پاکستانی سیاست میں بگ ڈیٹاکااستعمال

3امریکی ایوان نمائندگان کے سابق رکن ٹِپ او نیل (Tip O Niel) کہتے ہیں کہ ساری سیاست مقامی سطح پر ہوتی ہے۔ تاہم جب ہم انتخابی سرگرمیوں کی بات کرتے ہیں خصوصاً پاکستان کی تو یہی بات ایک تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔

آپ کسی کے دماغ میں فلسفیانہ تصورات اور دلکش نعرے بھر کر انتخابات نہیں جیت سکتے۔ آپ انتخابات عوام کو درپیش حقیقی اور مقامی مسائل کو حل کرکے جیتتے ہیں۔ یہ بالکل سادہ سی بات ہےکہ عام ووٹر اسی وقت آپ کو ووٹ دے گا جب آپ اس کیلئے ذاتی طور پر کچھ کریں گے۔ زیادہ تر پاکستانی سیاستدان بھی یہی کرتے ہیں کیونکہ آخر کار وہ پیشہ ور سیاستدان ہیں۔ وہ ایسے ماحول میں پلے بڑھے اور سیاست کرتے ہیں جو دنیا کا سب سے مشکل ملک ہے۔ مصنف ، سابقہ صحافی اور کنگ کالج لندن میں بین الاقوامی تعلقات اور وار سٹڈیز کے شعبے میں ٹیررازم سٹڈیز کے پروفیسر اناطول لیون (Anatol Lieven)پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک مشکل ملک ہے جبکہ نیوز ویک نے اسے ‘‘بہت زیادہ خطرناک ملک’’قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی جیسےواقف حال لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو کسی بھی قسم کی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات قبول نہیں کرتا۔ پروفیسر لیون کہتے ہیں کہ اس ملک میں آپ جو کچھ بھی کریں ، یہاں زندگی گزارنا بہت مشکل ہےجبکہ کمزوروں کیلئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

روایتی طور پر پاکستانی سیاستدان کو پیدائش، شادی، دیگر سماجی تقریبات اور اموات وغیرہ پر لوگوں کی نظروں میں رہنا چاہئے۔ اس تک لوگوں کی آسان رسائی ہونی چاہئے، اسے مہذب ہونا چاہئے، اسے ڈپلومیٹ ہونا چاہئے، اسے مضبوط ہونا چاہئے، اسے ذاتی روابط کو یقینی بنانا چاہئے کہ اس کے تعلقات ایک گیٹ کیپر سے لے کر اعلیٰ ترین اثرورسوخ رکھنے والے لوگوں سے ہیں۔ وہ ملازمت دلوا سکتا ہو، وہ اتحاد کو منظم کرسکتا ہو، کسی کو جیل سے نکلوا سکتا ہو، کسی کو جیل میں ڈلوا سکتا ہو، وہ پرمٹ لے سکتا ہو، کام کروانے کیلئے فائل آگے بڑھا سکتاہو، کاغذی کام مکمل کرواسکتا ہو، کسی کاکام کروانے کیلئے ذاتی فون کال کرسکتا ہو، گلیاںسڑکیں بنوا سکتا ہو، پائپ لائن کی پچھلی تاریخوں سے منظوری کروا کر بچھوا سکتاہو۔ اس سے عہدے کا حلف اٹھانے کے 15منٹ بعد ان سارے کاموں کی توقع کی جاتی ہے۔ سال کے 365دن ہر لمحہ کوئی بھی اپنے کاموں کیلئے اسے کال کرسکتا ہے اور یہی اس کی زندگی ہے۔ اسے ہر وقت خوش خلقی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔لوگوں سے روابط بڑھانے کا یہی اس کے پاس واحد راستہ ہے۔ دن ہو یا رات، بارش ہو یا دھوپ، اقتدار میں ہو یا باہر ، وہ ہر وقت سیاستدان ہے۔ یہی پاکستانی سیاست کا کلچر ہے یعنی ادلے کا بدلہ۔

