تحریک لبیک، اکیسویں صدی کا ’فرینکنسٹائن‘

حروں کے روحانی پیشوا اور فوج سے قریبی تعلق کے دعویدار سندھی بزرگ سیاستدان پیر صاحب پگاڑا کہا کرتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے تین ضلعے کرتے ہیں، راولپنڈی، جہلم اور چکوال۔

یہ ذرا گہری بات ہے اور بہت سے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے لیکن اگر اسے انتخابی سیاست تک محدود کر دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ چکوال نے تو اپنا فیصلہ ایک بار پھر ن لیگ کے حق میں دے دیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی لوگ پی پی ۔20 کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو اپنے قائد کی اس جارحانہ مہم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جو انھوں نے وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد سے ’مجھے کیوں نکالا‘ کے عنوان سے شروع کر رکھی ہے۔

چکوال مارشل بیلٹ کے نام سے مشہور پنجاب کے خطے پوٹھوہار میں واقعہ ہے جسے پاکستان فوج کا گھر کہا جاتا ہے کیونکہ اس علاقے میں شاید ہی کوئی گلی محلہ ایسا ہو جہاں سے کوئی فرد فوج کی ملازمت نہ کرتا ہو۔

ایسے میں نواز شریف کا وہ سیاسی مقدمہ جسے وہ خود نظریہ اور ان کے ساتھی بیانیہ قرار دیتے ہیں، ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جاتا ہے۔ گو کہ نواز شریف آج کل عدلیہ پر زیادہ گرج برس رہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیانیے کا اصل ہدف فوجی اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔

اس بیانیے کے ساتھ وہ چکوال بھی گئے اور ضمنی انتخاب میں اپنے امیدوار کے بجائے زیادہ زور اپنے ’نظریے‘ کے پرچار پر رہا۔ اس کے بعد اگر ان کے امیدوار نے پہلے سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی سمیٹی ہے تو کیا یہ مارشل بیلٹ کی جانب سے نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف نظریے کی توثیق ہے؟

چکوال کی سیاست پر نظر رکھنے والے اس دعوے سے کلی طور پر اتفاق نہیں کرتے۔ پاکستان کی انتخابی سیاست کے ماہر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ چوہدری حیدر سلطان کی کامیابی میں بڑا حصہ مقامی سطح پر ہونے والے سیاسی جوڑ توڑ کا ہے۔

’چکوال میں دو سیاسی گروہ بہت اہم ہیں۔ ایک سابق ناظم سردار غلام عباس اور دوسرا سابق وفاقی وزیر مجید ملک کا۔ اس انتخاب میں یہ دونوں گروہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کر رہے تھے اس لیے ان کی جیت تقریباً یقینی تھی۔‘

اس کے ساتھ ہی سہیل وڑائچ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں۔ ’یہ کہنا بھی درست ہے کہ نواز شریف کا جو (فوج مخالف) بیانیہ ہے، چکوال کے لوگوں نے اسے مسترد بھی نہیں کیا۔‘

مسلم لیگ ن یہ نشست 2013 کے عام انتخابات میں بھی جیت چکی ہے۔ اس وقت حیدر سلطان کے والد چوہدری لیاقت علی خان ن لیگ کے امیدوار تھے جنھوں نے باسٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔ اس بار ان کے بیٹے نے پچہتر ہزار سے زائد ووٹ لیے۔ ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ میں بھی اضافہ ہوا جو بتیس ہزار سے بڑھ کر پینتالیس ہزار ہو گئے۔

اعداد کے اس گورکھ دھندے میں جو عدد سب سے اہم ہے وہ سولہ ہزار کا ہے۔ یہ ان ووٹوں کی تعداد ہے جو اس الیکشن میں خادم رضوی کی تنظیم تحریک لبیک یا رسول نے حاصل کیے ہیں۔

چند ماہ قبل لاھور کے ضمنی انتخاب کے دوران سامنے والی اس تنظیم نے لاھور میں دس ہزار کے قریب ووٹ لیے تھے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ یہ ووٹ دراصل ن لیگ کے تھے جو اس بریلوی طبقے سے تعلق رکھنے والی تنظیم نے پنجاب کی اس سب سے مقبول جماعت سے چھینے تھے۔

ن لیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پنجاب کا بریلوی ووٹر اسی جماعت کو ووٹ دینا پسند کرتا ہے لیکن تحریک لبیک کی صورت میں بریلوی مکتبہ فکر کی جماعت اس لیے ’معرض وجود میں لائی گئی ہے‘ کہ وہ ن لیگ کا ووٹ توڑ سکے۔

سہیل وڑائچ کے بقول تحریک لبیک نے لاھور کے ضمنی انتخاب میں یہ کام تو کر دکھایا لیکن چکوال کے معرکے میں یہ داؤ الٹا پڑ گیا۔

’یہ معاملہ انیسویں صدی کے سائنس فکشن کے کردار فرینکنسٹائن کی طرح ہے جو بلآخر اپنے مؤجد پر ہی حملہ آور ہو گیا تھا۔ ہو سکتا ہے تحریک لبیک ن لیگ کے لیے بنائی گئی ہو لیکن اس بار اس کا نقصان پی ٹی آئی کو ہوا ہے اور آئندہ دیگر قومی جماعتوں کو بھی ہو سکتا ہے۔‘

Source : http://dunyadaily.com/?p=1266