پنجاب بھی تمازت محسوس کررہا ہے

 

ایاز امیر

جو کچھ سندھ میں پی پی پی کے خلاف ہورہا ہے، ایسا پنجاب میں کبھی ہوتا دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔ ابھی نہ تو نیب کی طرف سے کسی کی گرفتاری ہوئی ، نہ آدھی رات کو چھاپے پڑے ، صرف ہوا میں تھوڑی سی تبدیلی ہوئی لیکن بھاری بھرکم مینڈیٹ رکھنے والے پریشانی سے پسینے میں شرابور ۔ خیرابھی تو کھیل شروع ہی ہوا ہے ۔
پنجاب کے خادم ِ اعلیٰ(اگر ایسے اور خادم ہوں تو پھر لفظ آقا کی لغت میں ضرورت نہ رہے) کی طرف سے دودنوں کے اندر نندی پور پر کی جانے والی دوپریس کانفرنسیںصاف بتارہی تھیں کہ موصوف خادم ِ اعلیٰ بے حد جذباتی انداز میں احتجاج کررہے ہیں۔ دراصل غرور اور زعم انسان کو اس گھاٹی میں اتارکے ہی دم لیتے ہیں۔ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر ِاعلیٰ بن کر بھی مطمئن نہ تھے، چنانچہ اُنھوں نے توانائی کے شعبے میں اپنی تاب وتواں کا مظاہرہ کرنا چاہا۔شاید اپنی صلاحیتوں پر بہت ناز تھا کہ وہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو یوں چٹکیوں میں حل کرسکتے ہیں ، لیکن ہوا یوں کہ حاصل تو کچھ نہ ہوا، اور احتساب کی عدالت لگ گئی۔ بھاری مینڈیٹ کو اندازہ ہی نہ تھا کہ احتساب کی لہر اس طرف کا رخ کرسکتی ہے۔
نندی پور اسکینڈل اپنا راستہ بنارہا ہے۔ تاہم ستم ظریفی یہ کہ گزشتہ سال مئی میں جب وزیر ِاعظم کیلئے اس کی افتتاحی تقریب رچائی گئی تو یہ صرف دکھاوے

