صوبوں کی تشکیلِ نو  ، سرائیکی صوبہ کی بحث

blank

پنجاب کی سا  لمیت اور قومی سلامتی کو درپیش سب سے بڑا خطرہ 
تحریر:  نذیر کہوٹ

صوبوں کی تشکیلِ نو کے حوالے سے وطنِ عزیز میں جو بحث آجکل  غیر پنجابی اور پنجاب دشمن  پرنٹ اور الیکٹرانک اور بل الخصوص پرنٹ میڈیا میں  جاری ہے ۔اسے سن اور پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کے ہر مسئلے کا حل  کاصوبوں کی مزید تقسیم میں مضمر ہے۔معاملے کی سنگینی کا اندازہ  کئے   بغیرکہ صوبوں کی مزید تقسیم سے ملکی سلامتی کو کس قدر سنگین خطرات لاحق  ہیں بعض ادارے ،افراد اور سیاسی تنطیمیں  اس معاملے کو بلا وجہ اورضرورت سے کچھ ذیادہ ہی  پرنٹ میڈیا میں اچھال رہے ہیں ۔ان لوگوں کے تیور اچھے نذر نہیں آتے اور خاکم بدہن ان کی منفی سوچ اور فکر پاکستان کو کسی بڑی مصیبت اور حادثے سے دوچار کر سکتی ہے ۔یہ لوگ پانچ سات  یا پندرہ  سولہ صوبوں  اور  بالخصوص نام نہاد سرائیکی صوبہ کے مطالبہ کا تیز دھار گنڈاسہ اٹھائے  جنونی اور خود کش بمباروں کی طرح  پاکستان کے موجودہ صوبوں کے حصے بخرے کرکے خانہ جنگی  کے ذریعے پاکستان توڑنے کے لئے  میدان میں کود  پڑے ہیں ۔پنجاب کو تباہ وبرباد کرنے پنجابی زبان کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے  اور پاکستان توڑنے کے لئے نام نہاد  سرائیکی صوبہ کی آڑ میں جسے اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی  بھرپور حمائت حاصل ہے پنجاب کی سا  لمیت کے خلاف جو نسلی،لسانی دہشت گردی کی جا رہی ہے میں اسے ’’سرائیکیالائیزیش آف  پنجاب اینڈ پنجابی‘‘ کا نام دیتا ہوں۔کوئی اردو کا  اخبار اٹھا کر دیکھ لیجئے کوئی  ٹی  وی چینل  لگا کر دیکھ لیجئے آگے کوئی نہ کوئی سانپ بیٹھا پنجاب اور پنجاب کی ڈس رہا ہوگا۔یا پنجاب  پر پھنکار رہا ہوگا۔ 
صوبوں  کی مزید تقسیم  کے لئے اٹھائے جانے والے طوفان بد تمیزی کو  دیکھ کریوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ اور ملک میں امن وامان ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ ہے ۔بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک ختم ہو چکی ہے۔صوبہ سرحد میں امن امان  ہو چکا ہے۔فاٹا میں  پاک فوج نے  بھارتی  اور امریکی طالبان  کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ ملک میں بجلی کی فروانی ہو چکی ہے، مہنگائی کا خاتمہ ہو چکا ہے ،لا اینڈ آرڈر  کی صورتحال مثالی ہے ۔ملک میں زر مبادلہ کے ڈھیر لگ چکے   ہیں ۔دنیا بھر میں پاکستانیوں کا پاک  ٹیرارسٹ کہنا چھوڑ کر گرین پاسپورٹ کو احترام کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے گیا ہے ۔ ۔جمہوری  ادارے مظبوط ہو چکے ہیں ۔ملکی خزانہ لوٹنے والو کی جاگیریں اور دولت  ضبط  بیرون ملک موجود انکئے لوٹ کے اربوں ڈالر ملک میں واپس لا کر  انہیں جیلوں میں ڈال  دیا گیا ہے ،ملک سے غریبی اور بے روزگار ی اور جرائم کا  ختمہ ہو چکا ہے ۔ جاگیرداری،سرداری،خان شاہی ،وڈیرہ شاہی   ملا اور  جا گیردار  کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔۔ملک میں عوامی نقلاب آ چکا ہے ۔  پاکستان ایک جدید  اسلامی اور فلاحی ریاست بن چکا ہے  کرکٹ کا و رلڈ کپ پاکستان میں منعقد ہو چکا ہے  جموںکشمیر آزاد ہو چکا ہے ،ملاوٹ  ذخیرہ اندوزی ،اغواء برائے تاوان،اسمگلنگ  کا قلع  قمع ہو چکا۔،نسلی و لسانی جنونیت  تعصب اور علیحدگی  کی تحریکیں ختم ہو چکیں ۔ پاکستانی نوجوان  اپنے خلائی جہاز چاند سے آگے مریخ  پر ا اترنے کے  بعد نامعلوم دنیائوں کا کھوج لگانے کے   نئے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں ۔ اور پنجاب کا کسان مریخ اور   دیگر سیاروں پر گندم اگانے اور کھیی باڑی میں  اورہیر وارث گانے سسنے میں اور بھنگڑاہ ڈالنے میں مصروف ہے سندھیوں کی شکایا ت کا ہم نے  ازالہ کردیا ہے ،سندھی اقلیت میں بدلنے کے خطرے سے آزاد ہو چکےء سندھ میں پنجابیوں،بلوچوں،سرائیکوں پٹھانوں اور ہندوستان سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں آنے والے بھارتی مہاجروں کا داخلہ بند ہو چکا کیوں کہ  ان کے اپنے  صوبوں میں ان کے گھروں میں خوشحالی بھنگڑے ڈال ر ہے ۔ کراچی سے دہشت گردی اور نسل پرستی کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔مادری  زبانوں کو ان کا حق دے دیا ہے ۔ پنجاب میں پنجابی زبان نافذ ہو چکی ہے ۔ سرائیکی اور پنجابی کا جھگڑا ختم ہو چکا ہےء پنجابی اور سرائیکی کا رسم الخط ایک ہو چکا ہے اور یوں پنجابی اب  یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان بن چکی ہے ۔؛لاہو ر  کی جدید سوچ فکر تہذیب اور سچے پنجابی معاشرے اور صوفی پنجابکی  نمایندگی کرنے والی امن و آشتی کا درس  دینے والی  پنجابی فلموں نے بالی وڈ کی ہندی فلموں کا جنازہی اٹھا دیا اہے ۔اور اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما کر ساری دنیا سےء سمیٹ کر وطن عزیز میں لا رہی ہیں۔پنجابی بیورکریسی  اور سٹیبلشمنٹ اسلام آباد  کو چھوڑ کر مریخ  پر فرار ہو گئی  ہے اور اب پاکستان  سرائیکی بلوچ چلا رہے ہیں ۔دنیا کی بہترین درس گاہیں  اور شاہراہیں  پاکستان میں بن چکی ہیں  ۔ملک بھرمیں  صنعتوں کا جال بچھ گیا  ہے ۔سندھ  طاس معاہدہ ختم کر کے ہم نے بھارت  سے ہم نے  اپنے دو دریا واپس لے لئے ہیں  اور بھارت نے ہمارے دریائوں پر جو بند بنائے ہیں۔  ہماری  دہشت سے  اس نے رضاکارانہ طور پر  انہیں مسمار کر دیا ہے  اور ہم نے پاکستان کی وجود اس کی آزادی اور خود مختاری کے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کا دماغ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹھکانے لگ دیا ہے۔ امریکی  ہمارے اتحاد،طاقت کی  دہشت سے ڈیورنڈ لائن سے ہٹ کر افغانستان چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں ۔ گوادر کی  بندرگا اور بلوچستان کے وسائل ہم نے بلوچوں  کے حوالے کر دئے ہیں اور بلوچستان اس وقت پاکستان کا سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ  صوبہ بن  چکا ہے۔پاکستان کا صدر اس وقت ایک بلوچ نوجوان  ہے ۔اور وزیر اعظم  ایک سرائیکی  نوجوان ہے ۔ صوبوں کے درمیان پانی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔فوج  مکمل طور پر بیرکوں میں جا چکی ہے ۔اس فوج کی اتنی دہشت قوم نے بنا دی ہے کی دنیا کی کسی طاقت کو پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے جرائت نہیں ہوتی ۔ملک  میں مسلسل پانچ سات انتخابات ہو چکے  ہیں یہاں موروثی سیاست اور راج کا  ختمہ ہو چکا ہے۔سیاسی جماعتیں اپنے اندر بھی مکمل جمہوریت نافذ کر چکی ہیں۔پاکستان دنیا کا ترقی ہافتہ اور جدید ترین ملک بن چکا ہے اور ہم مغرب کو  ہر میدان میں پیچھے  چھوڑ آئے ہیں اور اب مغرب والے ہماری  امن پسندی ،برداشت روشن خیالی اور جدیدیت سے متاثر ہو کر ویزے  لے کر پاکستان میں اپنے گھر بناکر سکھ اور سکون سے رہنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ سب ہو چکا ہے قوم فارغ ہے صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہ کر تنگ آ چکی ہے ملک ہے کی ٹوٹنے نام نہیں لیتا۔کوئی شخص بغاوت اور ملک توڑنے کی بات نہیں کرتا۔ سندھ کو سندھیوں اور پنجاب کو پنجابیوں کو پاکستان سے  بھگا دیا گیا۔اب سندھ پر اردو والوں کا اورپنجاب پر  سرائیکیوں کا قبضہ ہے۔بلوچستان شیر شکر ہو چکا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے  بھارت اور امریکا کی مدد سے تما م پنجابیوں کو قتل کر دیا ہے۔اب کیوں کہ پاکستان کے تمام مسئلے پنجاب دشمن غیر پنجابی پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا نے حل کردئے ہیں۔

