دارالشکوہ ہر بار ہارتا کیوں ہے؟

 سہیل وڑائچ

شہر کے ہنگاموں سے دور آباد صحرائی دانشور محبّی رانا اعجاز نے نوابوں کے شہر بہاولپور میںبرصغیر کی تاریخ کا المیہ کچھ یوں بیان کیا ’’دارالشکوہ نہ ہارتا تو برصغیر کی تاریخ آج مختلف ہوتی‘‘ ایک فقرے پر مشتمل تاریخ کا یہ خلاصہ، اپنے اندر ایک جہانِ معنی رکھتا ہے۔ اس خیال نے میر ےلئے تازیانے کا کام کیا۔ دماغ میں فلم چلنے لگی اور بار بار یہ خیال آنے لگا کہ آخر برصغیر میں دارالشکوہ مسلسل ہار کیوں رہے ہیں؟ یورپ کی تاریخ میں بالکل الٹ ہوا۔ وہاں کے دارالشکوہ کو ایک بار شکست ہوئی، لوگوں نے تاریخ سے ایسا سبق سیکھا کہ تب سے لے کر اب تک یورپ میں دارالشکوہ مسلسل جیتتے آرہے ہیں۔ یوں یورپ ترقی کرتا آرہا ہے اور ہمارے دارالشکوہ کی ہر شکست کے بعد تنزلی کا سفر اور تیز ہو جاتا ہے۔
تاریخ کے جھروکے سے دیکھیں تو مغل شہنشاہ شاہجہاں ایک طرف لاہور میں شالامار باغ تعمیر کر وا رہا تھا تو دوسری طرف شاہی قلعے پر دنیا کی سب سے بڑی تصویری دیوارتیار کروارہا تھا۔ برصغیر میں امن اور چین کا دور دورہ تھا۔ شاہجہاں اور اس کی محبوب ملکہ ممتاز محل کا لخت جگر دارالشکوہ مغلیہ روایات کا بہترین وارث تھا۔ شاہجہاں کو ممتاز محل کی موت کا اتنا افسوس ہوا کہ اس کی یاد میں لافانی شاہکار تاج محل کھڑا کر دیا۔ شاہجہاں کا دوسراقابل فخر ورثہ

