صوبوں کی تشکیل نو

از ویب ڈیسک – November 6, 2017

محمد سمیع

دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف تقاضوں کے تحت صوبوں کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے پڑوس میں بھارت اور افغانستان میں بھی نئے صوبے تشکیل دیے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ بنگلا دیش جو اپنے قیام سے پہلے پاکستان کا ایک صوبہ تھا، اب وہاں بھی کئی صوبے وجود میں آچکے ہیں۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ سرائیکی صوبہ اور ہزارہ صوبہ کی بھی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں ان صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرتی ہیں۔ تاہم قیام پاکستان سے اب تک پاکستان میں کوئی نیا صوبہ وجود میں نہیں آیا۔ انگریزوں نے یہ صوبے اپنی مصلحتوں کے تحت بنائے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اسے ایک آسمانی فیصلے کا درجہ دے رکھا ہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ جب سندھ میں نئے صوبے کی بات کی جائے تو ایک طوفان کھڑا کردیا جاتا ہے۔ ہمارے سندھی بھائیوں نے سندھ کو دھرتی ماتا کا درجہ دے رکھا ہے جس کے ٹکڑے نہیں کیے جاسکتے۔ حالانکہ سندھ میں بھی سرائیکی صوبے اور ہزارہ صوبے کی حمایت کی جاتی ہے۔ گویا کہ ان کے نزدیک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں لیکن سندھ میں نہیں۔

سندھ میں کراچی صوبے کے لیے اکثر آواز بلند ہوتی رہتی ہے اور یہ کوئی اب کی بات نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے مرزا جواد بیگ نے سب سے پہلے کراچی صوبے کی بات کی تھی۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی آبادی کو مردم شماری میں کم دکھائی جاتی ہے اور ایسا اس بار بھی ہوا ہے۔ نئے مردم شماری کے تحت کراچی کی آبادی میں بجائے اضافے کے کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے ایک کامن سنس رکھنے والا بھی تسلیم نہیں کرسکتا لیکن وطن عزیز میں اس قسم کی انہونیاں ہوتی رہتی ہیں۔ بہرحال، مرزا جواد بیگ کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ البتہ کراچی صوبے کی آواز ایم کیو ایم بھی بلند کرتی رہی ہے لیکن جس انداز میں اس معاملہ کو ڈیل کیا جاتا رہا ہے، اس سے ایسا لگتا تھا گویا ایم کیو ایم اپنے اس مطالبے میں سنجیدہ کبھی نہیں رہی بلکہ مختلف اوقات میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے وہ سندھ حکومت کو اس معاملے میں بلیک میل کرتی رہی ہے۔ بلیک میلنگ میں تو ایم کیو ایم، وہ ایم کیو ایم جس کے بارے میں اب لاکھ کہیں کہ ہے، پر نہیں ہے، ید طولیٰ رکھتی تھی۔ ایک دن کراچی میں شہری صبح اٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ پور ے شہر میں کراچی صوبہ کی حمایت وال چاکنگ ہوئی ہوئی ہے لیکن پھر اگلے دن ایم کیو ایم کا بیان ان کے سامنے آیا کہ اس وال چاکنگ سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں۔ دراصل ہمارے مفاہمتی سیاستدان کے بادشاہ جن کی مفاہمت کی سیاست کو لوگ منافقت کی سیاست ہی سمجھتے ہیں، مفاہمت کے نام پر ایم کیو ایم کے مطالبے کو مان لیتے تھے۔ دونوں پارٹیوں کا اس میں فائدہ ہوتا تھا۔ ایک بلیک میلنگ میں کامیابی حاصل کرتی تو دوسری کو یہ یقین دہانی حاصل ہوجاتی کہ ایم کیو ایم انہیں چھوڑ کر کسی اور پارٹی سے اتحاد کرنے نہیں جارہی اور اس طرح ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں۔

