ہزارہ صوبہ کی قرارداد ٹوپی ڈرامااورغیر آئینی ہے،باباحیدر زمان

 دوتہائی اکثریت نہیں تھی،مرکز سے یہ قرارداد واپس آئے گی،پی ٹی آئی بے وقوف بنارہی ہے پرانے مہروں سے کبھی تبدیلی نہیں آئے گی،حقوق کیلئے ہزارہ کے لوگوں کو گھروں سے نکلنا ہوگا

ایبٹ آباد(آن لائن)تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدرزمان نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے صوبہ ہزارہ کی قرارداد کو ٹوپی ڈراما قرار دیتے ہوئے اسے غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دے دیا اور کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے قرارداد کی منظوری کے وقت اسمبلی میں دوتہائی کی اکثریت نہیں تھی،مرکز سے یہ قرارداد واپس آجائے گی، پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں،ہزارہ کے لوگوں کو حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا پڑے گا،تبدیلی سوچ سے آتی ہے، پرانے مہروں سےکبھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اپنی رہائش گاہ پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ بابا حیدر زمان نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق نئے صوبے کے قیام کے لیے دوتہائی کی اکثریت کے ساتھ قرارداد کی منظوری بنیادی شرط ہے، آئین کی شق 239 کے سیکشن چار کے تحت دوتہائی کی اکثریت کے بغیر نیا صوبہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی صوبے کے محل وقوع میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے، صرف پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، صوبہ ہزارہ کی قرارداد مضحکہ خیز بھی ہے، جس میں صوبہ کا نام ہزارہ پختونخوا رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں ، یہ لوگ وقت ضائع کرنے میں مصروف ہیں لیکن ہماری جدوجہد صوبہ ہزارہ کے قیام تک جاری رہے گی، ہزارہ کے لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا پڑے گا، تبدیلی سوچ سے آتی ہے، پرانے مہروں سے کبھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ تحریک صوبہ ہزارہ یوسف ایوب خان نے رجسٹرڈ کرائی تھی۔

Source, http://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2014-03-24/333303#.WtNym9Rubcc