پنجاب کا کلچر ولچر

بہت عرصہ سے سنتے آرہے ہیں کہ ہمارا کلچر خراب ہو گی اہے۔ مغربی کلچر نے ہماری ثقافت کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ یہی نہیں، کلچر کے نام پر ناچ گانا اور بے ہودہ چیزوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ جب بھی کبھی ادب، لٹریچر، تہذیب، ثقافت یا پرفارمنگ آرٹس جیسی چیزوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو فوراً ہی کوئی برائے نام مذہبی تحریک سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ چند روز قبل کلچر کے حوالے سے ایک تقریب میں شامل ہونے کا موقع ملا جس کی بدولت ایک ہی دن میں مختلف تاریخی ساز بھی سننے کو ملے۔ پاکستان کے مختلف کونوں سے چُن چُن کر بلائے گئے موسیقار اپنے اپنے انسٹرومنٹ پر جب دھن چھیڑتے تو دل کے تار بے ساختہ تھرکنے لگتے تھے۔ ہر دُھن کے ساتھ دل اچھل رہا تھا کئی بار تو بغیر دھن کے بھی ناچنے بھی لگا لیکن دماغ کی حالت اتنی ہی خراب تھی کہ بھائی یہ کیا مذاق ہے۔ ایسی محفلیں اب کیوں نہیں سجتیں، یہ پکھاوج بنانے والا پاکستان میں اکلوتا شخص کیوں ہے، پکھاوج بنانے والے بزرگ تو اب نہیں رہے تو سکھانے والا اب کون ہے، کیا اسے سیکھنے کے لیے اب انڈیا جانا پڑے گا۔  اور ممکن ہے کہ وہاں سے واپسی کا راستہ بھی نہ مِلے۔ بکرے کی آنتوں کی تار سے بنائی گئی سارنگی اورگھوڑے کی دم کے بال استعمال کر کے تیار کیا گیا اس کا ہینڈل یہ اب کون بنائے گا۔ خوبصورت ساز بجانے والی یہ شخصیات جن کے آج درشن ہوئے یہ عام لوگوں میں مشہور کیوں نہیں، کیا ہمارا کلچر اب۔ بِلو وغیرہ کے قابل ہی رہ گیا ہے یاپھر چوبرجی میں کھڑے ڈھولچی کو بارگینِنگ کے بعد تین سو روپے میں فنکشن کے لئے بک کر کے اس کی بے تال کی تھاپ پر کیژوول کراٹے کے انداز میں الٹے سیدھے ہاتھ پیر چلانے کے بعد ہی ہم بڑے پنجابی بن سکتے ہیں۔

سوال بہت سے تھے جواب کوئی نہیں اس سوچ نے پریشان کر رکھا تھا کہ ہمیں یہ ہنر کیوں نہیں سکھائے گئے؟ گانا بجانا کیا صرف مراث پُنے کے عنوان کا ہی حق دار ہے، موسیقی سے محظوظ ہونے اور داستانیں محفوظ ہونے کی روایت کہاں گئی؟ کانوں میں ٹوٹیاں ٹھونس کر چار گانوں کی ایک پلے لسٹ کا نام میوزیکل انٹرسٹ آخر کس نے رکھ دیا۔ خیر ایسے بے ہودہ خیالات کو جدید دور میں کہاں اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن اتنا ضرور پتا چل گیا کہ اگر کوئی ساز تاریخی طور پر ہمارا نہیں بھی ہے تو اسے سن کر، محسوس کر کے، اپنے اندرجذب کر کے ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی البتہ سکون میسر آ جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی ہماری سات سروں کی ثقافت اتنی رنگین ہے کے اگر اس کو اپنا لیا جائے تو پانچ دریاؤں والا پنجاب واقعی سترنگا پنجاب بن جائے۔

 

پنجاب کو پرامن، ثقافتی لحاظ ہے تھوڑا متحرک اور سترنگا پنجاب بنانے کے لیے سابقہ سیکرٹری انفارمیشن راجہ جہانگیر کی ترقی پسند سوچ کے زیر سایہ انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے کلچر ونگ میں ایڈشنل سیکرٹری ثمن رائے کی جانب سے کلچر پالیسی بھی متعارف کروائی گئی ہے جس کا ڈرافٹ عوام کی مشاورت کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔ پانچ سالہ فریم ورک کے ایجنڈے کے مطابق پنجاب میں امن کی فضا قائم رکھنے، ثقافت کو فروغ دینے، سوشل ڈویلپمنٹ کی ساتھ ساتھ معاشی لحاظ سے ثقافتی ترقی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کو پڑھنے اور اس پر اپنی رائے پیش کرنے کا حق سب کے پاس ہے مگر حقیقت میں یہ کوئی آسان کام نہیں جس کی ایک دردناک وجہ یہ ہے کہ کلچر کو جب کوئی سمجھتا ہی نہیں، تو اس پہ بات کیا کرے گا۔