صورت ِحال کے دھماکہ خیز ہونے کی وجہ سے پی ایم ایل (ن) کو احساس جاگزیں ہے کہ کراچی اور سندھ کی طر ف چلنے والی احتساب کی ہوائیں اس سمت بھی آرہی ہیں۔ اب وزیر ِاعظم کا کہنا ہے کہ نندی پور منصوبے کا آڈٹ کیا جائے۔ تاہم آڈٹ کا مطلب کینسر کا علاج اسپرین سے کرنا ہے۔ اس کیلئے کم از کم نیب کے بھاری بھرکم توپ خانے کی ضرورت ہوگی۔چیئرمین نیب اچھی شہرت کے مالک ہیں، تاہم اپنے تمام کیرئیر میں وہ حکمران جماعت کی طرف قدرے جھکائو رکھتے تھے۔ اُنہیں جی ایچ کیو طلب کرکے کہا گیا کہ نیب میں زیر ِالتواکیسز کو نمٹایا جائے۔ اس کے بعد نیب میں فعالیت دکھائی دی۔ ہو سکتا ہے اُنہیں ایک مرتبہ پھر بلا کر چابی دینی پڑے کیونکہ اب پی ایم ایل (ن) کے پرانے کیسز کی تحقیقات کا وقت آگیا ہے۔
بہت دیر کے بعداب پی پی پی بھی خود پر لگائی گئی مفاہمت نامی منافقت کی پابندیوں کو توڑنے جارہی ہے ۔ اس مفاہمت کے مطابق یہ جماعتیں ایک دوسرے پر ہاتھ نہ ڈالنے کی پالیسی رکھتی تھیں۔ کہا گیا کہ یہ مفاہمت جمہوریت کے تسلسل کیلئے ضروری ہے۔ تاہم عقل یہ کہتی ہے کہ یہ لوٹ مارکرنے کی خاطر ایک دوسرے سے چشم پوشی کی پالیسی تھی، لیکن اب مفاہمت نامی لوٹ مارکے زرّ یں آبگینے ٹوٹنے کو ہیں۔ احتساب کی سنگ باری شروع، اور اسکی وجہ سیاسی جماعتوں کے دل میں جاگنے والی کوئی ’’شرم کرو، حیا کرو‘‘ کی جوت نہیں بلکہ فوج کا کراچی آپریشن ہے۔ اس آپریشن میں بدعنوانی، جس کادائرہ کار ملک کے طول وعرض تک پھیلا ہوا ہے، پر ہاتھ ڈالنا لازم تھا۔ اس احتساب کی تمازت محسوس کرنے اور فوج پر حملہ آور ہونے کی غلطی نہ دہرانے کا عہد کرتے ہوئے اب پی پی پی نے اپنی توپوں کا رخ پی ایم ایل (ن) کی طرف موڑ لیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول اور کراچی میں مراد علی شاہ اور نثار کھوڑو کی گرج تبدیل ہوتے ہوئے رویوں کا پتہ دیتی ہے۔ مراد علی شاہ نے تمام تر احتیاط کو بالائےطاق رکھتے ہوئے نواز شریف اور پی ایم ایل (ن) کی حکومت پر بھرپور حملہ کردیا۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ نندی پور پاور پروجیکٹ اوربہاولپور کے سولر پارک میں بھاری بھرکم بدعنوانی کی گئی ہے۔ سندھ کے صوبائی وزیر نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ کو نقصان پہنچانے والی امتیازی پالیسیوں کو تبدیل نہ کیا گیا تو وہ سندھ کی گیس پنجاب کو استعمال نہیں کرنے دیںگے۔
اس پر یہی کہا جاسکتا ہے…’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔‘‘نام نہاد مفاہمت اورفرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سنتے سنتے پی پی پی نے اپنا مضبوط گڑھ، پنجاب کھو دیا۔ اب وہ اُس میدان میں دوبارہ قدم رکھنے کی کوشش کررہی ہے جس کے زیادہ تر حصے پر پی ٹی آئی کا قبضہ ہے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو اس کی فعالیت مربوط نہیں ہے۔ اسے نندی پور چارج شیٹ کو پیش کرنا چاہیے تھا۔اس کے علاوہ بھی بہت سے میگاپروجیکٹس میں بھاری بدعنوانی ہوئی ہے ، لیکن پی ٹی آئی کی توجہ کا ارتکاز اس طرف نہیں ہے۔ خادم ِ اعلیٰ نے تازہ ترین پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ اپنی گردن کٹوا سکتے ہیں لیکن اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ کہتے ہوئے اُنھوں نے اپنی گردن کے گرد ڈرامائی انداز میں انگلی بھی پھیری۔ بہتر ہوتا اگر وہ اپنی گرد ن پر رحم کھاتے ہوئے اسے قربانی کے لئے پیش نہ کرتے۔ یہ وہ صاحب ہیں جنھوں نے پی پی پی کی مرکزی حکومت کے دور میں مینار ِ پاکستان پرلوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔ ٹی وی کیمروں کے سامنے موصوف ہاتھ کے پنکھے بھی جھلتے دکھائی دئیے تھے۔ الیکشن مہم کے دوران اُنھوں نے چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرڈالا۔ ایسا کہتے ہوئے جوش ِ جذبات میں ایسا ہاتھ لہرایا کہ سامنے لگے ہوئے مائیک دور جاگرے۔
خیر یہ تب کی بات تھی۔ آج ان کے اقتدار کو تیسرا سال شروع ہوچکا ۔ یقینا مائیک کو اٹھا کر پرے پھینکنا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی نسبت بہت آسان ہوتا ہے۔ جب وہ اقتدار میں آئے تو چین اور ترکی کے لاتعدا ددورے کرنے کے بعد اُنھوں نے قوم کی توقعات کو بے حد بڑھادیا۔ اب تک شکر ہے کہ ترکی کے دورے تو اختتام پذیر ہوئے، پاک چین معاشی راہداری کی کہانی جاری ہے لیکن لگتا ہے کہ اس پر فوج اپنا بیانیہ آگے بڑھارہی ہے۔ اس دوران بجلی کی کمی ایک ڈرائونے خواب کی طرح اپنی جگہ پر موجود، اور اس پر مستزاد،بدعنوانی کی کہانیاں گردش میں۔
یہ سب پاکستانی سیاست میں آنے والی تبدیلی کی ظاہری علامات ہیں۔ پی ایم ایل (ن) کو کبھی پی پی پی کے مقابلے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ یہ پی پی پی اور زرداری کوجانتی تھی، لیکن یہ میدان ِ جنگ فعال نہیں رہا۔ اب نئے حقائق سراٹھا کر پاکستانی سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ بنارہے ہیں۔ اب فوج کو بالا دستی حاصل ، لیکن ذرا مختلف انداز میں۔ اب ٹرپل ون بریگیڈ کو متحرک نہیں کیا گیابلکہ بہتر انداز اپناگیا ہے۔اس وقت سویلین کے پاس برائے نام اختیار ہے، موجودہ جمہوریت کی زیادہ سے زیادہ فتح صدر ممنون حسین کی صورت موجود، بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں؟ہم نہیں جانتے، اگلے نومبر تک سیاسی صورت ِحال کیا رخ اختیار کرتی ہے؟اگلے چھ ماہ بہت اہم ہیں۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اتنا کچھ کرنے اور عوامی مقبولیت کے اتنے زیادہ سنگ ِ میل طے کرنے کے بعد فوج اپنا خیمہ اکھاڑ کر چلی جائے گی، تو کچھ اور سوچے۔ ایک مسئلہ اپنی جگہ پر موجود، کہ سیاسی صورت ِحال تبدیل ہورہی ہے اور ابھی اس میں مزید تبدیلی بھی آئے گی۔ کیا فوج سیاسی طبقے کو مزید تبدیل ہونے پر مجبور کردے گی؟ کیا کسی قسم کے نئے سیاسی سیٹ اپ کی بات ہورہی ہے؟ یہ سوالات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