پاکستان میں زبانوں کا مسئلہ اور لسانی سیاست

 

محمد عرفان چوہدری

پاکستان میں زبانوں کا سوال ایک بہت ہی اہم اور پیچیدہ معاملہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس پیچیدگی کی وجہ یہاں پاکستان میں لوک بولیوں کو ریاستی سطح پر بہتر نشوونما کے لیے مواقع نہ دینا بھی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ریاستی مفادات کے تحفظ کی خاطر ایک خاص طبقے نے اس خطہ کی لوک بولیوں کو کچلنے کا کام بھی کیا ہے۔

شروع دن سے ہی یہاں کی قومی زبانوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے اردو اور انگریزی سے تبدیل(Replace ) کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے اندر بنگالی زبان کو قومی زبان بنانے کے لیے ایک بڑی تحریک اُبھر کر سامنے آئی۔ حکمران طبقات نے معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے اُسے ریاستی دبدبے اور قومی زبان اردو کے زعم میں کچلنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجے میں سابقہ مشرقی پاکستان کے اندر نوزائیدہ ریاست سے دوریاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ بنگالیوں کے علیحدہ ہونے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کے اندر یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔ سندھ میں سندھی کو ذریعہ تعلیم کی زبان بنانے کے اوپر حکمران طبقات نے اپنے گروہی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے لسانی سیاست کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس سیاست کے نتیجے میں سندھی اور اردو کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا۔ پنجاب میں جب پنجاب کے سکولوں اور کالجوں میں پنجابی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے مطالبہ نے زور پکڑنا شروع کیا تو زبانوں کے لہجوں کو ایک دوسرے کے سامنے مقابلہ کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ زبانوں اور لہجوں کے نام پر کھڑی کی گئی اس سیاست کے مقاصد کیا ہیں، ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات اس چیز کی متقاضی ہے کہ ہم اس مسئلے پر سنجیدہ غوروخوض کریں اور اس لسانی سیاست کو سمجھتے ہوئے ایک لائحہ عمل تشکیل دیں۔

دنیا آج لگ بھگ چھ ارب انسانوں کا مجموعہ ہے جو کہ مختلف تہذیبی، ثقافتی اور لسانی حوالوں سے گزرتا ہوا آج اس مقام پر پہنچا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے پہلے زبان ہی لوگوں کے درمیان مواصلات ، سیکھنے اور سکھانے کا کام کرتی تھی۔ ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے یہاں اور بہت سے مسئلوں کو جنم دیا وہاں بہت سی زبانوں کو بھی ختم کرنے کے در پر ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق دنیا میں کوئی آٹھ ہزار کے قریب زبانیں بولی جاتی تھیں جو کہ اب اس صدی کے آخر تک تقریباً 50 فیصد زبانیں ختم ہو گئی ہیں یا ختم ہونے کے قریب ہیں۔ اس کی وجہ یہاں ایک طرف ہو سکتا ہے کہ ان زبانوں میں جدید ادب اور سماج کے تقاضوں کے مطابق چلنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہو. وہیں اس کی دوسری بڑی وجہ عالمی سطح پر چند بڑی زبانوں کے علم پر اجارہ داری بھی ہے۔ جس کی وجہ سے ان چھوٹی زبانوں کے اندر مزید آگے بڑھنے کے لیے راستے مسدود ہو گئے ہیں ۔کیوں کہ جدید علم (سائنس اور ٹیکنالوجی) پر چند زبانوں نے اس طرح دسترس حاصل کرلی ہے کہ جو زبانیں اس جدید علم کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت سے عاری ہے وہ آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور ختم ہونے کے در پر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سامنے زبانوں کے حوالے سے ترقی یافتہ زبانیں اور غیر ترقی یافتہ زبانوں کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں یعنی ترقی یافتہ ملک اور غیر ترقی یافتہ ملک۔
برصغیر ہند و پاک بھی کوئی پانچ چھ ہزار سال پرانا تہذیبی پس منظر رکھنے والا خطہ ہے۔ اس خطے میں بھی لوگوں نے آپسی بول چال اور اپنے آلات پیداوار کے استعمال کی بنیاد پر بہت سی زبانیں تخلیق کیں۔ جن نے آگے چل کر اپنے اندر بڑے ادب کو بھی سمویا اور لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں۔

