سینیٹ کے بعد ن لیگ کو آئیندہ انتخابات میں بھی سیاسی نقصان کا اندیشہ؟

میگزین ڈیسک

پرویز شوکت

کافی عرصے سے سینیٹ کے انتخابات کا شور شرابہ جوڑ توڑ عروج پر رہا، ہر روز صورتحال تبدیل ہوتی رہی۔ صبر آزما انتظار سیاسی جوڑ توڑ کے بعد بالآخر میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا، میاں نواز شریف کی طرف سے میاں رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کے طور پر نامزد کرنے کی پیشکش کو آصف زرداری کی طرف سے مسترد ہونے کے بعد بزرگ مسلم لیگی رہنما راجہ ظفر الحق کو چیئرمین شپ کے لئے اپنا امیدوار اور محمود اچکزئی کی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ کو ڈپٹی چیئرمین کیلئے نامزد کردیا۔

 جبکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کے سینیٹرز گروپ کی درخواست پر سینیٹر صادق سنجرانی کو چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا اور عمران خان نے بھی ان دونوں امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا اوراپنے12 ووٹ وزیراعلیٰ کی جھولی میں ڈال دیئے۔

حکومتی اور اپوزیشن امیدواروں میں بڑا کانٹے دار مقابلہ ہوا آخر وقت تک اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ کون جیتے گا مگر میاں نواز شریف کے نامزد کردہ امیدوار راجہ ظفرالحق اور عثمان کاکڑ واضح اکثریت سے ہار گئے اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور دیگر اتحادی گروپوں کے امیدوار سینیٹر صادق سنجرانی چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔

اپوزیشن کے امیدواروں کی شاندار کامیابی سے حکومت کو زبردست دھچکا لگا اپوزیشن کی سینیٹ میں اتنی بڑی کامیابی کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور اس کے اثرات آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کو زبردست نقصان ہونے کا امکان ہے کیونکہ آئندہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی تحریک انصاف ایم کیو ایم مسلم لیگ (ق) اور بعض دیگر جماعتوں کا اتحاد بننا خارج ازامکان نہیں۔

 سینیٹ کے انتخابات میں اپنی شکست کی ذمہ دار مسلم لیگ ن والے اسٹیبلشمنٹ کو قرار دے رہے ہیں مگر وہ اپنی غلطیوں سے منہ چرا رہے ہیں ان کی حکمت عملی ناقص تھی سینیٹ میں انتخابات کا مرحلہ بلوچستان کی حکومت کے خاتمے سے ہوا مسلم لیگ ن حکومت اور میاں نواز شریف نے پاکستان میں اپنے لوگوں پر ہاتھ نہ رکھا اور آصف علی زرداری کو موقع ملا کہ وہ حکومت توڑ دیں حکومت کے توڑنے کے عمل کے دوران بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یا میاں نواز شریف نے صورتحال سنبھالنے پر توجہ نہ دی اور بجائے بلوچستان کے اس گروپ سے رابطہ کرتے مریم نواز نے وزیراعلیٰ عبدالقدوس کے خلاف بیان دے دیا۔

 5005 ووٹ حاصل کرنے والے کے در بار پر آصف زرداری اور عمران خان حاضری دے رہے ہیں اس سے دوریاں مزید بڑھ گئیں سینیٹ کے الیکشن میں ناکامی کا ذمہ دار مسلم لیگی وزراء اور حلیف جماعتوں کے قائدین حاصل بزنجو محمود خان اچکزئی خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ نام لئے بغیر فوج کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

عمران کی پیپلز پارٹی کی حمایت پر مسلم لیگ ن والوں نے آڑے ہاتھ لیا اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے یہ سخت بیان داغ دیا کہ عمران زرداری اتحاد کسی خفیہ ہاتھ کی کارروائی ہے سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا۔

آئندہ انتخابات میں ینگ پارلیمنٹ کے آنے کا امکان ہے اور پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہیں۔ لہٰذا عمران خان کو آصف علی زرداری یا دیگر لیڈروں کیخلاف سخت بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے۔