جناب  یہ سب خواب ہیں ایس اکچھ بھی نہیں ہوا ،مسلہ نہایت سیدھا اور سادا سے کہ کسی طرح پنجاب اور پنجابیوں کو ختم کر دیا جائے کیوں کہ اس کے بغیر بھارت اور امریکہ کو پاکستان توڑنے میں ناکامی ہورہی ہے ۔پنجاب کو ختم کرنے لئے سرائیکی صوبہ یا  پنجاب کو ہر حال میں تقسی کرنے کا ایجنڈا سامراجی گماشتوں کو سونپا گیا ہے جسے وہ غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک  کی مدد سے بڑی کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔اس لئے  ہمارے اندر موجود سامراجی گماشتوں نے ہمارے اوپر ترس کھا کر ہاہماری مدد کرنے کے لیے ہمیں صوبوں کی از سر نو تشکیل  یا موجودہ  صوبوں کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کا ایجنڈہ دیاہے ۔ہمارے اندر موجود سامراجی گماشتے یہ فریضہ سر انجام دیں گے کیوں کہ ہ ملک  کے اندر  خانہ جنگی کروا کر اس ملک کو توڑنے کے علاوہ اب کوئی اور راستہ نہیں  رہ گیا۔سو آیئے سب ملک کر پنجاب ،سندھ اور بلوچستان اور سرحد کے دو  دوچار چاٹکڑے کرتے ہیں ۔لوگ اس ڈرامے کو یہی سمجھیں کہ کہ یہ وفاق کی مضبوطی کے لئے کیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت آپ اور ہم سب کو معلوم ہے کہ نئے صوبوں اور سرائیکی صوبہ کا مطالبہ پاکستان توڑنے کا سب سے کار آمد اور خوفناک حربہ ہے ۔کسی کو یہ اندزاہ نہیں ہو رہا کہ پنجاب  کے خلاف  غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانکی میڈیا ی کے ذریعے جاری اس یک طرفہ فکری غندہ گردی،نسلی ولسانی دہشت گردی کا پنجابیوں میں کیا رد عمل پیدا ہو رہا ہے ۔اور کسی کو یہ اندزاہ بھی نہیں کہ پنجابی اپنی  ناراضگی اور غصے کا اظہار کس طرح کریں گے۔میں ذاتی طور  پر نفرت کے خدائوںپنجاب دشمنوں کا شکر گذار ہوں کہ  انہوں نے پنجاب کے تاریخ کی سب سے بڑی پنجابی قوم پرست تحریک کی بنیاد رکھ دی  ہے۔بس آگے آگے دیکھتے جائے کیا ہوتا ہے۔باقی رہے  نام  اللہ کا۔