پروفیسر لیون اپنی کتاب ‘‘پاکستان ایک مشکل ملک ہے’’ (Pakistan a Hard Country) میں اس بات سے متفق ہیں کہ سوائے ایم کیو ایم کے تمام سیاسی ، مذہبی، جمہوری پارٹیاں، جاگیردار، گروہوں کے سربراہ، شہری تنظیموں کے سربراہان سب ریاستی سرپرستی کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر سیاستدان وراثتی یعنی باپ کی طرف سے یا پھر کبھی کبھار رشتہ دار کی سیٹ سنبھالتے ہیں۔ جہاں بھی نئے سیاستدانوں کو اختیار ملتا ہے وہ ہمیشہ اپنے سیاسی اصول وضع کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اختیارات، اثرورسوخ اور سیاسی کارکن وراثتی طور پر ان کے بیٹے کو یا پھر کبھی کبھار ان کی بیٹی کو مل جائیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمانی سطح پر نسلی، برادری ،علاقائی اور مذہبی تقسیم موجود ہے اسی وجہ سے کوئی سیاسی پارٹی انتخابات میں کبھی بھی حتمی اکثریت حاصل نہیں کر پاتی خواہ اسے فوج کی حمایت ہی کیوں نہ حاصل ہواور اگر اسے اکثریت مل بھی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بہت کچھ حاصل ہو گیا کیونکہ کچھ سیاستدانوں کے پارٹی سے وفاداری سے کہیں زیادہ اہم ذاتی مفادات اور قبیلے سے وفاداری ہے۔ لہٰذا حکومتوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار یا پارلیمانی اکثریت ریت کے گھروندوں سے زیادہ کچھ نہیں۔

پروفیسر مغیث احمد ، لیون کے تھیسز کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب کی سیاست میں برادری(قبیلے سے وفاداری)سیاست پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ وہ اپنے مضمون‘‘پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں ووٹنگ کے رویئے ’’ میں وضاحت کرتے ہیں کہ برادری کے عنصر نے غیر سیاسی حکومتوں کے دور میں زیادہ اہمیت حاصل کر لی۔ قومی اور مقامی سطح اور کمزور سیاسی نظریات اور غیر جماعتی انتخابات نے اسے مزید مضبوط بنایا۔ بلدیاتی انتخابات نے بھی اس رجحان کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جہاں تک ووٹ ڈالنے کا تعلق ہے برادری کا عنصر سیاسی وفاداری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی کیلئے دو عناصر ضروری ہیں: ایک کسی بڑی سیاسی جماعت کا ٹکٹ ہے اور دوسرے برادری کی حمایت۔

ڈاکٹر مغیث اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘‘عام طور پر پاکستان خصوصاً پنجاب میںبرادریاں پریشر گروپ کا کردار ادا کرتی ہیں جن کی وجہ سے انتخابات میں ایک مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے جو جمہوریت کیلئے ضروری ہے ۔’’ سیاسی جماعتوں کے نظریاتی تصورات کی کمزوری کے باعث برادریوں سے سیاسی قیادت کا خلا بھی پُر ہوتا ہے۔ غیر سیاسی قوتیں اس اپنے حق میں اور اپنا دائرہ کار استعمال کرنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

در شہوار اور محمد عاصم نے‘‘ضلع فیصل آبادمیں لوگوں کا ووٹ ڈالنے کا رویہ ’’ کے موضوع پر سروے میں بتایا ہے کہ لوگوں کا 55فیصد ووٹ امیدوار کا ہوتا ہے پارٹی کیلئے نہیں۔ پارٹی میں اندرونی تبدیلیوں کی وجہ سے 53.1فیصد ووٹرز اپنا رویہ تبدیل کرتے ہیں۔ ووٹ کیلئے ذات پات کا نظام سیاسی وفاداریوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ تاہم آخر میں وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ سیاسی وابستگی ہی ووٹنگ کے روئیے کا تعین کرتی ہے۔

