پنجاب میں موروثی سیاست کی نیرنگیاں

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلٰی شہباز شریف کی طرف سے صوبے کے اہم معاملات کی ذمہ داریاں اپنے بیٹے کو سونپے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھرملک میں موروثی سیاست کے حوالے سے زبردست بحث شروع ہو گئی ہے۔

default

پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کی سربراہی میں پبلک افیئرز یونٹ کے نام سے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی کو امن و امان، صوبائی اسمبلی کے معاملات اور ترقیاتی امور کے علاوہ تنازعات نمٹانے کی بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ چھ ارکان پر مشتمل یہ کمیٹی گڈ گورننس، سرکاری خدمات کی فراہمی اور عوامی شکایات کے حل سے متعلقہ امور میں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاونت کرے گی۔

اگرچہ رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف صوبائی اسمبلی کے ممبر نہیں ہیں لیکن ان کی سربراہی میں بنائی جانے والی کمیٹی (جس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان بھی شامل ہیں) پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران کورم کو یقینی بنانے، اسمبلی امور پر نظر رکھنے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔

شہباز شریف سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ اُن کے بڑے بھائی نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیںشہباز شریف سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ اُن کے بڑے بھائی نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں

سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ کمیٹی منتخب نمائندوں کے ذریعے انفراسٹرکچر، معاشی، سماجی اور تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کرنے اور اس سلسلے میں ہدایات جاری کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔ کمیٹی اپنے معمول کے اجلاس آٹھ کلب روڈ پر منعقد کرے گی تاہم یہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دفتر استعمال کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شریف فیملی کے متعدد افراد اس وقت صوبے اور مرکز میں اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف، پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی اور پنجاب کے صوبائی وزیر بلال یاسین بھی شریف فیملی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ میاں نواز شریف کے داماد اگرچہ کوئی طویل سیاسی پس منظر نہیں رکھتے لیکن وہ بھی نون لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی نظام کی بہتری کے لیے کوشاں ایک غیر سیاسی تنظیم “جاگو تحریک” کے بانی قیوم نظامی کہتے ہیں کہ شریف فیملی میں بہت سے عہدے تقسیم کرنے کے بعد اب حمزہ شہباز شریف کا “ڈپٹی چیف منسٹر” بنا دیا جانا ایک غیر جمہوری اقدام ہے کیونکہ جمہوریت اختیارات شیئر کرتی ہے۔ ان کے بقول سیاسی عہدوں اور اختیارات پر ایک خاندان کی اجارہ داری قائم کر دینا جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کی نفی ہے۔ ان کے مطابق ایسا اقدام پاکستانی آئین کے بھی خلاف ہے۔ مزید یہ کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستانی مسلمانوں نے ہندوؤں کی اجارہ داری کے خلاف ایک ایسا ملک حاصل کرنے کی بات کی تھی، جس میں سب کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں، ایسے میں ایک خاندان میں اختیارات اور عہدوں کا ارتکاز سیاسی کارکنوں کی ترقی کے دروازے بند کرنے کے بھی مترادف ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کئی کلیدی عہدوں پر اپنے بھانجے سمیت متعدد قریبی عزیزوں کو فائز کر رکھا ہےوزیر اعظم نواز شریف نے کئی کلیدی عہدوں پر اپنے بھانجے سمیت متعدد قریبی عزیزوں کو فائز کر رکھا ہے

پاکستان کے ایک معروف صحافی اور سنیئر تجزیہ کار محمد مالک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستانی جمہوریت مغربی جمہوریت سے مختلف ہے، اس لیے حمزہ شہباز کی نئی ذمہ داریوں کے فیصلے کو بھی پاکستانی معاشرے کے حالات کے تناظر میں ہی دیکھنا ہو گا۔ مالک کے بقول یہ فیصلہ کوئی انہونی بات نہیں ہے:’’اس ملک میں ایک وصیت کے ذریعے پیپلز پارٹی آصف زرداری کو مل گئی، جمیعت العلمائے اسلام ف کو دیکھ لیجیے، مولانا کے بھائی، بیٹے اور دیگر رشتہ دار نمایاں نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کی طرف نگاہ دوڑائیں تو محمود خان اچکزئی جیسے اصول پسند سیکولر سیاست دان کو بھی صوبے کی گورنری کے لیے کوئی پارٹی کارکن نہیں بلکہ اپنا سگا بھائی ہی ملا، نون لیگ، اے این پی، قاف لیگ اور کئی دیگر سیاسی جماعتوں کی صورت حال بھی مختلف نہیں ہے۔‘‘

محمد مالک کہتے ہیں، کہ حمزہ شہباز کی کارکردگی اس لیے بہتر رہے گی کہ اس کو شہباز شریف کا اعتماد حاصل ہے، اس کی بات نہ ماننے والے سرکاری افسر کی اطلاع شہباز شریف کو دینے کے لیے حمزہ کو کسی اپوائنٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ان کے بقول یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے ادارے مضبوط نہیں ہوتے لیکن پاکستانی جمہوریت کو بہتر ہونے میں ابھی بڑا وقت لگے گا، ’کیونکہ پاکستانی معاشرہ مرکزیت پسند ہے، گھر میں والد کا حکم چلتا ہے، گاؤں میں چوہدری کی بات مانی جاتی ہے اور سیاسی جماعتوں میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی بات عام طور پر ورکروں کے لیے حرف آخر سمجھی جاتی ہے،یہاں تو سیاسی جماعتوں یا ان کے دھڑوں کے نام بھی پارٹی لیڈروں کے نام پر رکھے جاتے ہیں‘۔ شاید اسی لیے محمد مالک یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک پاکستانی سماج تبدیل نہیں ہوتا، یہاں سیاسی تبدیلیوں کی توقع رکھنا بھی مناسب نہیں ہو گا۔

Source : http://www.dw.com/ur/%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%88%D8%B1%D9%88%D8%AB%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA/a-17115056