کسی بھی زبان کے بننے کا عمل بہت پیچیدہ عمل ہوتا ہے جو کہ بنیادی طور پر انسانی محنت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس طرح سے زبان کسی بھی خطے میں رہنے والے لوگوں کی اجتماعی محنت کی ہی شکل ہوتی ہے۔ زندہ زبانیں اس اجتماعی انسانی محنت کے عمل کے دوران بہت سے نئے الفاظ کو اپنے اندر جذب بھی کرتی ہیں اور بہت سے نئے الفاظ وقت اور حالات کے پیش نظر عام بول چال میں متروک بھی ہو جاتے ہیں۔ زبانوں کے اندر نئے الفاظ کا اضافہ ہونا اور پرانے الفاظ کا متروک ہونا تبدیل ہوتے ہوئے مادی پس منظر کی وجہ سے ہے۔ اس لیے یہ کسی حد تک قدرتی بھی ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بھی زبان اپنے اندر مختلف لہجے رکھتی ہے کیوں‌کہ تاریخی طور پر سماج میں رہنے والے لوگ مختلف جگہ پر چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں منقسم زندگی گزارتے آئے ہیں۔ چنانچہ کسی ایک جگہ بولا جانے والا لفظ نقل و حمل کے وسیلوں سے ہوتا ہوا کسی دوسری جگہ جا کر اپنا تلفظ اور ادائیگی کا مفہوم تبدیل کر لیتا ہے۔ تاریخی حوالوں سے اگر ہم دیکھیں تو کسی بھی زبان کے تخلیق ہونے کا عمل صرف کسی مخصوص جگہ سے نہیں جڑا ہوا ہوتا بلکہ اس کے اندر اس کے اردگرد مقیم انسانی آبادیوں کا بھی اچھا خاصا کردار ہوتا ہے۔ اس لیے مختلف چھوٹی چھوٹی انسانی آبادیاں اپنے اپنے وسیب میں جاری اجتماعی انسانی محنت کے ذریعے کچھ الفاظ تخلیق کرتیں ہیں جو کہ بعد میں نقل و حمل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ کر مروج ہو جاتے ہیں۔ الفاظ کا یہ اشتراک کسی بھی زبان کا ذخیرہ الفاظ بناتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض دفعہ کسی بھی زبان میں ایک ہی چیز کے لیے ایک سے زیادہ مترادف الفاظ موجود ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں اگر ہم دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر مشتمل انڈس ویلی کی زبانوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں ہر زبان کے اندر بہت سے مشترک الفاظ ملیں گے جو کہ دریائے سندھ کی تہذیب کے باسیوں کے مشترکہ میل جول اور تبادلہ آبادی کا بھی ثبوت ہے۔ زبانوں کی اس نشوونما کے عمل میں کاغذ اور قلم کی ایجاد کے بعد ان بولیوں کو لکھنے کے لیے رسم الخط ایجاد ہوئے۔

