ہزارہ صوبہ

02 مئی 2010

ظہور بٹ (لندن) ………….
صوبہ سرحد میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ حکومت میں اے این پی زیادہ طاقتور ہے یہ جماعت اب تک کئی نام بھی بدل چکی ہے قیام پاکستان سے پہلے خان عبدلاغفار خان المعروف بادشاہ خان مرحوم کے زمانے میں اسکا نام خدائی خدمت گار اور سرخ پوش تحریک ہوا کرتا تھا ان دنوں یہ ایک انگریز مخالف اور قوم پرست جماعت ہوا کرتی تھی یہ لوگ قیام پاکستان کے مخالف اورر متحدہ ہندوستان کے حامی تھے مگر قیام پاکستان کے بعد بادشاہ خان نے اعلان کیا کہ اب چونکہ پاکستان کا قیام عمل میں آ چکا ہے اس لئے وہ اس کو تہہ دل سے قبول کرتے ہیں اور اسکے وفادار شہری کی حیثیت سے یہاں رہینگے لیکن جب وہ فوت ہوئے تو انکی خواہش کیمطابق انہیں جلال آباد (افغانستان) میں دفن کیا گیا انکی وفات کے بعد انکے فرزند خان ولی خان مرحوم اس جماعت کے لیڈر منتخب ہوئے اور اسے پاکستان کی قومی سطح تک منظم کرنے کیلئے انہوں نے بائیں بازو کی چند دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اسکا نام نیشنل عوامی پارٹی یا این اے پی (نیپ) رکھ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹوکے زمانے میں پاکستان کی عدلیہ کے ذریعے اس جماعت کو غیر قانونی قرار دلوا دیا گیا تو اس کے بعد موجودہ جماعت عوامی نیشنل پارٹی یا اے این پی کے نام سے وجود میں آئی قیام پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے یہ جماعت پنجاب میں کبھی بھی مقبولیت حاصل نہیں کر سکی اور صوبہ سرحد میں بھی یہ جماعت پشتو زبان بولنے والے علاقوں میں چند لوگوں تک محدودو ہے چنانچہ اس صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے اسے ہمیشہ دوسری جماعتوں کی حمایت کی ضرورت رہی ہے صوبائی سیاست میں لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے یہ جماعت پختونوں کے حقوق کی بات کرتی ہے چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو غیر آئینی قرار دینے، صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے، صوبوں کو مزید اختیارات دینے اور پاکستان کے آئین میں کچھ ترامیم کرنے کیلئے 18 ویں ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا تو اے این پی نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ان آئینی ترامیم میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے اس کا نام پختون خواہ رکھنے کی تجویز بھی شامل کر دی اس نام پر جب چند دوسری جماعتوں کے اعتراضات سامنے آئے تو پختون خواہ سے پہلے خیبر کا لفظ لگا کر خیبر پختون خواہ کے نام پر اتفاق کر لیا گیا حالانکہ خیبر فاٹا کا حصہ ہے جہاں پشتو بولی جا تی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ صوبے کا نام تبدیل کرنے سے پہلے صوبے کے لوگوں سے رائے لیکر ایک الگ آئینی ترمیم لائی جاتی لیکن اے این پی والوں کو شائد ڈر تھا کہ صوبے کے لوگوں کی اکثریتی رائے انکے تجویز کردہ نام کے خلاف جا سکتی ہے اس لئے یہ جمہوری راستہ نہ اپنایا گیا ایک حقیقت جس سے انکار ممکن نہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہری کو شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام تبدیل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر مسئلہ صرف یہ تھا کہ اس صوبہ کا نام کیا ہونا چاہئے؟ 
ہزارہ ڈویژن میں رہنے والے لوگوں کی ایک مدت سے خواہش رہی ہے کہ انکے علاقے کا نام صوبہ ہزارہ رکھا جائے وہ کہتے تھے کہ 1901 سے پہلے تک ہزارہ کا تمام علاقہ صوبہ پنجاب کا حصہ ہوا کرتا تھا اور اسکے بعد جب ہندوستان کی برطانوی حکومت نے ہندوستان کے شمال مغرب میں کچھ علاقے کاٹ کر شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے ایک نیا صوبہ بنانے کا اعلان کیا تو ہزارہ کے علاقوں کو بھی پنجاب سے کاٹ کر اس میں شامل کر دیا گیا ایک مدت سے صوبہ ہزارہ کے لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انکے علاقے کو ایک نئے صوبہ ہزارہ میں شامل کیا جائے۔ 