 صوبوں کی تشکیل نو  کیوں نہیں کا سوال کرنے والے محترم  اور میرے ہم نام جناب  نذیر لغاری  لئے جنگ  میں ا دارتی صفحہ پر شایع ہونے والے  اپنے مضمون میں  اپنے موقف  کی  حمائت میں  بڑے  جوش سے بھارت کی مثال دی ہے کہ وہاں نسلی اور لسانی بنیادوں پر مزید صوبے بنائے گئے ہیں اور آخر میں تان اس بات  توڑی ہے  کہ سرائیکی، ہندکو،اور پوٹھوہاری  اور شمالی  علاقہ جات پر مشتمل  صوبے فوری طور پر بنائے جائیں اگر بھارت میں 14  لاکھ کا صوبہ  بن  سکتا ہے  تو پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کیوں نہیں ہو سکتی۔آخری بات  یا سوال کا جواب پہلے  کہ جس بھارت کی مثال پر  انہوں نے پور ا مضمون  باندھا ہے اسی بھارت میں  ایک ریاست یا صوبہ ہے اتر پردیش جس کی آبادی  ہے  لگ بھگ کوئی ساڑھے انیس کروڑ ۔پا کستان کی مجموعی آبادی سے بھی ذیادہ ہے۔ صاحب مضمون لگے ہاتھوں بھارتی سرکار یا نہرو کی آتما سے اپنے پڑھنے والوں کو یہ بھی پوچھ کر بتا دیتے کہ انہوں نے اتنی  بڑی آبادی کا صوبہ یوپی کیوں تقسیم کیئے  بغیر چھوڑ دیا  اور اگر اس کے ساتھ تقسیم کا مذاق کیا تو پھر بھی اس کی  آبادی انیس کروڑ کیوں چھوڑ دی ۔یوپی کو بھارت میں ،انٹاریو کو کینیڈا میں ۔کیلیفورنیا کو امریکا میں وہی پوزیش حاصل ہے جو پاکستان میں پنجاب کو حاصل ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت 
نے یو پی کے  انیس  صوبے کیوں نہیں بنائے ۔ باوجود اس کے کہ بھارت کے سارے صوبے یوپی  سے تنگ ہیں اور اسے پاکستان کے حوالے کرنے کے مطالبے بھی گاہے بگاہے بلند ہوتے رہتے ہیں مگر پھر بھی بھارت کو یو پی کو تقسیم کرنے کی جرائت اور طاقت نہیں ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اسی صوبے نے پورے بھارت کو سنبھال کر یا جکڑ کر رکھا ہوا ہے ۔گر یہ وجہ بھی نہیں تو اتنا بڑی  آبادی  کے حامل  صوبہ کو  بھارت سرکار کیوں سنبھال کر  بیٹھی ہے  ؟

 نذیر لغاری صاحب اگر اس سوال کا بھی جواب دے سکیں کہ اگربھارت  میں 1956  میں  16 صوبے  تھے اور اب  28صوبے ہیں توں وہاں دلت  اور مسلمان اقلیتیں جانوروں  کی زندگی کیوں گذار رہی ہیں،  کشمیری بھارت  کے تسلط سے آزادی کیوں چاہتے ہیں ۔مشرقی پنجاب میں  بغاوت اور فوج  کشی کیوں  ہوئی ۔آسام  میں بغاوت کیوں برپا ہے۔اور بھارت میں پرانے اور  نئے بننے والے  صوبوں میں غربت کی لکیر نیچے کروڑوں لو گ اب بھی زندگی گذارنے پر مجبور کیوں ہیں ۔بھارت  کے تیرہ صوبوں میں بغاوت اور علیحدیگی کی تحریکیں کیوں  چل رہی ہیں نئے صوبے بننے کے بعد تو  بھارت کے تمام مسائل حل ہو جانے چاہئے تھیں  ۔ اس کے باوجود بھی بھارت خوش حال کیوں نہیں ہوتا وہاں تو جمہوریت  بھی ہے ۔بھارت میں اقلیتوں کو آئینی اور قانونی حقوق حاصل کیوں نہیں ہیں۔بھارت نے مانا  اپنی آبادی کے چند ایک مٹھی بھر نسلی  ولسانی گروہوں پر یہ صوبے بنا کر احسان عظیم کیا اور دنیا کو ہاتھی کے دانت دکھائے  ۔اگر بھارت اپنی تمام آبادیوں سے اتنا ہی مخلص ہے تو  اپنی سر زمین پر ایک مسلمان  صوبہ اور ایک دلت صوبہ بھی کیوں نہیں بنا دیتا۔اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کا صوبہ  پینتیس کروڑ دلتوں کا صوبہ ۔بھارت نے  یوں اپنی آبادی کا پینتالیس فیصد  حصہ  حقوق سے محروم کیوں رکھا ہوا ہے۔بھارت  سکھوں سے تنگ ہے تو  ہریانہ ،ہمہ چل پردیش ،اور مشرقی  پنجاب۔دہلی ،جموں  و کشمیر کے علاقے  جو پنجابی اکثریتی علاقے ہیں انہیں ایک علیحدہ  ملک بنا کر آزاد کیوں نہیں کر دیتا۔ یہ بھی سارے تو ایک نسلی ،لسانی اور انتطامی اکائی بنتے ہیں ۔ ان علاقوں اور سندھ کے  جن علاقوں بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے انہیں مشرقی پنجاب سمیت پاکستان کے حوالے کیوں نہیں کر دیتا یا نہیں آازاد کیوں نہیں کر دیتا۔