پاکستان ایک قدامت پسند، مہمان نواز اور قبائلی روایات کا حامل ملک ہے۔ یہاں کے سیاستدان روائتی انداز میں اپنے حلقہ اثر میں سیاست کرنا پسند کرتے ہیں۔ جب انتخابی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو ووٹرز کو ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتایا جاتا ہےمثلاً سڑکوں کی تعمیر، موٹرویز، ہوائی اڈوں، میٹرو نیٹ ورکس، اورنج لائن، گرین لائن، فلائی اوورز،انڈر پاسز کے تعمیراتی کاموں کے علاوہ ڈیموں، پاور پلانٹس سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا افتتاح کیا جاتا ہے۔پبلک سیکٹر میںپی آئی اے، ریلوے، پاکستان سٹیل ملزمیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے صدر اور وزیر اعظم روزگار سکیم، ٹیکسی سکیم، ٹریکٹر سکیم، فوڈ سٹیمپ پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، سرمایہ کاری پروگرام، چینی ، آٹے، کھاد، زرعی دانوں (یوریا، ڈی اے پی) پر سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔

مقامی سطح پر،سیاستدان اپنے حلقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور نالے کی مرمت کا کام کرواتے ہیں۔ جب انتخابات قریب آتے ہیں تو مختصر وقت کیلئے وہ اپنے حلقوں میں جاتے ہیںاور اپنے رفقاء،رضاکاروں اور پارٹی ورکرز کو گھر گھر ووٹرز کو قائل کرنے کیلئے بھیجتے ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں، کارنر میٹنگز کی جاتی ہیں، قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں، مفت کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے۔ بہت زیادہ معروف سیاستدان پارٹیوں کے اتحاد سے ہٹ کر سیٹ جیتنے کیلئے ہمیشہ اپنے ماننے والوں پر انحصار کرتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی نے بھی ووٹر بیس بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ بہت سے سیاستدان انٹرنیٹ پر مائیکرو بلاگز ، ٹوئیٹر، فیس بک پر ، ٹاک شوز ، حالات حاضرہ کے پروگراموں پر عوام سے بالواسطہ طور پر رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا حلقہ اثر میں شارٹ میسج سروس استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے حلقے کے لوگوں کو انتخابی مہم میں حمایت کیلئے پیغامات ارسال کرتے ہیں۔ڈیلی ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جب انتخابات قریب آتے ہیں تو اس دوران ایک ارب کے قریب روزانہ مختصر پیغامات دیئے جاتےہیں۔ وہ رکشوں، بسوں، پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ پر پوسٹرز، بینرزلگا کر بھی انتخابی مہم چلاتے ہیں۔ حتیٰ کہ الیکشن کے قریب گلی محلوں میں مائیکروفون کے ذریعے بھی انتخابی مہم چلائی جاتی ہے۔

ووٹرز کے رویئے کا اندازہ لگانا اور نئی ٹیکنالوجی کا کردار

ایک تحقیق‘‘2013ء کے عام انتخابات میں اشتہاری مہم اور ووٹرز کا رویہ ’’ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاستدان اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کیلئے روائتی مہم کے طریقوں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اس اصول کے تحت کام کرتے ہیں کہ اگر کام صحیح نہیں ہوتا تو اس میں توڑ پھوڑ نہ کرو۔ ووٹر زیادہ تر ذات برادری، قبیلہ سے وفاداری کی بنیاد پر ووٹ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس لئے اشتہاری مہم بظاہر ووٹرز کے رویئےپر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ پاکستانی سیاست میں ووٹرز کے رویئے کو جانچنے اور اس میں تبدیلی لانے کیے بگ ڈیٹا کا استعمال ایک اجنبی سی بات ہے۔ پاکستان میں ٹیکنالوجی کا استعمال سوشل میڈیا اور سیاستدانوں کے انٹرویوز لینے تک محدود ہے۔ اس لئے پاکستانی سیاستدان بگ ڈیٹا کی اصطلاح سے مانوس نہیں ہیں۔

بہاؤالدین یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر جاوید اختر اپنے آرٹیکل ‘‘پاکستانی انتخابات میں سماجی ماہرین کا ردعمل’’ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں ووٹرز کے رویئے کا مطالعہ بہت کم کیا گیا ہے۔ صرف ان ممالک میں ووٹرز کے رویئے کا جائزہ لیا جاتا ہے جہاں انتخابات تسلسل سے منعقد ہوں اور ان کا جائزہ مستقل بنیادوں پر لیا جائے۔

