پنجابی اور پاکستانیت

19 جون 2015
 
 

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور چار صوبوں کی اپنی اپنی ایک زبان بھی ہے ۔ بلوچی ، سندھی ، پشتو اور پنجابی ۔ اردو مٹھی بھر مہاجروں کی زبان تھی ۔ لیکن چونکہ انگریز نے صورتحال کچھ ایسی پیدا کر دی تھی کہ ہندی ہندو کے ساتھ نتھی کر دی گئی اور اردو مسلمان کے ساتھ اس لئے اردو کو اسلامی ملک کی زبان قرار دے دینا کچھ ایسا انہونا فیصلہ بھی نہیں تھا اور کچھ ایسا ستم بھی نہیں تھا ۔ مگر پاکستان بنتے ہی بنگالیوں نے شور مچا دیا اور کہا ملک کے 60% لوگ بنگالی بولتے ہیں لہذا اسے قومی زبان قرار دیا جائے ۔ اس پر بہت واویلا کیا ۔حیرت ہے یہی شور اگر تقسیم ِ پاکستان کے بعد سب سے بڑی آبادی والا صوبہ پنجاب بھی مچا دیتا تو کیا نرالا کام کرتا ؟ بے زبان زبان کو مذہب اور سیاست کے حوالے کرنے کا رواج انگریز نے ڈالا مگر اس طریقے کو مقامی لوگوں نے نہ صرف اپنائے رکھا بلکہ فروغ دیا۔ بنگالیوں کے بعد صوبہ سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اپنی اپنی زبانوں کو اردو زبان کے اوپر ترجیح دیتے رہے۔ اس کا اندازہ پہلے بھی تھا مگر جیسا کے پچھلے کالم میں بھی لکھا کہ کینیڈا پاکستان کی نمائندگی (خیبر پختوخواہ کی نہیں) کرنیوالی سرکاری افسر کو پشتو میں وہاں تقریر کرتے سنا جہاں صرف سینکڑوں کے مجمعے میں دو اور لوگ پشتو جانتے تھے تو پہلی دفعہ احساس ہوا کہ سرکاری افسر وں کی تو بات چھوڑیئے، عام پنجابیوں نے اپنی پنجابیئت، حتی کہ اپنی ماں بولی بھی سب پاکستانیت پر وار دیا ہے۔ اس ہجوم میں دو پشتو، چار اردو سپیکنگ ہوں گے باقی سب لوگ پنجابی تھے مگر کسی نے احساس ِ کمتری کا شکار ہوئے بغیر ایک پورے ملک کی رابطے کی زبان اردو کو ذریعہ اظہار بنایاحالانکہ پنجابی اردو کیساتھ مماثلت کی وجہ سے ہر صوبے کے لوگ سمجھ لیتے ہیں۔ پاکستان سے محبت کے علاوہ پنجابی کا المیہ یہ ہے کہ اسی سیاست کے کارن تیسری بڑی زبان پنجابی سکھ کی جھولی میں آگری۔ اسی لئے باقی صوبوں کی زبانیں انکی رہیں مگر پنجابی پنجاب پاکستان میں یتیم ہوگئی۔ پنجابی نے تعصب کے بغیر اردو کو نہ صرف گلے لگایا بلکہ پنجابی کی طرف مڑ کے نہ دیکھا۔ جہاں دوسرے صوبوں والے انتہائی نا انصافی کیساتھ اردو کو پیچھے دھکیل کر اپنی زبان کو آگے آگے گھساتے ہیں وہاں پنجاب بالکل مختلف رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ دونوں رویے ہی غلط ہیں ۔ قومی زبان کی عزت اور اپنی زبان سے پیار یہ رویہ ہونا چاہیے۔پنجاب نے اپنی تاریخ بھی پاکستانیت کے حوالے کر دیا ۔ حنیف رامے اپنی کتاب پنجاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں لوگوں نے پنجاب کی تضحیک کرنے کیلئے پورس کے ہاتھیوں کی مثال تو زبانِ عام کر دی جو اپنی ہی فوج کو کچل گئے تھے مگر راجہ پورس کی بہادری اور حمیت کو قابلِ ذکر نہ جانا، جسے سکندر کے سامنے جب لایا گیا تو وہ لہولہان تھا مگر اس کا سر بلند تھا۔ اپنے ہیروز کی حفاظت اپنا ہی فرض ہوتا ہے مگر پنجابی اس میں بھی لاپرواہی کر گئے ۔ آج تک بر صغیر میں حملہ آوروں کوراستہ دینے کا طعنہ سہتے رہتے ہیں مگر آج تک کسی پنجابی کو یہ نہیں بتایا گیا کہ پوری دنیا کو فتح کرنے والا سکندرِاعظم پنجاب میں آکر مار کھا گیا تھا۔ اور اس کی ہلاکت بھی ایک پنجابی کے ہاتھوں ہوئی۔