کاغذ اور قلم کی ایجاد کے بعد مختلف بولیوں کے تحریری ادب نے جنم لینا شروع کیا۔ اگر اس حوالے سے ہم پنجابی زبان کی مثالیں لیں تو پنجابی زبان کا لفظ پہلی دفعہ 1552ء میں حضرت نوشہ گنج بخش نے استعمال کیا۔ اس سے پہلے پنجاب کے دریاؤں کے دوابوں میں بسنے والے وسیب اپنی اپنی بولیوں اور لہجوں میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے تھے۔ ان لہجوں اور بولیوں کو باقاعدہ ان علاقوں کے نام سے منسوب کیا جاتا تھا۔ مشرقی پنجاب کی یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق پنجابی زبان کوئی 36 لہجوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری بڑی زبانوں میں بھی ہمیں ہر ایک کے لہجے ملتے ہیں۔ ماہر لسانیات کہتے ہیں کہ تقریباً ہر20میل کے بعد کسی بھی زبان کا لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ الفاظ کا استعمال بھی بدل جاتا ہے (سندھی کی ایک کہاوت بھی ہے کہ سند ھ میں بولی چپے چپے پر بدلتی ہے)۔ مثال کے طور پر کسی ایک علاقے میں کسی چیز کے لیے ایک لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے تو کسی دوسرے علاقے میں دوسرا لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی زبان نے جہاں جنم لیا اور جن علاقوں نے اس کو تخلیق کیا اور جن لوگوں کی یہ ماں بولی زبان ہے، اگر ہم دیکھیں تو مختلف علاقوں میں بولی جانے والی انگریزی بھی اپنے مختلف لہجے رکھتی ہے اور تو اور بہت سے لفظوں کو لکھنے کے سپیلنگ آج بھی مختلف ہیں اور اسی طرح استعمال ہوتے ہیں لیکن جس رسم الخط میں ادب لکھا گیا اور جس طریقے سے واحد اور جمع بنانے کا طریقہ استعمال ہوا، وہ کمیونیکشن کے ذرائع اور کثرت استعمال سے ایک سٹینڈرڈ کی شکل اختیار کر گیا۔

اسی طرح پنجاب کے مختلف دوآبوں میں مختلف الفاظ بولے جاتے ہیں اور مختلف لہجے مروج ہیں۔ جیسے پوٹھوہاری، ماجھی، جاٹکی، مالوی، ملتانی، ریاستی، ڈیروی وغیرہ وغیرہ۔ یہ مختلف لہجے تھوڑے بہت معمولی فرق کے ساتھ اپنے مختلف الفاظ بھی رکھتے ہیں اور ادائیگی کے اظہار بھی۔ یہ فرق کم و بیش دنیا کی ہر زبان کے اندر ملتا ہے۔ یہی لہجوں کا فرق دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کی سرزمین پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ سندھی زبان کے اندر ہمیں خیرپوری، وچولی ا ور تھرپارکری (تھری) لہجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں اردو زبان بھی اپنے لکھنؤ اور دہلی کے لہجوں کے ساتھ مشہور ہے۔ اسی طرح پشتو زبان بھی دو بڑے لہجوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ جس میں پشاوری یا کابلی اور قندھاری لہجہ قابل ذکر ہیں۔ کا بلی یا پشاوری لہجہ جن علاقوں میں بولا جاتا ہے اُن میں کابل ننگرہار پشاور، سوات، دیر اور مالاکنڈ کے علاقے شامل ہیں جبکہ قندھاری لہجہ کرک، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، وزیرستان، ژوب، کوئٹہ اور قندھار کے علاقوں میں بولا جاتا ہے۔ ان لہجوں کے اندر مزید تقسیم قبائلی سطح پر پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کرک میں بولے جانے والے قندھاری لہجے کو خٹک لہجہ بھی کہتے ہیں۔ بنوں اور وزیرستان میں بنوں لہجہ جبکہ محمود اور وزیر قبائل ڈاوڑی لہجہ اور برکی قبائل اپنی زبان کو پشتو کا اڑماڑی لہجہ کہتے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کے اندر بولی جانے والے بلوچی زبان بھی مکرانی، سیلمانی اور خارانی لہجوں کے اندر تقسیم کی جاتی ہے۔ بلوچستان کا مکرانی لہجہ تربت، پنجگور، چاغی اور حب کے علاقوں میں بولا جاتا ہے اور سلیمانی لہجہ کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں، ڈیرہ بگٹی، کولہو اور کاہان کے علاقوں میں بولا جاتا ہے۔ جبکہ خارانی لہجہ افغانستان، ایران کے بلوچ علاقوں تققان، خاران میں بولا جاتا ہے جو کہ اپنے اندر فارسی اثرونفوذ زیادہ رکھتا ہے۔ براہو ی کے بھی مختلف لہجہ بلوچستان میں رائج ہے۔ ان لہجوں کے ملاپ سے بعض علاقوں میں ان لہجوں سے مختلف لہجوں نے بھی جنم لیا ہے۔