سوشل میڈیا اور بگ ڈیٹا کا استعمال

عام انتخابات 2013ء کیلئےپاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نے سوشل میڈیا کابھرپور استعمال کیا۔ تاہم سیاستدانوں کی بگ ڈیٹا میں دلچسپی نظر نہیں آئی۔ بنیادی طور پر سیاسی پارٹیاں سوشل میڈیا کو اپنا منشور پھیلانے اور آن لائن پراپیگنڈے کے توڑ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں صدر اوباما نے اپنی 2012ء کی انتخابی مہم کیلئے بگ ڈیٹا کا استعمال کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹرز تک رسائی کیلئے روائتی طریقوں کے علاوہ سوشل میڈیا اور بگ ڈیٹا کے دیگر ذرائع بھی استعمال کئے۔ بھارت میں انتخابی مہم میں بگ ڈیٹا کا استعمال نئی بات تھی۔ بھارت کی آبادی اور ووٹرز کی تعداد بگ ڈیٹا کو مرتب کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں 12مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور 9لاکھ کے قریب مختلف گروہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ووٹرز لسٹ میں بعض ووٹروں کی عمر 19ہزار 545سال ہے جبکہ بعض کی عمر زیرو سال ہے۔ صرف ریاست بہار میں سیتا نامی عورتوں کی تعداد 3لاکھ 27ہزار ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی پیچیدگیاں درپیش آتی ہیں۔

پاکستان میں بگ ڈیٹا کے تجزیئے کے امکانات

پاکستان میں 2013ء کے بعد جب سے3G اور4G کو متعارف کروایا گیا ہے ، بڑے وسیع پیمانےپر سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہاہے ۔ پی ٹی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2016ء تک پاکستان میں 3G اور4G استعمال کنندگا ن کی تعداد 29.74ملین تک پہنچ گئی ہے ، یہ تعداد اپریل 2016ء میں 28.67ملین تھی۔ پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 133.4ملین تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان کی کُل آبادی 180ملین ہے۔پاکستان میں موبائل فون استعمال کارحجان 69.05سے 69.34فیصد ہے جبکہ براڈ بینڈ استعمال کنندگان میں 31.6ملین سے 32.7ملین کا اضافہ ہوا ہے۔

2014ء میں 3Gاور 4Gکی نیلامی کے بعد سیلولر کمپنیوں نے پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی۔ یہ سرمایہ کاری سپیکٹرم کی خریداری، نیٹ ورک میں توسیع اور نئے آلات کی تنصیب میں کی گئی۔ ایک معروف سیلولر کمپنی کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ سیلولر کمپنیاں صارف کو بیسک ڈیٹا کی خدمات فراہم نہیں کرتیں۔ تاہم پنجاب حکومت نے ڈیٹا کے استعمال کیلئے کچھ منصوبے شروع کئے ہیں۔ جس سے ڈیٹا کے مستقبل میں سیاست سے لے کر زراعت تک میں بہتری کیلئے استعمال کرنے میں مدد ملے گی ۔ پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی کےمطابق پاکستان میں35 فیصد صارفین کم لاگت فون استعمال کرتے ہیں، 68 فیصد صارفین اینڈرائیڈ استعمال کرتے ہیں، 77 فیصد صارفین کی عمریں 21سے 30سال کے درمیان ہیں اور60فیصد پاکستانی ایک سے زیادہ سیل فون استعمال کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کیلئے بگ ڈیٹا استعمال کرنے کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ بگ ڈیٹا کی بنیاد پر اپنی انتخابی مہم کیلئے انہیں پہلا قدم تو اٹھانا ہی ہوگا۔ بگ ڈیٹا پر تجربات کا آغاز کرنے کیلئے انہیں انتخابی سال یا انتخابی تاریخ کے اعلان کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ۔ اگرچہ تمام سیاسی رہنماؤں کےفیس بک یا ٹوئٹر پر اکاؤنٹ نہیں ہیںلیکن تجزیہ کرنے پر معلوم ہو گا کہ سیاسی سطح پر برتری حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجودہیں ۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے فالوورز سے متعلق معلومات حاصل کرکے وہ اپنے ووٹر بیس کا گہرائی سے تجزیہ کرسکتے ہیں۔

اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے 39 لاکھ فالوورز (followers)ہیں جو ان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی سے زیادہ ہیں۔ تحریک انصاف کے اپنے اکاؤنٹ پر 20لاکھ فالوورز ہیں۔ اسی طرح مریم نواز کو ٹوئٹر پر 20لاکھ لوگ فالوکرتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو فالو کرنے والوں کی تعداد 13لاکھ ہے۔ اسی طرح فیس بک پر پی ٹی آئی کے آفیشل پیج کو لائک کرنے والوں کی تعداد 43لاکھ ہے۔ جبکہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کو فیس بک پر پسند کرنے والوں کی تعداد 13لاکھ ہے۔

سیاسی پارٹیوں کو بگ ڈیٹا کیلئے کیا کرنا چاہئے ؟

روایتی طور پر، پاکستان میں انفرادی سطح پر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو شائع کرنے اور کسی بھی تنازعہ کا مقابلہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتی ہیں۔ زیادہ تر ان پر خطوط ، اجلاسوں کی صورتحال اور پیروکاروں کے تبصرے دئیے جاتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اور بگ ڈیٹا کا اس سے کہیں بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کی سوشل میڈیا ٹیم کے لئے کام کرنے والے فرحان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا رحجان اس وقت زیادہ بڑھا جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ تاہم فرحان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ٹیموں کیلئے بجٹ بہت محدود ہوتا ہےاور اتنے سے بجٹ میں امریکی یا بھارتی سیاستدانوں کی ٹیموں میں سے کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘سیاستدان سوشل میڈیا ٹیم کیلئے بمشکل 20لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں جس کا زیادہ تر حصہ سامان کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ نوجوان عام طور پر رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں’’ ۔ فرحان کو یقین ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے اثرات فروغ پارہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل میں سیاستدان اپنی انتخابی مہم کیلئے ڈیٹا کے تجزیہ کا استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کہتے ہیں کہ ہر ملک کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ پاکستان میں امریکی یا بھارتی ووٹنگ کے نظام کی تقلید ممکن نہیں ہے۔امریکہ کو اس نظام کے ارتقا اور ترقی کیلئے 250سال لگے جبکہ اس نظام کا آغاز 13ریاستوں سے کیا گیا اور اب 50ریاستوں میں چل رہا ہے۔ اور صدارتی مہم کامیابی سے چلانے کیلئے اس میں ایک سال لگتا ہے۔ اور وہاں کا انتخابی طریقہ کار پاکستان کے مقابلے میں انتہائی پیچیدہ ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق جب پاکستان میں امریکہ کی طرز پر بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا گیا تو ایوب خان کو 80ہزار نمائندوں نے بطور صدر منتخب کیا تھا۔

کنور دلشاد کاکہنا ہے کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے ہے اور انتخابات کے نتائج بھی یہاں گڑبڑ ہوتی ہے۔ اگر بائیومیٹرک شناخت پر مبنی مکمل الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام پاکستان میں متعارف کروایا جاتا ہے تو صرف پریزائیڈنگ افسر کی ذرا سی چھیڑ چھاڑ سے انتخابی نتائج بدلنا آسان ہو جائے گا۔اس میں انہیں صرف بیک اپ سے چھٹکارا حاصل کرکے نئے انتخابی نتائج داخل کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے انتخابی نتائج میں ردوبدل کی حالیہ مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کاغذی کارروائی موجود ہی نہیں ہو گی تو طاقتور الیکشن مافیا کیلئے انتخابی نتائج بدلنا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔ تاہم کنور دلشاد کی رائے ہے کہ انتخابات میں بھارتی الیکٹرانک ووٹنگ مشین ماڈل کو ایک متوازی نظام کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے جس میں کاغذی کارروائی بھی مکمل کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی متنازعہ ووٹ کو ڈبل چیک کیا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے ‘‘بائیومیٹرک تصدیق، ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے انتہائی ضروری ہے’’۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک نے 2013 ءکے عام انتخابات میں لاہور کیلئے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کی قیادت کی ان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال کی سوجھ بوجھ بہتر ہو رہی ہے ۔الیکشن کمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی انتخابی اصلاحات متعارف کروا رہا ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی اپنے پارٹی امور چلانےکے لئےٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہیں۔ پرویز ملک کہتے ہیں کہ اس سے ہم کارکنوں کی سرگرمیوں سے آگاہ رہتے ہیں۔ ایک مرکزی سوشل میڈیا سینٹر چاروں صوبوں ‘سوشل میڈیا ٹیموں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انفرادی سطح پر منتخب نمائندے، وزراء اور کارکن سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آن لائن موجودگی کو منظم کرسکتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات 2013 ءمیں ٹی وی میڈیا مہم پر بھاری فنڈز خرچ کئے گئے جو بہت موثر ثابت ہوئی جبکہ گھر گھر انتخابی مہم کے بھی بہترین نتائج برآمد ہوئے ۔ ان کا خیال ہے کہ نئے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے پارٹیوں کوکام کرنے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے کراچی کے میئر کے عہدے کے لئے نامزد وسیم اختر کہتے ہیں کہ انکی جماعت کےپاس سوشل میڈیا اور ڈیٹا مینجمنٹ کی ایک اچھی اور منظم ٹیم موجود ہے۔ ‘‘ہم نے بزرگوں ، ڈاکٹروں، نوجوانوں، طلباء کے علاوہ بہت سی مختلف کمیٹیاں بنا رکھی ہیں اور ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر بہت سے پیجز ہیں جہاں پر ایم کیو ایم کے حامی اور دیگر لوگ فالو کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ضمنی انتخابات میں امیدواروں کی کامیابی کیلئے معلومات کا بروقت استعمال کیا گیا تھا۔ ہمیں این اے 247کی انتخابی مہم کیلئے مناسب وقت نہیں ملا لیکن سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کی وجہ سے ہم نے سیٹ جیت لی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطع نظر اس کے کہ کوئی ہماری جماعت کا ووٹر ہے یا نہیں ہے ہم سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب ضرور دیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بیشتر لو گ امریکہ کی طرح تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں عام جاگیردارانہ نظام سیاست ہے جہاں لوگ قبیلہ، گروپوں اور ذات وغیرہ کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی پنجاب کے آرگنائزر چودھری محمد سرور کے مطابق موجودہ دور میں ٹیکنالوجی انتخابی مہم کیلئے لازمی جزو بن گیا ہے۔ وہ کہتے ہیںکہآپ ٹیکنالوجی کے بغیر اپنی انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔برطانیہ میں اپنے انتخابی تجربات کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ رابطے کی تفصیلات اور ووٹرز کی دلچسپیوں کا ڈیٹا تک ان کے پاس ہوتا ہے ۔یہ ڈیٹا مختلف درجوں میںتقسیم کیا جاتا ہے کہ جن میں حامی ووٹرز،مخالف ووٹرز اور غیرجانبدارووٹرز شامل ہیں۔لہذا ہم نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے غیرجانبدار ووٹرز پر کام کیا۔ اس کیلئے ہم اپنا پیغام لے کرفرداً فرداً ووٹرز کے پاس گھر گھر گئے۔ انہوں نے زور دیاکہ ان طریقوں کو پاکستان میں لاگوکرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں، تین اہم سیاسی جماعتیں، پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ہیںاور ہر پارٹی کو غیرجانبدار ووٹرزپر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

