو خاندان میں ہی رکھ کر میاں صاحب اپنے نئے نظریے اور حریت پسندی کے دعوئوں کی مکمل نفی بھی خود ہی ساتھ ساتھ کررہے ہیں۔ بہرحال نئے قومی تغیر پذیر قومی سیاسی دھارے کی ضرورت تو ناگزیر ہوگئی دیکھیں یہ کس رفتار سےکب بنتا اور الیکشن 18ءکس حد تک اسے پورا کرتے ہیں۔

اب سینیٹ کی سربراہی کے انتخابات میں بلوچستان سے جواں سال سیاسی قوت تشکیل دینے کی حوصلہ افزا کامیابی، کراچی میں ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کاعمل اور ان سب کے متوازی شریف حکمران خاندان کے خلاف اب تک آئینی و قانونی (اصل میں احتسابی) عمل کے اب تک کے نکلنے والےنتائج گورننس میں احتساب و حساب کی بنتی جگہ وہ حالات پیدا کر رہا ہے جس میں روایتی قومی سیاسی دھارے کی آلودگی کم تر ہو کر ایک نیا مطلوب قومی سیاسی دھارا تشکیل پا سکتا ہے۔ اس کا بہت بڑا انحصار پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی پی اوربلوچستان کی تبدیل ہوتی سیاسی قیادت و قوت کی سوچ واپروچ، حکمت سیاسی ویژن، حقیقت پسندی اور بروقت صحیح فیصلہ سازی پر ہے۔ ن لیگ کی تو تمام تر تگ و دو ہی اسٹیٹس کو کو بچانے کی ہے۔ اقتدار کو خاندان میں ہی رکھ کر میاں صاحب اپنے نئے نظریے اور حریت پسندی کے دعوئوں کی مکمل نفی بھی خود ہی ساتھ ساتھ کررہے ہیں۔ بہرحال نئے قومی تغیر پذیر قومی سیاسی دھارے کی ضرورت تو ناگزیر ہوگئی دیکھیں یہ کس رفتار سےکب بنتا اور الیکشن 18ءکس حد تک اسے پورا کرتے ہیں۔

Source : https://cnnpak.tv/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%88%D8%A7%DA%A9/