پنجابی زبان کے رسم الخط اور لہجے

عامر ریاض

پنجابی زبان کی قدامت بارے کوئی دو رائے نہیں۔ خود پورن بھگت کا قصہ ساڑھے تین ہزار سال پرانا ہے۔ کسی بھی زبان کی وسعت اور پھیلائو کا ایک ثبوت اس کے بولنے، لکھنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں۔ یوں زبان کوئی جامد اور غیر متحرک شئے نہیں بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تغیر جاری رہتا ہے۔ عربی ہو یا انگریزی، فارسی، یا پھر پنجابی، اس میں دیگر زبانوں کے نئے نئے الفاظ بھی آتے ہیں اور اس کے الفاظ دوسری زبانوں میں بھی جگہ بناتے رہتے ہیں۔ پنجابی زبان کے لہجوں اور رسم الخطوں بارے ہم یہاں دو غیرپنجابیوں کی آراء دینا چاہتے ہیں۔ ایک تو مشہور روسی ماہر لسانیات ہیں جن کا نام گینگو وسکی ہے جو علم لسان یعنی زبانوں بارے اپنے علم کی وجہ سے مشرق و مغرب میںمستند محقق مانے جاتے ہیں۔ جبکہ دوسرے ہیں جناب جی ڈبلیو لائٹز کہ جنہوں نے قبل از انگریز تعلیمی بندوبست کے حوالے سے پنجاب کی تعریف انتہائی مدلل انداز میں کی ہے۔ گینگو وسکی کی کتاب کا انگریزی نام ہے People of Pakistan جبکہ اس کا ترجمہ ’’پاکستان کی قومیتیں‘‘ کے عنوان کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کتاب میں گینگو وسکی کا کہنا ہے کہ پنجابی زبان کا بہت زیادہ پھیلائو ہے۔ اس کے لہجوں میں ماجھی، سرائیکی، پوٹھوہاری، پہاڑی، گوجری، ہندکو، لہندی سمیت لاتعداد لہجے شامل ہیں۔ ان سب لہجوں کی گرائمر ایک ہے مگر لفظالی مختلف ہے۔ زبان اور لہجے کے فرق کو ماہر لسانیات سے زیادہ بھلا اور کون جان سکتا ہے۔ دوسرے عبقری جی ڈبلیو لائٹنر ہیں جنہوں نے پنجاب کے قبل از انگریز تعلیمی بندوبست بارے لاجواب کتاب ’’Indegenious Education in the Punjab‘‘ 1882 میں لکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجابی بہت سے رسم الخطوں میں لکھی جاتی تھی۔ ان میں فارسی رسم الخط (شاہ مکھی) تو تھا ہی کہ جس میں آج کل ہم سب پنجابی لکھتے ہیں۔ دوسرا رسم الخط گورمکھی تھا جسے سکھ مت والوں نے تین چارسوسال قبل بنایا تھا۔ تاہم لائٹنر نے اس کے علاوہ دیوناگری رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی کی بات بھی کی ہے اور اس کے علاوہ پنجابی زبان کے لنڈے، مہاجنی اور صرافی رسم الخطوں بارے بھی لکھا ہے۔ یہ جو لنڈے بازار آج کل سردیوں سے بچائو کا بندوبست کرتا ہے، یہاں لنڈے رسم الخط کے بلاک ملتے تھے۔ لنڈے، مہاجنی اور صرافی رسم الخطوں کی تصاویر بھی لائٹنر نے اپنی کتاب میں دی ہیں۔ یہ شارٹ ہینڈ ٹائپ رسم الخط تھے کہ جن میں ہر طرح کا حساب کتاب کیا جا سکتا تھا۔ ان رسم الخطوں میں لکھی جانے والی پنجابی کا تعلق براہ راست کاروبار سے تھا۔ سوداگر اور تاجر ’’مہاجنی‘‘ رسم الخط استعمال کرتے تھے جبکہ دکانداروں کے بہی کھاتے لنڈے سے پر ہوتے تھے۔ اس طرح بینکار، بنیئے، سنار وغیرہ صرافی کا پنجابی رسم الخط استعمال کرتے تھے۔ لائٹنر نے تو ان سکولوں کا تذکرہ بھی کیا ہے جہاں ان رسم الخطوں ہی کے مطابق تعلیم دی جاتی تھی۔ یوں جب مادری زبان، کاروبار اور تعلیمی بندوبست میں سانجھ تھی تو پنجاب میں ہر سطح پر ترقی بھی ہوئی۔ شو مئی قسمت یہ رسم الخط اور لہجے تو پنجابی کی وسعت اور پھیلائو کے حوالے تھے مگر آج انہی کے ذریعے پنجابیوں کو لڑانے اور کمزور کرنے کے جتن کیے جا رہے ہیں۔ گنووسکی کی کتاب اردو اور انگریزی میں داراشاعت ماسکو سے چھپ کر آئی تھی تاہم بعد میں اسے اردو میں فکشن ہائوس نے بھی چھاپا تھا۔ بقول سوات مقیم تاریخ دان سلطان روم، اس کتاب کو پشتو میں بھی ترجمہ کیا گیا تھا۔ جبکہ جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب کو بھارت و پاکستان میں بار بار شائع کیا گیا ہے۔ آج کل سنگ میل پبلشر نے اسے دوبارہ چھاپا ہے۔

Source,Daily Dunya, 2013-01-19