پنجاب میں پروٹین کے حصول کا چیلنج

 ایاز امیر

ہم دنبے سے مٹن جبکہ گائے اور بھینس سے بیف حاصل کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے سب سے خوش خوراک صوبے ، پنجاب، کے دستر خوان پر تیزی سے اپنی جگہ بنانے والے گدھے کے گوشت کو کیا کہا جائے؟پنجاب کی چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں کے ماہرین ِ لسانیات اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ آٹھ برسوںسے اگر بہت اعلیٰ نہیں تو بھی ایک اچھی خاصی حکومت کام کررہی ہے۔ اگراس میں1997-99 کا دورانیہ ، جب پنجاب کے موجودہ وزیر ِاعلیٰ کے پاس یہی منصب تھا، بھی شامل کرلیں تو یہ عرصہ ایک عشرے سے بڑھ جاتا ہے۔ اگر ہم ضیا دور کا بھی شمار کرلیں تو موجودہ حکمران کم وبیش تیس برس سے پنجاب کے حکمران ہیں۔ یہ ایک قومی ریکارڈ ہے۔ کوئی دولتانہ، کوئی نواب آف کالا باغ ،کوئی کھر طوالت ِ اقتدار میں ان کا قریب ترین حریف بھی نہیں۔ اس طویل دور ِحکومت نے ہمیں کیا دیا ؟ ایک موٹر وے، دو میٹرو اور، دل وغیرہ تھام کے بیٹھیں… گدھے کا گوشت۔ صوبے کے ذی شعور شہری سرکاری اسپتالوں اوراسکولوں کی حالت ِزار، پولیس اور ریونیو ڈپارٹمنٹ میں ہونے والی بدعنوانی ، امن وامان کی ناقص صورت ِحال، مہنگے اور نمائشی منصوبوں پر وسائل کا ضیاع اور حکمرانوںکی مہنگی لیکن بے کار ترجیحات سے نالاںتھے ، لیکن وہ خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کہ اُنہیں گدھے کے گوشت(کھانے) کے بحران کا

سامنا کرنا پڑے گا ۔
عمومی رائے یہی ہے کہ گوشت کے کاروبار میں صفائی نہیں ہوتی۔ مذبحہ خانو ں میں عام افراد داخل نہیں ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بارکسی مرغی خانے میں جاکر مرغیوں کی پرورش کی جملہ مساعی کو ایک نظر دیکھ لے تو زندگی بھر ان کا گوشت اور انڈے کھانے سے تائب ہوجائے۔ اسی طرح کسی مذبحہ خانے میں جانے والا شخص زندگی بھر کے لیے سبزی خور بن جائے گا۔ ذبح شدہ جانوروں کی رگوں میں پانی داخل کرکے اُن کا وزن بڑھاناہمارے ملک میں ایک معمول ہے۔ ہمارے اسلام کا تعلق زیادہ تر ظاہری رسوم سے ہے، لیکن جب عمل کی باری آئے تواس میں ہم کافی لچک پیدا کردیتے ہیں ۔ اگر جانورکے گوشت میںوزن بڑھانے کے لیے صرف پانی ہی داخل کیا گیا ہو تو بھی غنیمت، لیکن اب دھماکے دار انکشافات ہورہے ہیں کہ صوبے بھر میں مضر ِ صحت گوشت فروخت ہورہا ہے، جبکہ پنجاب کی گڈ گورننس فلائی اوور اور سگنل فری کاریڈور بنانے میں مصروف ۔ ان منصوبوں میں محویت کا یہ عالم کہ اپنی ناک کے نیچے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اب معاملات سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان ہنسے یا روئے۔ پتہ چلا ہے کہ گوشت میں پانی داخل کرنے اور ناقص گوشت کی فروخت کے علاوہ گدھے کے گوشت کی نہایت صحت مند معیشت روبہ ترقی ہے۔ گوشت کے رسیا افراد خبردار رہیں… اگلی مرتبہ جب وہ کباب یا بالٹی گوشت کا آرڈر دیں تو ہوسکتا ہے کہ اُنہیں توقع سے زیادہ پروٹین سے بھرپور گوشت مرحمت کیا جائے ۔ کچھ عرصہ پہلے یورپ میں گھوڑے کے گوشت کا اسکینڈل سامنے آیا۔ یورپ کی سپرمارکیٹوں میں گھوڑے کے گوشت کو بیف کہہ کر فروخت کیا جارہا تھا۔ اس پر بہت شور مچا، اور تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ، اگر میری یادداشت ساتھ دے رہی ہے، وہ گوشت رومانیہ سے آیا تھا۔ کافی عرصہ پہلے جاپانی سفارت خانے میں لنچ کا اتفاق ہوا۔ لنچ کے بعد جب ہم مشروبات سے لطف اندوز ہورہے تھے توسفارت کار، جو اب یہاںسے جاچکے ہیں، نے مجھ سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ کیا مجھے پتہ چلا کہ ہم نے ابھی کیا کھایا ہے۔ میں نے جواب دیا ’’اسپیشل چکن؟‘‘ اُن کی آنکھوں میں ایک چمک سی کوند گئی ۔ جواب ملا…’’مینڈک کی ٹانگیں‘‘
ہم جانتے ہیں کہ مشرق ِ بعید میں کتے کا گوشت بہت رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ میں کچھ مخصوص مقامات پر آپ اپنی پسندکے سانپ کا ڈنر کرسکتے ہیں۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے سانپ کو نہایت نفاست سے باربی کیو کیا جائے گا یا پکایا جائے گا۔ بات یہ ہے کہ خوراک کے معاملے میں ہر کسی کی اپنی پسندو ناپسند ہوتی ہے، اس پر کسی کو جھگڑنے یا اپنی مرضی مسلط کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر کو ئی اپنے ذوق کا اپنا معیار رکھتا ہے۔ تاہم جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے تومشرق ِ بعید کی اشیائے خورد ونوش کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی چیز گدھے کا گوشت ہے۔ اس کا سہرا پنجاب کی گڈ گورننس کے سرجاتا ہے کہ یہ درخت کاٹنے، اہم شعبوں سے پیسہ نکال کربے کار فلائی اوور اور میٹرو بس سروس جیسے منصوبے بنانے اور اسی طرح کے دیگر مشاغل میں اس طرح مصروف رہی کہ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ پنجاب میں گدھے کے گوشت کی نفع بخش تجارت اپنے عروج پر ہے۔ گدھے کی کھالیں تو برآمد کی جاتی تھیں لیکن مردہ جانوروں کا گوشت صوبے بھر میں، جس میںصوبائی دارالحکومت، مشرق کا پیرس کہلانے والا لاہور بھی شامل ہے، سپلائی کیا جارہا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ مرغیوں کی خوراک آوارہ کتوں کے گوشت، خاص طور پر دموں، سے بنتی ہے۔ یہ کتے لاہور کی گلیوں میں عام پائے جاتے ہیں۔ لاہور ہی میں تیزاب سے دھلے ہوئے ادرک اور سرخ اینٹوں کابرادہ ملی پسی ہوئی مرچیں فروخت ہونے کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں۔
یہ ہے صورت ِحال مگر جمہوریت پر بات کریں تو ہمارا چہرہ غصے سے سرخ ہوجاتا ہے اور ہم سول ملٹری اختیارات میں عدم توازن پر چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ کیا اب فوج گدھوں کے گوشت کی فروخت پر بھی جنگ شروع کرے؟ کیا یہ معاملہ بھی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہو؟ ہمارے پاس منتخب شدہ حکومت موجود ہے۔ پنجاب اور مرکز میں اقتدار اُن افراد کے پاس ہے جو متعدد مرتبہ باریاں لے چکے ہیں لیکن اگر آپ ان کا ریکارڈ چیک کریں تو یہ گورننس اور ایڈمنسٹریشن کی اے بی سی بھی نہیں جانتے۔ ان کی تمام ترکارکردگی کا ارتکازادھر اُدھر موٹر وے اور فلائی اوور بنانے اور اپنے ذاتی کاروبار کو تحفظ اور فروغ دینے پر ہے۔ یہ ہماری قومی تاریخ کے کامیاب ترین سیاست دان ہیں، کسی بھی فوجی حکمران سے زیادہ اقتدار میں رہ چکے ہیں، لیکن تمام تر تجربات سے گزرنے کے بعد ان کا سیاسی فہم خالص، قدرتی اور نایاب۔
