کیا پانچ دریائوں کی سرزمین پاک ہے

کیا پاکستان کے تمام گندے انڈے کراچی ہی میں پائے جاتے ہیں؟ ڈاکٹر عاصم حسین نے’’ اعلیٰ فنانس‘‘ کے شعبے میں بلندنام پایا، لیکن پھر اس حقیقت سے مفرممکن بھی نہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پانچ دریائوں کی سرزمین پر اس شعبے کے چیمپئن نہیں پائے جاتے ؟ وہ افراد، جنہیں ہم بڑے سیاسی رہنما قرار دیتے ہیں، وہ اُس وقت کیا تھے جب جنرل ضیا اور گورنر جیلانی نے اُنہیں انگلی پکڑکر سیاسی راہوں پرچلنا سکھایایہاں تک کہ وہ سب کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے؟ اگر ان میں کوئی احسان مندی کا جذبہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ ہر روز اُن مرحومین( جنرل ضیا اور گورنر جیلانی) کی قبروں کی طرف منہ کر کے دن میں کم از کم ایک مرتبہ عقیدت کا اظہار کریں۔ آج ان کی قدرو منزلت کے کیا کہنے! ان پر مایہ دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ انہیں پاکستانی ’’بل گیٹس‘‘ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ یا کیا ان کی مالی کامیابی میں سیاست کے علاوہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما تھے؟
سابق صدر ، آصف علی زرداری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فنانس منسٹر کا اعترافی بیان موجود ہے جس میں اُنھوں نے حکمران خاندان کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اس پر رد ِعمل ظاہر کرتے ہوئے خاندان کے ایک دیرینہ قانونی معاون نے غصے بھرے لہجے میں الزام کی تردید

اس وقت احتساب کی لہروں کا رخ کراچی کی طرف ہے۔ پہلے ایم کیو ایم چیخ رہی تھی، اب پی پی پی کی باری ہے۔ ’مفاہمت‘ کی قربان گاہ پربھی یہی ڈرامہ دہرایا گیا تھا۔ اُس وقت پی پی پی خاموش رہی۔ تاہم اب رینجرز آپریشن کا شکریہ کہ اس کی تمازت پی پی پی کے پروں کو جلانے، اسے چیخنے پر مجبور بھی کررہی ہے۔ ان حالات میں حکمران خاندان پر منی لانڈرنگ کاالزام لگایا گیا۔ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کے درمیان کیا ہوتا، یہ ان کا معاملہ ہے، عوام کے لئے جو بات اہم وہ کراچی آپریشن کی ساکھ ہے۔ کراچی کے عوام نے مجموعی طور پر اس کا خیر مقدم کیا۔ اس کی وجہ سے کراچی کے زمینی حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگئے،خوف کے سائے دورہورہے ہیں، لیکن اگر قانون کے لمبے ہاتھ صرف کراچی تک ہی محدود رہے اور پنجاب تک نہ پہنچے تو، جیسا کہ پاکستان کی داغدار تاریخ میں بارہاایسا ہوا ہے ، یہ آوازیں آنے لگیں گی کہ انصاف کی تلوار پانچ دریائوں کی سرزمین کی طرف رخ نہیں کررہی۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ مالی بدعنوانی کرنے والے اپنے سراغ مٹادینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ انتہائی بدعنوان افراد کے رجسٹر چیک کریں تو کوئی خامی دکھائی نہیں دے گی۔ ساراکام انتہائی صفائی سے ہوا ہوگا۔ لوٹ مار کرنے والے نوابوں کی خدمت کرنے اور ان کے راستے کوسیدھا رکھنے کے لئے چارٹرڈ اکائونٹنٹ اور ماہروکلا موجود رہتے ہیں۔ وہ ان کے پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتے۔ ایک وقت تھا جب اچھی ساکھ والے وکلا کوشش کرتے تھے کہ وہ مالی بدعنوانی کرنیو الے افراد کے کیس ہاتھ میں نہ لیں، لیکن پیسے کی پوجا کے اس دور میں اقدار فراموش کردی گئی ہیں۔ اب پیسہ ہی سب کچھ ہے، اس لئے سب چلتا ہے۔ آج کے سرکردہ وکلا کو دیکھیں، چاہے وہ انسانی حقوق کے سیمیناروں میں قوم کو اخلاقیات اور قانون کی حکمرانی کے جتنے بھی لیکچرز دیتے رہیں، وہ بھاری فیس کے عوض ہرقسم کے کلائنٹ کاتحفظ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ 