اب ایم کیو ایم کے تین دھڑے تو بن ہی چکے ہیں اور چوتھے دھڑے کا بھی اعلان اخبار میں آچکا ہے جو عامر خان تشکیل دینے والے ہیں۔ لیکن تا حال اس بارے میں خاموشی ہے۔ کچھ لوگ اسے ایم کیو ایم کی دھڑے بندی کے بجائے ایک عبوری انتظام قرار دیتے ہیں جو پہلے بانی ایم کیو ایم کے وفادار ساتھی ڈاکٹر فاروق ستارنے مبینہ طور پر پارٹی کو پابندی سے بچانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کا نام دیا، اس کے بعد دوسرے وفاردار ساتھی مصطفی کمال نے سرزمین پارٹی تشکیل دی۔ تیسرا دھڑا ایم کیو ایم لندن کے نام سے اپنی موجودگی کو ثابت کرنے میں کامیاب ہے۔ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ بالآخر ان تمام دھڑوں کو اکٹھا ہوجانا ہے اور اس طرح ایم کیو ایم اپنا دوسرا جنم لے گی۔ ڈاکٹر فاروق ستار بیچارے اب تک حکومتوں کو یقین دہانی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ انہوں نے واقعی بانی ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ بڑے بڑے مزے مزے کی خبریں لگتی رہتی ہیں۔ کبھی ان تینوں دھڑوں کو پرویز مشرف کی سربراہی میں اکٹھے ہونے کی کوششوں کی خبریں آتی ہیں۔ بہر حال اس پردۂ زنگاری میں جو بھی ہے، اس کی شاطرانہ چالوں کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایم کیو ایم چونکہ ڈاکٹر فاروق ستار کے نام سے رجسٹرڈ تھی لہٰذا اسے ایم کیو ایم پاکستان کا نام دیا گیا۔ پاک سرزمین پارٹی میں دو افراد ایم کیو ایم کی سیاست میں جانے پہچانے ہیں۔ مصطفی کمال کو تو نہ صرف سابق چیف جسٹس کے ریمارکس کی بناء پر پورا ملک جانتا ہے بلکہ یہ دنیا میں ایک اچھے مئیر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی میں پرویز مشرف کی مہربانیاں شامل تھیں۔ ان کے ساتھ انیس قائم خانی ہیں جو ایم کیو ایم کے بہترین منتظم رہے ہیں۔ میں چوتھے صاحب کا تذکرہ کرنا تو بھول ہی گیا جو ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد ہیں۔ یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت بلند کیا تھی۔ اب ان کی طرف سے بھی کراچی صوبے کی بات سامنے آئی ہے۔ انہوں نے 25دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے جس کے بعد وہ کراچی صوبے کی تحریک شرو ع کریں گے ؂

یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

ایک بات اور قابل غور ہے اور وہ یہ کہ بانی ایم کیو ایم کی تقاریر پر تو پابندی ہے لیکن ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کی اطلاعات کی اشاعت کی کھلی چھوٹ ہے۔ امریکا کے سینیٹرز کے ساتھ سلسلۂ جنبانی بھی جاری ہے اور بلوچستان کے باغی لیڈروں کے ساتھ ان کی نشستوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ ان سب باتوں کی حقیقت کیا ہے وہ مجھ جیسے ایک عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے جس کو سیاست کی کوئی شدبدھ حاصل نہیں۔ البتہ یہ ضرور کہاجاسکتا ہے کہ

امور مملکت خویش خسراں دانند

آمد م بر سرمطلب۔ کراچی صوبے کا مطالبہ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں البتہ اگر اس مطالبے کو آگے بڑھانا ہے تو اس بارے میں سنجیدگی اختیار کرنی پڑے گی۔ پہلے تویہ کہا جاتا رہا ہے کہ کراچی کو ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر صوبہ قرار دینا چاہتی ہے۔ مرزا جواد بیگ صاحب کے زمانے میں اگر یہ بات کہی جاتی تو شاید درست ہوتی کہ اس وقت کراچی میں اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی لیکن صورت حال بالکل مختلف ہوچکی ہے۔ کراچی کو منی پاکستان اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں پاکستان کی تقریباً تمام قومیت کے لوگ موجود ہیں۔ آج بھی اس کی یہ حیثیت قائم ہے اور یہاں ایک آدھ قومیت کے لوگوں کی تعداد اردو بولنے والوں کی تعداد سے اگر بڑھی نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔ بلکہ بعض حلقوں کا دعویٰ یہ ہے کہ اگر دیگر قومیتوں کی تعدا د اکٹھی کی جائے تو یہ اردو بولنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ لہٰذا اب یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ کراچی صوبہ کی تشکیل لسانی بنیادوں پرچاہی جاتی ہے۔ یہ آج کی ایک انتظامی ضرورت ہے جسے بہرحال ایک نہ ایک دن پورا ہونا ہے۔ یہ کراچی میں بسنے والی تمام قومیتوں کے افراد کے مفاد میں بھی ہے۔ مفاہمت کے بادشاہ سلامت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے مبادا یہ ساری قومیتیں اکٹھی ہوکر انہیں یہ تسلیم کرنے پرمجبور کردیں کہ مفاہمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کراچی صوبہ بن جائے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پڑیں۔

Source, https://www.jasarat.com/2017/11/06/171106-04-7/