‘‘ہمیں اپنے مضبوط منشور اور پارٹی کی سابقہ کارکردگی کو سیاسی عمل میں شرکت اور ووٹ ڈالنے میں شامل کرنا چاہئے۔ اگرچہ پاکستان میں یہ واقعی ایک مشکل کام ہے کیونکہ ہم نے پاکستان میں ہم غیرجانبدار ووٹروں کا ڈیٹا ہی مرتب نہیں کیا تاہم پی ٹی آئی نے اس ڈیٹا کو جمع کرنے کیلئے ایک سیل بنایا ہے۔ ہم غیرجانبدارووٹرز سے اسی طریقہ کار کے تحت رابطہ کر رہے ہیں جیسے برطانیہ میں کرتے ہیں۔ سرور کو یقین ہے کہ ووٹ ڈالنے کی ٹیکنالوجی کی حوالے سے نادرا کے پاس ڈیٹا جمع کرنے کا دنیا کا بہترین نظام موجود ہے۔ نادرا صر ف چھ ماہ میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام تیار کرکے اسے کارگر بنا سکتا ہے۔ تاہم اس نظام کو اختیار کرنے اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئےتمام سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مرضی ضروری ہے۔

ہمارے ہاں خراب ووٹنگ سسٹم اور مناسب قانون کی عدم موجودگی کے باعث مسائل موجود ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے دھاندلی کے مقدمات میں کوئی سزا نہیں دی گئی اور دھاندلی کی حقیقت کے باوجود ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک بار دھاندلی اور ووٹوں کی جعل سازی پکڑ ی جائے تو انہیں قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے ۔

پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کا انحصار معاشرتی ترقی پر ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے انتخابی عمل کا موازنہ مکمل طور پر غلط ہے۔ ‘‘بھارت کے ساتھ بھی یہ موازنہ درست نہیں کیونکہ بھارت میں سیاسی نظام بہت مضبوط ہے جبکہ پاکستان میں سیاسی نظام اور پارٹیاں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کےتمام انتظامی اختیارات حزب اقتدار کے مطلوبہ انتخابی نتائج کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی مہم میں وسائل کے استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فنڈ ریزنگ اور ڈونیشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہےاور جو سرمایہ کار اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ بعد میں ان سے مفادات بھی لیتے ہیں۔اس کے علاوہ حزب اقتدار اپنی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل کا دھڑلے سے استعمال کرتی ہےجس کا نقصان حزب اختلاف کو ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پیپلز پارٹی سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت پیچھے ہے۔ سیاسی پارٹیاں بنیادی طور پر سوشل میڈیا کو دوسری پارٹیوں کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کرتی ہیں لیکن پیپلز پارٹی یہ کام نہیں کرتی۔ بگ ڈیٹا کے استعمال کیلئے سوشل میڈیا کو کام میں لانا پہلا قدم ہوتا ہے تاکہ جاری سیاسی مہم کو سمجھا جاسکے۔ جیو الیکشن سیل کے سربراہ اور معروف صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ انتخابات 2013ء کے دوران سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ فالو کیا گیا اس کے بعد مسلم لیگ ن آتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر مضبوط موجودگی کے پیچھے اعلیٰ اور مڈل کلاس کے لوگ ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی اتنی بڑی تعداد میں حمایت کا اثر عام انتخابات پر اتنا زیادہ نہیں پڑا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اپر اور مڈل کلاس کے لوگ کم ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔ لیکن اپنے ڈرائنگ روم اور سوشل میڈیا پر وہ سیاست پر بات کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ حقیقی سیاست میں ووٹ اور پولنگ ڈے اہم ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو ووٹر کو جذباتی طور پر مائل کرلیتے ہیں وہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی طرح جیو ٹی وی نیٹ ورک پر معروف سیاستدانوں کے ساتھ مختلف سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل پر انتخابات سے پہلے بحث و مباحثہ کروایا جاتا ہے۔ براہ راست مباحثے سے مسلم لیگ ن تو اتفاق کرتی ہے لیکن دیگر سیاسی جماعتیں رضامند نہیں ہوتیں جس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹیوں کے سربراہ اہم مسائل پر براہ راست نشریات کے دوران سوالوں کا جواب دینا پسند نہیں کرتے۔ وہ اس لئے بھی خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ براہ راست نشریات میں کچھ غلط کہہ دیتے ہیں تو اس سے ان کی انتخابی مہم بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا وہ انتخابات کے دوران کسی بھی غلطی سے بچتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق میں براہ راست نشریات میں سیاسی پارٹیوں میں بحث و مباحثہ کو لازمی قرار دینا چاہئے۔