صوبہ ہزارہ اور جنوبی پنجاب کا شوشہ

11 جنوری 2012
 
 
نواز رضا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پچھلے کئی دنوں سے سرد ہواوں کی لپیٹ میں ہے۔ موسم کی شدت نے عام آدمی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں لیکن پارلیمنٹ کا ماحول خاصا گرما گرم رہا ہے۔ پارلیمنٹ سے باہر یخ بستہ ماحول نے ایوان کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں ڈالا‘ پارلیمنٹ کے ماحول میں گرما گرمی ہزارہ اور جنوبی پنجاب کے صوبے قائم کرنے کے ایشو کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم جوکہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ نے کمال حکمت عملی سے جہاں پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث چھیڑ کر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کی ہے وہاں اپنی سیاسی مخالف قوتوں مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کو زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے قومی اسمبلی کے 37 ویں سیشن کی آخری دو نشستیں صوبوں کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئیں۔ ایم کیو ایم نے جہاں جنوبی اتحاد میں شامل دیگر قوتوں کو اعتماد میں لئے بغیر نئے صوبوں ’ہزارہ اور جنوبی پنجاب) کے قیام کی دو قراردادیں اور آئینی ترمیم جمع کراکر سبقت لے لی ہے۔ وہاں حکمران اتحاد کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔” وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی“ پیپلزپارٹی کی مقبولیت کے گرتے ہوئے گراف کے پیش نظر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنوانے کا جو سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں اس میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم معاونت کر رہی ہیں لیکن جب ایم کیو ایم نے جنوبی پنجاب کے ساتھ ہزارہ کو صوبہ بنانے کی وکالت کی تو لامحالہ خیبر پختونخوا کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اس کے خلاف شدید ردعمل آیا عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کو خیبر پختونخوا کے معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے جہاں نئے صوبے بنانے کے لئے آئینی طریقہ کار اختیار کرنے کی بات کی ہے وہاں انہوں نے اسی روز صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انہیں یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ حکومت یا کسی جماعت کو صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری حاصل کئے بغیر خیبر پختونخوا کے حصے بخرے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایم کیو ایم کے اصرار پر ہزارہ اور جنوبی پنجاب کو صوبے بنانے کی قراردادوں پر رائے شماری کرانے کے معاملہ کو موخر کرا کر حکومتی اتحاد کو شکست و ریخت کے عمل سے بچا لیا بصورت دیگر عوامی نیشنل پارٹی کے لئے حکومتی اتحاد میں رہنا ممکن نہ تھا۔ وزیراعظم گیلانی ‘ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) نے ایوان میں نئے صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑ دیا ہے بات یہیں ختم نہیں ہو پا رہی ایوان میں فاٹا اور مالاکنڈ کے علاوہ پوٹھوہار کے صوبوں کے قیام کی آوازیں بھی سنائی دینے لگی ہیں وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں انہوں نے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا کے حصے بخرے کرنے کی بات کی جائے گی تو پھر سندھ کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوگا نئے صوبے بنانے کی تحریک کا اصل ہدف پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے اس کی قیادت نے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر نئے صوبوں کے قیام کے ایشو پر ایک اصولی موقف اختیار کیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہزارہ‘ جنوبی پنجاب اور بہاول پور صوبے کے قیام کے مطالبہ کی حمایت کر دی ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ لسانی بنیادوں کی بجائے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تقسیم کا نعرہ لگانے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جب پنجاب کو خیبر پختونخواکی تقسیم کی بات ہوگی تو پھر سندھ اور بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کے مطالبے کو تقویت ملے گی لہذاٰ اس عمل کو روکنے کے لئے سیاست دانوں کو وقتی مفادات کی سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا اور یہ بات پیش نظر رکھنی ہوگی کہ کیا دو تین اضلاع پر مشتمل صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کو دو تین صوبوں میں تقسیم کرنے سے سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا چھوٹے صوبے پنجاب کے بطن سے پیدا ہونے والے صوبوں کی وجہ سے سینیٹ میں پنجاب کے صوبوں کی اکثریت کو قبول نہیں کریں گے سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ صوبوں کی تقسیم در تقسیم پر آمادہ ہے اگر ایسا نہیں تو پھر صوبوں کے قیام پر سیاست کرنے کا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