پنجاب کی تقسیم اور پنجابی قوم کی تباھی کی بنیاد ‘ 1916 میں معاہدہ لکھنو کے ذریعے رکھی گئی۔

مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان 1916 میں ھونے والا معاہدہ لکھنو ‘ جو اردو زبان کی سماجی بالادستی ‘ یوپی کے مسلمانوں کی سیاسی بالاتری ‘ پنجابی قوم کی سیاسی اور سماجی تباھی اور پنجاب کی تقسیم کی بنیاد بنا-

غیر منقسم ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں معاہدہ لکھنو کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ یہ معاہدہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے درمیان پہلا اور آخری سیاسی سمجھوتہ تھا۔ 1915ء میں دونوں جماعتوں کے اجلاس ممبئی میں ایک ہی مقام پر منعقد ہوئے جہاں دونوں پارٹیوں کی طرف سے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مفاہمت کے کسی فارمولے پر باالمشافہ بات چیت ہو سکے ۔ نومبر 1916ء میں ان کمیٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس لکھنو میں منعقد ہوا اس اجلاس میں کافی غور خوص کے بعد ایک معاہدہ طے پایا ۔ دسمبر 1916ء میں آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے اپنے اجلاس منعقدہ لکھنو میں اس معاہدے کی توثیق کر دی ۔

معاہدہ لکھنو کے اھم نکات۔

اس معاہدے کی رو سے جن نکات پر اتفاق رائے کیا گیا ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

1۔ کانگریس نے مسلم لیگ کا مطالبہ برائے جداگانہ انتخاب تسلیم کر لیا

2۔ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے سے بھی کانگریس نے اتفاق کر لیا

3۔ ہندوؤں کو پنجاب اور بنگال میں Weight ageدیا گیا۔ ان صوبوں میں ہندو نشستوں میں اضافے کے ساتھ مسلم لیگ نے اتفاق کر لیا ۔

4۔ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت نہیں تھی وہاں مسلم نشستوں میں اضافہ کر دیا گیا ۔

5۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ کوئی ایسا بل یا قرارداد جس کے ذریعے اگر ایک قومیت متاثر ہو سکتی ہے اور اسی قومیت کے تین چوتھائی اراکین اس بل یا قرارداد کی مخالفت کرے تو ایسا کوئی مسودہ قانون کاروائی کے لیے کسی بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

مسلم لیگ کے اجلاس میں بنگال سے فضل الحق، عبدالرسول، مولانا اکرم خان اور ابوالقاسم۔ پنجاب سے سر فضل حسین، ذوالفقارعلی خان یوپی سے سر رضا علی، سرمحمد یعقوب۔ آل نبی اور آفتاب احمد خان۔ بہار سے حسن امام اور مظفر حق نے شرکت کی اور لکھنو پیکٹ طے پایا۔

لکھنو پیکٹ آگے چل کے دو قومی نظریے کی بنیاد بنا۔ آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخاب کو تسلیم کیا۔ گومسلمان اور ہندوﺅں کا ایک بڑا طبقہ اس پیکٹ کے شدید خلاف تھا۔

1935 کے گورئنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت ہونے والے الیکشن کے بعد کانگریس اور لیگ کےدرمیان اختلافات نے شدت اختیار کر لی۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران مسلم لیگ نے برطانوی حکومت کا ساتھ دیا جبکہ کانگریس نے اس کی مخالفت کی۔

23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے لاہور میں منعقدہ اپنے اجلاس میں دو قومی نظریہ پیش کیا اور اس کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے ایک نئے وطن کا مطالبہ پیش کر دیا۔

1940 سے 1947 تک لیگ نے قیام پاکستان کے سلسلہ میں کامیاب کوششیں کیں جن میں اسے برطانوی حکومت کی تائید اور حمایت حاصل رہی۔

انجام کار آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کےفرقہ وارانہ مسئلہ کے لیے تقسیم ہند کو واحد حل تجویز کیا۔ اس کے تحت 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور 15 اگست 1947 کو ہندوستان کو تقسیم کے بعد مسلمانوں کو آزادی نصیب ہو گئی۔

اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ سارا کھیل ھندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کا تھا یا مسلمان اور سکھ پنجابیوں کو آپس میں لڑواکر اور پنجاب کو تقسیم کرکے ‘ پاکستان کے نام پر مسلمانوں کے ملک کو وجود میں لا کر اس ملک پر یوپی ‘ سی پی ‘ بھار کے مسلمانوں کی سماجی ‘ سیاسی اور انتظامی بالادستی قائم کرنے کا؟

Source, https://www.facebook.com/JagPunjab/posts/529741973754041