نام نہاد  سرائیکستان کی سرحدیں پنجاب یونیورسٹی تک پہنچادی گئی ہیں اور  بقول سرائیکی معماروں کے  اصل پنجاب تو واہگا پار ہے  اگر  اصل پنجاب واہگا پار ہے تو بھارت اور پاکستان نے  دونوں طرف کے پنجابیوں پر واہگا پار کرنے کی آوا جاوی پر پابندی کیوں لگا رکھی ہے۔اگر دونوں کے دل میں چور نہیں تو ڈر کاہے کا، اگر بھارت کا مسلمان  سندھ کے شہر کراچی  اور پنجاب میں آکر آباد ہو سکتاہے تو پنجابی ہندو اور پنجابی سکھ مغربی پنجاب  میں  سندھی ہندو اور سندھی سکھ سندھ میں آکر کیوں آباد نہیں ہو سکتا۔آپ ہی کا سرائیکی  فارمولا ہے  کہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر صوبوں  کی تشکیل نو کی  جائے اس سوال کا بھی جواب دیتے جائے کہ  قیام پاکستان کو ممکن بنانے کے لئے پہلے پنجاب کو    مذہبی بنیادوں پر کیوں تقسیم کیا گیا۔اگر اس وقت پنجاب کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا تو آج  پنجاب کو انتظامی یا نسلی و لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے  کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے ۔پارٹیشن سے پہلے کا  پنجاب  تو آج کے پاکستان سے بھی بڑ ایک ملک  بنتا اگر متحد رہتا اور تقسیم نہ ہوتا۔کیا 1947 میں پنجاب کی تقسیم غلط ہوئی تھی۔ یا پھر آج اسے  انتظامی ،نسلی و لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بات غلط ہے ۔اگر نسلی یا لسانی بنیادوں پر پنجاب کو تقسیم کرنا ہے تو پھر نسلی ولسانی بنیادر پر  ہندو اور سکھ پنجابیوں اور سندھی  سکھوں اور ہندووں  واپس بلا کر سندھ اور پنجاب میں کیوں نہیں بسایا جا سکتا۔مسلمان اگر پنجاب میں مسلمان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں  ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے  نفرت اور تعصب میں  پاگل ہوکر حیوان یا درندہ بن چکا ہے تے پھر دوسرے راستے سوچنے میں کیا ہرج ہے ۔اگر یہ مفادات کی جنگ ہے تو پھر ا جنگ میں تو سب کچھ ہوتا ہے ۔

 نذیر لغاری  صاحب اور سرائیکی صوبہ کے نسلی دہشت گرد ڈھولی کہیں یہ کہنے کی کوشش تو نہیں کر رہے کہ  پنجاب  پاکستان میں غلط شامل ہوا تھا یاکستان ہی غلط بنا  تھا ۔کیا قائدا عظم  نے سارا پنجاب نہیں مانگا تھا۔کیوں جناح صاحب نے سکھوں کو  پاکستان میں شامل ہونے کے لئے بلینک چیک آفر نہیں کیا تھا۔ا تنا بڑا  پنجاب مانگتے ہوے جناح صاحب کو سرائیکوں،اے این پی والوں اور پنجاب دشمنوں کی طرح کیوں نہ کھٹکا۔  کیا متحدہ پنجاب ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے اس کی اوقات میں نہ رکھتا۔تقسیم کے نام پر پنجاب کے ساتھ  1947  میں دھوکا کا گیا یا اسے آج دھوکا دینے  کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اگر پنجاب کی  نسلی و لسانی یا انتظامی بنیادوں پر ہی تقسیم کرنا ہے اسے بھارت سے الگ کر کے پاکستان میں شامل کرتے وقت دس لاکھ بے گناہ پنجابیوں کے قتل عام کا حساب کس کے لیا جائے ۔پنجاب اپنی پہلی تقسیم کے زخم بھولنے کو تیار نہیں ابھی بھی  پنجاب کی روح اور جسم وجان پر لگائے جانے والے زخموں سے خون آج بھی  رس رہا ہے پنجاب دوسری تقسیم کا زخم برداشت نہیں کر پائے گا۔اور پنجاب کی تقسیم کاخواب دیکھنے والوں کا انجام بھیانک اور عبرتنا ک ہوگا۔

