صوبوں کی تشکیل نو

دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف تقاضوں کے تحت صوبوں کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے پڑوس میں بھارت اور افغانستان میں بھی نئے صوبے تشکیل دیے گئے۔ حتیٰ کہ بنگلادیش میں بھی کئی صوبے وجود میں آچکے ہیں۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ سرائیکی اور ہزارہ صوبوں کی بھی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں ان کی تشکیل کی حمایت کرتی ہیں، تاہم قیام پاکستان سے اب تک پاکستان میں کوئی نیا صوبہ وجود میں نہیں آیا۔ انگریزوں نے یہ صوبے اپنی مصلحتوں کے تحت بنائے تھے۔ لگتا ہے کہ ہم نے اسے ایک آسمانی فیصلے کا درجہ دے رکھا ہے۔ عجیب بات یہ کہ جب سندھ میں نئے صوبے کی بات کی جائے تو ایک طوفان کھڑا کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ سندھ میں بھی سرائیکی اور ہزارہ صوبوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ گویا ان کے نزدیک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں، لیکن سندھ میں نہیں۔
سندھ میں کراچی صوبے کے لیے اکثر آواز بلند ہوتی رہتی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے مرزا جواد بیگ نے سب سے پہلے کراچی صوبے کی بات کی تھی۔ یہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، جس کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، یہ اور بات کہ اس کی آبادی مردم شماری میں کم دکھائی جاتی ہے اور ایسا اس بار بھی ہوا ہے۔ وطن عزیز میں اس قسم کی انہونیاں ہوتی رہتی ہیں۔ بہرحال، مرزا جواد بیگ کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ البتہ کراچی صوبے کی آواز ایم کیو ایم بھی بلند کرتی رہی لیکن جس انداز میں اس معاملے کو ڈیل کیا جاتا رہا ہے، اس سے ایسا لگتا تھا گویا ایم کیو ایم اپنے اس مطالبے میں سنجیدہ کبھی نہیں رہی۔
اب ایم کیو ایم کے تین دھڑے تو بن ہی چکے ہیں اور چوتھے دھڑے کا بھی اعلان اخبار میں آچکا ہے جو عامر خان تشکیل دینے والے ہیں، لیکن تاحال اس بارے میں خاموشی ہے۔ کچھ لوگ اسے ایم کیو ایم کی دھڑے بندی کے بجائے ایک عبوری انتظام قرار دیتے ہیں، جو پہلے بانی  ایم کیو ایم کے وفادار ساتھی ڈاکٹر فاروق ستارنے مبینہ طور پر پارٹی کو  پابندی سے بچانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کا نام دیا، اس کے بعد دوسرے وفادار ساتھی مصطفیٰ کمال نے پاک سرزمین پارٹی تشکیل دی۔ تیسرا دھڑا ایم کیو ایم لندن کے نام سے اپنی موجودگی کو ثابت کرنے میں کامیاب ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ بالآخر ان تمام دھڑوں کو اکٹھا ہوجانا ہے اور اس طرح ایم کیو
ایم اپنا دوسرا جنم لے گی۔ ڈاکٹر فاروق ستار بے چارے اب تک حکومتوں کو یقین دہانی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ انہوں نے واقعی بانی ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ بہرحال اس پردۂ زنگاری میں جو بھی ہے ، اس کی شاطرانہ چالوں کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایم کیو ایم چونکہ ڈاکٹر فاروق ستار کے نام سے رجسٹرڈ تھی، لہٰذا اسے ایم کیو ایم پاکستان کا نام دیا گیا۔ پاک سرزمین پارٹی میں دو افراد ایم کیو ایم کی سیاست میں جانے پہچانے ہیں۔ مصطفیٰ کمال دنیا میں ایک اچھے میئر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، ان کی کامیابی میں پرویز مشرف کی مہربانیاں شامل تھیں۔ ان کے ساتھ انیس قائم خانی ہیں جو ایم کیو ایم کے بہترین منتظم رہے ہیں۔ میں چوتھے صاحب کا تذکرہ کرنا تو بھول ہی گیا جو ایم کیوایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف سب سے پہلے عَلَم بغاوت بلند کیا تھا۔ اب ان کی طرف سے بھی کراچی صوبے کی بات سامنے آئی ہے۔ انہوں نے 25 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، جس کے بعد وہ کراچی صوبے کی تحریک شروع کریں گے۔
ایک بات اور قابل غور ہے اور وہ یہ کہ بانی ایم کیو ایم کی تقاریر پر تو پابندی ہے لیکن ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کی اطلاعات کی اشاعت کی کھلی چھوٹ ہے۔ امریکا کے سینیٹرز کے ساتھ سلسلۂ جنبانی بھی جاری ہے اور بلوچستان کے باغی لیڈروں کے ساتھ ان کی نشستوں کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ ان سب باتوں کی حقیقت کیا ہے، وہ مجھ جیسے عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے، جس کو سیاست کی کوئی شدھ بدھ نہیں۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ع:
امور مملکت خویش خسراں دانند
بہرحال ، آمدم برسرمطلب۔ کراچی صوبے کا مطالبہ ناجائز نہیں، البتہ اگر اس مطالبے کو آگے بڑھانا ہے تو اس بارے میں سنجیدگی اختیار کرنی پڑے گی۔ پہلے تو یہ کہا جاتا  رہا ہے کہ کراچی کو ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر صوبہ قرار دینا چاہتی ہے۔ مرزا جواد بیگ کے زمانے میں اگر یہ بات کہی جاتی تو شاید درست ہوتی کہ اُس وقت کراچی میں اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی، لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہوچکی ہے۔ کراچی کو منی پاکستان اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں پاکستان کی قریباً تمام قومیت کے لوگ موجود ہیں۔ آج بھی اس کی یہ حیثیت قائم ہے اور یہاں ایک آدھ قومیت کے لوگوں کی تعداد اردو بولنے والوں کی تعداد سے اگر بڑھی نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔ بلکہ بعض حلقوں کا دعویٰ یہ ہے کہ اگر دیگر قومیتوں کی تعداد اکٹھی کی جائے تو یہ اردو بولنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ لہٰذا اب یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ کراچی صوبہ کی تشکیل لسانی بنیادوں پر چاہی جاتی ہے۔ یہ آج کی ایک انتظامی ضرورت ہے جسے بہرحال ایک نہ ایک دن پورا ہونا ہے۔ یہ کراچی میں بسنے والی تمام قومیتوں کے افراد کے مفاد میں بھی ہے۔ ارباب اختیار کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

Source, http://jehanpakistan.pk/column-blog-detail/%D8%B5%D9%88%D8%A8%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D9%84-%D9%86%D9%88