چنانچہ اپریل کے اوائل میں جب صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے پختون خواہ رکھنے کی بات چلی تو ہزارہ کے لوگوں نے ایک پر امن تحریک شروع کرکے اپنا مطالبہ دوہرایا کہ چونکہ اب صوبہ سرحد کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے تو انکے علاقے کو بھی اس صوبے سے الگ کرکے ہزارہ کے نام سے ایک نیا صوبہ بنایا جائے آپ ان سے اتفاق کریں یا نہ کریں لیکن انکے مطالبے میں کچھ وزن ضرور ہے یہ ایک خالصتاً سیاسی مطالبہ تھا اوراسکے حل کیلئے بھی ایک سیاسی رویہ اختیار کرنے کی ضرارت تھی مگر اے این پی کی حکومت نے اسے ذاتی انا کا مسئلہ بنا کر طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا چنانچہ ۲۱ اپریل کو یہاں فرنٹیر کور کے خصوصی دستے بھیجے گئے جنہوں نے یہاں ایسے گولیا چلائیں جیسے کسی دشمن کے علاقے میں کاروائی کر رہے ہوں‘ اسکے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے اس کے باوجود صوبہ ہزارہ کی تحریک دبائی نہیں جا سکی اور یہ آج بھی اپنے زوروں پر ہے ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آبادی کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو صوبہ سرحد میں پشتون اور غیر پشتون آبادی بہت تھوڑا فرق ہے ہزارہ میں تین چار زبانیں بولی جاتی ہیں اور پشتو بولنے والے بہت کم ہیں اسی طرح دریائے اٹک کا پل پار کریں تو جرنیلی سڑک کے دونوں طرف جتنے بھی گاؤں آباد ہیں یہاں ہندکو بولی جاتی ہے۔
ضلع کوہاٹ میں بھی ہندکو زبان استعمال ہوتی ہے ڈیرہ اسماعیل خان میں یا تو ہندکو اور یا سرائیکی زبانیں بولی جاتی ہیں اور تو اور پشاور شہر میں بھی ہند کو بولنے والے خاصی تعداد میں آباد ہیں بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صوبہ سرحد میں اب پشتو بولنے والوں کی اجارہ داری Monoply)) نہیں رہی اپنی اکثریت ثابت کرنے کیلئے اے این پی کے لیڈر 40 لاکھ افغان مہاجرین اور 50 لاکھ سے زائد فاٹا کے علاقوں میں رہنے والے پشتونوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں حالانکہ یہ لوگ کبھی یہاں کے شہری نہیں سمجھے گئے بہرحال یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے قومی سطح کے لیڈر ملکر ہی حل کر سکتے ہیں لیکن اصل حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ ملکی آبادی میں اضافے کیساتھ ساتھ لوگوں کے روز مرہ کے مسائل مثلاً پانی بجلی اور ٹیلیفون کنکشن اور پٹوار اور دیگر مسائل اس قدر بڑھتے جارہے ہیں کہ انکی زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے خصوصاً دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے صوبائی مراکز سے اس قدر دور ہیں کہ اپنے مسائل کے حل میں انہیں بے انتہا دشواریاں پیش آرہی ہیں ہمارے اکثر لیڈران دبے لفظوں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ لوگوں کے روز مرہ کے مسائل جلد از جلد حل کرنے کیلئے پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے مگر سیاسی اجارہ داریاں اور مقامی مصلحتوں نے انکے لب سی رکھے ہیں ملک کے بیشتر علاقوں سے صوبوں کی تعداد بڑھانے کی آوازیں ایک مدت سے آ رہی ہیں اس لئے وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے یہاں ہمیں زبانوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ ملک میں جس طرح نقل مکانی ہو رہی ہے اسکے پیش نظر اب کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں رہا جہاں دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے لوگ بھی آباد نہ ہوں اس لئے ہمارے قائدین ہم پر رحم کریں اور ہزارہ صوبے کے مطالبے پر کمیٹی بنانے کی بجائے پاکستان کو آٹھ دس صوبوں میں تقسیم کرنے کیلئے کمیٹی بنائیں تاکہ سیاست سے بالا تر ہو کر ہمارے عوام کے مقامی مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو سکیں۔

Source, https://www.nawaiwaqt.com.pk/02-May-2010/106766