 آج  پاکستان کا  بلوچ سرائیکی صدر ہے ،سرائیکی   وزیر اعظم ہے ۔ہر پنجاب دشمن سرائیکی صوبہ کی حمائت کر رہا ہے ۔پنجاب کی سالمیت  پر پیپلز پارٹی کی  سرائیکی حکومت اور سرائیکی سٹیبلشمنٹ  پنجاب کی سا  لمیت  پر انتہائی خوفناک اور خطرنا ک حملے کر رہی ہے۔ سرائیکی چینل چوبیس گھنٹے پنجاب اور پنجابی کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔قومی خزانے سے نام نہاد سرائیکی  ایریا سٹڈی کھولے جا رہےہیں۔بہائوالدین زکریا یونیورٹی میں سرائیکی غندہ گردی اور دہشت گردی کے ذریعے پنجابی زبان کے مضمون کا شعبہ بند کرایا گیا ہے۔بھارت  کے میڈیا میں سرائیکستا ن کے بارے میں بڑی بڑی خبریں شائع ہو ر ہی ہیں،پاکستان کا  غیر پنجابی اور پنجاب دشمن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پنجاب کی تقسیم کے لئے سامراجی اشارے پر سرائیکی صوبہ اور اس کی آڑ میں کراچی صوبہ کی مہم چلا رہا ہے۔ پاکستان میں پنجابی زبان کے خلاف ریاستی دہشت گردی  غیر پنجابی میڈیا کے ذریعے قیام پاکستان کے وقت سے جاری ہے۔ 
 
پیپلز پارٹی بنیادی طور پر اب  پنجاب میں ایک نسل پرست سرائیکی پارٹی بن چکی ہے ۔اور سرائیکی اس کا پلیٹ فارم اقتدار اور پنجاب  کی تقسیم کے لئے استمال کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی نے پنجاب کی سا  لمیت ک ونشانے پر رکھا ہوا ہے ۔ سرائیکی پیپلز پارٹی کی سرائیکی حکومت کو چاہئے کہ جنوبی پنجاب کا احساس محرومی ختم کرنے کے لئے سینٹرل پنجاب میں بہنے والی دودھ  اور شہد کی تمام  نہروں کا رخ جنوبی پنجاب کی اب طرف موڑ دیا جائے پنجاب انہیں روکے گا نہیں ۔پاکستان کے آئین میں چار صوبوں کا ذکر ہے ۔947میں سرائیکی صوبہ،سرائیکی وسیب ،سرائیکی زبان اور سرائیکستان کہاں تھا۔ اور یہ اب کیوں ہے کہاں سے آیا  پنجاب میں سرائیکی ۔کس نے لگایا  اس کا بیج پنجاب کی دھرتی پر۔ 1960 سے پہلے سرائیکی وسیب کہاں تھا۔کس نے بویا یہ بیج یہ  بھی ایک کھلا راز ہے بتانے کی ضروت نہیں  ۔ پنجاب یک لسانی صوبہ ہے جب کی سند ھ  سہ  لسانی ،بلوچستان   چہار لسانی اور خیبر پختون خواہ چوبیس  لسانی صوبہ ہے۔پنجاب سے سب سے زیادہ تکلیف میں نام نہاد سرائیکیوں کے بعد اے این پی ہے اس بدترین متعصب اور پنجاب دشمن پختون سیاسی پارٹی نے اپنے گریٹر پختونستان کے خواب  کی تعبیر کے لئے پنجاب کے ٹکڑے کرنے اور سرائیکی صوبہ کو اپنے منشور میں شامل کر رکھا ہے۔یہ ہزارہ صوبہ بھی بنانے پر تیار ہے  مگر اس کے لئے بھی اس پنجاب دشمن،منافق اور نسل پرست تنظیم نے سرائیکی صوبہ اور پنجاب کے ٹکڑے کرنے کی شرط لگا رکھی ہے۔ان کو یہ بات کون سمجھائے  کہ جناب آپ اپنے صوبے  ٹکڑے کر کے کے ہزار صوبے بنا دیں ۔کیوں کہ وہاں چوبیس زبانیں بولی جاتی ہیں۔مگر پنجاب  کی تقسیم کا شیطانی اور غلیظ خیال چھوڑ دیں۔کہ پنجاب کی تقسیم کا خواب دیکھنے  والوں کے  پنجابی  ہزار ٹکڑے کر کے انہیں دنیا کے کے لئے ایک مثال کیوں نہ بنا دیں گے۔

