کیا پنجاب کی تقسیم سے

Daud Zafar Nadeem

کیا پنجاب کی تقسیم سے ڈیرہ غازی خاں، بہاولپور، راجن پور مظفر گڑھ، خانیوال، رحیم پور، کوٹ ادو، میلسی، دیپالوپور، کے علاقوں میں بھی کوئی فرق پڑے گا یا تخت لہور سے لڑنے والے لوگوں کو تخت لاہور کی جگہ تخت ملتان کا سامنا کرنا پڑے گا اور نیا صوبہ کن کن علاقوں پر مشتمل ہوگا، لیہ بھکر اور میانوالی کس صوبے میں شامل ہوں گے،

کیا اختیارات واقعی نچلی سطح پر پہنچ جائیں گے،

جو لوگ صوبائی تقسیم کو مسئلے کا حل نہیں سمجھتے ان کے پاس کیا تجاویز ہیں اور اس کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کیا کوشش کی جارہی ہے، اختیارات کو نچلی سطح پر پہنچانے کے لئے ضلعی نظام کی بہتر اور موثر شکل پر کیا بحث ہو رہی ہیں، لاہور کی بجائے جھنگ یا فیصل آباد میں دارالحکومت کی منتقلی بارے کیا سوچ بچار کی جا رہی ہے۔

متحدہ پنجاب کے حامی محض گالی گلوچ یا ردعمل کا شکار نہ ہو، علمی طریقے سے دلیل سے بات کریں اور اپنے لوگوں کو ایک ٹھوس لائحہ عمل پر متفق کریں وگرنہ وقت کسی کا انتظا نہیں کرتا، 47 میں بھی نہ صرف پنجاب تقسیم ہوا تھا بلکہ اس کے ساتھ دونوں طرف پنجابیوں نے ردعمل اور جذبات میں ایک دوسرے کی جان و مال بھی لوٹ لی تھیں، اس لئے آج اہل پنجاب سے اپیل ہے کہ دلیل اور علم کو اپنا ہتھیار بنائیں محض بحث برئے بحث اور دوسروں کو برا کہنے سے معاملہ حل نہیں ہوگا