 آصف علی نے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور سینیٹ میں 20 سیٹوں کے باوجود اکثریتی جماعت مسلم لیگ ن کا سخت مقابلہ کیا اور مسلم لیگ ن کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا اور شکست دی ۔ درحقیقت سینیٹ کے انتخابات میں اپنے پتے انتہائی ہوشیاری سے استعمال کر کے جوڑ توڑ کے بادشاہ کا خطاب اپنے نام کر لیا۔

رضا ربانی نے آصف زرداری کے رویئے کی وجہ سے سینیٹ کی سیٹ پر حلف نہ اٹھانے کا اعلان کیا مگر بلاول بھٹو نے صورتحال کو سنبھالا اور رضا ربانی کو راضی کیا رضا ربانی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نامزدگی کے وقت زرداری ہائوس میں موجود تھے رضا ربانی نے زرداری ہائوس پہنچنے پر اپنے بڑے پن کا اظہار کیا کہ میں پیپلز پارٹی کا دیرینہ کارکن ہوں پارٹی جو فیصلہ کریگی مجھے قبول ہوگا اور یہ کہ آصف زرداری پارٹی صدر ہیں اور میرے بڑے ہیں۔

درحقیقت پیپلزپارٹی کے اندر رضا ربانی صاحب کے حق میں بھی آواز تھی اور مخالفت میں بھی۔ پارٹی کی قیادت کو یہ شکوہ ہے کہ رضا ربانی نے بطور چیئرمین سینیٹ پارٹی پالیسی سے انحراف کیا اور وہ ایسے بیانات دیتے رہے جو براہ راست نواز شریف کی سیاست اور بیانیے کو تقویت پہنچاتے تھے رضا ربانی نے ہماری ایک نہ سنی۔ نواز شریف کو بھی رضا ربانی کا اس لحاظ سے سوٹ کرتے تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے حوالے سے سخت بیان دیتے تھے۔

 اگر چہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رضا ربانی کی دعوت پر پارلیمنٹ میں بھی آئے اور انہوں نے ملکی حالات پر کھل کر بات کی اور اراکین پارلیمنٹ کے خندہ پشیمانی سے جوابات دیئے اور ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی بات کی اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ کسی صورت جمہوریت کے خاتمے کے حامی نہیں۔

مسلم لیگ ن نے کئی مواقعوں پر ایسے اقدام کئے جس سے فوج سخت نالاں ہوئی کئی مرتبہ ایسے حالات دکھائے کہ فوج مارشل لاء لگا دے گی مگر فوج نے صبر و تحمل سے کام لیا۔

ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے بغیر اقتدار میں آنا مشکل ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے آصف علی زرداری کو اسٹیبلشمنٹ نے بعض شرائط کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ میں آصف زرداری کیلئے وہ مخالفت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رضا ربانی کو ان کے سخت رویئے اور بیانیے کی وجہ سے قبول نہیں کیا گیا حالانکہ رضا ربانی بڑی آسانی سے چیئرمین منتخب ہو سکتے تھے۔

بہر حال آصف زرداری نے بھی بلوچستان سے صادق سنجرانی کو چیئرمین نامزد کر کے اچھا فیصلہ کیا اور آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بلوچستان میں اس کا زبردست فائدہ ہوگا اور آئندہ حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کے چھ ساتھیوں نے خوب سیاست کھیلی اور ایک دوسرے کی انتہائی مخالف جماعتوں سے اپنے چیئرمین کی نامزدگی حاصل کرلی اور اپنا چیئرمین منتخب کروایا۔ سینیٹ انتخابات کا مرحلہ تو مکمل ہوگیا مگر سیاست میں ایک انتہائی ناخوشگوار اور گندی حرکات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

پہلی انتہائی غلط حرکت وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ تھا اور اس کے بعد نا اہل وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکنے کا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہوا ہے۔ اور دوسری طرف عمران خان پر بھی جوتا پھینکا گیا مگر یہ جوتا ان تک نہ پہنچا۔ تاہم آصف علی زرداری بلاول بھٹو سمیت تمام سیاسی قائدین نے ایسے واقعات کی شدید مذمت کی اور ایسے واقعات کی کھل کر مخالفت کی ۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعہ میں تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی کا دخل نہیں اور ملزمان پکڑے گئے ہیں ورنہ صورتحال بہت خراب ہوسکتی تھی اور آئندہ خون خرابے کا امکان تھا بہرحال تمام متحارب سیاسی جماعتوں کو ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