اب قوم کے سامنے مسائل ہیں۔ ریاستی اداروںمیں اصلاحات کون لے کر آئے گا؟ مدرسوں کی اصلاحات کی نگرانی کس کے سپرد ہوگی؟ سرکاری ا سکولوں اور اسپتالوں کو فنڈز کی کمی ، زرعی شعبے کی حالت ِ زار اور دیگر انتظامی معاملات کون دیکھے گا؟اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ جب انہیں دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا تھا تو ان کے پاس جواب ندارد۔ ان کے تذبذب کو دیکھتے ہوئے فوج آگے آئی اور اُس وقت سے لے کر اب تک فوج ہی تمام سوالوں کا جواب دے رہی ہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ دفاعی ادارے ہی تمام چارج سنبھال کر فیصلہ سازی اور قوم کی رہنمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ منتخب شدہ حکومت، جسے آگے بڑھ کر یہ تمام کام کرنے تھے اگر اس میں حوصلہ ہوتا، بے عملی کی تصویر بنی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ اس وقت کوئی آمر حکومت کا تختہ الٹنے کی نہ پلاننگ کررہا ہے نہ سازش، یہ سب حکومت کی نااہلی اور تذبذب کا ثمر ہے۔
یوم دفاع کی تقریب میں جنرل راحیل شریف کی تقریر سنیں یا پڑھ لیں،وہ آرمی چیف کم اور سربراہ ِ مملکت زیادہ دکھائی دیتے ہوئے تمام اہم امور پر بات کررہے تھے۔ اُنھوں نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے، افغانستان کے حالات پر تشویش، ہندوستان کو سخت وارننگ، کشمیر کے حل کی ضرورت اور پاک چین معاشی راہداری کی اہمیت پر بات کی۔مسلح افواج کو قربانیاں دینے پر سراہا گیا، دہشت گردی کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے پر میڈیا کے لیے بھی توصیفی کلمات ادا کیے گئے۔ تمام تقریر میں ’’ٹھوس سول ملٹری ایکشن‘‘ کا صرف ایک اور وہ بھی علامتی حوالہ تھا۔
میں اندرون ِسندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخواکے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن پنجاب میں، اور میر ا خیال ہے کہ کراچی میں بھی، عوام کے جذبات کا جھکائو فوج کی طرف ہے اور لوگ بدعنوانی کے خلاف بھی ایک کھلی جنگ چاہتے ہیں۔ سیاست دان امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی طرح یہ مرحلہ گزرجائے گا، لیکن تھوڑی بہت عقل رکھنے والے سیاست دان جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستانی طرز ِسیاست سے عوامی بیزاری پہلے سے کہیںزیادہ ہے۔ چنانچہ اس وقت پاکستان حال اور مستقبل کے درمیان کھڑا ہے۔ اس دوران آسمانی طاقتیں بھی اپنا کام کررہی ہیں۔ جسے تباہ کرنا ہو، اُسے پہلے احمق بنایا جاتا ہے۔ گدھے کے گوشت کی فروخت ایک سنگین معاملہ ہے ، لیکن یہ دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے کہ اس نے کس طرح ’’گڈ گورننس ‘‘ کے دعوئوں کو بے نقاب کردیا۔