پی پی پی پر مبینہ بدعنوانی کا الزام کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اُس کے قائدین نے ان معاملات کو کبھی چھپانے کی کوشش کی ۔ یہ دراصل ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ پی پی پی کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے رہنما بدعنوانی کے بارے میں ’’دیانت دار‘‘ تھے۔ یعنی کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی کو اپنی شرافت سے دھوکہ دیا۔ دوسری طرف ضیا دور سے لے کر اب تک ہم یہ کام ماہرین کی طرف سے پیشہ ورانہ بنیادوںپر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ برگزیدہ ہستیاں اپنے کاموں کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑتیں۔ احتیاط اور صفائی کے ساتھ کیے ہوئے کام کے باوجود کچھ کھلے راز بھی ہیں۔ ان پر توجہ کیوں نہیں دی جارہی؟ قطر گیس ڈیل پر اتنا ابہام کیوں پایا جاتا ہے؟ کیا کسی کے پاس اعدادوشمار ہیں؟آئے روز وزیر برائے توانائی کوئی مبہم سی وضاحت پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وضاحت سے معاملات پر چھائی ابہام کی فضا مزید گہری ہوجاتی ہے۔ 
لاہور اور اسلام آباد کی میٹرو کو بدصورتی کاعالمی انعام مل سکتا ہے اگر کوئی ایسا مقابلہ ہو۔ ان پر صرف کی گئی رقم ، جو من پسند ٹھیکیداروں کی جیب میں گئی ، کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ اس کے بعد یہ پتہ چلنا بھی ضروری ہے کہ نیشنل ایگری کلچر ریسرچ کونسل کی بارہ سو ایکٹر زمین پر کس کی نظر یں ہیں اور کون اسے رہائشی کالونی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے؟اس اسکینڈل پر سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس لے لیا ورنہ پریس میں ہونے والے احتجاج کے باوجود سی ڈی اے اس زمین کو کسی ’’حقدار‘‘ کے سپرد کرنے پر تلاہوا تھا۔ اس کے بعد اصغر خان کیس کے بھوت کس بوتل میں بند ہیں؟ آئی ایس آئی سے رقم لینے والے سیاست دانوں کے گروہ سے باز پرس کب ہوگی؟کیا کسی جمہوری ملک میں اس سے بڑا بھی کوئی اسکینڈل ہوسکتا ہے؟سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود اس میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس کے گرد ایک گہری خاموشی کی دیوار اٹھادی گئی۔اس کے اندر جھانکنے کی بھی کسی کو اجازت نہ ملی۔ بڑی شخصیات اس میں ملوث تھیں۔انھوں نے آئی ایس آئی سے نوٹوں سے بھرے بریف کیس وصول کیے تھے۔ ان میں سے کچھ کو پانچ، کچھ کو دس اور ایک کو بائیس اور 33لاکھ روپے ملے تھے۔ یہ ہے ہمارے رہنمائوں کی قدرو قیمت!
ماڈل ٹائون فائرنگ کیس، چودہ افراد، جن میں دوخواتین بھی شامل تھیں، کی ہلاکت اور درجنوں زخمی، پر بھی کوئی کارروائی نہیں۔ عقل حیران ہے کہ کسی ملک میں ایسا واقعہ بھی پیش آتا ہے کہ فائرنگ سے اتنا جانی نقصان ہواور کسی کو پتہ ہی نہ ہو کہ یہ کیا ہوا ہے؟اس کیس میں انصاف کی تیز تلواربے نیام کیوں نہ ہوئی؟ا س کی تحقیقات ابھی کس مرحلے پر ہیں؟جسٹس باقر علی نجفی کی رپورٹ کسی تاریک دراز میں ڈال دی گئی، وہاں سے کب برآمد ہوگی؟
کراچی آپریشن کو لیڈ کرنے والی کراچی اپیکس کمیٹی ہے جس میں کور کمانڈر کراچی بھی موجود ہوتے ہیں۔ تاہم کور کمانڈر کی موجودگی صرف ایک اخلاقی تقویت کے لئے ہوتی ہے، فوج اس آپریشن میں فعال نہیں۔ کیا لاہور میں ایسی کوئی کمیٹی نہیں؟اگر ایسی کوئی کمیٹی ہوتی تو یقینا ماڈل ٹائون کیس پر آنکھیں اس طرح بند نہ کرلی جاتیں۔ یا پھر بے گناہ شہریوں کا قتل کوئی معانی نہیں رکھتا؟ہوسکتا ہے کہ یہ صورت ِحال عارضی ہو۔ پہلے فوج شمالی وزیرستان گئی، اس میں الجھنے کی وجہ سے کراچی میں ہونے والی دہشت گردی پر ہاتھ نہ ڈالا جاسکا۔ اس کے بعد کراچی کی باری آئی۔ اس میں لیاری، نائن زیرو اور بلاول ہائوس، کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ تو کیا یہ آپریشن کراچی تک ہی محدود رہے گا؟ کیا یہ وادی مہران سے علی ہجویری کے شہر کا بھی رخ کرے گا؟ غیر جانبداری کا تقاضا یہی ہے کہ احتساب کی لہر پنجاب کا بھی رخ کرے۔