کراچی صوبہ

ایس اکبر زیدی20 جنوری 2014

اس بات پر بہت کم اختلاف رائے ہے کہ پاکستان میں موجودہ چارصوبوں (اور اگر گلگت-بلتستان کو ملا لیا جائے تو پانچ) کے مقابلے میں مزید کئی ایک صوبوں کی ضرورت ہے- سیاسی معیشت کے نقطہ نظر سے چھوٹی اکائیوں کے نظم و نسق کو بہتر طور سے چلانے کے لئے مزید نئے صوبے بنانے کے حق میں بہت سے دلائل دئے جاتے ہیں-

یہ دلیل بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اگر نئے صوبے بنیں گے تو ایسی صورت میں پاکستان کے باقی حصوں میں اور موجودہ پنجاب پر پنجاب کی بالادستی ختم ہوجائیگی- ان علاقوں میں وہاں کے عوام سرائیکی اور ہزارہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں- یہ تجویز بھی پیش کی جارہی ہے کہ پاکستان کے سابقہ بارہ ڈویژنوں میں رد و بدل کر کے مزید صوبے یا خودمختار اکائیاں قائم کی جائیں- ان میں سے ایک کراچی ڈویژن ہوگا-

کراچی صوبے کا مسئلہ جذباتی ہے- اس مطالبے کو اشتعال انگیز سمجھا جارہا ہے اور اسے پاکستان کی قومی ریاست کی مجوزہ سلامتی کے لئے خطرہ تصور کیا جاتا ہے- یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا 20 ملین کی آبادی کا شہر ایک صوبے کی حیثیت سے یا ایک آزاد و خودمختار علاقے کی حیثیت سے قائم بھی رہ سکتا ہے، ہمیں کراچی کی سیاسی معیشت کا جائزہ لینا چاہِئَے-

کراچی پاکستان کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ معاشی اور سماجی انتظامی اکائی ہے- تمام معاشی اور سماجی اشاریوں کے لحاظ سے یہ پاکستان کے جملہ 106 ضلعوں میں سب سے آگے ہے- 1998 کی مردم شماری کے مطابق خواندگی کی شرح کے لحاظ سے کراچی اسلام آباد کے بعد دوسرے نمبر پر ہے- اسلام آباد میں خواندگی کی شرح 72٫4 فی صد ہے جبکہ کراچی میں شرح خواندگی 72٫2 فی صد ہے- تاہم، کراچی سنٹرل کی شرح خواندگی پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہے یعنی 76 فی صد- عورتوں میں شرح خواندگی کے لحاظ سے کراچی پاکستان کے تمام ڈویژنوں میں سب سے آگے ہے یعنی 63٫9 فی صد — کراچی سنٹرل میں خواندگی کی شرح 9۔73 فی صد ہے جبکہ کراچی ایسٹ میں 1۔70 فی صد-

سید اشرف واسطی اور منہاج الدین صدیقی نے پاکستان کے 101 ضلعوں کی سماجی-معاشی ترقی کی بنیاد پر ایک فہرست تیار کی ہے جسکی بنیاد مختلف اعداد و شمارہیں- اس فہرست کے مطابق کراچی پہلے یا دوسرے نمبر پر ہے-

ہارون جمال اور اے جے خان نے کمپیوٹر کی مدد سے اعداد و شمار اکٹھا کیئے ہیں اور ان ضلعوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جو مختلف محرومیوں کا شکار ہیں- اس فہرست کے مطابق کراچی پاکستان کا ‘سب سے کم محرومیوں والا’ شہر ہے- یہاں غربت کی شرح سب سے کم ہے-

یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ریوینیو جمع کرتا ہے- کراچی میں آج بھی سب سے زیادہ معاشی، صنعتی، خدمات اور ان سے متعلق سامان اور تیار مال پیدا کیا جاتا ہے- کراچی، تمام براہ راست ٹیکسوں کا 35 فی صد حصہ فراہم کرتا ہے- سندھ میں براہ راست ٹیکسوں اور ریوینیو کے ذریعے جو آمدنی ہوتی ہے اس کا 96 فی صد حصہ کراچی فراہم کرتا ہے- پاکستان بھر میں سیلز ٹیکس کی مجموعی آمدنی میں سے کراچی کا حصہ 35 فی صد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسکے صارفین کی بنیاد بیحد مضبوط ہے-

کراچی صوبہ بنانے کا سیاسی مطالبہ کرنے سے پہلے اسکی آبادی کی ساخت اور لسانی ساخت کا جائزہ لینا بیحد ضروری ہے- کراچی سے متعلق بہت سے حقائق کو منظر عام پر لانا ضروری ہے- کراچی کی آبادی میں اضافے کی شرح رفتار پچھلی چند دہائیوں میں کم ہوئی ہے اور غالبآ ایک سطح پر آکر رک گئی ہے- اگلی مردم شماری کے اعداد و شمار مختلف ہوسکتے ہیں لیکن فی ا لحال صورت حال کچھ یوں ہے-

