کراچی صوبہ؟

ڈاکٹر توصیف احمد خان ہفتہ 25 جون 2016

سندھ میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے، روزانہ ٹارگٹ کلنگ کی ایک واردات ہوتی ہے، امجد صابری کے قتل اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے، سندھ اسمبلی میں ماحول گرم ہے، وزیر خزانہ مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم والے نعرے لگاتے رہے، پھر لندن اور دبئی کا ذکر ہونے پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے کارکن گتھم گتھا ہوگئے، ایم کیو ایم کے اراکین نے ملک میں 22 صوبے اور کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا نعرہ لگایا، پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے تو اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ کراچی صوبے کا مطالبہ کرنے پر ایوان میں پابندی لگائی جائے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ اسمبلی کا گرم ماحول، صوبے کے حالات کو مزید خراب نہ کرے۔

جب 2008ء میں پیپلز پارٹی نے وفاق اور صوبوں میں حکومتیں بنائیں تو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صلح کل کا نظریہ پیش کیا، وہ نائن زیرو گئے، اور بلاول کے پرامن مستقبل کے لیے دونوں جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم وفاق اور صوبوں میں حکومت کا حصہ بن گئی۔ یہ ہنی مون 2012ء تک کسی نہ کسی صورت جاری رہا، اس دوران کئی دفعہ ایم کیو ایم کے وزرا نے اختیارات نہ ملنے اور دوسرے مطالبات کو منوانے کے لیے استعفے دیے۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے مفاہمت کا کردار ادا کیا۔

مگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بلدیاتی نظام کے ڈھانچے سے متفق نہ ہو سکے۔ حکومت سندھ نے 2 دفعہ آرڈیننس کے ذریعے مختلف نوعیت کے بلدیاتی نظام نافذ کیے، ان نظاموں میں بلدیاتی اداروں کو خاصے اختیارات دیے گئے تھے، کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ خیرپور، سکھر، لاڑکانہ اور نواب شاہ کے بلدیاتی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ سندھی قوم پرستوں نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات دینے کو سندھ کی تقسیم قرار دیا، مگر پیپلز پارٹی نے کبھی بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کے بعد یہ بلدیاتی آرڈیننس ختم ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت یہ کہنے لگی کہ منتخب صوبائی اسمبلی کی صورت میں بلدیاتی اداروں کی ضرورت نہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا تہیہ کیا، پیپلز پارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے بلدیاتی انتخابات کی مختلف تاریخیں دیں مگر کبھی حلقہ بندیوں اور کبھی دوسرے معاملات کا سہارا لے کر انتخابات ملتوی ہوتے رہے، سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد سندھ میں گزشتہ سال، ستمبر سے دسمبر تک بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر بلدیاتی اداروں کا ایسا قانون منظور کیا جس میں اختیارات کے سوا سب کچھ تھا، پھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور واٹر بورڈ کو خودمختار ادارے بنا کر سندھ حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا۔ گزشتہ ماہ کے ڈی اے بھی کے ایم سی سے علیحدہ ہوگئی۔ مگر گزشتہ 6 ماہ سے بلدیاتی ادارے منتخب قیادت سے محروم ہیں اور مستقبل میں منتخب میئر کے اختیارات سنبھالنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت اچھی طرز حکومت پر یقین نہیں رکھتی۔ امن و امان تعلیم، صحت اور بلدیاتی مسائل بدترین شکل اختیار کرگئے ہیں۔ سندھ میں تعلیمی صورتحال بدتر ہے، اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کسی صورت کم نہیں ہورہی۔ محکمہ تعلیم میں رشوت اور سفارش کے علاوہ کوئی اور کام کی صورت نہیں ہوتی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے 8 سالہ دور میں لاڑکانہ، نواب شاہ، سکھر اور کراچی کے علاقے لیاری میں نئی یونیورسٹیاں قائم کیں، کئی میڈیکل کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی کے قیام پر تیار نہیں۔ محکمہ تعلیم میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی اسامیاں فروخت ہوچکی ہیں، اور ایسے کئی ہزار افراد استاد بنا دیے گئے ہیں جو بنیادی اہلیت کا امتحان پاس نہیں کرسکے۔

یہی صورتحال صحت کے شعبے کی ہے۔ تھرپارکر میں بچوں اور عورتوں کی اموات کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ 2007ء میں سابق وزیراعلیٰ ارباب رحیم کے دور میں سول اسپتال کراچی میں ٹراما سینٹر کی تعمیر کا فیصلہ ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی نے برسر اقتدار آنے کے بعد ٹراما سینٹر کو بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا، مگر 10 سال ہونے کو ہیں، یہ ٹراما سینٹر ابھی کام کرنے کے لائق نہیں ہوا۔ اسپتالوں میں ڈاکٹروں، ادویات اور پینے کے پانی تک کی کمی ہے۔ یہ حالات اندرون سندھ کے شہروں کے بھی ہیں اور کراچی اور حیدرآباد کے بھی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ بلدیاتی نظام متاثر ہوا ہے، چھوٹے بڑے شہر کوڑے دان میں تبدیل ہوگئے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئیں، گندے پانی کی نکاسی کی صورتحال بہت خراب ہے، کراچی حیدرآباد میں پانی کا شدید بحران ہے۔ کراچی شہر کی بیشتر آبادیوں کو کبھی دو مہینے بعد، کبھی ایک مہینے بعد پانی فراہم ہوتا ہے۔ گزشتہ سال کراچی شہر میں ایک ہزار سے زیادہ افراد لو کی لہر سے جاں بحق ہوگئے تھے، مگر صوبائی حکومت اس آفت سے بچنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرپائی۔ ایسی ہی صورتحال دوسرے شعبوں کی بھی ہے۔