تنقید برائے تنقید کی کوئی حد نہیں ہوتی لیکن تنقید برائے اصلاح کے لیے 65 صفحات کا ڈرافٹ پڑھنے اور سمجھنے کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ کلچر یا ثقافت کے لفظ سے جنم لینے والے فلسفے کو سمجھا جائے اور اس بات کا پختہ یقین قائم کر لیا جائے کہ ہمارے کلچر کے علاوہ دوسرے کلچر بھی ہیں جن میں موجود بہت سی خوبصورتیوں کے ہم خود اکثر دیوانے ہو جاتے ہیں۔ لہذا کسی کی ثقافت کو محض اس لیے نظر انداز نہ کیا جائے کیوں کہ وہ ہماری ثقافت کا حصہ نہیں۔

تاریخی لحاظ سے صوبائی سطح پر کلچر کے متعلق یہ پہلی پالیسی ہے اور عین ممکن ہے کہ اس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جائے لیکن ایک انتہائی عمدہ بات جو اس موضوع پر اٹھنے والے الٹے سیدھے سوالات میں سے اکثر کا جواب ہے کہ کلچر ہمیشہ اچھا نہیں ہوتا ورنہ ستی یا وانی کی رسم کو کلچر کہہ کر اس بحث کو یہیں فل سٹاف لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کی ضرورت ہے، انتشار پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے فن اور ادب کا سہارا لینا ہوگا۔ نشے اور ہتھیار کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں میں پینٹنگ برش یا کوئی ساز پکڑا دینا زیادہ مناسب ہے۔ ون ویلنگ کو کلچر بنانے سے بہتر ہے کہ اضلاع میں آرٹ کونسل کے آغوش میں نوجوانوں میں ہنر مندی کے مقابلے کروا دیے جائیں۔ اگر اس ملک کا نوجوان تحمل اور برداشت کے ساتھ دوسری زبان یا علاقے کے لوگوں سے ان کا فن سیکھنے کی خواہش دل میں پیدا کر لیتا ہے تو میرے خیال سے انتہا پسندی کی کمر ٹوٹ جائے گی اور نفرت کے دریا محبت کے سمندر میں جا گریں گے۔

 

حکومت اور پنجاب کی عوام کو پورے ملک کی طرح مذہبی انتہا پسندی جیسیی تحریکوں سے خطرہ لاحق ہے جس سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونا ہوگا شاید اسی دیرینہ سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے کلچرل پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ ہم اندر سے اتنا مردہ ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ہی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت پڑ گئی لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ بروقت اس ضرورت کو پورا کیا جارہا ہے جو آنے والے برسوں میں ے علاج میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پیار اور محبت کا درس صوفیوں کی شاعری، روحانیت سے بھرپور صبر و تحمل درس، سماجی بندھنوں میں گرے ہوئے پرسکون لوک گیت، ذخیرہ الفاظ کے مجموعے سے بھرپور لوک قصے اور داستان گوئی اگر روح کی خوراک بن جائیں تو دھرنوں، مظاہروں، توڑ پھوڑ اور وال چاکنگ جیسی لعنتوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے ورنہ مورخ لکھے گا کہ ہیر رانجھا کا قصہ لکھنے والے وارث شاہ کے دیس میں آج لوگ ہیر گانے کے فن سے انجان ہیں۔

مورخ یہ بھی لکھ سکتا ہے کہ جس دور میں پاکستانیوں نے وارث شاہ سے منہ پھیرنا شروع کر دیا اس وقت انڈین پنجاب میں طلبہ وارث شاہ اور اس کی تصانیف پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ اس پالیسی کی مدد اور عوام کے شوق سے اگر ثقافت پر پہرا دے دیا گیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے فن پارے بنانے والے سے لے کر ہمارے بڑے بڑے تہواروں کے بارے میں ہر کوئی لکھے اور پڑھے گا۔

Source, http://www.humsub.com.pk/90573/pawan-singh-arora-4/