 سرائیکی کوئی زبان نہیں سرائیکی وسیب کوئی علاقہ نہیں،سرائیکی کوئی کلچر نہیں ،ہر پنجابی  شناخت کو ہائی جیک کر کے اس پر سرائیکی کا ٹھپہ لگا دیا گیا۔یہ تاریخ انسانی میں کسی  زبان ،تہذیب اور کلچر  کے ساتھ کیا گیا سب سے بڑا دھوکا، فراڈ ہے اور اس پر پڑنے والا سب سے بڑا ڈاکہ ہے۔ پنجاب سرائیکی زبان ،سرائیکی  وسیب کو الگ نہیں مانتا،  سرائیکی صوبہ  کے لئے جنوبی پنجاب کی ایک  انچ بھی زمین موجود نہیں ۔ نا ہی سرائیکی صوبہ پنجاب میں بننے دیا جائیگا۔ جنوبی پنجاب صدیوں سے پسماندگی ،جہالت اور استحصال کا شکا رہے ۔۔947  پہلے کیا سینٹرل پنجاب اس کا استحصال کر رہا تھا ۔نذیر لغاری اور ان کا ہم خیال  فکری ٹولہ کسے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے سرائیکی صوبہ ،ہندو کو صوبہ  اور  پوٹھوہاری صوبہ تینوں ہی پنجاب کی تقسیم اور پنجابی زبان کے استحصال اور اسے خٰتم کرنے  کی ترکیبیں ہیں۔پنجاب کے عوام انہیں خوب سمجھتے ہیں ۔