سندھ کے بظاہر وزیراعلیٰ تو قائم علی شاہ ہیں، مگر زرداری فیملی کے کئی لوگ وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل رہی، مگر کراچی میں امن و امان کی صورتحال بگڑتی چلی گئی۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے شہر میں مختلف وجوہات کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی کے قتل کے بعد ایک رات میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد 2 ہندسوں تک پہنچ گئی تھی۔ ایم کیو ایم نے اس قتل کا الزام اے این پی پر لگایا تھا، بعد میں اس قتل میں کالعدم مذہبی تنظیم کے دہشت گرد گرفتار ہوئے۔ عسکری اور سول ایجنسیاں بار بار سوال اٹھانے لگیں کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ٹارگٹ کلنگ کے پس پشت کون سی قوت ہے۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کے خلاف ٹارگٹ آپریشن ہوا، اس کے بہت سے کارکن لاپتہ ہوئے اور کئی کارکنوں کی لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں۔ ایم کیو ایم نے کئی بار احتجاجاً شہر میں ہڑتالیں کرائیں، مگر گزشتہ سال نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے اور مبینہ ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے رینجرز کے دعوے کے بعد شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی۔ رینجرز اور وزارت داخلہ ایم کیو ایم کے کارکنوں پر را کے ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاتی رہی، لاہور ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کے قائد کی تقاریر پر پابندی لگادی، مگر اس دوران قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی۔

اب ایم کیو ایم وفاق میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کا حصہ ہے اور سندھ میں کراچی صوبے کا نعرہ لگا رہی ہے۔ محفوظ یار خان جیسے لوگ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے قائدین کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایم کیو ایم جب 1986ء میں طلبا کی تنظیم سے سیاسی جماعت بنی تھی، اس کے قائدین نے سائیں جی ایم سید سے دوستی اور سندھ کے اتحاد کا نعرہ لگایا تھا۔ ایم کیو ایم کالا باغ ڈیم کے بننے کے خلاف قوم پرستوں کے موقف کی حمایت کرتی رہی ہے۔

سندھ اسمبلی میں چالیس کی دہائی میں ایک قرارداد کے ذریعے ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو سندھ میں آباد ہونے کی پیش کش کی تھی، اس قرارداد کی بنیاد پر بہار میں فسادات کے بعد بہت سے بہاری خاندان لیاری سے متصل ایک خالی علاقے میں آباد ہوگئے تھے، یہ علاقہ بہار کالونی کہلاتا ہے۔ پھر سندھ میں 1947ء کے فسادات کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں کو خوش آمدید کہا۔ سیاسی محقیقین کا کہنا ہے کہ 1958ء تک اردو بولنے والے سندھی سندھ میں ضم ہورہے تھے‘ مگر ایوب خان کے مارشل کے نفاذ کے بعد سندھی زبان کی تدریس پر پابندی لگادی گئی، اس طرح دونوں قومیتوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی۔

1972ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دینے کا بل منظور کیا تو دائیں بازو کی جماعتوںنے اردو بولنے والوں کو مشتعل کیا۔ سندھ میں فسادات ہوئے۔ جماعت اسلامی کے قائدین لسانی بل پر اپنی پارٹی کی پالیسی پر اب تنقید کرتے ہیں، مگر ایم کیو ایم نے تو اپنے آغاز کے ساتھ ہی سندھ کے اتحاد کا نعرہ لگایا تھا اور پھر 2008ء میں ماضی کی غلطیوں کو فراموش کرکے آئندہ صوبے کی ترقی کے لیے کام کرنے پر اتفاق ہوا تھا، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کی نااہلی کی بنا پر صوبہ پسماندگی کا شکار ہوا۔ ایم کیو ایم کے حامیوں میں فرسٹریشن پیدا ہوئی، مگر اس کا مطلب سندھ کی تقسیم نہیں ہے۔

کراچی صوبے کا نعرہ گزشتہ 63 سال میں کئی دفعہ لگا، مگر مقبولیت حاصل نہیں کرسکا۔ گزشتہ 20 سال کے دوران خیبرپختونخوا، گلگت، کشمیر، پنجاب، بلوچستان اور اندرون سندھ کے بڑے پیمانے پر لوگوں کی کراچی منتقلی اور ان قومیتوں میں متوسط طبقہ وجود میں آنے سے صورتحال تبدیل ہوئی۔ بعض ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی کی حقیقی مردم شماری شہر کی نئی ڈیموگرافی کو ظاہر کرے گی، مگر اس وقت ایم کیو ایم تاریخ کے بدترین آپریشن کا سامنا کررہی ہے، اس کے قائدین کو لندن میں بھی مقدمات کا سامنا ہے اور ملک میں بھی اسٹیبلشمنٹ کسی صورت اس جماعت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے۔

ایسی صورت میں کراچی صوبے کا نعرہ لگانے کا مطلب ایک طرف تو نئے تضادات کا ابھرنا ہے اور دوسری طرف ایم کیو ایم کا تنہا ہونا بھی ہوگا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ نادیدہ قوتیں اس نعرے کے ذریعے جمہوری نظام کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، مگر سندھ کے مسئلے کا حل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں اتفاق رائے ہے۔ پیپلز پارٹی کو بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پر خودمختار بنانے اور جلد سے جلد فعال کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کے ذریعے شہروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ نادیدہ قوتوں کے اشارے پر تیار کی جانے والی پالیسیوں کے ماضی میں بھی بڑے نقصانات ہوئے ہیں اور مستبقل میں بھی اس کا فائدہ نادیدہ قوتوں کو ہی ہوگا۔ سندھ کی ترقی میں ہی کراچی کی ترقی ممکن ہے، اس بات پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔

Source : https://www.express.pk/story/541423/