عبد اللہ بھٹی کو دلا بھٹی لٹیرا بنا کر مورخ نے آپکے سامنے کھڑا کر دیا اور آپ نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ پنجاب کا شیر تھا یا ولن تھا۔ اس نے مغلوں کے ظلم کے خلاف جدو جہد کی تھی یا غریب عوام کا خون چوسنے والا تھا جس نے اکبر کے دین ِ الہی کے سامنے سر خم نہیں کیا اور سر عام پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ساہیوال کے رائے احمد کھرل نے انگریز کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی۔ پنجاب کو انگریز کا وفادار کہنے والے تاریخ کو کیسے بدل سکتے ہیں جس میں پنجاب رنجیت سنگھ کی موت کے بعد انگریزوں کے قبضے میں سب سے آخر میں آیا تھا۔ اور تب بھی رائے کھرل جیسے جوانمردوں کی مزاحمت جاری رہی ۔اور بھیا فوج (ہندوستانی فوج) حنیف رامے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہ نام حقارت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک یہی فوج تھی اس وقت ، اس لئے استعمال کیا گیا ہے۔ نظام لوہار، پنجاب کی زمین کا ہی سپوت ہے جس نے اپنی ماں اور بہن اور مظلوموں پر انگریز کے ظلم کے بعد انگریز پولیس سے اعلان جنگ کر دیا تھا جسکے بے ہوش جسم پر اڑتالیس گھنٹے گولیاں چلانے کے بعد پولیس نے نمازِ جنازہ پڑھنے پر دو روپے ٹیکس لگا دیا تھا۔ اور پنتیس ہزار ٹیکس اکٹھا کیا۔ اگر اس کی قبر پر پڑنے والے پھولوں پر ٹیکس لگتا تو نجانے کتنے ہزار اکٹھے ہوجاتے۔بھگت سنگھ پنجاب کا ایک اور جی دار۔ جسے پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ سکھوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سیکولر بھگت سنگھ اور رنجیت سنگھ انکے ساتھ پاکستان کے پنجاب نے انہیں سکھوں کی کرپان دیکر خود سے جدا کر دیا۔ہماری آنیوالی نسلوں کو نہیں معلوم کہ پنجاب کے کیا کیا رنگ ہیں۔ مزاحمت اور بہادری کی کہانیاں اگر اس زمین سے پھوٹی ہیں تو محبت کا پیغام بھی اسی دھرتی کی پہچان ہے۔ آج دنیا امن اور عالمی امن کے مسئلوں میں الجھی ہوئی ہے۔ پنجاب کے دانشوروں کو یہ خیال ہی نہیں کہ پنجابی صوفیانہ کلام کو اگر دنیا تک ٹھیک طریقے سے پہنچا دیا جائے تو ساری دنیا کے امن کے پیروکار چِت ہو جائیں گے۔ بابا بلھے شاہ ، سلطان باہو ،وارث شاہ ، خواجہ فرید انکے کلام کا وارث کون ہے؟ حضرت داتا گنج بخش، بہائو الدین زکریا ملتانی، حضرت فرید گنج بخش، حضرت میاں میر، امام بری کی سرزمین مجھے بڑی پیاری ہے مگر ہم پنجابی کبھی متعصب نہیں ہوئے۔ ہم نے پنجاب کی محبت میں کبھی پاکستان کو گالی نہیں دی۔ ہم نے پنجابی کی محبت میں کبھی اردو کو گھر سے نہیں نکالا۔ اردو ادب کی خدمت اور اس کو فروغ جتنا پنجابی شاعروں اور ادیبوں نے دیا، اردو بولنے والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ سیاست کے میدان میں بھی پنجابی پنجابیت کو نہیں چمٹے رہے بلکہ سندھی وزیرِاعظم کو بھی آنکھوں پر بٹھایا اور پٹھان کو بھی سینے سے لگایا۔ پاکستان صرف پنجاب نہیں۔ اگر ہے تو صرف اس لئے کہ پنجابیوں نے اپنی پنجابیت چھوڑ کر پاکستانیت کو گلے لگایا ہے۔علاقے اور علاقائی زبان سے محبت کوئی عیب نہیں، ضرور ہونی چاہیئے مگر اس کیلئے پاکستان کو گالی دینا ضروری نہیں۔ اپنی اپنی علاقائی زبانوں کو زندہ رکھیں مگر قومی زبان کی بے عزتی کرنا ضروری نہیں۔

Source, https://www.nawaiwaqt.com.pk/19-Jun-2015/393664