لہجوں کا یہ فرق ایک قدرتی امر ہے جو کہ ہر زبان کے اندر ملتا ہے۔ کمیونیکشن کے ذرائع کے تیز ہونے کی وجہ سے یہ فرق دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔

ہمارے حکمران طبقات پاکستان کی قومی زبانوں کو ان کا جائز مقام دینے کی بجائے ان کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں اور یہاں زبانیں ایک دوسرے کے مدقابل نہ ہوتی ہوئی نظر آئیں۔ وہاں ان زبانوں کے مختلف لہجوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کر دیتے ہیں تاکہ ان زبانوں کو ان کا جائز مقام نہ دیا جائے۔ (لہجوں کو زبانیں بنانے کا کام چند سیمیناروں اور ورکشاپوں پر مشتمل پراجیکٹ کا کام ہے۔)

کوئی بھی زبان اپنے مختلف لہجوں اور بولیوں سے درکنار اپنے رسم الخط اور کلاسیکل ادب کے پاروں جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ ہر زبان اپنے جغرافیہ کے اند ر مختلف لہجے رکھتی ہے۔ لیکن ہر زبان جب تاریخی ارتقا کے خاص مرحلہ میں اپنے کلاسیکل ادب کے اندر ڈھالنا شروع ہوئی تو اس نے بڑی حد تک اپنے مختلف لہجوں کو اپنے کلاسیکل ادب کے اندر سمویا۔ اس عمل کے نتیجے میں مختلف بول چال کے لہجے مل کر ایک مشترکہ زبان کے کالم میں ڈھلنا شروع ہوئے جسے لوگوں نے قبول بھی کیا۔ سندھ میں شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست اور دوسرے لوک شاعروں نے سندھی کلاسیکل کو تشکیل دیا جو کہ پورے سندھ میں سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں مست توکلی اور دوسرے لوک شاعر یہی کام کرتے ہیں جب کہ پنجاب میں شاہ حسین، خواجہ غلام فرید، بلھے شاہ، وارث شاہ، سلطان باہو، بابافرید اور گرونانک پنجاب کے مختلف لہجوں کو مشترکہ زبان کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور مشترکہ ادب تشکیل دیتے ہیں جو پورے پنجاب میں سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔

اس ساری غرض و غایت کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہمیں اس سماجی رنگارنگی میں بھنگ ڈالنے کی لسانی سازش کا ادراک کرنا چاہیے اور اس ملک میں جاری حکمران طبقات کے کھیلوں سے دور رہنا ہوگا۔ ہمارے حکمران طبقات برطانوی سامراج سے تربیت یافتہ ہیں جو تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی گہرائی کو خوب سمجھتے ہیں اور کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے وہ لوگوں کی آپسی طبقاتی جڑت کو تقسیم کر سکیں۔ ہمیں اس طرح کی چالوں کو سمجھتے ہوئے حکمران طبقوں کی خواہشوں اور ضرورتوں کے تحت تشکیل دی گئی شناختوں کی سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے جس حد تک ممکن ہو سکے اس سیاست کی نفی کرنا ہو گی اور ایسا لائحہ عمل تشکیل دینا ہو گا جس سے محنت کش طبقات کا اتحاد قائم رہے۔

زبانوں اور لہجوں کے نام پر مروج سیاست اور لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیلات کے مطالبے دراصل اپنے پیچھے اسی طرح کے مذموم مقاصد رکھتے ہیں۔ اگر نئے صوبے بنانے ضروری ہیں تو اس کے تعین کے لیے ایک مستقل قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوں کی تشکیل اور ان کی ازسرنو نئی حد بندیوں کے حوالے سے فیصلے کرنے کا مجاز ہو۔

Source, http://haalhawal.com/Story/6579