چشم فلک کو 360 سال پہلے 29اگست 1659ء کا وہ دن یاد ہے جب شاہجہاں کے ولی عہد دارالشکوہ اور اس کے شہزادے بیٹے سفیر الشکوہ کو ٹھگنے قد کی مادہ ہتھنی پر پھٹے پرانے کپڑے پہنا کر دلّی کی سڑکوں پر پھرایا گیا۔ نذر بیگ ننگی تلوار لہرائے ساتھ موجود تھا۔ لوگ رو رہے تھے۔ وہ فقیر اور درویش جو دارالشکوہ سے امداد لیتے تھے، ان کی سسکیاں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ مغلیہ دور کے مشہور غیر ملکی سیاح برنیئر نے جو اس واقعہ کا چشم دید گواہ تھا، لکھا ہے کہ ’’دلّی کامجمع اس طرح رو رہا تھا کہ جیسے ان کے اپنے خاندان پر کوئی آفت آگئی ہو۔‘‘ اورنگزیب چاہتا تھا کہ دارالشکوہ کی تذلیل ہو، اسی لئے گلیوں میں پھرایا مگر اگلے ہی روز اس کا ردعمل اس کے بالکل الٹ ہوا۔ 30اگست 1659ء کو دارالشکوہ کا ساتھ چھوڑ کر عالمگیر کا ساتھ دینے والا افغان جنرل ملک جیون جب اپنی مسلح سپاہ کے ساتھ دلّی کے بازار سےگزر رہا تھا تو فقیروں اور دکانداروں نے اس پر حملہ کردیا۔ گھروں کے چوباروں سے خواتین نے اس پر پتھرپھینکے، کئی نوجوانوں نے چاقو ایسے گھمائے کہ ملک جیون کے سپاہی زخمی کرڈالے۔ ایسا لگتا تھا کہ دارالشکوہ کی ہمدردی میں دلّی کےلوگ بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ ایسے میں شاہی پولیس نے ملک جیون اور اس کے ساتھیوں کو بچایا۔ اورنگزیب عالمگیر نے فوراً ہی اپنے بھائی دارالشکوہ اور بھتیجے سفیر الشکوہ کے قتل کے احکامات جاری کردیئے۔ خود بھائی کا کٹا ہوا سر منگوا کر دیکھا اور پھر اسے سر بازار لٹکانے کا حکم دیا تاکہ باغیوں کو عبرت ملے۔
بظاہر تو یہ کہانی360سال پرانی ہے مگر برصغیر میں عوام کے ہر محبوب رہنما اور بادشاہ کے ساتھ دارالشکوہ والا سلوک ہی ہوتا آیا ہے۔ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں عوام کے ہر منتخب وزیراعظم کا یہی حشر ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور مارشل لا کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ، دارالشکوہ کے واقعے کا ہی اعادہ تھا۔ اب بھی کچھ نہیں بدلا۔ آج کا دارالشکوہ نواز شریف ہے۔ مقدمات پر مقدمات ہیں، الزامات کا طوفان ہے۔ آنے والے دن سزائوں کے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ تھوڑی بہت بغاوت کی چنگاریا ں بھی سلگ اٹھیں لیکن اورنگزیبوںاور ریاست کی ظالمانہ طاقت کے سامنے عوامی طاقت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ دارالشکوہوں کو شکست ہونا برصغیر کا مقدر رہا ہے۔ عوام کی تقدیر تبھی بدلے گی جب کبھی دارالشکوہ جیتنا شروع ہوں گے۔
ہارنا دارالشکوہ کی تقدیر سہی، مگر آخر کچھ غلطیاں دارالشکوہ بھی تو ایسی کرتے ہیں کہ اورنگزیب کو جیتنے کا موقع دیتے ہیں۔ دارالشکوہ بھٹو نے اپنے نظریاتی اتحادی ولی خان کو اورنگزیب ضیاء کا ساتھی کیوں بننے دیا؟ دارالشکوہ نواز شریف نے اپنے سیاسی اتحادی زرداری کو ناراض کرکے مخالفوں کی طرف کیوں دھکیلا؟ وہ وقت کب آئے گا جب ہمارے دارالشکوہ اورنگیزیبوں سے بہتر گورننس کریں گے، بہتر منصوبہ بندی کریں گے اور ہر دفعہ ہار کر تاریخ کا حصہ بننے کی بجائے کب ایسی بھرپور جدوجہدکریں گے کہ آئندہ کوئی دارالشکوہ نہ ہارے؟ ہر بار مصالحت، مفاہمت اور درمیانی راستوں پر چلنے کی وجہ سے دارالشکوہ بینظیروں اور دارالشکوہ نوازوں کو مکمل جمہوریت کی منزل نہ مل سکی۔ اصل میں مکمل جمہوریت کی راہ میں آنے والی مصلحت، مفاہمت اور درمیانی راستہ ہی ہر بار دارالشکوہ کو ہراتا رہا ہے۔ دارالشکوہ اپنے آہن پوش دستے کو کڑی دھوپ میں کھڑا کرکے انہیں اپنے خلاف کرلیتا ہے اور ہمارے سیاسی دارالشکوہ اپنی بیڈگورننس اور اپنی جمہوری صفوں میں شگاف ڈالنے سے کمزور ہوجاتے ہیں اور پھر جب جنگ کا وقت آتا ہے تو اپنی انہی کمزوریوں کی وجہ سے اورنگزیب کا بازوئے شمشیر زن انہیں شکست دے ڈالتا ہے۔
دارالشکوہ کی کہانی میں عوام کا قصور بھی صاف نظر آتا ہے۔ وہ دارالشکوہ کی تذلیل پرملک جیون کے لشکر پر پتھر تو پھینکتے ہیں مگر اسے ہرا نہیں پاتے۔ بھٹو کی پھانسی پر خودسوزیاں تو کرتے ہیں مگر سوختہ سامانی سے کوئی انقلاب برپا نہیں کر پاتے۔ نواز شریف کے جلسوں میں گلے پھاڑ کر نعرے تو لگاتے ہیں مگر اس کی خاطر جیلیں نہیں بھرتے۔ مظلوم عوام نے دارالشکوہ کو ہارنے سے روکنا ہے تو نیم دلی سے نہیں بھرپور انداز سے سیاست کرنی ہوگی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *