کراچی صوبہ ضروری ہے؟؟؟ “کالم“ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

Editor  مئ 7, 2011  0 تبصرے  29 مناظر

کراچی صوبے کی گونج تو ہم ایک مدت سے سنتے چلے آرہے ہیںبلکہ ایک زمانے میں کراچی صوبہ تحریک بھی موجود تھی۔پھر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں تو باقاعدہ پاکستان کو 22صوبوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ اپرول کے منازل بھی طے کر گیا تھا۔مگر اچانک جنرل ضیاء الحق کا طیارہ کرش کر دیا گیااور شہیدوں کی سازش میں کا نشانہ بن گیا اور یوں بائس صوبوں میں پاکستان کی تقسیم کا منصوبہ اپنی موت آپ مر گیا۔

کراچی صوبے کے حوالے سے ایک دل چسپ واقعہ بیان کرتا چلوں1978میں مجھے ایک انٹرویو کے سلسلے میں اسلام آباد آنے کا اتفاق ہوا ۔اس وقت تک پورا اسلا آباد ایک جنگل کا سماں پیش کر رہا ہوتا تھا۔ہاں البتہ پورے اسلا آباد میں تعمیرات کا ایک سلسلہ جاری تھا۔ہم بھی ایک زیرِ تعمیربلڈنگ ہالی ڈے اِن کے ٹیکنیشینزکے ایک خیمے میں قیام پذیر ہوے تھے۔جہاں ہمارے ایک عزیزاس کے ا ے سی سسٹم کی انسٹالیشن میں مصروف تھے۔تیسرے دن ہم انٹرویو کے لئے جی ایچ کیو پہنچے ۔کراچی کا باسی ہونے کی وجہ سے ہماری گریجویشن کی ڈگری پر ہچ لگا کر ہمیں مایوسی کے ساتھ آؤٹ ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔خیر انٹرویو میں ہمارے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا اس کا حال پھر کسی کالم میں تفصیل سے بیان کریں گے۔انٹرویو سے فارغ ہونے کے بعد اگلے دن ہم نے پنڈی شہر دیکھنے کا شوق پورا کرنے کی غرض سے تفصلی دورے کیلئے نکلے تو پنڈی کے مشہورراجہ بازارسے کچھ چھوٹا موٹا سامان خرید کر جب ہم واپس ہونے لگے تو ایک بزرگ نے ہمیں karachaite ہونے کے ناطے پہچان لیا کہنے لگے کراچی سے تشریف لائے ہو؟کیسا لگا ہمارا پنڈی شہر؟ہم نے کہا بہت اچھا لگا۔ان کی گفتگو سے اور زبان سے ہم نے بھی اندازہ کر لیا کہ وہ پنڈی کے اصل باسی نہیں ہیں…میں نے فوراً ہی سوال کر دیا کہ آپ کراچی کیوں تشریف نہیں لائے؟تو انہوں نے سرد آہ بھر کر جو جواب دیا،اُس نے میری سوچ میں ایک وقتی تبدیلی اُس وقت کے حالات اور تجربات کے تحت پیدا کر دی تھی۔ ’’بیٹا کراچی تو ہم اُس وقت آئیں گے جب کراچی صوبہ بن جائے گا‘‘ ہم نے پہلی بار کراچی صوبے کا ذکر ان بزرگ کی زبانی سنا تو مت پوچھئے ہمارے جذبات اس وقت کے حالات کے تحت کیا تھے؟ مگر اندازہ یہ ہوا کہ کراچی صوبے کی سوچ ابتداء سے ہی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔اس کے بعد بڑی شدومد سے کراچی صوبے کی آوازیں آتی رہیں۔بلکہ کراچی میں اردو سندھی ہنگامے کے بعد تو کراچی صوبے کا نعرہ مسلسل لگایا جاتا رہا تھا۔1985میں ایم کیو ایم کے فعال ہونے کے بعد یہ نعرہ کچھ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔

اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کراچی صوبے کی چنگاری بہت عرصے سے دبی ہوئی ہے۔لاکھ اس کو دبایا جائے ایک دن تو یہ شعلہ تو ضرور بنے گی۔مفاد پرست سیاست دانو ںاور نام نہاد قوم پرستوں نے کراچی صوبے کی بیل کو منڈھے چڑھنے نہیں دیا۔حالانکہ کراچی میں صوبہ بنائے جانے کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔سندھ تمام پاکستانیوں کا اتنا ہی ہے جتنا کہ کسی قوم پرست کا ہے یا انگریز کے کتے نہلانے والے نام نہاد جاگیر داروں کا ہے۔اس بات سے کون واقف نہیں ہے کہ کراچی کے باسیوں کے سا تھ ہمیشہ سے ہی امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے ۔کوٹہ سسٹم دس سالوں کے لئے لگا یا جاتا ہے تو وہ چالس سال گذر جانے کے با وجود بھی ختم نہیں کیا جاتا ہے۔اگرکراچی کا رہنے والا،اردو زباں بولنے والا کسی سر کاری دفتر میں اپنے کام کے سلسلے میں چلا جائے تو ایک کمتر درجے کادفتری بھی زبان کی بنیاد پر اعلیٰ افسر تک کی وہ ہتک کرتا ہے کہ پھر اُسے اپنے آقا جیسے کلرک کے پاس جا نے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ہے۔جن کے ساتھ یہ معاملات ہوتے ہیں وہ خوب بہتر جانتے ہیں ۔اس پر نہ تو ہمارے سیاسی لوگوں کو آواز اٹھانے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی حکومت وقت اس زیادتی سے کراچی والوں کونجات دلانا چاہتی ہے۔بس تعصبات کا ایک بازار ہے جس کو پاکستان کے دشمنوں نے گرم کیا ہواہے۔

ہم سندھ میں پیدا ہونے والوں کو بھی نام نہاد قوم پرستوں میںعجیب عجیب ناموں سے پکارا جاتا ہے۔سندھ کسی کے باپ کی جاگیر اس وجہ سے نہیں ہے کہ سندھ کے تمام باسی اور دعویدار وں میں سے اکثر یت سندھ کے اصل باشندے ہی نہیں ہیں…. کوئی یہاں ہزار سال پہلے آکر آباد ہوا ہے تو کوئی پانچسو سال پہلے تو کوئی ساٹھ پینسٹھ سال قبل یہاں پر آکر آباد ہوا ہے۔سن آف سوائل وہ تمام لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اس دھرتی پر جنم لیا ہو۔سندھ دھرتی کے سب سے بڑے دعویدار سائیں جی ایم سید بھی بنیادی طور پر عرب سے تعلق کی بنا پر ہی اپنے نام کے ساتھ سید لگاتے تھے۔

22مئی 1948کوکراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کی غرض سے باقاعدہ قومی اسمبلی نے ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور تو اُس وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اس قرار داد کی شدت کے ساتھ مخالفت کی تھی۔تاہم سندھ اسمبلی نے بھی کراچی کی سندھ سے علیحدگی کی قرار داد منظور کرنے میں کوئی وقت نہیں لگایا۔ اس طرح سندھ کو مرکزی حصہ بنا دیا گیا جو ایک مدت تک یعنی اگست 1960تک بر قرار رہی۔ کراچی ہر لحاظ سے صوبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر ایک مائنڈ سیٹ ہے جو سدھ میں صوبے creat کرنے کا مخالف اس لئے ہے کہ ان ذہنوں میں یہ بات موجود ہے کہ خدا نا خواستہ پاکستان کوکسی طرح disintegrateکر دیاجائے اور ان کی حکمرانی چلتی رہے ۔

یہ بات ہمارے حکمرانوں کو ذہن نشین ہونا چاہئے کہ جب تک ہم ملک میں نئے صوبے نہیں بنائیں گے اُس وقت تک ملک میں علیحدگی کی آوازیں اٹھتی رہیں گی۔اگر چہ اس وقت ملک کو انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے۔اگر قیام پاکستان کے وقت کے ڈیویژنوںکو صوبوں کا درجہ دیدیا جائے تو بہت سے لوگوں کا احساس محرومی بھی ختم ہوجا ئے اور علیحدگی پسند بھی اپنی موت آپ مر جائیں گے اور کوئی اعتراض بھی سامنے نہیں آئے گا۔ہندستان آزادی کے وقت صرف آٹھ صوبوں پر مشتمل ملک تھا۔جس میں 1956میں تبدیلی کر کے 28صوبوں پر مشتمل ریاست ہے۔ جس میںمزید 9،ایسے صوبے بھی ہیں جو وفاق کے کنٹرول میں ہیں۔اس کے باوجود ملک میں کوئی انتشار یا علاقائی تعصب ابھر نہ سکا اور ملک بحسن و خوبی چل رہا ہے۔جب ہندوستان 8سے 37صوبوںمیں بٹ کر مستحکم ہے تو حالات کے تقاضوں کے تحت پاکستان کو بھی 22صوبوں میں تقسیم کر دینا عین عقل مند ی ہوگی۔ہمارے ہاں بعض غیر ملکی قوتوں کے آلۂ کار اس ملک کی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے جو اقدام بھی کئے جاتے ہیں انکی یہ لوگ دل کھول کر مخالفت پر آمادہ رہتے۔وہ چاہے پانی کا مسئلہ ہو یا عوامی ترقی کا…بعض کوتاہ ذہن تو یہاں تک کہتے ہوے پائے گئے ہیں کہ اگر ہم نے سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی تو ہمارا حشر بھی مستقبل میں مشرقی پاکستان کے بہاریوں جیسا ہو جائے گا۔ گویا میرے منہ میں خاک یہ لوگ اُس وقت کے منتظر ہیں جب پاکستا کا نام و نشان ختم کر کے سندھوں دیش قائم کر دیا جائے گا۔حالانکہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کا یہ بیان ریکارڈ پر موجودہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھاکہ’’پاکستان میں مزید صوبے بنا دیئے جائیں تو پاکستان مضبوط ہوگا‘‘دوسری جانب عمران خان نے بھی کراچی صوبے کی حمایت کی ہے۔شہباز شریف نے بھی کراچی صوبے کی بات تو کی تھی مگروہ چند گھنٹے بھی دباؤ بر داشت نہ کر سکے جس کے نتیجے میں کچھ گھنٹوں کے بعد ہی انہوں نے اپنے بیان سے رجوع کر لیا۔

ہمارا کہنا یہ ہے کہ جب تک وطنِ عزیز میں مزید نئے صوبے نہیں بن جاتے اُس وقت تک یہاںکی سیاست میں سدھار لایا ہی نہیں جا سکتا ہے اور پاکستان کی یکجہتی کے دشمن موقعے کی تاک میں بیٹھے ہیں۔یہاں پر دیہاتی جاگیر داروں کے علاوہ شہری جاگیر دار بھی پیدا کیئے جا چکے ہیں۔جو پاکستانی عوام کو ریلیف دینا ہی نہیں چاہتے ہیں۔یہی شہری اور دہی جاگیر دار پاکستان میں مزید صوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔کیونکہ ان کی راج دہانیوں میں اس عمل سے دراڑیں پڑ جائیں گی۔تو ان کا راج سنگھا سنگ سونا پڑ کر بکھر جائے گا ۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ صوبائی حکمرانوں کا کرپشن بھی ہے۔جو طاقت کے بل پر الیکشن کے نتائج اپنے حق میں کرانے کے بعد مختلف وزارتوں اور سفارتوں کے ذریعے جی بھر کر لوٹ مار کرتے ہیں۔بقیہ وقت میں اپنے پریوار کی گرومنگ کرتے رہتے ہیں۔تاکہ کل ان کا پرنس راج سنگھا سنگ سنبھال سکے۔

اگست 2009میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے سرائکی صوبے کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھاکہ ملک فی الحال نئے صوبوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔سرائکی صوبے یا پھر کسی اور صوبے کی بات کر کے ہم ملک کو غیر مستحکم نہیں کر سکتے ۔مگر بڑی عجیب بات ہے اس کے چند دنوں بعد ہی انہوں نے اسلام آباد پہنچ کر نئے صوبے گلگت بلتستان کا اعلان کر دیا جس سے حکمرانوں کے قول و فعل کا تضاد بھی کھل کر سامنے آگیا۔ ہمیں اپنے تضادات ختم کر کر کے خالص پاکستان کی سوچ پیدا کرنا ہوگیتاکہ ہم دنیا میں عزت کی زندگی جی سکیں۔

Source, http://www.urduwebnews.com/2011/05/07/art-643/