سرائیکی (ڈیروی،ملتانی ،ریاستی ) اور ہند کوپنجابی زبان کے اکتیس لہجوں میں سے چا رلہجے ہیں  ان کے بولنے والے جہاں تک پانچ دریائوں کی سر زمین پر پھیلے ہیں آباد ہیں  ہے یہ سب  ایک دوسرے  کی زبان  بخوبی سمجھتے اور ایک دوسرے سے  اپنے اپنے لہجے بول کر انہی لہجوں میں کمیونیکٹ کر لیتے ہیں میرا تعلق سرگودھاسے مجھے کسے سرائیکی ،بہاوپوریئے  ،کسی لاہوی  ،کسی امرتسرئے ،کسی کشمیری ،  کسی ہریانوی .کسی ہندکو، کسی ہمہ چل پر دیشء کسی جھنگوی،کسی  بھکری سے بات کرنے لئے کسی اور زبان کی یا مترجم کی  ضرورت نہیں پڑتی  میرا لہجہ اور میری زبان ہی چلتی ہے۔اگر  پنجابی زبان  کے لہجے زبانیں ہیں ۔یا مسئلہ انتظامی ہی آن پڑا ہے توکیا میں بھی سرگودھا کے لہجے  اور علاقے کی بنیاد پر پنجاب میں ایک سرگودھا صوبہ کو مطالبہ نہیں کر سکتا۔ سرگودھا،جھنگ،میانوالی  خوشاب اور آدھے ملتان پر تو میں بھی اپنا حق جتا سکتا ہوں ۔میرا سرائیکی سے پھر کیا تعلق۔ ۔لیکن اس تعلق کا کیا کروں کہ  لیہ ،بھکر اور میانوالی ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی ہر کوئی مجھ ے میری زبان اور میرے لہجے کو ہر سرائیکی سمجھ کر مجھ سے تیسری زبان کے بغیر بات کر لیتا ہے ، جھوٹاکون ہے  یا کون کسے یا اپنے آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔  سرا ئیکی اگر سرگودھا کی  پنجابی کا لہجہ سمجھتا  ہے یا  سرگودھا والا  سرائیکی  اور لہوری  لہجہ  یا پنجاب کا ہر  باشندہ پنجابی زبان کا ہر لہجہ سمجھتا ہے تو پھر یہ لہجے الگ الگ زبانیں کیسے ہو گئے ۔اگر لسانی  و نسلی  ہے تو پھر پنجاب یک نسلی،یک لسانی اور یک زمینی صوبہ ہے  تو پھر تو  زمینی حقائق سامنے رکھ کر سرائیکی صوبہ خلا ء میں بنایا  جا سکتا ہے   پنجاب  کی سر زمین پر تو اس کا جواز نہیں بنتا ۔لغاری صاحب  یہ بھی فرمائیں کہ ان کے قلم کی سیاہی  سرائیکی  صوبہ ،ہندکو صوبہ اور پوٹھوہارہی صوبہ پر آکر ہی کیوں ختم ہو جاتی ہے ۔وہ  سندھ میں مہاجر صوبہ کی آواز کیوں بلند نہیں کرتے ،سندھ کی سرائیکی آبادی کو اپنے مجوزہ سرائیکی صوبہ میں شامل کرنے کا مانگ کیوں نہیں کرتے ۔  سرحد کو  تیں صوبوں  ہندکو ، پشتون  اور سرائیکی صوبہ بنانے کا سوال کیوں نہیں اٹھاتے ۔ بلوچستان کے سرائیکی،بلوچ ،براہوی اور پشتون چار صوبے بنانے کا  مطالبہ کیوں نہیں اٹھاتے ۔کہ بلوچستان اس ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب ے بڑا  صوبہ  بھی اورانتظامی مسئلہ بھی ،پنجاب سے ہی خدا واسطے کا بیر کیوں۔گرا سرائیکیوں کو  سرائیکی صوبہ بنا نا ہے تو پھر اصول کی بات کریں ۔

پنجاب آپ کے ساتھ ہے ۔پنجاب سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے تیار ہے اگر سندھ ،سرحد اور بلوچستان بھی ار پر راضی ہوں ۔بس  ایک شرط یہی پنجاب کی کہ  مجوزہ سرائیکی صوبہ میں سندھ ،سرحد اوربلوچستان  کے سرئیکی بولنے والے علاقے بھی ان صوبوں سے کاٹ کر شامل کئے جائیں ۔یہی انصاف کا تقاضہ اور ضمیر کی آواز ہونی چاہئے۔کوئی با ضمیر قلم کار سر کٹا سکتا ہے  حقائق اور سچ سے دامن بچا کر کیسے گذر سکتا ہے ۔یوں چاروں صوبوں  کی سرائیکی بولنے وای آبادی کے   علاقوں  کو ملا کر جو سرائیکی صوبہ تشکیل دیا جائے گا اسے پنجاب سمیت ہر صوبے کو بخوشی قبول کرنا پڑیگا۔یہی سرائیکی صوبہ اصلی اور  پھر پنجاب کی جگہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہوگا ، چاروں صوبوں کی  سرائیکی آبادی  پر مشتمل مجوزہ  سرائیکی صوبہ کی نذیر لغاری اور پاکستان  بھر کے سرائیکی صوبہ کے علمبرداروں اور حمائتیوں کو میری طرف سے اور دنیا بھر کے پنجابیوں کی طرف سے پیشگی  مبارک باد۔اگر سرائیکی بھائی اجازت دیں گے تو پنجاب چھوٹا بھائی بن کے اس عظیم تر سرائیکستان میں شامل ہونے پر بھی تیار ہوگا۔ چشم ما روش دل ما شاد دیر کس بات کی ہے قدم بڑھائو پنجاب،سندھ،بلوچستان اور سرحد  کے سرائیکی بھائیو اور پاکستان بھر کے سرائیکی صوبہ کے حمائتیو،قوم پرستو،دانشوروں،رہنمائو،جاگیردارو سارا  پنجاب اور ساری دنیا کے پنجابی تمھارے ساتھ ہیں ۔

Source :https://www.punjabics.com/Soboon_Ki_Tashkeel_Nau_Seraiki_Soba.html

blank