ہزارہ: الگ صوبے کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتال

2 مئ 2010

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ریجن میں الگ صوبے کے قیام کے مطالبے کے حق میں اتوار کو مکمل شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے۔

فائل فوٹو
Image captionگزشتہ ماہ ہزارہ صوبے کے قیام کے حق میں شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے

اس ہڑتال کی کال ہزارہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سردار حیدر زمان نے دی تھی۔ ہزارہ ایکشن کمیٹی نے ہزارہ ریجن کو الگ صوبہ بنانے کے لیے تحریک شروع کر رکھی ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہزارہ ریجن کے مختلف شہروں اور قصبوں میں کاروباری مراکز اور بازار بند رہے جب کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔

نام کی تبدیلی پر احتجاج، پانچ ہلاک، کئی زخمی

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاجی جلسے جلوس بھی منعقد کیے گئے اور بعض مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکوں کو بند کر دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہزارہ ریجن کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ ملانے والی اہم شاہراہ قراقرم اور شاہراہ کشمیر پر بھی ٹریفک بند رہی۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ضلع کوہستان میں ہڑتال کی کال کا اثر کم نظر آیا اور وہاں بازار جزوی طور پر کھلے رہے اور گاڑیاں چلتی رہیں لیکن ٹریفک معمول سے کم تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ہزارہ ریجن میں کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی لیکن کسی جگہ سے ناخوشگوار واقعے کے اطلاع نہیں ملی ہے۔

واضع رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبہ سرحد کا نام خیبر پختوانخواہ رکھنے پر ہزارہ ریجن میں رد عمل سامنے آیا ہے اور گزشتہ ماہ کے وسط میں اس کے خلاف پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھارہویں ترمیم کا بل منظور ہونے کے بعد پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے انیس اپریل کو اس بل پر دستخط کردیے تھے جس کے بعد یہ آئین کے حصہ بن گئی ۔اس بل کی ایک ترمیم کے تحت صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواہ رکھا گیا ہے۔

ابتداء میں ہزارہ ڈویژن میں صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے پر احتجاج کیا گیا لیکن بعد میں اس صوبہ کا نام پختونخواہ رکھنے کے مخالف لوگوں نے ہزارہ ریجن کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا اور ایک تحریک شروع کر دی۔

اس تحریک کو منظم طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے ہزارہ کے ایک مقامی سیاست رہنما سردار حیدر زمان کی قیادت میں ایک کیمٹی تشکیل دے دی گئی تھی اور اپنے مطالبے کے حق میں یہی کمیٹی کسی بھی احتجاج کا انعقاد کرتی ہے۔

اس کیمٹی کے سربراہ سردار حیدر زمان کا کہنا ہے کہ وہ ہزارہ ریجن کو الگ صوبے بنانے کے لیے تحریک جاری رکھیں گے اور اس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

Source, http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2010/05/100502_hazara_again_strike