محض پنجاب کی تقسیم خطرناک ہو گی!

رحمت خان وردگ
پاکستان میں مزید صوبے بننے چاہئیں ملک کے کسی سیاستدان نے اس سے اختلاف کیا ہے نہ انکار کیا ہے البتہ اس سلسلے میں متنازع امر یہ ہے کہ نئے یا مجوزہ صوبوں کی نوعیت کیا ہونی چاہئے؟ ایک نقطہ نظر لسانی بنیاد پر، دوسرا نقطہ نظر انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کا حامی ہے۔ جہاں تک لسانی بنیاد کا تعلق ہے یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے اور پنڈورابکس کھولنے کے مترادف ہے کراچی سے پشاور تک کئی زبانیں بولی جاتی ہیں اور ایسے اہل ز بان کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے اس لئے لسانی بنیاد پر صوبے کے قیام کا ایک بھی واقع ملک میں لسانی فسادات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور باہمی منافرت کے دروازے کھل سکتے ہیں اس لئے لسانی کی بجائے انتظامی بنیاد پر صوبوں کا قیام ایسی صورتحال سے بچنے کا باعث ہو گا۔
اول تو اس وقت ملک جن حالات کا شکار ہے اس میں نئے صوبوں کی کوئی مہم یا بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہے پہلے ملک کو معمول کے حالات پر لایا جائے اور سیاسی افہام و تفہیم ا ور اتفاق رائے سے یہ مسئلہ حل کیا جائے موجودہ حالات میں محض پنجاب کی تقسیم غیر دانشمندانہ اقدام ہو گا۔ (ن) لیگ کی حکومت کو زچ کرنے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کےلئے پنجاب کو تقسیم کرنے کی مہم جوئی انتہائی خطرناک نتائج کی حامل ہوگی اس لئے ملکی مفاد کا تقاضہ ہے کہ پور ے ملک کو انتظامی لحاظ سے 17صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے(ن) لیگ کی قیادت اگر اس سلسلے میں پہل کرے تو ملک بھر میں زبردست پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے اور لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کا جو طوفان اٹھایا جا رہا ہے یہ بھی تھم جائےگا۔
میاں نواز شریف دیگر جماعتوں سے مل کر اجتماعی کوششوں سے ملک کو موجودہ سنگین صورتحال سے نکالیں، تمام محب وطن جماعتوں کو کچھ عرصہ کےلئے سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر ملک کو موجودہ گھمبیر صورتحال سے نکالنے کے پروگرام پر متفق ہو جانا چاہئے، یہ میری رائے ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے پنجاب کے آٹھ ڈویژن ایک ایک کروڑ سے ز یادہ آبادی رکھتے ہیں انہیں بھی صوبوں میں ڈھالا جا سکتا ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ تجویز بہت سے لوگوں کیلئے ناقابل فہم ہو لیکن یہ ملکی یکجہتی اور سالمیت کی مضبوط ضمانت بن سکتی ہے اس لئے یہ سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔ جتنے چھوٹے انتظامی یونٹ ہونگے عوام کے مسائل مقامی سطح پر اتنے ہی ز یادہ بہتر انداز میں حل کئے جا سکیں گے امریکہ میں تو باون ریاستیں ہیں جن کے جھنڈے بھی الگ ہیں مگر اس سے امریکہ کی سالمیت اور یکجہتی داﺅ پر نہیں لگی، رہی اخراجات کی بات تو ہر صوبہ اپنے وسائل کے اعتبار سے از خود اپنے ا نتظامی اخراجات کرے گا اور عوام بھی ان پر بہتر طور پر نظر رکھ سکیں گے۔
اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اپنے دیرینہ بغض کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ہماری مخالفت کی وجہ سے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے، یہ اسفند یار ولی کی دلی خواہش تو ہو سکتی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اے این پی کی مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ ماضی اور موجودہ حکمرانوں کی بے حسی، عاقبت نااندیشی اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے میری نظر میں صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف اس لحاظ سے قومی مجرم ہیں کہ موقع ملنے کے باوجود یہ کالاباغ ڈیم نہیں بنا سکے۔ میاں نواز شریف کو اپنے دور حکومت میں دوتہائی اکثریت ملی تھی۔ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے یہ قدم اٹھا سکتے تھے، صدر زرداری اور میاں نواز شریف صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کے موقع پر اے این پی سے کالا باغ ڈیم منوا سکتے تھے جو بلاشبہ پاکستان کی معیشت کےلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے اسفند یار ولی سمیت جو بھی کالا باغ ڈیم کا مخالف ہے اس کا اعتراض اور مخالفت ہزار فیصد بلاجواز ہے بلکہ اسفند یار ولی کی جانب سے مخالفت تو خود پٹھانوں کے مفاد کےخلاف ہے اسی طرح جو سندھی رہنما کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ میرا انہیں چیلنج ہے کہ کالا باغ ڈیم سے صوبہ خیبر پی کے اور سندھ کو کوئی نقصان نہیں ہے میں اس پر کسی بھی فورم میں اس کا مناظرہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔
کراچی میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق میاں نواز شریف کے بیان پر بعض سیاستدانوں کی طرف سے لے دے ہو رہی ہے۔ کراچی کے مخصوص حالات میں جب فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تو ان کے مثبت نتائج برآمد ہو ئے تھے البتہ میاں نواز شریف کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر ویسے ہی حالات ہوئے تو کراچی نہیں پورے ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی جائینگی۔ فوج ماتحت ادارہ ہے دوسرے اداروں کی طرح حکومت فوج سے بھی کام لے سکتی ہے۔ 
ہنگامی حالات میں اگر فوج کو مدد کےلئے طلب کیا جاسکتا ہے، سیلاب اور زلزلہ وغیرہ میں سول حکومت کی معاونت میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہے اگر سوات میں امن و امان کےلئے فوج کا استعمال جائز ہے تو امن و امان کےلئے اور دہشت گردی کے خاتمہ کی غرض سے اس کا استعمال ناجائز کیوں ہے جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے ہر معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانا ممکن نہیں ہے، ماتحت عدلیہ ایسی صوتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سول عدالتوں کے طویل ترین پروسس کی وجہ سے مقدمات برسوں لٹکے رہتے ہیںاس لئے ہنگامی حالات میں سول حکومت کی نگرانی میں خصوصی عدالتوں سے کام لینا غلط نہیں ہے البتہ یہ احتیاط ضرور کی جائے کہ صرف اصل مجرم ہی کیفرکردار کو پہنچے۔ ماتحت عدلیہ کے ذریعہ مقدمات کے فیصلوں کے حوالے سے یہ بات دلچسپی کا باعث وہ گی کہ ایک مرتبہ ایئرمارشل اصغر خان نے تجویز کیا تھا کہ فوجداری مقدمہ کے فیصلے کی مدت چھ ماہ اور دیوانی مقدمہ کے فیصلے کی مدت ایک سال مقرر کر دی جائے تو اس تجویز کی سب سے زیادہ مخالفت وکلا کی جانب سے کی گئی تھی۔

Source, https://www.nawaiwaqt.com.pk/10-Jan-2012/108718