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ کراچی میں تارکین وطن کی آبادی 1981 میں 33 فی صد تھی جو 1998 مین گھٹ کر 22 فی صد ہوگئی — جو اتنا حیرت انگیز بھی نہیں کیونکہ ہندوستان سے کراچی پہنچنے والی تارکین وطن کی پہلی لہر نے شہر کی آبادی کی ساخت کو مکمل طور پر تبدیل کردیا تھا- اب ہجرت کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور وہ بھی تقریباً ملک کے اندر ہی ہجرت کرنے والوں کی ہے- یہ چیزمستقبل میں کراچی کی آبادی کی ساخت پر اہم اثر ڈالیگی-

اگرچہ کہ کراچی میں آبادی میں اضافے کی شرح میں ٹھہراؤ آیا ہے لیکن جیسے جیسے دوسرے حصوں سے لوگ کراچی پہنچتے ہیں ان لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کی زبان اردو نہیں ہے- حارث گزدر کی پیش بینی کے مطابق 2025 تک کراچی کی آبادی کا 60 فی صد وہ لوگ ہونگے جن کی زبان اردو نہیں ہوگی-

کیونکہ مزید صوبے بنانے کی خواہش موجود ہے، اس لئے کراچی کو صوبہ بنانے کے لئے دلیلیں پیش کی جارہی ہیں- اگرچہ کہ سنگین نوعیت کے سیاسی عوامل اس تحریک کی راہ میں حائل ہوسکتے ہیں، لیکن محدود اعداد و شمار اور غیر-حرکیاتی تجزیئے کی بنیاد پر، یعنی اگر اس کے رد عمل کو نظرانداز کیا جائے — یعنی کراچی کو ایک علحدہ اکائی بنادیا جائے — صوبہ بنا دیا جائے— تو یہ معاشی لحاظ سے ایک بہتر صورت ہوگی-

یہ بات واضح طور پر تحفظات کے ساتھ کہی گئی ہے اور اس کے ساتھ بہت سے ‘اگر اور لیکن’ جڑے ہوئے ہیں، لیکن بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ کراچی سندھ سے جمع ہونے والی ریوینیو کا 95 فی صد حصہ جمع کرتا ہے، اس لئے اگر یہ رقم کراچی کو دیدی جائے اور وہ اسی کے پاس رہے، تو اس کا کراچی پر اہم اور مثبت اثر ہوگا- کراچی کو وفاقی حکومت سے مزید امداد حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی-

اگر مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے ہو جائے، جس کے تحت اسے اپنی جمع شدہ رقم میں سے بڑا حصہ رکھنے کی اجازت دیجائے تو نہ صرف یہ کہ کراچی خود کفیل ہو جائے گا بلکہ اس کے پاس اضافی آمدنی بھی ہوگی، جس کا کچھ حصہ مرکز یا دیگر صوبوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے-

یہ بات شبہ سے بالاتر ہے کہ کراچی کا موجودہ معاشی ڈھانچہ، بشرطیکہ دیگر حالات جوں کے توں رہیں، کراچی کو اتنے اضافی وسائل فراہم کرسکتا ہے کہ وہ نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ خود کفیل ہونے کے علاوہ اضافی رقم پیدا کرسکے گا-

تاہم، کراچی کی لسانی تقسیم پیچیدہ مسائل کا سبب ہے- سرائیکی صوبہ یا ہزارہ یا پوٹھوار کے علاقے کے برعکس کراچی کی آبادی ایک لسانی نہیں ہے- اب کراچی صرف اردو بولنے والوں کا شہر نہیں رہا- یہاں بڑی تعداد میں مختلف نسلیں رہتی ہیں جو مختلف زبانیں بولتی ہیں- اردو بولنے والے اگرچہ اہم نسلی گروہ ہیں لیکن وہ کسی طور پر بھی غالب اکژیت نہیں ہیں-

لسانی بنیادوں پر صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش کراچی کے دیگر نسلی گروہوں کی جانب سے دباو اور مخالفت کا شکار ہوگی- ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں یہاں رہنے والے مختلف لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ضم کیا جائے- اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ نسلی اختلافات کے مسائل ختم ہوجائنگے، کیونکہ کراچی صوبہ بلا لحاظ نسلی امتیاز کراچی میں رہنے والے تمام لوگوں کا نمائندہ ہوگا-

کراچی کو پاکستان میں رہنے والے بیشمار نسلی گروہوں نے بہت فائدہ پہنچایا ہے جنہوں نے یہاں ہجرت کی یا اسے اپنی صلاحیتیں اور سرمایہ فراہم کیا- کراچی صوبے سے یہاں رہنے والی پوری آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں- یہی دلائل ایک خودمختار سٹی گورنمنٹ کے حق میں بھی دیئے جاسکتے ہیں-

ترجمہ: سیدہ صالحہ

Source, https://www.dawnnews.tv/news/1001557